کشمیر سے اظہارِ یکجہتی کا دن ۔۵ فروری

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

قائد اعظم محمد علی جناح کا کشمیر کے بارے میں موقف

یوم یکجہتی کشمیر ہر سال ۵ فروری کو منایا جاتا ہے جس کا مقصد بھارتی قبضے میں مقبوضہ کشمیرکے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی ، ہمدردی اور انہیں یہ باور کرانا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول میں تنہا نہیں ہیں۔ پاکستانی عوام ان کے ساتھ ہیں وہ اپنے کشمیری بھائیوں کے موقف کو دنیا کے سامنے ، عالمی اداروں تک پہنچاتے رہیں گے۔یہ دن(۵ فروری) کشمیر کے ساتھ تجدید کے دن کے طور پر منا یا جاتا ہے۔یوم یکجہتی کشمیر بھارتی ظلم و ستم کے خلاف ہر سال ۵ فروری ۱۹۹۰ء سے منایا جارہا ہے۔اسی سال کشمیر یوں نے جہاد کا علم تھام کر قابض بھارتی فواج سے ٹکرانے کا فیصلہ کیا۔ ۲۵ سال گزرجانے کے بعد بھی کشمیریوں کا جذبہ پہلے دن کی مانند تازہ اور پرُ عزم ہے۔

بھارتی پنڈت جواہر لال نہرو نے اقوام متحدہ میں کشمیریوں سے استصواب رائے کا جو وعدہ کیا تھا ۔ بھارت مسلسل اس سے منحرف اور بھاگ رہا ہے۔ سلامتی کونسل بھارت کو اس کے کیے ہوئے وعدہ پر عمل درآمد کرانے میں ناکام نظر آتی ہے۔بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ سمجھتا ہے جب کہ پاکستان کا اصولی موقف یہ ہے کہ ’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘۔پڑوسی ہونے کے باوجود دونوں ملکوں کے مابین کشمیر کا مسئلہ وجہ کشیدگی بنا ہوا ہے۔ بھارت نے ہٹ دھرمی اور وعدہ خلافی کی انتہا کردی ہے ۔ وہ تو پاکستان ہی کو تسلیم نہ کرنے کے در پے ہے۔ اس کی پاکستان دشمنی روز وشن کی عیاں ہیں۔ ۱۹۷۱ء میں وہ یہ گھناؤنا کھیل بنگلہ دیش کی صورت میں کھیل چکا ہے۔ اب بھی بلوچستان میں مکروہ کردار ادا کررہا ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دے دیا تھا ۔یہ بات ہے ۱۹۴۶ء کی، قائداعظم نے مسلم کانفرنس کی دعوت پر سرینگر کا دورہ کیا جہاں قائد کی دور اندیش نگاہوں نے سیاسی، دفاعی، اقتصادی اور جغرافیائی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کشمیر کو پاکستان کی ’شہ رگ‘ قرار دیا۔ مسلم کانفرنس نے بھی کشمیری مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ۱۹ جولائی ۱۹۴۷ء کو سردار ابرہیم خان کے گھر سری نگر میں باقاعدہ طور پر قراردا د الحاقِ پاکستان منظور کی لیکن جب کشمیریوں کے فیصلے کو نظر انداز کیا گیا تو مولانا فضل الہٰی وزیرآبادی کی قیادت میں ۲۳ اگست ۱۹۴۷ء کو مسلم جدجہد کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ ۱۵ ماہ کی مسلسل جدوجہد کے بعد موجودہ آزاد کشمیر آزاد ہوا۔ اگر قائد اعظم اپنے سیاسی تدبر کا اظہار اس وقت نہ کرتے تو بھارت کی شاطر نگاہیں آزاد کشمیر کو بھی مقبوضہ کشمیر کی طرح اپنی گرفت میں لے لیتیں۔ قائداعظم کا تدبر ہی تھا کہ جس کے باعث کشمیر کو آزادحیثیت ملی۔

حق خود ارادیت کشمیریوں کا پیدائشی حق ہے ۔ اپنے اس حق کے حصو ل کے لیے کشمیری طویل عرصے سے عملی جدوجہد کررہے ہیں ۔ جس کے لیے سینکڑوں کشمیری اپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔ پاکستان ان کے اس جائز اور اصولی موقف پر ان کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی قیام پاکستان کے بعد سے شروع نہیں ہوئی بلکہ یہ جدوجہد ۱۹۳۱ء میں اس وقت شروع ہوچکی تھی جب پاکستان کا خواب دیکھنے والے مفکرِ پاکستان علامہ اقبال نے سب سے پہلے ۱۴ اگست ۱۹۳۱ء کو لاہور میں یوم کشمیر منایا ۔ حامد میر کی تحقیق کے مطابق’ کشمیر کی تحریک آزادی ۱۸۳۲ء میں پلندری اورنگ کے علاقے میں شروع ہوئی جہاں باغی مسلمانوں کی کھالیں اتار کر درختوں پر لٹکادی گئیں۔ ۱۹۳۱ء میں قرآن پاک کی توہین پر کشمیر میں دوبارہ تحریک شروع ہوئی، سری نگر جیل کے سامنے ۲۲ کشمیریوں نے جام شہادت نوش کیا اور علامہ اقبال نے ۱۴ اگست ۱۹۳۱ء کو لاہور میں یوم کشمیر منا یا ‘۔ کشمیر دراصل لارڈ ماؤنت بیٹن ، جواہر لال نہرو اور شیخ عبداﷲ کی سازش اور گٹھ جوڑ کے نتیجے میں بھارت کے قبضے میں گیا ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل اختلاف کی وجہ یہی مسئلہ کشمیر ہی ہے۔ اس اہم مسئلہ پر دونوں جانب سے کشیدگی کا عمل جاری رہتا ہے۔پاکستان کی اب تک بھارت سے تین جنگیں ہوچکی ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بڑی قوتیں بھی اس مسئلہ کو حل کرانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتیں۔ان تمام کی خاموشی
ایک سوالیا نشان ہے۔

بھارت سمجھتا تھا کہ وہ طاقت کے بل بوتے پر کشمیریوں سے حقِ خود ارادیت کی خواہش اور لگن کو ختم کردے گا۔ اس نے ظلم و زیادتی کے تما م حربے آزمائے ، مقبوضہ کشمیر کے نہتے کشمیریوں پر ظلم و زیادتی کی انتہا کردی لیکن آفرین ہے ان بہادر کشمیریوں پر کہ ان کے اندر سے جذبہ حریت کم نہ ہوا اور بھارت اب ظلم و جبر کے نئے نئے گُر استعمال کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے اور انہیں عملی جامہ پہنانے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ اسے نہیں معلوم کہ مسلمان اپنی گردن کٹوا تو سکتا ہے لیکن ظلم و جبر کے آگے، کفر کے سامنے جھک نہیں سکتا۔انشاء اﷲ بھارت کی ہر سازش ، ہر حربہ، بڑے سے بڑا ظلم و بربریت کشمیری مسلمانوں کے جذبہ حق خود ارادیت کوختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ بھارت یکم جنوری ۱۹۴۹ء کو از خود مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں لے گیا ۔ جب اقوام متحدہ نے کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت کی قرارداد منظور کی تو مسلسل اس سے رو گردانی کررہا ہے۔

۵ فروی کو پورے کشمیر میں ، اس خطے (مقبوضہ کشمیر) میں بھی جہاں بھارت کی حکومت کا سکہ چلتا ہے، اس خطے میں بھی جسے آزاد کشمیر کہتے ہیں، پاکستان بھرمیں، دنیا کے ہر ہر ملک میں جہاں جہاں کشمیری اور پاکستانی آباد ہیں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اجتماعات، جلسے و جلوس، احتجاجی مظاہرے کیے جاتے ہیں ، کشمیریوں کے حق خود ارادیت تسلیم کروانے کے حق میں قراردادیں منظور کی جاتی ہے ۔دنیا کو باور کرانے کی سعئ کی جاتی ہے کہ بھارت اپنے آپ کو جمہوریت کا چیمپیئن کہتا ہے۔اس نے کشمیریوں کی آزادی کو سلب کیا ہوا ہے۔ علامہ اقبال کا یہ شعر ؂
جس خاک کے ضمیر ہو آتشِ چنار
ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاک ارجمند

پاکستان کی قومی اسمبلی کی ایک ’کشمیر کمیٹی ‘ بھی ہے ۔ جس کی ذمہ داریوں میں کشمیر کے معاملات کو مختلف فورم پر اٹھانا، کشمیر کی آزادی اور جدوجہد کی حمایت کرنا ہے۔ کمیٹی میں پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے ۳۵ قومی اسمبلی کے اراکین اس کے ممبر ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن صاحب اس کمیٹی کے چیئمین ہیں۔ مولانا صاحب گزشتہ کئی سال سے کشمیر کمیٹی کے چیئر مین چلے آرہے ہیں۔اس حوالے سے مولانا صاحب کی کارگزاری قابل ذکر نہیں۔ مولانا صاحب کے بیانات اکثر کشمیر کے حوالے سے اخبارات کی ذینت ضرور بنتے رہے ہیں۔ سال بھر یہ کمیٹی کچھ نہ کرے کم از کم ۵ فروری جوکشمیر سے یکجہتی کا دن ہے اس کمیٹی کو خصوصی پروگرام ترتیب دینے چاہیے لیکن نظر یہ آتا ہے کہ جس کمیٹی کا سربراہ سیاسی معاملات میں زیادہ مصروف ہو تو اراکین اس حوالے سے کچھ نہیں کرسکتے۔ مولانا صاحب کو اس عہدہ پر فائز کرنا حکومت کی سیاسی مصلحت پسندی کا پیش خیمہ نظر آتا ہے۔ حکومت کو اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹیاں ملک کے مختلف معاملات کے حل میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔مولانا صاحب کی سیاسی سوچ، سیاسی عمل سب کے سامنے ہے ، وہ ملک کی ایک بڑی سیاسی و دینی جماعت کے سربراہ ہیں اس حوالے سے ان کی ذمہ داریاں اور مصروفیات بہت زیادہ ہیں۔ اگر وہ اپنے بجائے اپنی ہی جماعت کے کسی رکن کو یہ عہدہ سونپ دیں تو شاید کمیٹی زیادہ بہتر کام کر سکے۔

کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا نہ رکنے والا عمل انشاء اﷲ اُس وقت تک جاری و ساری رہے گا جب تک کشمیری اپنا یہ جائز حق حاصل نہیں کر لیتے۔ پاکستان کے غیور اور کشمیر سے محبت کرنے والے عوام اور بہادر کشمیری اپنے اتحاد و اتفاق سے کشمیر دشمن قوت بھارت کو شکت دینے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر ایک ایسا عنصر ہے کہ جس کے نتیجے میں دونوں ممالک ہر وقت حالت جنگ میں رہتے ہیں، تین باقاعدہ جنگوں کے علاوہ چھوٹے معرکے الگ ہیں۔ اس کی وجہ سے دونوں ممالک اپنا دفاعی بجٹ زیادہ سے زیادہ کرنے کی تدابیر میں لگے رہتے ہیں۔یہی بجٹ عوام کی فلا ح و بہبود پر خرچ ہوتو خلق خدا کی بھلائی اور عوام خوش حال ہوجائیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ دونوں ممالک کے سربرہان کشمیر کے اس دیرینہ مسئلہ کو باہم مل کر حل کرلیں۔ کشمیر ، کشمیریوں کا ہے اسی طرح کہ جیسے ہندوستان ہندوستانیوں کا اور پاکستان پاکستانیوں کا ہے۔ ۶۸سال کی کشیدہ تاریخ ہمیں کیا پیغام دے رہی ہے، ہم نے دشمنی سے کیا حاصل کیا۔ کشت و خون سے دونوں کو کیا ملا، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کو خون میں نہلا کر کیا حاصل کیا، کیا اس عمل سے بھارت کے عوام خوش حال ہوئے، بھارتی عوام نے اپنی حکومتوں کو شاباش دیتے ہوئے انہیں مسلسل اقتدار میں رکھا۔ نہیں کا انڈین نیشنل نگریس کا انجام (INC)، بھارتیہ جنتہ پارٹی(BJP) کا انجام سب کے سامنے ہے۔ دور جانے کی ضرورت نہیں ، آج ہی کی خبر ہے کہ نئی دہلی اسمبلی کے انتخابات میں موجودہ وزیراعظم نریندر مودی کی پارٹی کا انجام کس قدر درد ناک ہوا، مودی کی پارٹی کا اپنے دارالحکومت میں صفایا ہوگیا اس کے مقابلے میں ’عام آدمی پارٹی‘ نے ۷۰ میں سے ۶۷ نشستیں جیت لیں۔ کہا ں گی نریندر مودی کی پاکستان دشمنی۔ عوام کو امن چاہیے، سکون چاہیے، روزگار چاہیے، مہنگائی کا خاتمہ درکار ہے، خوش حالی کا دور دورہ ہو، دونوں ملکوں کے عوام آزادی کے ساتھ ایک دوسرے کے ہاں کسی بھی قسم کے ڈر و خوف کے ساتھ آجاسکیں۔ کشمیر یوں سے ان کا حقِ خود ارادی کوئی نہیں چھین سکتا ، وہ انہیں ایک نہ ایک دن ضرور حاصل ہو کر رہے گا۔ آخر میں اپنی بات کالم نگار منصر آفاق کی اس بات پر ختم کرتا ہو جس میں سچائی ہے، حقیقت بھی کہ ’آؤ صلح کرلیں‘۔دیکھو ہندوستان ہندؤں کا ہے، پاکستان پاکستانیوں کا، بنگال بنگالیوں کا، افغانستان افغانیوں کا ، ترکی ترکیوں کا، سعودی عرب سعودیوں کا ، مصر مصریوں کا، جرمن جرمنیوں کا، فرانس فرانسیسیوں کا تو پھر ہم اور آپ کون ہوتے ہیں کشمیریوں کو ان کے حق سے محروم کرنے والے۔بہتری اور سچائی اسی میں ہے کہ کشمیریوں کا ان کا حقِ خود ارادی خوشی سے دیدیا جائے۔ بہتری اسی میں ہے، انصاف اور سچائی کا یہی تقاضہ ہے۔ انسانیت اسی میں ہے،دنیا کا ہر مذہب ، ہر عقیدہ، ہر فلسفہ یہی کہتا ہے کہ حق حقدار کو دیدینے میں ہی بھلائی ہے، کسی کا حق غضب کرنے سے بے شمار قسم کی خرابیاں ہی پیدا ہوتی ہیں، امن و سکون خراب ہوتا ہے، خونِ نہ حق بہتا ہے جو کسی طور بھی اچھا نہیں (۱۰ فروری ۲۰۱۵ء)

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 372 Print Article Print
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 651 Articles with 472493 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Reviews & Comments

عثمان قاضی کوئٹہ سے تعلق رکھتے ہیں اور اس وقت اقوام متحدہ کے کسی ادارے سے منسلک ہیں - انہوں نے کشمیر کے بارے میں ایک مضمون --اقواممتحدہ کے حوالے سے تحریر کیا تھا جو کہ “ہم سب “ میں شائع ہوا تھا - وہ کہتے ہیں کہ
۔

اقوام متحدہ کے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق قراردادوں کے مختلف زمرے بناے گئے ہیں۔

مثلا ایک زمرہ، شیڈول نمبر سات کہلاتا ہے، جس کے تحت طے کی گئی قراردادوں پر لازمی عمل درامد کروانا اقوام متحدہ کے تمام ارکان، خصوصا سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کی ذمہ داری ٹھہرتا ہے۔ عراق اور مشرقی تیمور سے متعلق قراردادیں اسی شیڈول کے تحت منظور کی گئیں۔

اس کے بر عکس، شیڈول چھ کے تحت منظور کردہ

قراردادوں کی حیثیت محض سفارشی ہوتی ہے


شیڈول چھے کے زمرے میں، اکیس اپریل سن اڑتالیس کو منظور کی گئی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر سینتالیس (اور بعد میں قرارداد نمبر انچاس) کے تحت، کشمیر کا
مسئلہ پر امن طور پر حل کروانے کے لئے ایک کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا جس نے ریاست کے “عوام کی امنگیں” معلوم کرنے کے لئے راے شماری کی سفارش کی، جسے تمام ارکان نے، بشمول متحارب فریقین (پاکستان اور بھارت) بلا چون و چرا قبول کر لیا۔

اس قرارداد کا متن عجیب و غریب اور اس اور اس کے مضمرات نہایت گمبھیر ہیں۔

اس کے مطابق درانداز فوج (مراد پاکستانی دستے اور قبائلی لشکر) متنازعہ علاقہ خالی کرے اور ریاست کا قانونی معاہد (بھارت) اتنی فوج علاقے میں رکھے جو پر امن ماحول میں راے شماری کو یقینی بنا سکے۔

اس کی مزید وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں کہ اس کے مضمرات پاکستانی نقطۂ نظر سے کیسے ہیں۔

حیرت ہوتی ہے کہ یہ معاہدہ اور قرارداد ایسے وقت میں منظور ہوئی جب ہمارے سرکاری بیانیے کی رو سے وہ لوگ حکمران تھے جن کی قانونی قابلیت کے ساتھ ساتھ مملکت سے ان کی وفاداری کو بھی مسلم مانا جاتا ہے۔

خادم کو کوشش کے باوجود ان عوامل کا پتا نہ چل سکا جن کے زیر اثر ہماری جانب سے اس قرارداد کو شیڈول سات میں شامل کروانے یا “درانداز قوت” کے الفاظ میں تبدیلی لانے، یا “قانونی معاہد” کو چیلنج کرنے کی کوئی کوشش ریکارڈ پر نہیں ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں، ہمارے ہاں کچھ حلقوں میں شد و مد سے دہراۓ جانے والے بھٹو، ایوب، مشرف وغیرہ پر “کشمیر کو بیچ دینے” کے الزامات کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی،
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Feb, 05 2019
Reply Reply
0 Like
Language: