پاکستانی ہوشیار باش

(Chaudhry Mohammed Zulfiqar, )

بدر کے میدان میں نہتےمسلمانوں کی قلیل تعداد اور مشرکینِ مکہ کا لشکر۔ انسانی عقل بالکل قبول کرنے کو تیار نہ تھی کہ مسلمان فتح یاب ہونگے۔ احد میں تو مشرکینِ مکہ مسلمانوں کا نام و نشاں مٹانے کی مکمل تیاری کر کے آئے تھے۔ مگر ناکام و نامراد لوٹے۔ خندق میں کدال مارتے ہوئے نبی اکرم ﷺ نے پتھر سے شعلہ نکلتے ہی فرمایا قیصروکسریٰ فتح ہونگے۔ (مفہوم)انسانی عقل قطعا ً ماننے پہ تیار نہ تھی کہ اہل ِمدینہ کو جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ دشمن سے بچاؤ کے لئیے خندق کھودی جارہی تھی۔ اور دعویٰ عالمی عسکری قوتوں پہ غالب ہونے کا کیا جارہا تھا۔ پھر چشم ِفلک نے دیکھا کہ قیصر و کسری ٰفتح ہوئے۔

چونکہ انسانی عقل کی حدود ہیں۔ اس لئیے انسانی عقل اپنی حدود سے باہر کا تصور ہی نہیں کر سکتی۔ یعنی انسانی عقل کے بس ہی میں نہیں ہےکہ اپنی حدود سے تجاوز کرسکے۔ اور جو بس میں نہ ہو اسکے بارے قیاس ہی کیا جا سکتا ہے کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔ اور اگر دل و دماغ میں تکبر اور جہالت ہو تو انسان صاف انکار کر دیتا ہے۔ مثلاً ایک کنویں میں دریا کا مینڈک گر گیا۔ وہاں پہلے سے ایک مینڈک موجود تھا۔ دریا کےمینڈک سے کنویں کے مینڈک نے پوچھا کہ تم کہاں سے آئے ہو۔اس نے کہا کہ میں دریا سے آیا ہوں۔ دریا کتنا بڑا ہوتا ہے۔ کنویں کے مینڈک نے پوچھا۔ دریا بہت بڑا ہوتا ہے۔ دریا کے مینڈک نے جواب دیا۔ کنویں کے مینڈک نے زور سے ایک چھلانگ لگائی اور کہا کہ دریا اتنا بڑا ہوتا ہے۔ نہیں بہت بڑا ہوتا ہے۔ دریا کے مینڈک نے کہا۔ کنویں کے مینڈک نے زوردار دو چھلانگیں لگا کر پوچھا اتنا بڑا ہوتا ہے۔ نہیں بہت بڑا ہوتا ہے۔ دریا کے مینڈک نے اپنا پہلے والا جواب دہرا دیا۔ اب کنویں کے مینڈک کو بہت غصہ آیا اس نے پورے کنویں کا چکر لگا کر پوچھا کہ دریا اتنا بڑا ہوتا ہے۔ دریا کے مینڈک نے پھر کہا کہ بہت بڑا ہوتا ہے۔ کنویں کے مینڈک نے بہت تکبر اور غصے سے کہا کہ تم جھوٹ بولتے ہو اس سے بڑا نہیں ہو سکتا۔ کنویں کے مینڈک کی عقل کنویں تک محدود تھی۔ دریا کی وسعت اس کے بس کی بات نہ تھی۔ کنویں کی لمبائی چوڑائی پہ مان بھی تھا اس لئیے تکبر و غرور سے دریا کی وسعت کا انکار کر دیا۔ اور اگر دل و دماغ بغض و عناد سے لبریز ہوں تو انکار کے ساتھ ساتھ انسان مخالفت میں طنز کے تیر بھی چلاتا ہے۔ دسمبر ۱۹۷۹ میں جب روس اپنی پوری قوت کے ساتھ افغانستان میں آ دھمکا تو امریکہ جیسے دشمن پہ بھی سکتا طاری ہو گیا۔ کیونکہ روس اس سے پہلے پورے مشرقی یورپ پہ بزور طاقت اپنا قبضہ جما چکا تھا۔ پوری دنیا نے روس کے خوف کی وجہ سے چپ سادھ لی۔ اور جب دو سال تک مجاہدین اسلام نے تن تنہا اللہ سبحانہ وتعالی ٰ کی نصرت کے ساتھ روس کا ڈٹ کر نہ صرف یہ کہ مقابلہ کیا بلکہ اس کے لئیے لوہے کے چنے ثابت ہوئے تو پھر امریکہ اور یورپ خوف کی حالت سے باہر نکلنے لگے۔ اس وقت کے اخبارات کی سرخیاں گواہ ہیں کہ پاکستان کا پورا سیکولر طبقہ بالعموم اور پاکستان میں روسی فلسفہ کی سب سے زیادہ حامی اور پرچار کرنے والے سرحدی گاندھی عبدالغفار خاں کی جماعت کے سربراہ اور انکے بیٹے موجودہ سربراہ اسفندیار کے والد ولی خاں بالخصوص بہت طنز کے ساتھ کہا کرتے تھے۔ روس افغانستان سے جانے کے لئیے نہیں آیا۔ روس افغانستان میں اب ہمیشہ رہے گا۔ افغانستان کی عورتیں اب روسی مردوں کے بچے جنا کریں گی۔

اور پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ روس نہ صرف ذلیل و خوار ہو کر افغانستان سے نکلا بلکہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گیا۔ دریا ئے آمو عبور کرتے ہوئےروسی جرنل کے الفاظ کہ افغانستان میں داخلہ آسان مگر نکلا بہت دشوار ہوتا ہے۔ پوری دنیا میں آج بھی ضرب المثل کے طور استعمال ہوتے ہیں۔ سرحدی گاندھی ٹولا کنویں کے مینڈک کی طرح روس کی طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا تھا اور اسلام سے بغض اور عناد بھی رکھتا تھا۔ اللہ رب العزت کی قدرت کی وسعت سے واقفیت نہیں رکھتا تھا۔ ان کی سوچ بھی اپنی عقلی چھلانگ تک محدود تھی۔ کہتے ہیں کہ جب گیدڑ کی موت آتی ہےتو شہر کی طرف بھاگتا ہے۔ اپنی معاشی اور عسکری قوت کے تکبر میں مبتلا امریکہ نے بمعہ اپنے چھیالیس عدد حواریوں کے افغانستان میں چھلانگ لگا دی۔ ملا عمر نے کہا تھا کہ تمہارے پاس گھڑی ہے اور ہمارے پاس وقت ہے۔ جنگ شروع تم نے کی ہے مگر یہ ختم ہمای مرضی سے ہوگی۔ سیکولر طبقہ تو پہلے ہی امریکی ڈالروں پہ پل رہا تھااور امریکہ کے گیت گاتا تھا۔ اپنے آپ کو کمیونسٹ کہلانے والا طبقہ جو کبھی روس کی بڑائی کا نغمہ سرا تھا۔ کمیونسٹ کی سر ُ پہ نغمے الا پتہ تھا۔ روس کی تباہی کے بعد یکدم اپنے طبلے سارنگیاں تبدیل کر کے جمہوریت کی لے پہ امریکہ اور یورپ کے لئیے پکا راگ اسلام دشمنی میں گانے لگا۔ حیرت اس پہ ہوتی کہ اپنے آپ کو اسلام پسند کہنے والے لکھاری بھی طالبان کو جاہل اجڈ اور جدید دنیا کے حالات اور تقاضے نہ سمجھنے والے ہٹ دھرم اور بے وقوف کہنے لگے۔ قصور والے ارشاد احمد حقانی مرحوم اور روز نامہ دنیا کے کالم نویس ہارون رشید کے اس وقت کے روز نامہ جنگ میں لکھے گئے کالم پڑھے جا سکتے ہیں۔

تورا بورا ، مدَر آف بم ، جدید ترین کیمیکل بم ، ہر حربی اور غیر حربی (میڈیا چالیں) ترکیب آزمانے کے بعد امریکہ بمعہ چھیالیس حواریوں کے افغان جنگ بری طرح ہار چکا ہے۔ سعودی عرب ، امارات سے بالعموم اور پاکستان سے بالخصوص بھیک مانگنے پہ مجبور ہے کہ کسی طرح طالبان سے واپسی کا باعزت راستہ لے دو۔ یہ ہے وہ امریکہ جس نے طاقت کے نشے میں کہا تھا ہم طالبان کے لئیے زمین تنگ کر دیں گے۔ زمین کا ذرہ ذرہ ہمارے سیٹیلائٹ کی بدولت ہماری دسترس میں ہے۔ طالبان کو جاہ پناہ نہ ملے گی۔ جہاں چھپیں گے ہم ڈھونڈ نکالیں گے۔ اور اب روس کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچنا چاہتا ہے۔ طالبان پاکستان کے کہنے پہ مذاکرات پہ تو راضی ہو گئے مگر وہ امریکہ کے انخلاء سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے۔ جس طرح امریکہ آیا تھا اسی طرح واپس جائے۔ کوئی باعزت واپسی کا راستہ نہیں ہے۔ یہ ہے طالبان کا موقف۔

اللہ رب العزت کی قدرت پہ یقین رکھنے اور اس قادر مطلق کی نصرت پہ بھروسا رکھنے والے جیت گئے۔ کنویں کے مینڈک کی طرح سائنسی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی پہ بھروسا کرنے والوں کے بس میں نہیں ہے کہ وہ ربِ کائنات کی قدرت اور نصرت کو سمجھ سکیں کیونکہ آج کے دور کا جدید خدا سائینس ہی انکا سب کچھ ہے۔ وہ یا تکبر کر سکتے ہیں یا طنز۔ فتح اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں (مجاہدینِ اسلام )کے مقدر میں ہمیشہ کے لئیے لکھ دی ہے۔ اسے سمجھنے کے لئیے عقل نہیں ایمان کی ضرورت ہے۔ ایمان والو تمہیں تمہارا مقدر مبارک۔

اب ہمارا نصیب دیکھئیے کہ ہم مشرف ،معین قریشی ، شوکت عزیز ، زرداری ، نواز شریف کے بعد عمران خاں کو بھگت رہے ہیں۔

جو سیکو لرازم (لا دینیت ) ریاستِ مدینہ کے نام پہ نافذ کرنے چاہتے ہیں۔ یعنی جو کچھ مشرف سب سے پہلے پاکستان اور روشن خیالی کے جھنڈے کی چھاؤں میں نہیں کر سکا۔ وہ عمران خاں ریاست ِمدینہ کی آڑ میں کر رہا ہے۔ عاطف قادیانی کے بعد عاصمہ حدید کی قومی اسمبلی میں اسرائیل نواز تقریر ، اسلام میں پراسرار جہاز کی آمد کے بعد ملک بھر میں انٹر نیٹ کی ٹریفک کی مانیٹرنگ کا کام قواعد کے برخلاف اسرائیلی انٹیلی جنس نیٹ ورک کی شراکت دار کمپنی کو دے دیا گیا ہے۔ اب پاکستان بھر کی انٹر نیٹ مانیٹرنگ اسرائیل کی کمپنی کیا کرے گی۔ یعنی خربوزوں کی رکھوالی گیدڑ بٹھا دئیے گئے ہیں۔ عمران خاں اسرائیل کی محبت میں ملکی تحفظ کی حدود کی بھی پرواہ نہیں کر رہے۔ غالبا ًعمران خاں ریاستِ مدینہ قادیانیوں اور اسرائیل کی شراکت سے بنانا چاہتے ہیں۔ شائد ہمارے وزیر ِاعظم کو علم نہیں ہے کہ ریاستِ مدینہ کے سب سے بڑے دشمن یہی یہودی ہی تھے اور ہیں۔ اسرائیل کے بنائے گئے گریٹر اسرائیل کے نقشے میں مدینتہ المنورہ شامل ہے۔ پاکستانیو ہوشیار باش۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 263 Print Article Print
About the Author: Chaudhry M Zulfiqar

Read More Articles by Chaudhry M Zulfiqar: 18 Articles with 8023 views »
I am a poet and a columnist... View More

Reviews & Comments

Language: