سوشل میڈیا کی اور حقیقی زندگی میں فرق

(Maham Ansari, India)

اس کے ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے۔ لمبے بال جنہیں اس نے کل ہی لائٹ گولڈن اسٹریپس میں ڈائی کیا تھا اسٹریٹ ہو کر مزید خوبصورت نظر آ رہے تھے۔ اس نے بالوں کو دو حصوں میں سمیٹ کر سامنے کی طرف کھلا چھوڑ دیا۔ چہرے کا میک اوور وہ پہلے ہی کر چکی تھی۔ ایک نظر اپنے تیکھے نقوش والے حسین چہرے پر ڈال کر وہ بیڈ پہ رکھے فون کی طرف بڑھی۔ آخر محنت وصول بھی تو کرنی تھی۔ تیزی سے پاسورڈ ڈال کر اس نے اپنا ٹک ٹاک ایپ اوپن کیا۔ پچھلے دنوں اس نے ایک لڑکے کے ساتھ وڈیو بنائی تھی اور وہ کافی ہٹ ہوئی تھی۔ تب سے وہ خود کو عالیہ بھٹ سے کم سمجھنے پر راضی نہیں تھی۔ آج بھی اس کا ارادہ کچھ ایسا ہی کرنے کا تھا۔اور پھر وڈیو بنی اور اپلوڈ بھی ہو گئی۔ ہزاروں کی تعداد میں آنے والے ویوز نے اس کی خودپسندی کے لیول کو مزید بڑھا دیا۔ وہ جانتی تھی پچھلی وڈیو کی طرح یہ وڈیو بھی سوشل میڈیا پر گھومتی رہے گی۔ شہرت! یہی تو وہ چاہتی تھی۔یو ٹیوب پر کمنٹس پڑھتے ہوئے اس کی نظر ٹائم پر پڑی۔ وہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی آج اس کا انٹرویو تھا اور اسے قوی امید تھی کہ اسے یہ جاب مل جائے گی۔ ڈرائیونگ کرتے ہوئے بھی وہ اپنی وڈیو کے بارے میں سوچتے ہوئے مسکراتی رہی ٹریفک نا ہونے کی وجہ سے وو جلد ہی مطلوبہ جگہ پہنچ گئی۔ کافی دیر انتظار کے بعد اسے اندر بلایا گیا۔ مے آئی کم ان سر؟ '' ذرا سا دروازہ کھول کر اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی۔

'' کم ان '' اندر بیٹھے ادھیڑ عمر شخص نے پی۔ سی۔ پر نظریں جمائے ہوئے جواب دیا۔ اس کے قریب پہنچنے پر اس نے کرسی کی طرف اشارا کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور جانے کیوں یمنیٰ کو لگا جیسے وہ چونکا ہو۔ اس نے اپنی فائل اس کی طرف بڑھائی اس کی ضرورت نہیں اس نے پوری طرح اس کی جانب گھومتے ہوئے مسکرا کر کہا، یمنی کی آنکھوں میں حیرت ابھری، یمنیٰ عزیز؟ رائٹ؟ اس نے آنکھوں پر جمی عینک ٹھیک کرتے ہوئے سوال کیا۔جی، آپ کی ویڈیوز بہت پیاری ہیں '' وہ ایسے کہ رہا تھا جیسے وو انٹرویو کے لئے نہیں بلکہ کسی ریسٹورینٹ میں اس سے ملاقات کے لئے آئی ہو۔ تھینک یو '' اس نے مسکرا کر تعریف وصولی، ہمیں ایک ماڈل کی ضرورت ہے اور آپ ہماری ڈمانڈس پر پوری اترتی ہیں'' اس کی بات پر اس نے حیرت سے اس کی شکل دیکھی پر میں تو ڈیجیٹل ڈیزائننگ۔۔۔ اس کی بات مکمل بھی نہیں ہونے پائی تھی کہ وہ بول پڑا۔ اس کے لئے ہمارے پاس مزید قابل کینڈیڈیٹس ہیں'' اسے یہ امید نہیں تھی کی اسے یہ سننے کو ملے گا، اس کے تو تلوؤں پہ لگی اور سر پر بجھی، مطلب کیا ہے آپ کا؟ میں کام ڈاؤن یمنیٰ، میرا مطلب یہ ہے کہ تم پر ماڈلنگ زیادہ سوٹ کرتی ہے۔ اب دیکھو یہ وڈیوتمہارے بال اور آنکھیں تو قدرت نے حسین بنائی ہی ہیں ہمارے ڈریسز اور میک اپ چار چاند لگا دیں گے'' اس نے کہتے ہوئے وڈیو پلے کی۔ جیسے جیسے وہ وڈیو چل رہی تھی ویسے ویسے اس کے کان کی لویں سرخ ہوتی جا رہی تھیں۔ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اسے کبھی اپنی وڈیو اتنی بری بھی لگ سکتی ہے۔ اور پھر وہ خود کو روک نا سکی۔ ایک جھٹکے سے اٹھی اور نکلتی چلی گئی، کار تک پہنچتے پہنچتے اس کا سانس پھول گیا تھا کار میں بیٹھ کر کتنی دیر وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتی رہی مگر اس شخص کی سکرین پر گڑی نظریں یاد آتے ہی دوبارہ خون کھولنے لگتا تھا، بمشکل خود کو سنبھالتے ہوئے وہ گھر پہنچی ابھی پورچ میں ہی تھی کہ خیال آیا اسمارہ آنٹی کی چیزیں واپس کر آئے جو وہ کل ان کے گھر بھول آئی تھیں، موڈ بھی کسی قدر ٹھیک ہو چکا تھا سو وہ پڑوس میں موجود ان کے چھوٹے سے گھر چلی آئی، ابھی وہ سیڑھیوں پر ہی تھی کہ اپنا نام سن کر لاشعوری انداز میں رک گئی۔ کیوں نہیں پسند وہ تجھے؟ آخر کیا کمی ہے یمنہ میں؟'' اسمارہ آنٹی کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی، کمی ہے۔ مما آپ سمجھ کیوں نہیں رہیں؟ جس لڑکی کو اپنی عزت کی پرواہ نہ ہو وہ آپ کی اور میری عزت کس طرح کرے گی؟ ٹک ٹاک پر مختلف لڑکوں کے ساتھ ناچنے والی لڑکی کیا گھر بسا سکتی ہے؟ عورت ہی کے ہاتھ میں گھر کا ماحول ہوتا ہے۔ جس کے اپنے اندر حیا نا بچی ہو۔

'' سمعان اور بھی جانے کیا کہتا مگر وہ مزید سننے کے لیے نہ رکی،گھر پہنچ کر وہ کمرہ بند کر کے بیڈ پر ڈھیر ہو گئی۔ آنسو آنکھوں سے نکل کر بالوں میں جذب ہوتے رہے۔ خود سمعان کے ساتھ بھی اس کی کئی ویڈیوز تھیں۔ سوشل میڈیا پر تعریفوں کے پل باندھنے والے لوگ درحقیقت کیا سوچ رہے تھے اس نے آج جانا تھا۔ وہ ایک عزت دار گھرانے سے تعلق رکھنے والی خاندانی لڑکی تھی مگر نہیں! عورت کو اپنی عزت خود کروانی ہوتی ہے۔ کچھ عورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں نظر اٹھا کر دیکھنے کی ہمت مرد خود میں نہیں پاتا اور کچھ خود ہی خود کو پیش کرتی ہیں۔ پھر معاشرے کو کیا الزام دینا؟ اسے یاد تھا ایک دفعہ اس کی کزن نے اس کی اصلاح کرنی چاہی تھی مگر اس نے اسے جلن سمجھ کر عشنا کا کتنا مزاق بنایا تھا مگر آج قدرت نے عشنا کی ہر بات اسے حرف بحرف سمجھا دی تھی۔ اس نے بیگ سے فون نکال کر اپنی ساری ویڈیوز ڈیلیٹ کر ڈالیں۔ اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرتے ہوئے بھی وہ جانتی تھی کہ وہ ویڈیوز ابھی بھی سوشل سائٹس پر موجود ہیں مگر ان تک اس کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے وہ انہیں ڈیلیٹ نہیں کر سکتی تھی۔ اس نے دوبارہ سر تکیہ پر گرا لیا۔ جو بھی تھا اب اسے اس راستے پر دوبارہ نہیں چلنا تھا جو صرف آگ کی طرف لے جاتا ہے اور آگ جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 145 Print Article Print
About the Author: Maham Ansari

Read More Articles by Maham Ansari: 4 Articles with 496 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: