شوپیس

(Rahmat Ullah Shaikh, )

"نائلہ اچھے سے تیار ہونا، شادی میں کافی سارے لوگ آئیں گے نا تو……"
ایک بار پھر ماں کی آواز سن کر نائلہ کے چہرے پر ناپسندی کے آثار نمودار ہوئے۔ بیٹیوں کی فکر کس کو نہیں ہوتی…… ماں تو بیٹی کے معاملے میں سب سے زیادہ فکرمند ہوتی ہے۔ نائلہ کی امی بھی اسی فکر میں تھی کہ جلد از جلد اس کی بیٹی کی شادی ہوجائے۔ اس لیے وہ شادی بیاہ کی تقاریب میں نائلہ کو اپنے ساتھ لے جاتی تھی تاکہ وہ کسی کو پسند آجائے اور اس کے لیے شادی کی راہ ہموار ہوسکے۔ لیکن برسوں گزرنے کے باوجود یہ نسخہ کام نہیں آیا تھا۔ کئی سال گزر گئے۔ نائلہ ماں کے کہنے پر خود کو "شوپیس" بناکر پیش کرتی رہی مگر اس کے باوجود اس کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ تمام ظاہری اسباب اپنانے کے بعد بھی اس کے ہاتھ پیلے نہیں ہوئے تھے۔ دوسری طرف اس کی دوست عائشہ کو دیکھ لیں۔ جو آج اپنے شریک ِ حیات کے ساتھ نہایت پرسکون اور خوشگوار زندگی گزار رہی ہے۔ اسے تو کبھی غیروں کے سامنے "شوپیس" بننے کی ضرورت نہیں پڑی۔ ہمیشہ باپردہ رہتی تھی۔ ناچ گانے کی تقاریب میں جانا وہ پسند نہیں کرتی تھی۔ اور ماں جب اس کو "شوپیس" بنانا چاہتی تو وہ باادب لہجے میں ماں سے کہتی:
"پیاری امی جان! میرے رب نے مجھے پیدا کیا ہے تو میری شادی کا انتظام بھی کیا ہوگا۔ مجھے صرف یہ کرنا ہے کہ میں اس کا حکم مانوں اور اسی سے مانگوں……"

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 353 Print Article Print
About the Author: Rahmat Ullah Shaikh

Read More Articles by Rahmat Ullah Shaikh: 25 Articles with 11575 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: