ہم پاکستانی

(Murad Ali Shad, Doha)

پاکستان دنیا کی واحد ریاست ہے جسے مذہب اسلام کے نام پہ حاصل کیا گیا مگر ہم پاکستانیوں نے اپنے بچوں کے نام عبدالسلام اور اطلاق ِ اسلام کے لئے ،اسلام زندہ باد کے نعرے لگا لگا کے ریاست کا یہ احسان بھی اتار دیا ہے۔بالکل ایسے ہی جیسے کسی محفل میں ایک ملی نغمہ ’’اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان‘‘چل رہا تھا کہ ایسے میں ایک نشئی لڑکھڑاتا ہوا اٹھا اور کہنے لگا کہ ’’بند کرو یہ احسان وحسان ہم نے آدھا احسان 1971 میں اتار دیا تھا باقی بھی اتارنے کی کوشش کریں گے‘‘۔۔۔۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر کلو میٹر پر درگاہ اور دربار ہے جس کی اہم پیداوار ’’ملنگ‘‘ ہیں اور یہ ملنگ مرشد کے ایسے مرید ہوتے ہیں جو لنگرکھا لیں تو شکم سیر ی کی بنا پر مستی میں ہوتے ہیں اور نہ کھائیں تو بھوک کی وجہ سے مست ہو جاتے ہیں۔اور اگر کوئی مرید بٹ صاحب ہو تو سونے پہ سہاگہ ہوجاتا ہے۔جیسے کہ ایک بٹ صاحب اپنے مرشد سے ملنے گئے ،لنگر خانہ میں جب دس پلیٹ چاول تناول فرما چکے تو تو مرشد کا ایک مرید آیا اور کہنے لگا کہ’’بٹ صاحب تسی مرشد نوں منو یا نا منو مرشد ہوری تہانوں من گئے نیں‘‘۔اگر ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات آپ پر بھی واضح ہو جائے گی کہ پاکستان میں ’’ملنگ،پولیس اور پیر‘‘کا فررِ روزگار خدا نے اس جاہل قوم پہ چھوڑ رکھا ہے،کہ یہ تینو ں طبقہ ہائے بے فکر تقریبا ہر کلو میٹر پر آپ کی توجہ کے منتظر پائے جائیں گے۔مذکور طبقہ ہائے بے فکر کہیں بھی آپکو مل جائیں تو یہ خود ہی آپ سے ایسے میل ملاپ بڑھا لیتے ہیں کہ پھر آپ کسی سے ملنے کے قابل نہیں رہتے۔

انگریز کو جب بھی بھوک لگتی ہے برگر یا سینڈ وچ کھا لیتے ہیں اور یہی ان کا کھانا بھی ہوتا ہے،پاکستانی تین برگر اور دو پیپسی اور ایک لمبا ڈکار مارنے کے بعد کہہ ر ہا ہوتا ہے کہ’’اوئے بس یار گھر جا کے روٹی وی کھانی اے‘‘۔پیزا اور لزانیہ کے بارے میں پوری دنیا کی سکہ بند رائے ہے کہ اٹلی اور فرانس میں یہ پراٹھے کے نعم البدل ہیں،یعنی دونوں میں سے کسی ایک پر ہی ہاتھ صاف کیا جاتا ہے جبکہ ہم پاکستانی پراٹھے کے نعم البدل ہونے کی بنا پر اسی تناسب سے پیزا اور لزانیہ کھاتے ہیں جس حساب سے پراٹھوں کو رگڑا دیتے ہیں۔ ہم پاکستانی شادی،افطاری اور زبردستی کی دعوت کھا کے ڈھنڈورا پیٹ رہے ہوتے ہیں کہ ’’اوئے یاراج بڑا مزہ آیا کھانا کھانے کا‘‘پاکستانی پرائی شادی پہ اس وقت تک کھاتے رہتے ہیں جب تک گھر والوں کی طبیعت خراب نہ ہو جائے یا پھر اس وقت تک جب تک اپنی طبیعت ناساز نہ ہو جائے۔اسی لئے روائت مشہور ہے کہ اگر امریکہ میں کسی ہوٹل سے چار لوگ کھانا کھا کے نکل رہے ہوں تو ب کے سب ہنستے مسکراتے ہوئے آ رہے ہوتے ہیں،کیونکہ امریکن سسٹم کے تحت سب نے اپنا حصہ ڈالا ہوتا ہے جبکہ ایسے ہی چار افراد اگر پاکستان کے کسی ہوٹل سے نکل رہے ہوں ،تین لوگ ایک پہ ہنس رہے ہوتے ہیں۔کیونکہ پاکستانی سسٹم کے مطابق کسی ایک کی شامت آئی ہوتی ہے۔

چغلی ہمارا قومی کھیل اور طعنہ زنی قومی شعار بن چکا ہے یقین نہ آئے تو شام سات سے دس بجے تک کسی بھی نیوز چینل پر ٹاک شوز میں سیاستدانوں کی ’’،مغلظانہ‘‘گفتگو سماعت فرمالیجئے،اگرآپ شادی شدہ مرد ہیں تو بیویوں کی جلی کٹی اور شادی شدہ عورت ہیں تو ساس کے طعنے ،معنے ان سیاستدانوں کے مقابلے میں پھیکے محسوس کریں گے۔

ہمارے ہاں معیشت،جمہوریت اور بہو ہمیشہ ہی خطرے میں ہوتے ہیں۔اگرمذکور تینوں خطرے سے باہر ہوں تو پھر ملک،سیاستدان اور ساس خطرے کے گھیرے میں دھر لئے جاتے ہیں۔ظاہر ہے آگ اور پانی ایک ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں؟خیر اس سائنسی دور میں یہ بھی ممکن ہو سکتا ہے اگر یہ اندازہ ہو جائے کہ آگ کون ہے؟ہم اہل پاکستان سگریٹ،رشتہ اور قرض مانگنے میں رتی بھر بھی شرم محسوس نہیں کرتے،رشتہ ایسے مانگ لیتے ہیں جیسے کسی دوست سے سگریٹ اور سگریٹ ایسے جیسے قرض۔کیونکہ سگریٹ،قرض اورادھار لے کر کوئی واپس نہیں کرتا۔گویا سگریٹ کا دھواں کسی کا نہ ہوا،وہ ادھار ہی کیا جو ادا ہو گیا اور وہ رشتہ ہی کیا جو وفا دے گیا۔موسم سرما میں کینو اور مونگ پھلی کے چھلکے شرطیں باندھ کر دور دور پھینکنا ہمارے قومی فرائض میں شامل ہے تاہم چلغوزے کے چھلکے ہم زیورات کی پوٹلیوں میں چھپا کر رکھتے ہیں مبادا چھلکوں کے اندر پھر سے چلغوزے جنم پذیر ہو جائیں۔

بیرون ملک سے وصول کردہ پیسوں کو ایسے خرچ کرتے ہیں جیسے بندر ہتھ بندوق آ جائے تو بلا مقصد فائر کھولتا رہتا ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ بندر کے ہاتھ میں بندوق ہوتی ہے اور۔۔۔۔۔۔۔الغرض پاکستانی ملک میں ہوں یا دیارِ غیر میں اپنی ’’حرکتوں اور عادتوں‘‘سے اپنا لوہا منوا ہی لیتے ہیں۔ہم پاکستانی اپنی رائے کا اظہار نشہ اور غصے میں کرتے ہیں ،اسی لئے ہماری آدھی قوم نشہ میں اور باقی غصے میں نظر آتی ہے۔یقین نہ آئے تو کسی بھی غریب راہگیر کی بیوی اور امیر کی گاڑی کو چھیڑ کر دیکھ لیجئے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو نائے گا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 306 Print Article Print
About the Author: Murad Ali Shad

Read More Articles by Murad Ali Shad: 55 Articles with 11871 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: