طیب کی چالاکیاں کیا رنگ لائیں گی

(Prof Tanveer Ahmad, Okara)

’’ارے آج تو کمال ہی ہو گیا۔میں نے اس کو ایسا دھوکہ دیا کہ اس کو سمجھ ہی نہیں آئی کہ میرے ساتھ کیا ہو گیا ہے‘‘۔طیب نے فاتحانہ انداز میں کہا
’’ارے بھائی مجھے تمہارے کارناموں کا تو بہت اچھی طر ح علم ہے۔ لیکن اپنی آج کی کارستا نی تو سناؤ کہ کس کو چونا لگایا آج‘‘۔حماد نے تجسس سے پوچھا۔
’’یہ تو روٹین کی بات ہے۔تمہارے بھائی کے آگے کسی کی نہیں چلتی۔میں جو ایک بار ٹھان لیتا ہو وہ کرکے ہی دم لیتا ہوں اور مجھ سے سستی چیز تو کوئی خرید ہی نہیں سکتا۔ دوکاندار کی کیا جراٗت کی اپنی چیز کے منہ مانگے دام لے جائے۔یہ فن بڑی مشکل سے سیکھا ہے جناب‘‘۔
’’اچھا چلو اپنا تازہ ترین کارنامہ تو سناؤ‘‘۔
’’کارنامہ تو کوئی خاص نہیں ہے۔ بس ایک موٹر سائیکل بیچنی تھی۔ 2012 ماڈل تھی ۔ میں نے خو د بیس ہزار میں خریدی تھی۔ خوب چلائی اور اس کے ٹائر ٹیوب بھی تقریبا فارغ تھے۔ ٹینکی پر بھی نشان تھے۔ انجن کا بھی کام ہونے والا تھا۔ لیکن کمال صفائی سے خریدار کو ان چیزوں کی کانوں کان خبر نہیں ہونے دی۔ یقین کرو پورے پچیس ہزار کی بیچ دی۔ اور کمیشن بھی خریدار سے دلوایا‘‘۔
’’یار یہ تو بہت ذیادتی کی بات ہے۔ کوئی بھی چیز فروخت کرنے سے پہلے اس کی خامیاں تو خریدار کو بتا نی چاہیے۔ پھر اس کی مرضی وہ خریدے یا نہ خریدے‘‘۔
’’ارے بھائی چھوڑو یہ کتا بی باتیں۔ تمہیں تو دنیا کا کچھ پتہ ہی نہیں۔خامیاں گنوانے لگو تو کوئی تم سے کوئی بھی چیز کیا خاک خریدے گا‘‘۔
’’لیکن بھائی جان اخلاقیات بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے ۔ کل کو اس کو پتہ چلے گا تو وہ کیا آپ کو ایک اچھا انسان سمجھے گا‘‘۔
’’چھوڑو بھائی ہم نے کونسا اس سے دوبارہ ملنا ہے‘‘۔
’’درست کہاتم نے۔ اس طرح کا سودا کرنے کے بعد کوئی تم سے کیوں کر ملے گا۔ لیکن تم نے اللہ کو تو جواب دینا ہے ایک دن‘‘۔
’’دیکھا جائے گا جب وہ دن آئے گا۔ابھی تو جیسادیس ویسا بھیس۔ لوگو ں کے ساتھ اس طرح نہ چلو تو یہ تو آپ کو ایک دن نا جینے دیں‘‘۔
’’سچ جھوٹ میں فرق تو ہونا چاہیے نا۔ اور پھر یہ دنیا مکافات عمل ہے۔ جو آ پ آج بو رہے ہیں کل کو وہی کاٹیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ اس طر ح کمائی ہو ئی دولت آپ کے لیے وبال جان بن جائے‘‘۔
’’یہ تو میں نے کبھی سوچا ہی نہیں‘‘۔
’’آپ دوسرے بندے کو سچ بول دو۔ اگر کوئی کام ایسا ہے جو آپ نہیں کر سکتے وہ آپ دوسرے بندے کو واضح بتا دو۔اب اس کی مرضی ہے کہ کام آپ سے کروائے یا نہ کروائے۔چیز آپ سے لے یا نہ لے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ ہر سودے میں نقصان اٹھاؤ۔ بلکہ آپ کو سچ بول کر یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ آپ کا مال بھی بک جا تا ہے اور برکت بھی آجاتی ہے جو شاید کروڑوں روپے کمانے سے بھی آتی۔ جھوٹ بولنے سے ہو سکتا ہے کہ تمہارا سامان زیادہ پیسوں کا بک جائے اور بہت جلدی بک جائے مگر یاد رکھو اس میں برکت کبھی نہیں آئے گی‘‘۔
’’لیکن آج کل تو ہر بندہ یہی کہتا ہے کہ جھوٹ نہ بولیں تو مال نہیں بکتا‘‘۔
’’وہ سب لوگ اپنے اردگرد جو دیکھتے ہیں اسی کو سچ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ یا درکھو! جو رزق اللہ نے آپ کے نام پہ لکھ دیا ہے وہ آپ کا ہر وقت پیچھا کر رہا ہوتا ہے اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس رزق کو حلال طریقے سے کھاتے ہو یا حرام طریقے سے۔ حرام طریقے سے کھانے کا ایک اور نقصان یہ بھی ہے کہ آپ کے لیئے اخراجات کے بہت سے غیر ضروری دروازے کھل جاتے ہیں اور آپ کی وہ حرام کمائی ایسی جگہوں پر خرچ ہو جاتی ہے جو آپ کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتے۔یہ سوچنے میں کہ حرام کھایا جائے یا حلال کھایا جائے ایک لمحہ بھی خرچ نہیں ہوتا لیکن اس کی سزا بھگتنے میں عمر گزر جاتی ہے اور مرنے کے بعد بھی ہمیں اس کا حساب دینا پڑتا ہے۔ انسان گناہ کر کے بھو ل جاتاہے مگر وہ ربِ کریم نہیں بھولتا اور انسان کو ان کا جواب دہ ہو نا پڑتا ہے۔یہ بھی سچ ہے کہ میر ا مولا انسانو ں پر ان کی قوت سے ذیادہ آزمائش نہیں ڈالتا لیکن اس کی نظر سے آپ کی کو ئی بھی برائی چھپی ہو ئی نہیں رہ سکتی‘‘۔
’’ارے بھائی یہ سب نہیں کریں گے تو کھائیں گے کہا ں سے۔مہنگائی کے بارے میں تو تم جانتے ہی ہو‘‘۔
’’آپ اپنی ضرورتو ں کو محدود کرلو ۔ اگر آپ ایک ذریعہ سے پیسے کماتے ہو تو ایک اور ایسا ذریعہ بنانے کی کوشش کروجس سے آپ اور زیادہ پیسہ کما سکو۔ بچت کرکے کو ئی ایسی سرمایہ کاری کرلو جس سے گھر بیٹھے منافع ملتا رہے۔ حلال طریقے سے بھی پیسے کما نے کے بھی ہزاروں طریقے ہیں۔ پانچوں انگلیاں کبھی برابر نہیں ہوتیں۔اگر آپ کو ہر بندہ جھوٹ بولتا نظر آتا ہے تو سچ بولنے والے کی قدر سو گنا بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان جیسی جگہ پر تو پیسے کمانے کے بہت سے مواقع ہیں ۔ جہاں سب جھوٹ بولنے والے ہوں اور ان میں ایک سچا بیٹھا ہو تو آپ نا چاہتے ہوئے بھی اسی سے مال خریدیں گے۔جو بندہ آپ کو چیز مناسب منافع پر دے گا اور اس کی خامیاں بھی بتا ئے گا۔ اگر آپ ایک بار اس سے سودا کر لیں گے تو پھر بار بار اسی کے پاس جائیں گے‘‘۔
’’سچ میں طاقت تو ہو تی ہے‘‘۔
’’بالکل ! لیکن ہم لوگ یہ چیز دل سے تسلیم کرنے کو تیا رنہیں۔ آج تک میں اندرون ملک اور بیرون ملک جتنے بھی آسودہ حال لوگوں سے ملا ہوں ان سب میں ایک بات مشتر ک تھی اور وہ تھی سچ بولنا ۔ پھر چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم میں نے ان کو کامیاب سے کامیاب تر ہوتے ہی دیکھا ہے اور لوگو ں میں دولت بانٹتے ہوئے دیکھا ہے اور فراڈیوں کو ہمیشہ سو دوسو مانگتے ہوئے ہی دیکھا ہے‘‘۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 491 Print Article Print
About the Author: Prof Tanveer Ahmad

Read More Articles by Prof Tanveer Ahmad: 60 Articles with 24068 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: