خون کا عطیہ دینے والے عظیم لوگ

(Dr Tasawar Hussain Mirza, Lahore)

خون کا عطیہ دینے والے انسان وہ خوش نصیب لوگ ہیں جن کو دنیا اور آخرت میں فوائد بھی فوائد ملتے ہیں ۔ جیسا دنیا میں فائدوں کی بات کی جائے تو یہ فائدے ایسے ہیں جن کا تعلق انسان کی ذات سے بھی ہے یعنی ذاتی فائدے بھی ہیں اور قومی فائدے بھی ملتے ہیں ذاتی فائدوں کی بات کی جائے تو زیادہ لوگوں کو نہیں معلوم کہ باقاعدگی سے بلڈ ڈونیشن کرنے سے آئرن لیول ٹھیک رہتا ہے. جسم میں آئرن بڑھ جائے تو Oxidative damage ہوتا ہے، جس سے ٹشو ڈیمیج (Tissue Damage)ہوتی ہے. بلڈ ڈونیٹ کرنے سے نہ صرف جسم میں آئرن (Iron )کی مقدار ٹھیک برقرار رہتا ہے بلکہ یہ دل کی بیماریوں سے بھی بچاؤ کرتا ہے. یہ وقت سے خستہ ہونے، سٹروک آنے اور ہارٹ اٹیک سے بچاؤ کرتا ہے

طبی ماہرین کے مطابق خون کا اکثر عطیہ کرنا دوران خون کے نظام میں بہتری لانے کا باعث بنتا ہے سادہ الفاظ میں ایسے افراد جو اپنا خون عطیہ کرتے ہیں ان میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ 80 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق خون عطیہ کرنے والے افراد کم بیمار ہونے کے باعث ہسپتال بھی بہت کم داخل ہوتے ہیں، جبکہ ہارٹ اٹیک، کینسر اور فالج وغیرہ کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

صحت مند بالغ افراد کے جسم میں پانچ گرام آئرن کی موجودگی ضروری ہوتی ہے جن میں سے بیشتر خون کے سرخ خلیات میں ہوتی ہے، جبکہ بون میرو میں بھی یہ جز پایا جاتا ہے۔ جب خون عطیہ کیا جاتا ہے تو کچھ مقدار میں آئرن بھی کم ہوتا ہے، جو کہ عطیہ کیے جانے کے بعد خوراک سے دوبارہ بن جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق آئرن کی سطح میں اس طرح کی تبدیلی صحت کے لیے بہتر ہوتی ہے کیونکہ اس جز کی بہت زیادہ مقدار خون کی شریانوں کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ رضاکارانہ بنیادوں پر خون کا عطیہ کرتے ہیں، ان میں مختلف امراض سے موت کا خطرہ کم ہوتا ہے اور اوسط عمر میں چار سال تک کا اضافہ ہوجاتا ہے۔

ایک خون دینے والے فرد سے تین مریضوں کی ضرورت پوری ہوتی ہے جو اس میں شامل چاراجزاء
خون کے سرخ خلیات (packed cells)
پلیٹیلیٹس Platelets
پلازما Plasma
فیکٹرز (factor concentrates) مثلا فیکٹر VIII، فیکٹر IX وغیرہ

مکمل خون کی منتقلی کا تصور تقریبا ختم ہو چکا ہے۔ اب مریض کو خون کا وہ جُز دیا جاتا ہیجس کی اُسی ضرورت ہو۔ بہت کم ہی مریض کو مکمل خون لگایا جاتا ہے۔

ہر انسان کے بدن میں تین بوتل اضافی خون کا ذخیرہ ہوتا ہے، ہر تندرست فرد، ہر تیسرے مہینے خون کی ایک بوتل عطیہ میں دے سکتا ہے۔ جس سے اس کی صحت پر مزید بہتر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس کا کولیسٹرول بھی قابو میں رہتا ہے۔ تین ماہ کے اندر ہی نیا خون ذخیرے میں آ جاتا ہے، اس سلسلے میں ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ نیا خون بننے کے ساتھ ساتھ بدن میں قوت مدافعت کے عمل کو بھی تحریک ملتی ہے۔ مشاہدہ ہے کہ جو صحت مند افراد ہر تیسرے ماہ خون کا عطیہ دیتے ہیں وہ نہ تو موٹاپے میں مبتلا ہوتے ہیں اور نہ ان کو جلد کوئی اور بیماری لاحق ہوتی ہے۔ لیکن انتقال خون سے پہلے خون کی مکمل جانچ پڑتال ضروری ہے۔ثابت ہوا ذاتی طور پر بیماریوں سے بچاؤ کے لئے ’’ خون کا عطیہ ‘‘ دینا ضروری ہے۔ اور خون کا عطیہ کرنے کے لئے یہ لازمی ہوتا ہے۔ کہ جو لوگ خون کا عطیہ دینا چاہتے ہوں ان کا خون نکالنے سے قبل HEPATITIS ، AIDS اور HIV وغیرہ ٹیسٹ کئیے جاتے ہیں اگر کوئی خطرناک مرض ہو تو وقت سے قبل پتا چلنے سے انسان احتیاط اور علاج کروا سکتا ہے ذاتی فائدوں میں یہ بہت بڑا فائدہ ہے۔

جہاں تک قومی فائدوں کی بات کی جائے تو انسان جس جس کی زندگی بچانے کے لے اپنا خون عطیہ کرتا ہے اس اس سے محبت اور بھائی چارے کے فروغ میں مدد ملتی ہے۔ قومی فائدوں میں جب برادری محلے دار وں یا عزیزواقارب کی جان بچانے کے لئے خون کا عطیہ دیا جاتا ہے تو اتفاق و اتحاد پیدا ہوتا ہے جس سے مجموعی طور پر رشتہ داروں میں انس و محبت اور تعلاقات مضبوط ہوتے ہیں ۔

یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ تندرست انسانی جسم میں تین بوتلیں خون زیادہ ہوتا۔ اور ایک وقت میں ایک ہی بوتل خون عطیہ ہوتا ہے۔ تندرست آدمی ہر تین ماہ بعد ایک بوتل خون کا عطیہ کر سکتا ہے جبکہ صرف 15 دنوں میں خون پورا ہو جاتا ہے۔

آخرت کے فائدوں کے متعلق اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے کہ اﷲ پاک نے اپنی الہامی کتاب ِ مبین میں ارشاد فرماتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ جس نے ایک انسانی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت بچائی۔

اس سے ثابت ہوا کہ انسانی جان بچانا بہت بڑی سعادت ہے جو خون کا عطیہ کرنے والوں کے نصیب میں لکھ دی جاتی ہے۔ خون کا عظیہ کرنے والے مبارکباد کے مستحق ہے جن کے لہو سے کسی کی زندگی کے سانس بڑھے۔

تاریخ گواہ ہے جس قوم نے خون کی قربانی نہیں دی اس نے فلاح و بقاء نہیں پائی اس کی زندہ مثال ’’ واقعہ کربلا ‘‘ ہے۔ اگر آج اسلام زندہ ہے اگر آج ہم مسلمان ہے تو اس کی بنیادی وجہ ’’ نواسہ رسول جگر بتول سید حضرت امام حسین علیہ اسلام اور آپ کے رفقاء کی بے لوث قربانی ہے۔ خون کا عطیہ کرنے والوں کے بے شمار فوائد ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ خون کا عطیہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور خون کا عطیہ کی اہمیت و افادیت نمایاں کی جائے ۔تاکہ خون کا عطیہ کرنے والے عظیم لوگوں کو عوامی اور سرکاری طور پر خراجِ تحسین پیش کیا جائے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو سکے

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 417 Print Article Print
About the Author: Dr Tasawar Hussain Mirza

Read More Articles by Dr Tasawar Hussain Mirza: 223 Articles with 114685 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: