سیاسی انتقامی کارروائیاں……!

(Prof Liaquat Ali Mughal, Kehroor Pakka)

سیاسی انتقامی کارروائیاں پاکستانی سیاست کا ہمیشہ سے ’طرہ امتیاز‘رہی ہیں جس میں حکمران پارٹی یا حاکم اپنی حریف پارٹی یا امیدوار کو ہر ممکن طر سے نہ صرف نیچا دکھانے کی کوشش کرتی ہے بلکہ ان سے متعلقہ ووٹرز سپورٹرز کو بھی مختلف انداز میں ہراساں کیا جاتا ہے یعنی ان کی لڑائی میں فریقین براہ راست متاثر نہیں ہوتے بلکہ ان کی ڈومین میں موجود کمیونٹی اس سے شدید متاثر ہوتی اور اس کے منفی اثرات سے ہر خاص و عام بھی ابتلا کا شکار ہوجاتا ہے۔جنوبی پنجاب کی سیاست بھی اسی کا محور و منبع ہے اور اس وقت افسوس ہوتا ہے جبکہ یہ روش انفرادی معاملات سے ہٹ کر اجتماعیت کو اپنی لپیٹ میں لے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے ایک پروگرام کے تحت 10 اضلاع میں100 سکولز کو ماڈل بنانے کے پروجیکٹس دیئے گئے جس میں خوشی قسمتی یا بدقسمتی سے لودھراں بھی شامل تھا اس بنا پر لودھراں کو بھی دس ماڈل سکولز دیئے گئے جس میں لودھراں کی تینوں تحصیلوں لودھراں دنیاپور اور کہروڑپکا کیلئے سکولز کی تقسیم کے عمل کواسی طرح سیاسی انتقام کی نذر کردیا گیا جس طرح ماضی میں ہوتا رہا ہے کہ تین سکولز لودھراں اور 7 سات سکولز دنیاپور کو دے دیئے گئے ۔جو کہ سیاسی انتقام کا منہ بولتا ثبوت ہے جس سے لامحالہ کہروڑپکا کی عوام براہ راست متاثر ہورہی ہے جبکہ نہ تو اس کا ن لیگ کے موجودہ ایم این اے عبدالرحمن کانجوکی صحت پر کوئی اثر پڑے گا اور نہ ہی ایم پی اے شاہ محمد جوئیہ اور جہانگیر سلطان کے خاندان کو تعلیمی محرومیوں کا سامنا کرنا پڑے گا صرف اور صرف عوام ہی پسے گی جو کہ پس رہی ہے کیونکہ ان کے سابقہ ادوار بھی کہروڑپکا کی محرومیوں کی ’شاندار مثالیں‘ پیش کرتا ہے کہ اقتدار کہروڑپکا کے حلقے سے ایم این اے ایم پی اے رہنے کے باوجود،وزارت کاقلم دان ہونے کے باوجود عوام کو تمام ترسہولیات سے محروم رکھا گیا ار دنیا پور اور لودھراں کو نوازا گیا عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا باوجود اس کے کہ عوام نے انہیں بھاری اکثریت سے کامیاب کرایاجو کہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ کہروڑی عوام کو ہر دو صورتوں،ووٹ دینے اور ووٹ نہ دینے ،کی سزا دی جارہی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ کہروڑی عوام اس سزا کی مستحق بھی ہے کہ انہوں نے آج تک اپنے حقوق کیلئے آواز بلند نہیں کی ہمیشہ دوسروں پر تکیہ کیا دوسروں کے خیالات کی پیروی کی لہذا ان پر جیسے رعایا ویسے حکمران والا محاور فٹ بیٹھتا ہے

اب بات ہوجائے غیر منصفانہ تقسیم کی جس میں صوبائی وزیرجیل خانہ جات چوہدری زوار وڑائچ ،میاں شفیق ارائیں پارلیمانی سیکرٹری اور بالخصوص جہانگیر خان ترین کا کردار بہت نمایاں رہا ہے ضلع لودھراں میں اگر تینوں تحصیلوں کا سہولیات ،فنڈز، ترقیاتی کاموں اور دیگر ترجیحات کا موازنہ کای جائے تو دنیا پور اپہلے نمبر پر آتا ہے جسے ہر دور میں چاہے ن لیگ کا دورتھا کہ پی پی پی کا اور اب پی ٹی آئی کا عوام کو انکی خواہشات کے مطابق نوازا جاتا رہا ہے حالانکہ ان سب ادوار میں ایم این اے وزارتیں پارلیمانی سیکرٹری و دیگر قلمدان کہروڑپکا کے حلقے میں رہے ہیں لیکن بھولی عوام ان لوگوں کو ووٹ دے کر انہیں اعلی ایوانوں تک تو پہنچاتی رہی لیکن پھر انہیں اعلی ایوانوں پر مسندوں پر براجمان ان عاوام نمائندو ں تک پہنچنے کی استطاعت ہمت و حوصلہ نہ ہوسکاجس میں منافقت کا عنصر بدرجہ اتم موجود رہا ہے وعدے ویعد اور پیار کی جپھی پر ہی خوش کرکے ٹرخا دیا گیا اب جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت ہے تو وزیرا علی کے ساتھ ساتھ حکمران پارٹی کے نمائندے عوام کو ان کے نا کردہ گناہوں کی سزادے رہے ہیں اختر خان کانجو رانا فراز نون طاہر ملیزئی کو پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے لاکھوں ووٹ ملے یہ لاکھوں ووٹ یدنے والے ووٹرز بھی تو اسی دائرے میں آتے ہیں ان کا کیا قصور ہے ان کویوں پی ٹی پئی کو ووٹ یدنے کی سزاد ی جارہی ہے مخالفین کے شرور سے بچنے کی کوشش میں سرگرداں یہ ووٹرز اور سپورٹرز اب اپنوں کی بے رخی بے حسی اور نظراندازی کاشکار بھی ہیں وہ بیچ چوراہے میں کھڑے جہانگیر ترین اور عمران خان کے وعدوں کو یاد تو کررہے ہیں لیکن انہیں کوئی راستہ سجائی نہیں دے رہا کہ وہ کیا کریں۔ صوبائی وزیر جیل خان خانہ جات زوار وڑائچ،شفیق ارائیں و دیگر جن کا تعلق دنیاپور سے ہے ان کا فرض اور ذمہ داری ہے کو وہ اپنے وعدوں کی تکمیل کریں کیونکہ ووٹرز ا ور سپورٹرز اس کے یقینا مستحق بھی ہیں لیکن اس طرح کی ناانصافیوں سے گریز کہیں کہ کہروڑپکا کا حصہ بھی آپ دنیاپور کو دے دیں سات ماڈل سکولز میں سے کم ازکم تین سکولز کہروڑپکا کے حصے میں آنا تھے لیکن نہیں دیئے گئے حالانکہ کہروڑپکا تعلیمی لحاظ سے دونوں تحصیلوں سے زیادہ پسماندہ ہے اور دنیاپور تینوں تحصیلوں میں سب سے زیادہ لٹریسی ریٹ سب سے زیادہ سکولز و کالجز و دیگر ترقیاتی کاموں میں سر فہرست ہے -

اب کہروڑپکا میں مزید تنزلی کی طرف دھکیلا جارہے ایک لحاظ سے تو کہروڑپکا کے عوام کے ساتھ روا رکھا جانے والہ سلوک درست بھی دکھائی دیتا ہے کہ انہوں نے ہردور میں جس کو بھی چنا اسے اعلی ایوانوں تک پہنچایا اسی نے ان کو لولی پاپ دے کر سلادیا اور لولی پاپ منہ میں دبائے ہمارے شہر کے نام نہاد کرتا دھرتامنافقت کی چادر میں لپٹے عوام کو حکمرانوں کے ایما پر سہانے خواب دکھا کر بیوقوف بناتے رہے لیکن وہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے دوسرا یہ کہ جس طرح ماں بچے کو اس وقت تک دودھ نہیں دیتی جب تک وہ ر وئے نا تو اسی طرح یہ بچے ماں کے سامنے روئے ہی نہیں اور ماں انہیں خوش و شاداں دیکھ کر مطمئن رہی اور رونے والوں کو نوازتی رہی لہذا کہروڑپکا میں ان دس سکولز میں سے حصہ دیا جائے اور سیاسی انتقام کا نشانہ نہ بنایا جائے -

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 154 Print Article Print
About the Author: liaquat ali mughal

Read More Articles by liaquat ali mughal: 238 Articles with 100564 views »
me,working as lecturer in govt. degree college kahror pacca in computer science from 2000 to till now... View More

Reviews & Comments

Language: