رومیو جولیٹ

(Urdu And Punjab, )

تحریر: رخسانہ افضل ۔
محبتوں کی لوک داستانیں بہت مشہور ہیں۔۔۔محبتوں میں جانیں دے کے ان داستانوں کے کردار امر ہو گئے ۔۔۔۔مگر ساتھیو۔۔۔۔☆
(عشق کوئ مشرق کی میراث تو نہیں
مغرب میں بھی بستے ہیں عاشق بہت)
شاعری۔۔۔۔۔رخسانہ افضل
مشرق کی لوک داستانیں تو بہت سن لیں آپ نے۔۔۔۔آج ایک مغرب کی مشہور زمانہ لوک داستان سنیں۔۔۔۔
"رومیو جولیٹ"
اٹلی کا چھوٹا سا خوبصورت شہر " ورونہ" میلان سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پہ واقع ہے۔۔۔۔
"ورونہ" سرخ سنگ مر مر اور رومیو جولیٹ کی وجہ سے ساری دنیا میں مشہور ہے۔۔۔
رومیو جولیٹ کی داستان عشق۔۔۔۔۔!!!!
بارہویں صدی میں دو بڑے خاندان تھے
مانتنگ فیملی اور کیپولیٹ فیملی۔۔۔۔دونوں خاندان ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے۔۔۔۔
جولیٹ کا تعلق کیپولیٹ فیملی سے تھا جب کہ رومیو مانتنگ فیملی سے تعلق رکھتا تھا۔۔۔۔۔ایک رات کیپولیٹ فیملی میں کوئ فنکشن یا پارٹی تھی ، رومیو بھی بھیس بدل کر اس پارٹی میں شریک ہو گیا۔۔۔بس وہیں رومیو جولیٹ کا آمنا سامنا ہو گیا اور یوں یہ دونوں بھی محبت کے دیوتا کے مرید ہوئے۔۔۔اور ان کی محبت کے ان گنت افسانے ،سینکڑوں ناول ، کہانیاں ، اور ڈرامے لکھے گئے۔۔۔!!!
پارٹی کے بعد ، جولیٹ پارٹی کا احوال اپنی آیا کو سنا رہی تھی اور اس نے بتایا کہ اسے رومیو بہت پسند آیا ہے۔۔۔رومیو نے یہ ساری گفتگو جولیٹ کی گیلری میں چھپ کے سن لی۔۔۔یہ سن کے وہ اس کے کمرے میں کود گیا اور اپنی سب حقیقت بتا دی۔۔۔۔اب حقیقت جو بھی تھی مگر محبت پروان چڑھتی رہی۔۔۔۔رومیو روز رسی کی مدد سے دوسری منزل پہ واقع جولیٹ کے کمرے میں آتا۔۔اور ساری رات وہ باتیں کرتے اور صبح ہوتے ہی وہ چلا جاتا۔۔۔۔۔۔
آخر روز روز کی ملاقاتیں رنگ لائیں اور رومیو جولیٹ نے گھر سے بھاگ کے شادی کر لی۔۔۔۔۔
ایک دن ہی دونوں اکٹھے رہے اور پھر جولیٹ کی فیملی اسے زبردستی واپس لے گئ اور اس کی شادی
"کاونٹ پیرس" سے طے کر دی۔۔۔۔
شادی والے روز جولیٹ کے کسی ہمدرد نے اسے ایک ایسی دوا لا دی جسے پینے کے بعد جولیٹ 40 گھنٹے کے لئے فوت ہو گئ مگر 40 گھنٹے بعد اسے دوبارہ زندہ ہو جانا تھا۔۔۔۔۔
جولیٹ نے اس دوا کے بارے میں رومیو کو اطلاع بھجوائ۔۔۔اس کا خیال تھا کہ خاندان اسے دفن کر دے گا اور وہ 40 گھنٹے بعد زندہ ہو جائیگی۔۔۔رومیو اسے نکال لے گا اور وہ دونوں "ورونہ" سے فرار ہو جائیں گے۔۔۔۔لیکن بدقسمتی سے جولیٹ کا پیغام رومیو تک ناں پہنچا اور جولیٹ کے مرنے کی خبر پھیل گئ۔۔۔خاندان والوں نے جولیٹ کی آخری رسومات کی اور لاش کو کمرے میں رکھ دیا۔۔۔۔
رومیو کو جب جولیٹ کے مرنے کی خبر ملی تو وہ دیوانہ وار دوڑا۔۔۔مطلوبہ مقام پہ پہنچا تو جولیٹ کا منگیتر کاونٹ پیرس بھی موجود تھا۔۔۔۔
کاونٹ پیرس نے رومیو کو روکنے کی کوشش کی ، دونوں کے درمیان لڑائ ہوئ اور کاونٹ پیرس رومیو کے ہاتھوں مارا گیا۔۔۔۔۔۔۔
[ ] رومیو جولیٹ کی لاش کے پاس پہنچا ، لاش کا بوسہ لیا اور زہر کھا کے خود کشی کر لی۔۔۔۔اب جولیٹ کی نیند کے 40 گھنٹے پورے ہوئے ، اس نے آنکھ کھولی۔۔۔کاونٹ پیرس اور رومیو کی لاشیں دیکھیں تو چیخ ماری۔۔۔۔۔اس نے رومیو کے چہرے کو چھو کے دیکھا ، پھر حسرت سے کمرے کو دیکھا۔۔۔خنجر اٹھایا ، سینے میں اتارا ، سینہ تو پہلے سے زخمی تھا بس خون نکلنا باقی تھا ، خون اچھل کے باہر نکلا اور فرش پہ وہ داستان رقم کر گیا جو دنیا بھر کے عاشقوں کا نوحہ بن گئ ، محبت کے ماروں کا ماتم بن گیا۔۔۔۔۔۔یہ ایک عام سی داستان تھی۔۔دنیا کے سینکڑوں ملکوں میں ایسی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔۔۔مگر اس داستان کو مشہور ہونا تھا تو یہ داستان محبت "ورونہ "سے نکلی ، انگلینڈ پہنچی اور شیکسپئیر کے دامن سے جا لپٹی اور لفظوں کے جادوگر"ولیم شیکسپئیر" نے اسے ہمیشہ کے لئے امر کر دیا۔۔۔۔۔
[ ] اس پہ ڈرامے بنے ، فلمیں بنیں ، سیکڑوں ناول لکھے گئے اور مغرب کی ایک لازوال لوک کہانی بن گئ یہ۔۔۔۔۔۔!!!!!
[ ] "اور یوں محبت کا استعارہ بن گئے رومیو جولیٹ"

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 774 Print Article Print
About the Author: Urdu And Punjab

Read More Articles by Urdu And Punjab: 3 Articles with 1728 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: