دعوتِ جمعہ اور ہم

(Dr B.A Khurram, Karachi)

تحریر:شعبان جھلن شعبانؔ
زمانہ طالب علمی میں ہمارے ایک دوست کالج کنٹین پر نجانے کیسے کیسے پیتے تھے ۔میرے چوبارہ پر غالبؔ کی سنت پوری کرتے ۔ وھسکی، بیئر،رم اور گرم پراٹھے تو جناب کا معمول تھا۔ ایف ایس سی کے سال اول میں سب کو دود و تین تین سپلیاں تھیں مگر انہوں نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا چھ کی چھ سپلیاں۔۔ایسے ہی ایف ایس سی سال دوم میں ماسوائے سال دوم کی انگلش کے دس سپلیاں لیکر ٹاپ پر ہی تھے۔ ہم خیر سے پاس ہو گئے۔۔۔وہ دلبرداشتہ ہو کرمدرسے چلے گئے۔رواں سال ماہِ میلاد میں جناح پارک میں عظیم الشان محفلِ میلاد ہوئی جس میں ہم نعت گو شاعر کی حیثیت سے مدعو تھے۔اور جناب وہاں کے امام مسجد۔۔۔ سر پر بڑی دستار، ہلکی مونچھیں، مٹھی بھر داڑھی، چمکتا نورانی چہرہ بھلے مانس نے ہمیں پہچانتے ہوئے کہا " آپ شعبان الجھنؔ ہیں نہ'' ارے میاں الجھنؔ تو مر گیا جھلن باقی بچا ہے۔ارے آپ نے اچھا کلام سنایا آپ نے بھی کچھ کم خطاب نہ کیا۔۔۔ اب تو عادت ہے۔۔ اچھا کہاں تک پڑھا یار پڑھائی کا نام نہ لو میں امام مسجد ہوں مجھے بہت خوشی ہے۔ خیر وہ دن اچھا رہا۔بعد اذاں انہوں نے ہمیں ؂فیس بک پہ تشریف رکھتے پایا تو ریکوایسٹ بھیجی ،پچھلے چند روز سے وہ بار بار ہمیں کال کر رہا تھا کہ اور بار بار کال کرکے کہہ رہا تھا کہ ہم اس جمعہ کی نماز اس کے ساتھ پڑھیں۔ فراغت کے سبب ہم چل دیئے مگر راستے میں موٹر بائیک خراب ہوگیا اور ہمیں کچھ دیر ہوگئی ۔جب ہم مسجد پہنچے وہ خطاب میں مست عوام ان کے لہجے کی شیریں میں مست ہم پچھلی صف میں بیٹھ کر ان کا خطاب سننے لگے۔ہمیں دیکھ کر ایک طالب کو اشارہ کیا وہ ہمارے پاس آیا اور اٹھا کر لے گیا اور ان کے سامنے صف پر بیٹھنے کا کہا ہم بیٹھ گئے۔پہلے بیان مولانا خادم حسین رضوی صاحب کی رہائی پر تھا مگر اچانک انہوں نے شراب اور شرابی کو برا بھلاکہنا شروع کر دیا اور ہماری طرف دیکھ کر شراب کو ناپاک حرام اور جہنم میں لے جانا والا فعل کہہ کر کیسے کیسے حوالے دینا شروع کر دیا۔بیان میں رقت اور زبان میں چاشنی ایسی تھی ہمیں رو نا آرہا تھا۔دل ہی دل میں کئی بار توبہ بھی کر چکے تھے اور پلکیں جھکائے صف پر پچھے کارپٹ کو تکے جا رہے تھے یوں محسوس ہو رہا تھا گویا فیض آباد دھرنے میں بیٹھے ہوں۔ کسی نے ان کی توجہ گھڑیال کی طرف دلائی اور وقت اوپر ہونے کا عندیہ دیا۔۔۔ وہ چپ ہوئے تو ہم نے خود کو جناح پارک کی مسجد میں پایا۔ نماز پڑھ لی سلام بھی پڑھ لیا سب جانے لگے انہوں نے ہمارا ہاتھ پکڑا اور حجرے میں لے گئے۔ ایک طالب علم گیا اور کچھ فروٹس لے آیاانہوں نے پلیٹ میں ڈالے ہمیں کھانے کا کہااور انگوروں کا ایک گُچھا اٹھا کر کھانے لگے ۔ یہ سب دیکھ کر عزیز میاں مرحوم کے بول بے ساختہ ہماری زبان سے نکل گئے۔۔
اگر کھائے واعظ نے انگور تو میں محشر میں کہہ دونگا یا اﷲ
یہ شراب کی گولیاں کھاتے تھے ہم ساگر سے پیتے تھے

انہوں نے انگور رکھ دیئے اور کنوں چھیلنے لگے ہم نے کہا علامہ صاحب آپکی زبان میں بڑی شیرینی ہے ہم مشاعرے میں دکھ سناتے ہیں تو لوگ واہ واہ کرتے ہیں اور آپ ان کو جنت کی نعمتیں گن گن کر بتاتے ہیں تب بھی یہ لوگ روتے ہیں یار کیا کھاتے ہو؟انہوں نے فوراََ سے پہلے جواب دیا حرام نہیں کھاتا۔۔یعنی کھوتا اور کتا؟؟ نہیں نہیں شراب وغیرہ اچھا یار میں تو بوتل ساتھ لایا ہوں کہ میرے حجرے کی یادیں آج آپ کے حجرے پہ تازہ کریں گے ارہ ہاں سگریٹ بھی دو نہیں پوری ڈبی نعوذ باﷲ من ذالک۔۔ کیا ہوا اور اس کا کیا مطلب کیا آپ۔۔ ہاں میں اب نہیں پیتا ممبرِ رسول پر بیٹھ کر سب کومنع کرتا ہوں تو کیسے۔۔ نہیں نہیں میں نہیں پی سکتا۔۔ارے عزیز میاں توکہتے ہیں۔۔
بڑی حسین ہے زلفوں کی شام پی لیجئے
ہمارے ہاتھ سے دو چار جام پی لیجئے
پلائے جب کوئی معشوق اپنے ہاتھوں سے
شراب پھر نہیں رہتی حرام پی لیجئے

اﷲ اﷲ یہ آپ کیسی باتیں کرے رہے ہیں خدا سے ڈرو شراب حرام ہے چاہے کوئی بھی پلائے ۔ارے پی کر شریعت کے خلاف کوئی فعل کروں تو سولی پر چڑھا دو جب پی کر وہاں چلا چاؤں جہاں منہ سے صرف یا علی یاعلی نکلے آپ سارا دن کی ریاضت سے نہ جا سکیں توکیا برا ہے؟ اچھا کونسی لائے ہوئے؟ ہائے کم بخت جو تو نے پی ہی نہیں۔۔ تو نے اسے بھی انگور کا پانی سمجھ لیا

منصور نے خود کو سولی پہ چڑھا کے پی،تبریز نے کھال کی پتری کھچا کے پی یوسف نے اپنے حسن کا جلوہ دیکھا کے پی،ایوب نے بھی صبر کی حد کو مٹا کی پی،موسیٰ نے کوہِ طور کو سرمہ بنا کے پی، عیسیٰ نے بھی مردے جلا کے پی،اکبر نے ساری جوانی لٹا کے پی، اصغر نے حلق پہ تیر کھا کے پی،قاسم نے اپنے سہرے کی لڑیاں کٹا کے پی،عباس نے تو دریاپہ شانے کٹا کے پی،شبیر نے نماز میں سر کٹا کے پی اور سن۔۔۔
نہ من تنہا دریں میخانہ مست
جنید و شبلی و عطار شد مست
بروئے پاک شمس الدین تبریز
کہ ملا بر سرِ بازار شد مست

اتنے میں ایک طالب آیا اور اس نے کہا " استاد سئیں روٹی پک گئی اے" ہم نے کھانا کھایا چائے پی اور ان کو اپنی کتاب تحفہ دی یوں نمازِ جمعہ کی دعوت پوری ہوئی اور واپس گھر لوٹ آئے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 422 Print Article Print
About the Author: Dr B.A Khurram

Read More Articles by Dr B.A Khurram: 478 Articles with 153335 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: