پختہ عزم

(Aisha Siddiqui, )

 حیدر کے حد درجہ شرارتی ہونے کے باوجود اسکول میں اس کی کارکردگی ہمیشہ سے شاندار رہی تھی۔وہ بچپن سے ہی اپنی کلاس کے ذہین طلباء میں شمار ہوتا تھا۔ نت نئی شرارتیں کرنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ گھر والے اسے شرارتوں سے منع اس لئے نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ لائق ہونے کی وجہ سیسب کا لاڈلا تھا۔
بہنوں کو تنگ کرنا ، اکرم کی چیزیں چھپا دینا، سارہ کے بال کھینچ کر بھاگ جانا تو کبھی محسن کے ہاتھ میں سے چپس چھین کر کھا جانا اس کے دل کی چاہ تھے جسے وہ ہمیشہ پورا کرتا تھا۔ کبھی کبھی تو ابا غصے میں جھاڑ پلانے کی کرتے تو اماں بیچ میں آجاتیں۔

"اوہو رہنے دیں ناں۔۔۔آپ کیوں اتنا غصہ کرتے ہیں۔ بچہ ہے شرارتیں تو کرے گا نا۔۔۔ اور ویسے بھی سیانے کہتے ہیں شرارتیں کرنے سے بچوں کا ذہن کھلتا ہے۔ اب خود دیکھ لیں ہمارا حیدر جتنی شراتیں کرتا ہے اتنا ہی ذہین بھی ہے کبھی اس کی کارکردگی میں کمی نہیں آئی۔۔۔۔۔ اماں کی لمبی تقریر کو ابا نے دل پر پہاڑ رکھ کر سنا اور چپ چاپ مظلومیت کا دامن تھامے اپنے کام میں مصروف ہوگئے۔

سخت گرمیوں کے دن تھے۔ سورج آگ برسا رہا تھا۔ سب دوپہر کے وقت گھروں میں آرام کر رہے تھے۔ حیدر کے سب گھر والے بھی سو رہے تھے۔حیدر کی آنکھوں سے نیند دور دور تک دکھائی نہیں دے رہی تھی لیکن ابا کے کہنے پر چپ چاپ بستر پہ لیٹ گیا ، گھر میں سٹانا چھا گیا۔ حیدر نے سوتے ہوئے سب پر نظر ڈالیں اور موقع پاکر دبے پاؤں کمرے سے باہر نکل گیا۔

سوچوں میں گم صحن میں جامن کے درخت کے سائے میں ٹہل رہا تھا۔ اچانک اسے ایک شرارت سوجھی۔ موقع کو غنیمت جانتے ہوئے مین گیٹ سے باہر چلا گیا۔ ابھی تھوڑا دور ہی گیا تھا کہ سامنے سڑک پر سمیر آتا دکھائی دیا۔
"سمیر۔۔۔۔۔! تم کہاں جارہے ہو۔۔۔؟؟" حیدر نے سمیر کو آواز دے کر مخاطب کیا۔
"مجھے دکان سے کچھ راشن لینا ہے۔شام کے وقت گھر میں ابو کے دوستوں کی دعوت ہے۔ بس وہی لینے جا رہا ہوں۔"
"یار دوپہر میں سب سو رہے ہیں۔ ساری دکانیں بھی بند ہیں اور تم سامان لینے جا رہے ہو۔ ہاہاہاہاہاہا"۔ حیدر نے سمیر کا مذاق اڑایا۔
"تو۔۔۔؟؟ اس میں ہنسے والی کونسی بات۔۔۔؟؟ شمع سٹور کھلا ہوتا ہے۔ مجھے سارا سامان وہیں سے لینا ہے۔" سمیر کو حیدر کی استہزایہ ہنسی بالکل برداشت نہ ہوئی ۔ تبھی اس نے کرارا جواب دیا۔
"اوہو۔۔۔تم تو ناراض ہی ہوگئے۔ میں مذاق کر رہا تھا یار " حیدر نے معذرت چاہی۔
اچھا سمیر ایک کام کروا دوگے میرے ساتھ۔۔۔؟ مجھے ایک ہیلپرکی اشد ضرورت ہے۔
"ہاں بولو۔۔۔؟؟ لیکن پہلے یہ بتاؤ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟" سمیر نے جھلاتے ہوئے الٹا اس سے سوال پوچھا۔
:دیکھو سمیر۔۔۔۔۔! میرے گھر والے سب سوئے ہوئے تھے تمہیں تو پتہ ہے مجھے دن میں نیند نہیں آتی۔۔۔۔ بہت بور ہو رہا تھا میں" حیدر نے تمہید باندھی۔
"تو اس میں میرا کیا لینا دینا۔" سمیر نہ سمجھتے ہوئے بولا۔
"میرے پگلے دوست۔۔۔۔!! تمہیں تو تشریح کر کے بتانا پڑھتا ہے۔ اچھا سنو۔۔۔!! میرے کہنے کا مطلب ہے کہ کتنے دن ہوگئے ہیں ہم پیپروں کی وجہ سے مصروف رہے۔ چلو آج کوئی شرارت کرتے ہیں موقع اچھا ہے۔ گلی بھی سنسان ہے۔۔۔۔۔ یقینا سب سوئے ہوئے ہونگے۔ کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا"
"ایسے کام میں، میں تمہارا ساتھ ہرگز نہیں دونگا۔" سمیر نے صاف صاف انکار کر دیا۔۔۔
" ڈرپوک کہیں کے۔۔۔۔!! سمجھ میں نہیں آتا آخر تم اتنا ڈرتے کیوں ہو۔؟؟ اتنی بڑی شرارت تھوڑی کرنی ہے! بس ایسا کرتے ہیں کسی کی بیل بجا کر بھاگتے ہیں۔دیکھو پلیز انکار مت کرنا۔ بیل میں بجاؤں گا سچی !تمہیں نہیں کہوں گا۔" حیدر سمیر کو منانے لگا۔
"اگر بیل تم بجا ؤگے تو میرا کیا کام وہاں؟" سمیر نے سوچتے ہوئے کہا۔
تم گلی کے نکر پر کھڑے ہوکر آنے والے ہر خطرے سے مجھے آگاہی دو گے۔تاکہ ہم بروقت بھاگنے میں کامیاب ہوسکیں۔ بس تمہارا یہی کام ہے۔" حیدر نے کہا "وہ دیکھو سامنے والا شبیر کا گھر دیکھ رہے ہو ناں۔۔۔۔ چلو آج اسی سے پنگا لیتے ہیں۔۔ سنا ہے غصے کا بہت ہی تیز ہے۔۔۔۔آج ہم بھی دیکھیں کیسے غصہ کرتا ہے۔" حیدر نے ہنستے ہوئے سمیر کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
"مجھے تو ڈر لگ رہا کہ اگر ہم پکڑے گئے تو کیا بنے گا!
میرے تو ابو بھی بہت سخت مزاج ہیں۔" سمیر نے خوفزدہ ہوتے ہوئے کہا۔
"ایسا کچھ نہیں ہوگا تم بے فکر رہو۔اس وقت سب سو رہے ہوتے ہیں۔ کسی کو کیا خبر کس نے کیا کیا۔؟ بس چوکنا رہنا کچھ غلط نہ ہو جائے۔" حیدر نے سمیر کا حوصلہ بڑھایا۔
"اوکے ٹھیک ہے۔۔۔۔ تم جا کر بیل بجاؤ۔ میں نظر رکھتا ہوں کہیں کوئی دیکھ نہ لے۔" سمیر یہ کہتے ہوئے ایک دیوار کی اوٹ میں چھپ کر دیکھنے لگا۔حیدر نے پہلے حالات کا جائزہ لیا۔ موقع محل دیکھ کر شبیر کے گھر کی بیل پر ہاتھ رکھا۔ اندر گھنٹی بجنے کی آواز باہر تک آئی۔ کچھ سیکنڈ بعد گھر کے اندر سے قدموں کی چاپ سنائی دی ۔ حیدر نے سمیر کو اشارہ کیا اور اسی کی طرف دوڑ لگا دی۔
"کون ہے۔۔۔؟" شبیر آنکھیں ملتا ہوا باہر نکلا۔ ویران گلی شبیر کا منہ چڑا رہی تھی۔ اب تو شبیر کا پارہ مزید ہائی ہوگیا۔ سامنے کسی کو نہ پا کر غصے سے دھاڑا ۔۔۔۔
"یہ کون ناہنجار ہے۔۔۔؟ روز روز بیل بجا کر غائب ہو جاتا ہے۔ بزدل کہیں کا۔۔۔۔ہمت ہے تو سامنے آ۔۔۔۔؟
دیکھ آج میں چھوڑوں گا نہیں تجھے۔۔۔ آ میرے سامنے بیل بجا۔۔۔" شبیر کے للکارنے کی آواز سن کر محلے والے بھی باہر نکلنے لگے۔
سب شبیر کو غصے سے لال پیلا ہوتا دیکھ کر حیرت سے دیکھنے لگے۔ اچانک ایک باریش بزرگ ہمت کرکے آگے بڑھے اور بولے۔
"ارے شبیر کیا ہوگیا ہے۔؟؟ کیوں غصے سے چلائے جا رہے ہو۔۔۔ ؟؟"
" بابا جی یہ روز کا تماشہ ہے ۔ کوئی میرے گھر کی بیل بجا کر بھاگ جاتا ہے۔
"اوہو۔۔۔! پتہ لگاتے ہیں یہ کون ہے جو شبیر کی نیندیں حرام کئے ہوئے ہے۔۔۔؟؟"
"رہنے دیں بابا جی۔۔۔! آپ ضعیف ہیں آپ کیا کرلیں گے۔۔۔۔؟جب کہ میں نوجوان ہوکر کچھ نہیں کر پا رہا۔" شبیر کا لہجہ بزرگ کے ادب میں نرم پڑگیا۔
"ارے بیٹا۔۔۔۔!اس میں طاقت کی ضروت نہیں۔ عقل سے کام لو۔ مسئلے کا حل نکالو۔ ہمیشہ غصے سے کام لینے والا اپنے لئے مصیبت کھڑی کر لیتا ہے۔
"یقینا یہ بچوں کی شرارت ہوگی۔ شرارت بچے نہیں کریں گے تو کیا ہم جیسے بزرگ کریں گے۔۔۔۔؟؟؟" پاس کھڑے اجمل نے اپنے رائے پیش کی۔
"لیکن اس قسم کی شرارت کسی شریف انسان کو زیب نہیں دیتی۔" شبیر نے جھٹ سے کہا۔
"ہاں مانتا ہوں۔ لیکن اب کیا ہوسکتا ہے۔؟؟ اگلی دفعہ سب چوکنا رہنا۔ تاکہ پتہ چل سکے کون ہے جو اذیت دے رہا ہے؟ اب چلو سب اپنے اپنے گھروں میں جا کر آرام کرو۔" بزرگ نے سب کو گھر جانے کا اشارہ دیا اور خود بھی چل پڑے۔
سمیر اور حیدر دیوار کے پیچھے سے سب منظر دیکھ رہے تھے۔
"افففف دیکھا حیدر۔۔۔؟ آج ہماری ایک چھوٹی سی شرارت سے کتنے لوگوں کی نیند خراب ہوئی۔ آئندہ ہم کوئی ایسی ویسی شرارت نہیں کریں گے۔" سمیر نے سانسیں بحال کرتے ہوئے کہا۔ لیکن دل خوف سے اب تک لرز رہا تھا۔
"یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے۔؟؟ تم نے سنا نہیں انکل اجمل نے کیا کہا:
" کہ بچے شرارت نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔" یار۔۔۔۔!! اپنی زندگی میں خوب مزے اڑاؤ۔۔۔۔ بعد میں جب بوڑھے ہوجاؤ گے۔ لاٹھی کے سہارے چلتے ہوئے کسی کی بیل بجا کر کہاں چھپتے پھرو گے۔۔۔۔؟؟" گھر والے نکلتے ہی اوپر پہنچا دیں گے۔" حیدر نے ہنستے ہوئے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔
"اب تمہاری نصائح بھی سنوں؟؟ سمیر نے چڑتے ہوئے کہا۔
سننے میں کیا برائی ہے؟
تم نے ابھی اتنا وقت برباد کر دیا ہے میرا۔۔۔ اب میں سٹور سے جاکر سامان لیتا ہوں۔" سمیر نے اجازت چاہی اور اپنے راستے ہولیا۔
اور حیدر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگیا
ادھرابا گلی میں ہونے والے ہنگامے سے بخوبی آگاہ تھے۔ بلکہ ابا تو جائے وقوعہ پر بھی موجود تھے۔ لیکن حیدر کو اس بارے میں پتہ نہیں چلا۔ ابھی چند سیکنڈ پہلے وہ کمرے میں آ کر لیٹ گئے۔سامنے والی کھڑکی سے ٹھنڈی ہوا سکون دے رہی تھی۔ اتنے میں آہستگی سے مین گیٹ کھلنے کی آواز آئی۔ ابا چونک گئے۔ فوراً کھڑکی سے جھانکے۔ حیدر سر جھکائے بڑے بڑے قدم اٹھائے اپنے کمرے کی طرف جارہا تھا۔
ابا سب سمجھ گئے۔ اس ہنگامے کو برپا کرنے والا کون ہے۔؟ فورا ًحیدر کو اپنے کمرے میں طلب کیا۔۔۔۔ "حیدر۔۔۔!! کہاں گئے تھے۔۔۔؟؟ ابا نے آڑے ہاتھوں لیا۔
"کہاں گئے تھے اتنی دوپہر میں؟"
"وہ۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔ ابا۔۔۔۔ میں۔۔۔"
"کیا وہ وہ لگا رکھی ہے۔۔۔؟؟" سیدھے طریقے سے بتاؤ کہاں گئے تھے۔؟؟" ابا کا لہجہ دھیرے دھیرے سخت ہونے لگا۔
"وہ ناں۔۔۔ابا سمیر کے گھر گیا تھا تھوڑا کام تھا۔۔۔۔" حیدر نے بہانہ تراشا۔
"ایسا کیا ضروری کام پڑگیا تھا جو اتنی دوپہر میں چل پڑے۔؟" ابا اب تفتیشی افسر بنے سوالات کئے جا رہے تھے۔
"وہ نا ابا۔۔۔۔ میری ٹیوشن ورک کی کاپی اس کے پاس رہ گئی تھی وہی لینے گیا۔ ابھی ٹیوشن بھی تو جانا ہے نا۔" حیدر نے پھر جھوٹ بولا۔
"تو کاپی کہاں ہے؟"
"وہ۔۔۔۔ یہیں تو تھی کہاں چلی گئی۔" حیدر بدحواسی کے عالم میں ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ کاپی کہیں بھی موجود نہیں تھی۔
"تم اندر تو آؤ۔ دیکھتا ہوں میں تمہارے ساتھ۔
کیوں ابو میں نے ایسا کیا کردیا۔۔۔؟
کیا نہیں کیا۔۔؟ یہ پوچھو؟ کچھ دیر پہلے ہنگامہ کس بات پر تھا۔۔۔۔۔" ابا کی بات سن کر حیدر کا دل دھک دھک کرنے لگا۔
"یہ سب تمہاری حرکت تھی ناں؟؟"
"بولو۔۔۔۔۔ کیا پوچھ رہا ہوں حیدر؟" جواب نہ پا کر ابا نے کرخت لہجے میں پوچھا۔
"جی ابا۔۔۔۔۔ مگر مجھے نہیں معلوم تھا کہ بات اتنی بگڑ جائے گی۔" حیدر ابا کاسرد لہجہ دیکھ کر سہم گیا۔ فوراً ہی سچ اگل دیا۔
"بیٹا تم اچھا طرح جانتے ہو شبیر کو۔ کتنا تیز ہے غصے کا۔ اورتمہاری ایک بیل نے کتنے لوگوں کی نیند میں خلل ڈالا۔ پتہ بھی ہے لوگ آفس سے تھکے ماندے گھر آتے ہیں۔ یہ وقت ان کے آرام کے لیے بیحد ضروری ہوتا ہے۔ تمہیں اس بات کا اندازہ ہے کہ دوسروں کو ستانا کتنی بری بات ہے۔۔۔۔پتہ ہے ایسے کاموں سے رب تعالی کتنے ناراض ہوتے ہیں۔ بڑوں کی بے ادبی کرنے والوں کو زندگی بھر دھکے ملتے ہیں۔وہ کبھی ایک کامیاب انسان نہیں بن سکتے۔"
حیدر کے چہرے پر شرمندگی کے آثار واضح ہونے لگے۔ جسے ابا نے دیکھتے ہی نرم لہجہ اپنا
لیا اور سمجھانے لگے۔ "بیٹا۔۔۔۔!! آپ کو تو ڈاکٹر بننا ہے۔ عوام کی خدمت کرنی ہے۔ ۔ مسیحا بننا ہے اور مسیحا تو لوگوں کے زخموں پرمرہم رکھتے ہیں۔ ہر پریشانی ومصیبت کی دوا ہوتے ہیں۔ آپ ابھی سے تنگ کریں گے تو مسیحا کیسے بنیں گے۔۔۔ بیٹا آپ کو مسیحا بننا ہے اور ضرور بننا ہے؟؟"
"ابا۔۔۔۔!! مجھے معاف کر دیں۔۔۔میں وعدہ کرتا ہوں آئندہ ایسا کوئی کام نہیں کرونگا جو دوسروں کی بے آرامی اور دل آزاری کا سبب بنے۔" حیدر اپنے کئے پر شرمندہ تھا۔اور آئندہ ایسی شرارت نہ کرنے کا پختہ عزم کر چکا تھا۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 126 Print Article Print
About the Author: Aisha Siddiqui

Read More Articles by Aisha Siddiqui: 12 Articles with 3655 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: