خودکشی کا بڑھتا رحجان!

(Abid Hashmi, Azad Kashmir)

معاشرے میں پھیلی منافرت،افراتفری،بے راہ روی، مایوسی، عدم اعتماد، غربت، مشتر کہ خاندانی نظام کاتنزلی کی جانب سفر، بے روزگاری، احساس محرومی و برتری،محبت میں ناکامی،پولیس تشدد،دماغی اور نفسیاتی عوارض و انتشار، طلبہ میں نمبروں کی دوڑ میں پیچھے رہنے ٗ ذہنی دباو ٗ مقابلہ کی رسہ کشی خود کشی کے خاص خاص اسباب ہیں۔اس کے علاوہ جدید زمانے کے مسائل اور تیزی سے پھیلتے ہوئے ذہنی امراض سے عدم توجہی، خود کشی کی جانب راغب کرنے والے عوامل ہیں۔ مطالعاتی رپورٹ کے مصنفین کے مطابق، ’’2008 ء کے مالیاتی بحران کے بعد، یورپی اور امریکی ممالک میں مردوں میں خودکشی کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا۔ یہ اضافہ خاص طور پر ان ممالک میں زیادہ تھا جہاں زیادہ لوگ بے روزگار ہوئے‘‘۔ پاکستان کی تقریباََ 85فیصد آبادی غربت کی زندگی بسر کر رہی ہے۔دنیا میں ہر 40 سیکنڈ میں ایک شخص خودکشی کر رہا ہے اور یہ تعداد کسی بھی جنگ یا قدرتی آفت میں مرنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے ہر سال 15 لاکھ افراد کی اموات ہوتی ہیں جن میں آٹھ لاکھ افراد خودکشی سے مرتے ہیں۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ خودکشی کے باعث مرنے والوں کی زیادہ تعداد کا تعلق وسطی اور مشرقی یورپ اور ایشیا سے ہے جن میں سے 25 فیصد کرنے والوں کا تعلق امیر ملکوں سے ہے۔ ایک دہائی کے عرصے میں تیار ہونے والی اس ریسرچ میں 172 ملکوں کا بغور معائنہ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق 2012 میں زیادہ آمدنی والے ملکوں میں خود کشی کی شرح زیادہ رہی جہاں ایک لاکھ میں سے 12.7 لوگوں نے خودکشی کی جبکہ اس کی نسبت درمیانے اور کم درجے کے ملکوں میں یہ شرح 11.2 رہی۔لیکن اگر آبادی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ شرح کل اموات کا تین چوتھائی حصہ بنتی ہے۔ وطن عزیز میں صوبہ پنجاب میں ہر سال ساڑھے 6ہزارافراد خود کشی کرتے ہیں ۔2018سات ماہ کے دوران 412خود کشی کے اقدام کے علاوہ 1800خود کشی کے واقعات ہوئے ۔ پاکستان میں سال 2000 میں شرح کسی حد تک کم تھی جہاں ایک لاکھ میں مرنے والوں کی شرح 9.1 تھی تاہم 12 سال کے دوران اس میں 0.2 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔2001ء میں وکلا برائے انسانی حقوق و قانونی امداد ذلی ادارہ مددگار بنایا گیا۔ جسکی رپورٹ میں وطن ِ عزیزمیں خودکشی کے رپورٹ شدہ 7052 واقعات میں سے 361 لڑکیوں‘ 230 لڑکوں‘ 357 عورتوں اور 1631مردوں نے خودکشی کی‘ جن میں مجموعی اعداد و شمار کے مطابق1001فراد نے بلوچستان‘ 1342فراد نے صوبہ سرحد میں4771 افراد نے پنجاب اور1402 افراد نے سندھ میں خودکشی کے ذریعے خود کو ابدی نیند سلا دیا۔ مددگار کی تحقیق کے مطابق خودکشی کرنے والوں میں1933فراد81سال سے کم عمر تھے‘ 1184فراد81سے82 سال کی عمر کے تھے1091فراد کی عمر52 سے53سال کے درمیان تھی۔ خودکشی کرنے والوں میں 1511فراد کی عمر 63 سے80سال کے درمیان تھی جبکہ اسی عرصے میں 50 سال سے زائد عمر کے 58 افراد نے خودکشی کی۔مددگار ڈیٹا بیس کے مطابق خودکشی کرنے یا خودکشی کی کوشش کرنے والوں کی کل تعداد1414میں سے 1116فراد نے کراچی میں خودکشی کی‘ 358 نے لاہور1261فراد نے حیدرآباد میں‘ 051نے گوجرانوالہ میں‘ 631نے دادو میں‘ 128فراد نے فیروزوالہ میں‘ 174فراد نے لاڑکانہ میں‘96نے پشاور میں‘ 36 نے ٹنڈوآدم میں‘ 95 نے گجرات میں‘ 46 نے خیرپور میں‘ 05 افراد نے راولپنڈی اور کوئٹہ میں‘ 84نے ملتان میں‘ 54 نے فیصل آباد میں‘ 163فراد نے ڈگری‘ 63نے ہالہ میں‘ 53 نے میرپورخاص‘ 33نے سکھر میں‘ 23نے اسلام آباد میں‘ سرگودھا میں 42‘ ساہیوال میں 52‘ مردان میں 02 میلسی میں71‘ ٹھٹھہ‘ چترال اور بنوں میں 51۔51 واقعات اور شہدادپور اور حافظ آباد میں 51۔151فراد نے خودکشی کی۔جن میں اعداد و شمار کے مطابق 386 لوگوں نے ذاتی ناکامی یا دلبرداشتہ ہونے کی وجہ سے‘ 519نے گھریلو تنازعہ155ے خاندانی تنازعات1211فراد نے معمولی جھگڑے پر‘ 1041فراد نے شادی کے سلسلے میں ناکامی مثلاً منگنی ٹوٹ جانے پر یا رشتے سے انکار پر‘ 158فراد نے ڈپریشن‘ 1071فراد نے مالی مسائل یا غربت سے تنگ آکر‘ ۱۸ افراد نے ذہنی معذوری کے باعث‘ 58 افراد نے والدین کی ڈانٹ ڈپٹ اور1992فراد نے بے روزگاری کی وجہ سے اور104فراد نے بیماری سے تنگ آکر خودکشی کی۔ مزید تحقیق سے خودکشی کے درج ذیل طریقہ کار سامنے آئے‘ جن میں16591فراد نے زہر کھا کر‘ 1042فراد نے کیڑے مار دوا پی کر‘ 77 نے دریا‘ نہر‘ کینال یا سمندر میں ڈوب کر‘ 1842فراد نے بندوق کا فائر کر کے‘ 325لوگوں نے پھندے سے لٹک کر اور1242فراد نے خودسوزی کے ذریعے‘ 168فراد نے چلتی گاڑی یا ٹرین کے سامنے آکر188فراد نے جسم کے اعضا کاٹ کر‘ 192فراد نے کرنٹ کے ذریعے‘ 122فراد نے دوا کی زیادتی کی وجہ سے خودکشی کی۔ تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ خودکشی کے7052 واقعات میں سے261 واقعات جنوری میں71۱ واقعات فروری میں018 مارچ میں‘ 861 اپریل میں‘ 871 مئی میں‘ 603جون میں‘ 082جولائی میں‘ 1513گست میں‘ 412ستمبر میں‘ 302واقعات اکتوبر میں961واقعات نومبر میں اور461 واقعات دسمبر میں ہوئے۔ہندوستان، شمالی کوریا، انڈونیشیا اور نیپال سمیت جنوب مشرقی ایشیا میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد سالانہ اموات کا تین چوتھائی حصہ بنتی ہے۔دنیا کے 25 ملکوں خصوصاً افریقہ، جنوبی امریکا اور ایشیا میں خودکشی یا اقدام خودکشی ایک جرم تصور کیا جاتا ہے۔خودکشی کے حوالے سے دنیا میں سب سے بدترین مقام گیانا ہے جہاں ایک لاکھ میں سے 44.2 افراد خودکشی کرتے ہیں، اس کے بعد شمار اور جنوبی کوریا میں یہ تعداد بالترتیب 38.5 اور 28.9 ہے۔اس کے بعد سری لنکا میں 28.8، لتھوانیا(28.2)، سُری نامے(27.8)، موزم بیک(27.4)، نیپال اور تنزانیہ(24.9)، برونڈی(23.1)، ہندوستان(21.1) اور جنوبی سوڈان (19.8) ہے۔اس کے بعد روس اور یوگنڈا (19.5)، ہنگری(19.1)، جاپان(18.5) اور بیلاروس میں 18.3 ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد 2020 تک خودکشی کے تناسب کو کم کر کے 10 فیصد تک پہنچاناعالمی ادارہ صحت کے مطابق خواتین کے مقابلوں میں خودکشی کرنے والے مردوں کی تعداد دگنی ہے جبکہ اپنی جان لینے کے لیے سب سے زیادہ عام طریقہ کار گلے میں پھندا ڈالنا یا گولی مارنا ہے لیکن دیہی علاقوں میں اس کام کے لیے زہریلی ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں خودکشی کرنے والے زیادہ تر افراد کی عمر 70 سال یا اس سے زائد ہوتی ہے تاہم کچھ ملکوں میں نوجوانوں میں بھی اپنی جان لینے کا رجھان دیکھا گیا۔’یہ بات قابل ذکر ہے کہ دنیا بھر میں 15-29 سال کے درمیان مرنے والوں کی دوسری بڑی وجہ خودکشی ہے‘2008ء کے مالیاتی بحران کے بعد مغربی ممالک کے مردوں میں خودکشی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔محققین نے 54 ممالک میں 15 برس سے زائد عمر کے افراد میں 2008ء کے مالیاتی بحران سے پہلے اور بعد کے خودکشی کے اعدادوشمار کا مطالعہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ 2009 ء میں معمول سے 4884 زائد افراد میں خودکشی کا رجحان دیکھا سال 2008ئمیں،مددگار ڈیٹابیس کے مطابق، خو دکشی کے3271 واقعات رونما ہوئے جن میں 1098 خواتین شامل تھے۔سال 2009 ء میں 27 یورپی ممالک میں خودکشی کی شرح میں 4.2 فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ لاطینی امریکا اور کیریبین کے 18 ممالک میں یہ اضافہ 6.4 فیصد رہا۔اس مطالعے کے مطابق یورپ میں 24-15 برس کے افراد میں خودکشی کی شرح سب سے زیادہ یعنی 11.7 فیصد رہی جبکہ امریکا میں 64-45 برس کے افراد میں خودکشی کی شرح میں سال 2009ء میں 5.2 فیصد اضافہ ہوا۔ خواتین میں 2009ء میں خودکشی کی شرح میں مجموعی طور پر 0.5 فیصد کمی ہوئی۔کیریبین اور وسطی امریکہ میں بے روزگاری کی شرح میں سال 10-2009 میں 45-40 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا جبکہ مشرقی ایشیائی ممالک میں بے روزگاری کی شرح میں سال 10-2009ء میں 26 تا 27 فیصد کا نسبتاً کم اضافہ دیکھا گیا۔اس سروے میں 21 یورپی یونین کے رکن ممالک، چھ غیر یورپی یونین ممالک، روس، ریاست ہائے متحدہ امریکہ، کینیڈا، کیریبین کے 16 ممالک، لاطینی امریکا، چار ایشیائی معیشتیں (ہانگ کانگ، جاپان، جنوبی کوریا، سنگاپور)، ماریشس اور اسرائیل شامل تھے۔یاد رہے کہ اقتصادی بحران اور خود کشی کے حوالے سے سابقہ تحقیق 1997ء میں ایشیا کے معاشی بحران پر کی گئی تھی جس کے مطابق 10000 افراد نے جاپان، جنوبی کوریا اور ہانگ کانگ میں خودکشی کی تھی.

خود کشی کو عالمی سطح پر بھی کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ جن میں ترقی پذیر ممالک کو مرکوز کی جارہی ہے ۔ ہمیں بھی ایسے بڑھتے رحجان ٗ مسائل میں کمی پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے تاکہ انسانی جانوں کا ضیاع نہ ہو۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 159 Print Article Print
About the Author: Abid Hashmi

Read More Articles by Abid Hashmi: 64 Articles with 14714 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: