عنوانی غزل

(Prof Niamat Ali Murtazai, )

غزل اردو شاعری کی دلہن ہے اور اس کے سولہ سنگھار اور حسن وجمال میں ہر آنے والے وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔اردوشاعری میں جتنی ترقی اس صنف ِ سخن نے کی ہے شاید ہی کسی اور صنف کو نصیب ہوئی ہو۔ غزل کو اگر اردو ادب کی صنفِ نازک کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کیوں کہ اس کا انداز نازک حسیناؤں کے انداز سے بھی زیادہ نازک اور حساس ہے۔ اس کے چاہنے والوں میں نوجوان، ادھیڑ عمر اور بوڑھے سبھی شامل ہیں۔ اس کی زمینوں پر خواتین بھی طبع آزمائی کرتی نہیں تھکتیں۔ اس کا مطلع اور مقطع زمین وآسمان کے دل فریب روزو شب سے زیادہ جاذبِ نظر ہیں۔ اس کا میک اپ اس کی جاذبیت میں اضافہ کرتا ہے۔ اسے چاہے وحشی حسینہ کہہ لیں چاہے بیکس(Bacchus) کی مینڈ(Maenad)، چاہے ڈیانا (Diana)کی بکارت کہہ لیں یا وینس (Venus)کی پیشانی، اسے انارکلی کی سادگی کہہ لیں یا ممتازمحل کی دلفریبی۔ اسے غالبؔ کی معشوق کہہ لیں یا میرؔ کی آہ ، اسے مومن ؔکی بے باکی کہہ لیں یا داغؔ کی سحر بیانی، لیکن اس کے سحر سے نکلنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا سرسی(Circe) کی قید سے یولیسیز( Ulysses)کے ساتھیوں کا۔

اردو غزل دنیا کے ادب میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ ایک شعرمیں اور بعض اوقات ایک مصرع میں معانی کا سمندر بھر دینا ، یہ ادب نہیں ادب کا جادو محسوس ہوتا ہے۔ اس صنفِ ادب کے ہوتے ہوئے اردوعالمی ادب کے آگے کبھی سر نگوں نہیں ہو گی۔ اردو کے دامن میں جب تک غالب ؔکی غزل موجود ہے اسے تمام عالمی اصناف ِ ادب میں یدِ طولٰی حاصل رہے گا۔

ہماری بحث کا مقصد اردو غزل کے شانِ دل ربائی کے حق میں قصیدہ گوئی نہیں تھا وہ اتفاقاً اس کے تعارف میں ہو گئی جو کہ بے جا بھی نہیں بلکہ حرف بہ حرف مبنی بر حقائق ہے۔ ہماری بحث کا فوکس یہ ہے کہ اردو غزل کے عنوان رکھنے کی ایک نئی روایت کا آغاز ہونا چاہئے اور ماضی کے عظیم شاعروں کی غزلوں کو اگر ہو سکے تو مناسب عنوانات سے مزین کیا جائے تا کہ بات اور بحث دونوں میں حوالے کی آسانی میسر آ سکے۔

نام کسی چیز، شخص، جگہ ، احساس وغیرہ کی پہچان کا ذریعہ ہے۔ ایک عام نام پہلے دیا جاتا ہے اور جب عام ناموں میں سے پھر سے پہچان کی ضرورت پڑتی ہے تو پھر ایک خاص نام بھی دے دیا جاتا ہے۔ جس سے اس چیز، شخص یا جگہ کا نام مکمل ہو جاتا ہے ، اور اس کی پہچان آسان ہو جاتی ہے ۔ جب تک پہچان مکمل نہ ہو، نام میں اضافے کی ضرورت محسوس ہوتی رہتی ہے۔ مثال کے طور پرشہر ایک عام نام ہے دنیا میں بہت سے شہر آباد ہیں جن میں سے کئی چھوٹے اور کئی بڑے ہیں۔ اب ان شہروں کو ایک ایک خاص نام سے بھی نوازا جاتا ہے جس سے ان کی پہچان کامسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ اب اگر شہر کا نام لاہور، کراچی، لندن، ماسکو، پیرس وغیرہ کچھ بھی ہو اس میں مذید کچھ اضافہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اسی طرح اگر ہم ایک خاص شکل کو کتاب کا نام دیتے ہیں تو یہ ایک عام نام ہے لیکن جب ہم کسی کتاب کو اس کا مخصوص نام بھی دے دیں گے تو نام مکمل ہو جائے گا جیسے قرآن ، زبور، بالِ جبریل، دیوانِ غالبؔ و غیرہ۔ نظم بھی شاعری کی ایک ایک قسم کا نام ہے اب ہر نظم کو صرف نظم ہی کہہ دیا جائے تو کسی خاص نظم کی پہچان ختم ہو جائے گی اور پتہ نہیں لگے گا کہ کون سی خاص نظم کا نام لیا جا رہا ہے۔ اب اگر کوئی کہے اقبالؔ کی نظم ہمالہ، شکوہ، پرندے کی فریاد وغیرہ تو بات زیادہ واضح ہو جاتی ہے کہ کس نظم پر بات ہو رہی ہے۔

اب رہی بات غزل کے نام یا عنوان کی۔غزل کے عنوان کے متعلق اردو زبان میں کئی بڑی بحث نہیں چل رہی۔ یہ مضمون میری ذاتی اختراع اور سوچ ہے لیکن اس کے دو پہلو ضرور موجود ہیں اور میں دونوں پہلوؤں پر بات کرنے کی کوشش کروں گا۔ایک پہلو یہ ہے کہ غزل کا کبھی نام نہیں رکھا گیا اور کبھی رکھنا بھی نہیں چاہیئے۔ جب کہ دوسری جو کہ میری ذاتی رائے ہے کہ غزل کا نام ہونا چاہیئے اور میں اس رائے کو بھرپور طور پر پیش کرنے کی کوشش بھی کروں گا۔ یا یوں سمجھ لیں میں ادب کی عدالت میں غزل کا نام رکھنے کا مقدمہ پیش کر رہا ہوں۔

پہلے ہم غزل کو عنوان نہ دینے والوں کی رائے پیش کرتے ہیں:
۱۔ غزل کو عنوان نہ دینے کی سب سے بڑی وجہ اس کا اپنا انداز ہے جس کا موضوع، مرکزی خیال یاتھیم(theme) خاص نہ ہونا ہے۔ غزل کا انداز یہ ہے کہ اس کا ہر شعر ایک علیحدہ موضوع رکھتا ہے، جب اس کے موضوعات لا محدود یا غیر محدود یا غیر مخصوص ہیں تو پھر اسے عنوان کیا دیا جائے۔ عنوان تو اس وقت موزوں لگتا ہے جب ساری غزل اس عنوان کی چھتری کے اندر اندر آ رہی ہو یا کم از کم اس کو چھو ضرور رہی ہو۔
۲۔ دوسری بڑی دلیل غزل کو عنوان نہ دینے کے حق میں یہ ہے کہ اردو غزل کی روایت میں اس کو بلا عنوان رکھنا ہی رہا ہے۔ غزل کو عنوان دینا روایت سے بغاوت ہے جو کہ اچھا شگون نہیں ہے۔
۳۔ عنوان دینے سے غزل کے موضوعات محدود ہونے کا خدشہ ہے اس سے اس کے جاذبیت و آفاقیت میں کمی واقع ہو سکتی ہے، جو کہ کسی طرح سے بھی قابلِ تائید نہیں ہے۔
۴۔ قاری جب عنوان والی غزل کا مطالعہ کرے گا تو اس کاخیال ہو گا کہ ساری غزل اسی عنوان کے تابع ہو گی اور جب خیال اس عنوان کی چار دیواری سے باہر اچھل جائے گا تو قاری اور سامع کی پریشانی اس کاا دبی ذوق متاثر کرے گی۔ جو کہ اردو غزل کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
۵۔ اردو غزل کو عنوان دینے سے ایک یہ مسئلہ بھی پیدا ہونے کا احتما ل ہے کہ نظم اور غزل کا امتیاز ختم ہو جائے گا۔ دنیا کے زیادہ تو لٹریچروں میں نظم ہی چھائی ہوئے ہے تو اردو ادب میں بھی عنوان کا دوپٹہ اوڑھ کر ہر غزل، نظم ہی بن جائے گی اور اردو ادب ایک عظیم صنف سے محروم ہو جائے۔
۶۔ جس کسی نے عنوان والی غزل لکھنی ہے وہ سیدھی نظم ہی لکھ لے اور اپنے جذبات کی تسکین کر لے، غزل کو چھیڑنے کی کیا ضرورت ہے۔
۷۔ دنیا کے اکثر ادب اپنی اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہیں اس لئے ہمیں بھی اپنی غزل کی روایت برقرار رکھنی چاہیئے۔
مندرجہ بالا نکات کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو غزل کو عنوان دینے کی کوئی ضرورت یا صورت نظر نہیں آتی۔

اوپر بیان کردہ ساری باتیں اپنی جگہ درست ہیں لیکن بحث کو ایک منطقی اختتام دینے کے لئے ضروری ہے کہ اس مباحثے کا دوسرا پہلو بھی دیکھا جائے۔

آج کا دور ماضی کی نسبت بہت تیز اور معروضی ہے۔ آج سائنسی ایجادات بلکہ موبائلی دماغوں اور کمپیوٹری رویوں اور انٹر نٹی خیالات و نظریات کی بھر مار ہے۔ اس دور کا تقاضا ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیز کا بھی ذاتی نام ہو۔ ماضی میں نام کی اہمیت آج کی نسبت کہیں کم تھی۔ ناموں کا اندارج بھی ماضی میں آ ج کی نسبت کم توجہ اور اہمیت کا حامل تھا ۔ ماضی کے دیہاتوں کے نام آج بدل رہے ہیں اور نا پسندیدہ ناموں کو بدل کر اچھے اچھے نام رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انسانی ناموں میں بھی انقلاب برپا ہو رہا ہے۔ ماضی میں بچوں کے نام ماں باپ جیسے مرضی رکھ لیتے تھے لیکن آج کل بچوں کے نام بہت زیادہ سوچ سمجھ اور انتخاب کے بعد رکھے جاتے ہیں۔ موجودہ زمانہ ناموں کی اہمیت کا زمانہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ آج کے دور میں تو حد ہی ہو گئی ہے کہ امریکہ، یورپ اور باقی دنیا میں اب تو سیلابوں، اور طوفانوں کے نام بھی رکھے جا رہے ہیں۔ Harvey, Irma, Gorden, Helene وغیرہ انسانوں کے نہیں پچھلے سالوں میں آنے والے طوفانوں کے نام ہیں۔سونامیوں کے نام بھی عام رکھے جا رہے ہیں۔ اسی طرح جنگوں کے نام بھی دنیا میں مشہور و معروف ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر ’پہلی جنگِ عظیم‘ اور’ دوسری جنگ عظیم‘ نے تو دنیا کے نقشے ہی بدل کے رکھ دیئے ہیں۔

موجودہ زمانے میں ناموں کی اہمیت کا غزل کے نام کے ساتھ براہِ راست تعلق توواضح نہیں لیکن اس سے یہ بات سمجھنے میں آسانی ہے کہ ادب ہمیشہ وقتی تقاضے پورے کرتا آیا ہے۔ جب انسان کے پاس کافی وقت ہوتا تھا تو انسان نے داستانیں، جنہیں ایپکس (Epics) بھی کہا جا سکتا ہے ،لکھیں۔ پانچ پانچ ایکٹ کے ڈرامے بھی لکھے گئے اور اور اب انسان کے پاس لمبی لمبی کہانیاں سننے اور پڑھنے کا وقت نہیں رہا تو ناول،ناولٹ، شارٹ سٹوری، افسانے، منی سٹوری، ایک یا دو لائنوں کی نظمیں، ایک ایکٹ کے ڈرامے وغیرہ منظر عام پر آ گئے اور مقبولِ عام بھی ہو گئے اور وہ کلاسیکی ادب جو کبھی بہت معلی ہوا کرتا تھا وقت کی قلت کے باعث طاقِ نسیان کی زینت بنتا جا رہا ہے۔ اسی طرح مشکل لفاظی جو کبھی لکھنے والے کی علمی برتری کی عکاسی کیا کرتی تھی اب نا پسندیدہ ہو تی جا رہی ہے۔ آزاد نظم بھی شاعری کے میدان میں اپنا لوہا منوا چکی ہے اور بغیر وزن اور بحر کی شاعری کا مواد با وزن اور موزوں شاعری سے زیادہ ہو تا جا رہا ہے۔ انگریزی ادب میں سولہویں صدی عیسوی کے Wyatt اورSurrey نے سانٹ(گیت) لکھے گئے جن کے بھی غزلوں کے انداز میں نام یا عنوان نہیں ہو اکرتے تھے۔ لیکن اب جب یہ سانٹ ایم اے انگلش کے نصاب میں شامل ہیں تو امتحان میں ان کا حوالہ لکھنے کے لئے ان کا کوئی نہ کوئی نام لکھنا ضروری ہوتا ہے جس کے لئے عام طور پر سانٹ کی پہلی لائن ہی بطورِ نام یا عنوان لکھ دی جاتی ہے۔

غزل کا عنوان لکھنے کے چند فوائد :
۱۔ غزل کی پہچان میں آ سانی ہو جائے گی۔
۲۔ غزل کا حوالہ دینا آسان ہو اجائے گا جس کا کہ اس وقت کوئی طریقہ رائج نہیں اور کوئی شعر یا مصرع سنانا پڑتا ہے کہ اس شعر یا مصرعے والی غزل ۔ یا فلاں شاعر کی فلاں غزل جس میں قافیہ، ردیف یہ ہے ۔اس طریقے سے اکثر ابہام پیدا ہوتا ہے۔
۳۔ غزلوں کے نام رکھنے سے کئی ایک نئی تراکیب اور خوبصورت لفظی مرکبات سامنے آئیں گے ۔
۴۔ فہرست سازی میں غزلوں کے مصرعے لکھنے کی بجائے ان کے نام لکھے جائیں گے جس سے فہرست دیدہ زیب اور زیادہ پر کشش ہو جائے گی۔
۵۔ غزل کے ناموں کو ابجدی ترتیب میں بھی لکھا جا سکے گا جس سے غزل تلاش کرنے میں آ سانی ہو جائے گی۔
۶۔ غزل کا عنوان اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے، عنوان کسی نظم یا غزل کے سر کا تاج بن جاتا ہے، جس سے اس کی آبرو میں اضافہ ہوتا ہے۔
۷۔ اس طرح ’سرکٹی‘ غزل اپنے سر پر عنوان لے کر باقی ادبی اصناف کے ہم سر ہو جائے گی۔

غزل کا نام رکھنے کا آسان ترین طریقہ یا انداز یہ ہو سکتا ہے کہ اس کے ردیف ، قافیہ ہے کو غزل کا نام بنا دیا جائے مثلاً غالبؔ کی جو غزل ’ہائے ہائے‘ کا ردیف رکھتی ہے اگر اس کا عنوان ’ہائے ہائے‘ ہی رکھ دیا جائے تو سننے والے ،پڑھنے والے اور حوالہ دینے ولاے کو کتنی آ سانی ہو جائے گی۔ اسی طرح جس غزل کا ردیف قافیہ ’ تو کیا ہوتا ‘ ہے اس کا عنوان ’ تو کیا ہوتا ‘ ہی رکھ دیا جائے ‘ تو اس سے غزل کی صحت و سلامتی پر کوئی برا اثر نہیں پڑ سکتا، بلکہ آسانی ہی آسانی ہے ۔

نام کا مقصد صرف اور صرف حوالہ ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر ایک عنوان دے دیا گیا ہے تو اس کے نیچے ہر بات اسی عنوان کے زیرِ اثر ہی ہو ۔ جیسے یہ ضروری تو نہیں ہے کہ اگر کسی کا نا م ’خوشی محمد‘ ہے تو وہ شخص ہمیشہ خوش ہی رہے گا یا جس کانام’ گلشن‘ ہے تو اسے ہر موسمِ بہار میں پھول بھی لگا کریں گے۔ جس طرح انسانی نام بھی بطور حوالہ ہیں اسی طرح اگر غزل کے نام بھی بطورِ حوالہ نہ کہ بطور بحث لئے جائیں تو کوئی فرق نہیں پڑ تا ۔ بات تو صرف اس خیال کو سمجھنے یا ماننے کی ہے۔ غزل کا نام اس کی معنویت پر کسی طرح سے بھی اثر انداز نہیں ہو سکے گا۔ بے شمار کہانیاں ، ڈرامے، نظمیں وغیرہ ایسے ہیں کہ ان کے نام سے کوئی بھی معلوم نہیں کر سکے گا کہ اس میں کیا واقع ہو گا وہ اچھا ہو گا یا برا ہو گا۔ کسی بھی کہانی یا نظم کا پتہ اسے پڑھ کر ہی لگتا ہے اس طرح اگر غزل کا عنوان پڑھ کر اس کا مواد بھی پڑھ لیا جائے تو بات میں یکسانیت بھی آ جائے گی اور پہچان کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔

زمانے میں تبدیلی اور تغیر آتے رہتے ہیں اور نئے تجربات سے راہیں ترقی کی طرف اور ترقی بہتری کی طرف جاتی ہے۔ جس کی بے شمار مثالیں ’کوٹ‘ کی جا سکتی ہیں۔ ماضی میں بلیک اینڈ وائٹ فلمیں بنا کرتی تھی اور جب رنگین فلموں کا زمانہ آیا تو وہی فلمیں جو اصل میں بلیک اینڈ وائٹ تھیں ان کے پروڈیوسروں نے رنگین کروا لیں اب ان رنگیں فلموں کو بلیک اینڈ وائٹ سے زیادہ پسند بھی کیا جا تا ہے اور دیکھا بھی جاتا ہے اور وقت کا تقاضا بھی پورا ہو جاتا ہے۔اسی رطرح اگرماضی کے شعرا نے اپنی غزلوں کو نام نہیں دیئے تو کوئی مسئلہ نہیں ان کے لئے نام تجویز ہو سکتے ہیں ، اس طرح اس مسئلے کا حل بھی سوچا جا سکتا ہے۔ بات یہ ہے کہ خیال یا نظریئے سے اتفاق کیا جائے کہ غزل کا نام ہونا چایئے اور اس کا نام رکھا بھی جائے اور وقت کے تقاضے کو مدِ نظر رکھ کر یہ قدم اٹھا لیا جائے۔

اگرچہ یہ بات غزل کے عنوان جیسی بات سے کسی حد تک مختلف ہے کہ اس ادبی بحث میں کسی مذہبی کتاب کا حوالہ دیا جائے، لیکن اگر دے بھی دیا جائے تو کوئی امر مانع نہیں ہے سوائے اس کے کہ یہ ادبی بحث ہے مذہبی نہیں ۔ لیکن ہم یہاں مذہبی یا ادبی کی بجائے منطقی اور استدلالی انداز میں بات کر رہے ہیں اس لئے کسی بھی فیلڈ سے بات بطورِ حوالہ بھی لی جا سکتی ہے۔ قرآنِ پاک میں ایسی کئی سورتیں ہیں جن کے نام کسی شخصیت یا واقعہ کی ساتھ منسوب ہیں لیکن ان سورتوں میں شامل آیاتِ مبارکہ کے موضوعات صرف اپنے عنوان کے ساتھ منسلک یا محدودنہیں بلکہ بہت سی اور باتیں اور موضوعات بھی ان میں شامل ہیں۔ مثال کے طور پر سورہ ’الکہف‘ پیش کی جا سکتی ہے۔ اس سورہ مباک کا نام ماضی کے ایک واقعہ سے منسوب ہے جس میں کچھ نوجوانوں نے اپنے علاقے سے ہجرت کر کے ایک غار میں پناہ لی اور پھر وہ پورا واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے۔ لیکن اس کے بعد اس سورہ مبارکہ میں حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کا واقعہ بھی بیان ہے، حضرت ذولقرنین ؑکا واقعہ بھی بیان ہے، ان کے ساتھ ساتھ کچھ اور واقعات اور باتیں بھی شامل گئی ہیں ۔لیکن اس ساری سورت کا نام ’الکہف ‘ہی ہے۔ اسی طرح سے انبیاے کرام ؑ کے ناموں سے بھی سورتیں ہیں لیکن ان میں ان سے ہٹ کر بھی باتیں موجود ہیں۔ اس حوالے کا مقصد اس نظریئے کی تائید ہے کہ عنوان دینے سے بات یا موضوع محدود نہیں ہو جاتا ، اور یہ نہیں ہوتا کہ ایک عنوان دے لیا گیا ہے اس لئے اب کوئی اور بات کی ہی نہیں جا سکتی۔ کوئی بھی بات جو معقول اور مناسب ہے کہی جا سکتی ہے۔ بعض غزلیں ایسی بھی ہیں جو مسلسل ہیں لیکن عنوان سے وہ بھی محروم ہیں۔جو کہ روایت پسندی نہیں بلکہ روایت پرستی ہے۔

مغرب میں لکھی جانے والی ایک ایک ، دو دو لائنوں کی نظموں کو بھی نام یاعنوان سے نوازا جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر :
Metro: Paris
The apparition of these faces in the crowd;
Petal on a wet black bough. (Ezra Pound)

اسی تناظر میں اگر بات مزید بڑھائی جائے تو شخص کا نام بھی اس کا مکمل حوالہ نہیں ہوتا نام تو ہر شخص کا اچھا اور مثبت ہی ہوتا ہے لیکن کام ہر کسی کا مثبت اور اچھا ہونا ضروری نہیں۔ بہت سے’ سکندر‘ نام کے لوگ غربت کے ہاتھوں مر رہے ہوتے ہیں،’ صابر‘ نام رکھنے والے بہت سے لوگ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔ خیر بات ایک بار پھر اسی استدلال کو توڑنے کی ہے کہ غزل کے عنوانات غیر متعین ہوتے ہیں اس لئے اس کا نام نہیں رکھا جا سکتا ۔ یہ کوئی مستحکم استدلا ل نہیں ہے۔ کیا پنجاب میں لوگ اردو ، پشتو یا کوئی اور زبان نہیں بول سکتے، کیا پاکستان میں دوسرے مذاہب کے لوگوں کا رہنا ار اپنے اپنے مذہب کے مطابق عبادات کرنا منع ہے، نہیں بالکل بھی نہیں ۔ نام صرف اور صرف حوالے کے لئے ہوتے ہیں ۔ اب ہم اگر انگریز لوگوں کے ناموں کا حوالہ دیں گے تو شاید کوئی اس کو بھی بے معنی بات سمجھے۔ Keats, Coleridge, Wordsworth, Shelley, Shakespeare, Eliot, Sidney,
جیسے لا تعداد نام ہیں جن کے کوئی خاص معنی نہیں ہیں۔ لیکن یہ نام رکھنے الے بہت سے لوگ دنیا بھر کی شہرت سمیٹ چکے ہیں اور صدیوں کا زمانہ کی مسافت بھی طے کرچکے ہیں۔

کتابی بحث میں کتابی حوالے ہی اچھے لگتے ہیں ؛غزلوں کا نام نہ رکھنے پر اصرار کرنے والوں سے یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا جب وہ غزلوں پر مشتمل کتاب چھپواتے ہیں تو کیا وہ اس کتاب کا بھی نام نہیں رکھتے۔ جواب از خود واضح ہے کہ سبھی لوگ ایسی کتابوں کے نام رکھتے ہیں۔ اگر کوئی کتاب جو کہ غزلوں پر مشتمل ہے نام کا تقاضا کرتی ہے تو بیچاری غزل کو نام دے دیں۔ بحری جہازوں اور ٹرینوں کے ناموں کی بات تو پرانی ۔ نام رکھنے سے ان چیزوں کی کارکردگی بہتر نہیں ہو جاتی بس نام سے پہچان اور حوالہ بن جاتا ہے۔

اگر کہیں نام نہیں تو نمبر اس کمی کو پورا کرنے کے لئے میدان میں اتر آتے ہیں اور ناموں سے بھی بہتر کارکردگی انجام دیتے ہیں اور ناموں کے متبادل کے طور پر بہت اچھا کام کام کرتے ہیں جیسے رول کال ناموں کی بجائے زیادہ تر نمبروں پر ہی ہوتی ہے۔ اگر غزل کو نمبر ہی لگا دیا جائے تو بھی کچھ آسانی اور بہتری ہو سکتی ہے کہا جائے گا غالبؔ کی غزل نمبر پچاس ، میرؔ کی غزل نمبر سات وغیرہ۔ لیکن ہو سکتا ہے یہ بات بھی ادبی ذہنوں پر گراں گزرے ، کیوں کہ وہ نمبر کو اتنا پسند نہیں کرتے لیکن اس سائنسی ، کمپیوٹری اور موبائل فونی دور میں اتنی حساسیت اختیار نہ بھی کی جائے تو کیا مضائقہ ہے۔

آج کل توانسان کی پہچان بھی اس کے شناختی کارڈ نمبر اور بھر موبائل فون نمبر سے منسلک ہوتی جا رہی ہے۔اس لئے کسی شاعر کے ’غزلی کلام‘ کو نام دینے سے گریزاں دوست اگر نمبر دینے پر متفق ہو جائیں تو میرا خیال ہے کہ یہ بھی ایک مثبت پیش رفت ہو گی۔ روایت کا مطلب غیر منطقی، غیر استدلالی یا غیر اخلاقی تقلید ہرگز نہیں ہوتا۔ اچھی چیز کی روایت کو برقرار رکھنا اور جہاں کہیں بہتری کی گنجائش یا ضرورت موجود ہو اس کمی کو پورا کرنا ور اس بہتری کو متعارف کرانا برائی کے زمرے میں نہیں آنا چاہیئے۔ دیہاتوں سے تہذیب آہستہ آہستہ شہروں کی شکل اختیار کر تی ہے اور کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے۔ رسومات میں کچھ چیزیں جاری رہتی ہیں اور کچھ وقت کے اور بہتری کے تقاضوں کے پیشِ نظر بدل جاتی ہیں۔ ہمارے سماجی ماحول میں شادی کی تقریب کو اہمیت اور روایت حاصل ہے۔ اسی کی مثال لے لیتے ہیں۔کسی زمانے میں دولہا گھوڑی پے بیٹھ کر اپنی دلہن کی ڈولی لایا کرتا تھا۔ دولہا کے دوست یار بھی اپنی اپنی گھوڑیوں یا گھوڑوں پے بیٹھ کر بارات کا حصہ بنا کرتے تھے۔ پھر گھوڑے، گھوڑیاں کم پڑ گئے تو صرف اور صرف دلہا اور ’سربالا ‘ہی گھوڑی یا گھوڑے پے بیٹھنے لگے اور باقی بارات نے پیدل چلنا یا ٹانگے پر بیٹھنا وغیرہ اختیار کر لیا۔ اب جب کہ گھوڑے یا گھوڑی کی نسبت کار کی شکل میں ایک بہت آرام دہ، دیدہ زیب اور بہتر سواری دستیاب ہو چکی ہے تو اب بارات گھوڑی یا گھوڑے کی ضد کئے بغیر اپنے دلہا کو کار میں لے جاتی ہے اور بارارتی بھی اپنی اپنی گاڑی یا کوئی اور ذریعہ استعمال کر لیتے ہیں۔ اسی طرح کسی زمانے میں ڈولیوں کا عام رواج تھا۔ آدمی بھی ڈولی یا پالکی کی سواری کر لیا کرتے تھے۔ اب ایسا کچھ بھی نہیں ہے اور تو دلہن کی ڈولی بھی زمانے کی انقلابات نے ’لوٹ لی ‘ہے لیکن وہ بڑے آرام وسکون سے کار میں بیٹھ جاتی ہے اور دلہا کو بیک اپ کرتی ہے۔روایت سے جڑی کی ایک اور بڑی چیز کہ دلہا ، دلہن کو بیاہ کر اپنے گھر لائے گا جاری ہے لیکن تبدیلیوں کے ساتھ۔ اسی طرح اب شادی ہالوں نے ہماری تہذیب میں ایک نئے باب کا اضافہ کر دیا ہے۔ جو کہ مثبت ہے اور تہذیب کو ایک درجہ بہتری دیتا ہے ۔

اسی طرح کی بے شمار مثالوں سے اس سوچ کی تائید کی جا سکتی ہے کہ مثبت تبدلی کو شرفِ قبولیت بخش دینا چاہیئے۔ چاہے وہ غزل کا نام رکھنے کی ہی کیوں نہ ہو۔ جس طرح جو تہذیبیں یا زبانیں مثبت تبدیلیوں کو قبول نہیں کرتیں ان کی آنے والی نسلیں ان تہذیبوں یا زبانوں کو کم اپناتیں ہیں یا بالکل نظر انداز کر دیتی ہیں۔ اس لئے نئی سوچ اگر مثبت اور مفید ہو اپنا لینی چاہیئے۔آخر میں میں اپنی ایک عنوانی غزل مثال کے طور پر پیش کرنے کی اجازت چاہوں گا۔
بھرا دامن (غزل)
بھرا دامن ہے محرومی نے اپنا روزِ اول سے
پڑے تاخیر کے پلے جو بندے کچھ سے اول سے
ڈرامہء حیات چار روزہ میں وہ مس فٹ ہیں
لکھے جن کے نظر آتے ہیں ماتھے پے یہ ناول سے
تعلق توڑنا چاہے ، ہے دل اب واپسی مائل
صنم خانہء دل کے بت نظر آتے ہیں گھائل سے
ملی چاندی ہے بالوں میں ، گئی کالک جوانی کی
جو جذباتِ محبت تھے وہ لگتے اب ہیں زائل سے
محبت اس کو نہ کہنا ، انہیں کچھ ہی ہو گا
مری جانب مرے حاسد بھی لگتے کچھ ہیں مائل سے
زمانہ زیرو بم کا ہے حوادث کی حکومت ہے
کہ فاعل بھی یہاں دب کے پڑے رہتے ہیں فائل سے
کہ دل سینے میں ہو جس کے وہی سلطانِ عالم ہے
گنوا کے دل سبھی پھرتے ہیں دردر بن کے سائل سے
ہمیں برباد کر ڈالا تری نظروں کے دھوکے نے
مگر پھر بھی مرے لب پر نہیں طعنے رذائل سے
مری منزل پرے ہے کہکشاؤں سے مرے ہمدم
ستارے مرتضائیؔ کے مگر رستے میں حائل سے

میں اپنے قارئینِ کرام کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے اس استدلالی مضمون کو پڑھ کر اس پر اپنی نظرِ کرم فرمائی۔

دعا ہے کہ اﷲ پاک ہم سب کا بھلا کرے ! آمین، ثم آمین ! شکریہ ! اﷲ حافظ !
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 513 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Niamat Ali

Read More Articles by Niamat Ali: 163 Articles with 150331 views »
LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: