کرپشن اور منی لانڈرنگ

(Ayesha Tariq, )

گورنمنٹ ٹیکس ملک کے ہر شخص سے وصول کرکے اس کو ایک جگہ بھرا جاتا ہے، اکٹھا کیا جاتا ہے۔اس کو کہتے ہیں قومی خزانہ۔ قومی خزانہ کبھی بھی خالی نہیں ہو سکتا اس میں ہوتے ہی ہمارے ٹیکس ہیں۔ کیونکہ عوام ہر ماہ، ہر سال ٹیکس ادا کر رہی ہوتی ہے۔ اور جب تک عوام ٹیکس ادا کرتی رہے گی تب تک قومی خزانہ خالی نہیں ہوسکتا۔

ٹیکس قومی خزانے میں بھرنے کے بعد اس سے حکومت کے اداروں میں تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ پولیس، فوج، عدلیہ وغیرہ کے دفتر کی تعمیر ہوتی ہے اور ان کو تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ اسی لیے تو سرکاری ملازم عوام کے ملازم ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کی تنخواہ taxpayers money سے آتی ہے۔ اس کے علاؤہ اس ٹیکس سے سڑکیں، پل اور دوسرے ترقیاتی کام کیے جاتے ہیں۔ یہ تو آئیڈیل منظر ناموں میں ہوتا ہے۔ مگر ہمارے جیسے ملک میں اس ٹیکس کا تھوڑا سا حصہ ملک اور ملکی اداروں پہ خرچ کیا جاتا ہے۔ اور باقی سب مل کے کھاتے ہیں۔ ہر عہدیدار اس کے اندر سے اپنا حصہ الگ کرتا جاتا ہے۔ اسی کو کرپشن کہتے ہیں۔
جو پیسہ قومی خزانے میں سے کسی چیز کی تعمیر وترقی کے لیے نکلا جاتا ہے اس میں سے تھوڑا سا تعمیر کے لیے بھیجا جاتا ہے اور باقی بڑے عہدیدار خود رکھ لیتے ہیں۔ اسی لیے تو ہمارے سرکاری اداروں کی حالت دیکھنے والی ہوتی ہے۔ غریب محنت کش عوام اعتماد کرکے جو ٹیکس دیتی ہے اس کو حکمران اپنی دولت کی بڑھوتی کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ اس لیے تو کہتے ہیں کہ حکمران کا صادق اور امین ہونا ضروری ہے تاکہ وہ ہمارے ٹیکسوں کی امانت کو نبھا سکیں۔ مگر ہماری عوام یہ سب سوچتی ہی نہیں ہے وہ کہتی ہے حکمرانوں کے آنے سے ان کا کیا جاتا ہے۔

جب میں بہت چھوٹی تھی نا تو میں سمجھ کرتی تھی کہ قومی خزانے میں جو پیسہ ہوتا ہے۔ وہ ملک کا پیسہ ہوتا ہے۔ جیسے ملک میں کوئی خزانہ کا کنواں ہو جس کو کھود کر وہ خزانہ نکلتے ہو۔ اور یہ جو ہمارے حکمران کرپشن کرتے ہیں وہ اسی بھرے ہوئے کنواں میں سے تھوڑا سا حصہ لیتے ہیں۔ تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ وہ ملک پہ بھی تو خرچ کرتے ہیں۔ مگر مجھے اب پتہ چلا ملک کا کوئی خزانے کا کنواں نہیں ہوتا ہے۔ قومی خزانہ تو صرف اور صرف محصول یعنی ٹیکس پر مبنی ہوتا ہے۔ ملک کے لوگ اس کو بھرتے ہیں اور بھرتے جاتے ہیں۔ اس مطلب یہ ہے جب سیاستدان کرپشن کرتے ہیں تو دراصل وہ ہر غریب آدمی کی تنخواہ کا ایک حصہ چوری کر رہے ہوتے ہیں۔اور اس طرح وہ مختلف فنڈز میں سے نکالا گیا حصہ ہوتا ہے۔اس سب کو کرپشن یا بد عنوانی کہتے ہیں۔

کرپشن کے ذریعے بنائے گئے مال کو ٹھکانے لگانے کے لیے اس کو منی لانڈرنگ کے ذریعے دوسرے ممالک میں منتقل کیا جاتا ہے۔ کیونکہ جب کوئی آدمی بینک میں پیسہ رکھوانے جاتا ہے تو بینک اس سے پوچھتا ہے کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا ہے؟ کیسے کمایا ہے؟ اس کی رسیدیں دکھاؤ۔ تو حلال کمانے والے تو رسیدیں دکھا دیتے ہیں۔ مگر ناجائز طریقے سے پیسہ بنانے والے رسیدیں نہیں دکھا سکتے ہوتے۔ سو وہ اس پیسے کو اپنے ملک میں نہیں رکھتے۔ بلکہ فیشن ایبل خوبصورت لڑکیوں کے بیگز میں بھر کے دوسرے ملکوں میں بھیج دیتے ہیں۔ ایان علی بھی تو منی لانڈرنگ کے کیس میں پکڑی گئی تھی۔ کیونکہ خوبصورت لڑکیوں کے بیگز کی ایئر پورٹ پہ تلاشی کم کم ہی لی جاتی ہے۔ اس کو پیسے کو آف شیور اکاؤنٹ میں رکھنا کہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ آف شیور کمپنی بناتے ہیں جو ایک کھوکھلی کمپنی ہوتی ہے۔ ہر ملک یہ پوچھتا ہے پیسہ کہاں سے آیا ۔ سوائے چند ایک ملکوں کے جیسے کہ ہانگ کانگ اور پانامہ۔ یہ ملک اس لیے نہیں پوچھتے کہ پیسہ حلال ہے یا حرام۔ کیونکہ یہ غریب جزیرے تھے۔ ان کے پاس کچھ ایسا نہ تھا کہ لوگ وہاں سرمایہ کاری کرتے۔ جس ملک میں بھی لوگ آکر پیسہ بینکوں میں جمع کراتے ہیں۔ وہ ملک امیر ہو جاتا ہے سو ان ملکوں نے دنیا کو یہ کہہ دیا کہ ہمارے بینکوں میں پیسہ محفوظ کرو، ہمارے ہاں آف شیور کمپنیاں رجسٹرڈ کرواؤ، ہم آپ سے نہیں پوچھے گئے کہ پیسہ کہاں سے آیا۔ اس طرح سارے کرپٹ لوگ اپنا کالا دھن ہانگ کانگ، پانامہ اور سوئیس بینکوں میں بھرنے لگے۔ کیونکہ وہاں کوئی ان سے سوال نہیں کرتا تھا۔
پیسے کو ملک سے چوری چھپے نکال کے آف شیور میں کرنا منی لانڈرنگ ہوتا ہے۔ یہ پہلے صندوقوں میں بھر کے ہوتا تھا اور اب بیگز میں ڈال کے۔ یہ ساری برائیاں آج کی نہیں ہیں بلکہ شروع سے چلی آرہی ہے۔ بس وقت کے ساتھ ساتھ ان کے طریقے بدل گئے ہیں۔ اللہ سب کو آسانیاں عطا فرمائے اور ان کو تقسیم کرنے کا شرف بھی عطا فرمائے آمین۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 130 Print Article Print
About the Author: Ayesha Tariq

Read More Articles by Ayesha Tariq: 27 Articles with 7469 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: