انصاف ہی سب کچھ

(Adnan Bonairee, )

کسی بھی معاشرے اور قوم کی کامیابی میں انصاف اور تباہی میں نا انصافی مرکزی کردار ادا کرتی ہے، اسلام میں انصاف کی اہمیت کا کوئی متبادل نہیں، امیر ہو، غریب ہو، عربی ہو، عجمی ہو، اس کو بلارنگ و نسل، زبان، لسانیت اور ذات پات سے بالاتر ہوکر اس کا حق دینا ہی عدل و انصاف کہلاتا ہے، سورۃ النساء میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے کیا کرو، اللہ تمہیں خوب نصیحت کرتا ہے، بے شک اللہ سنتا اور دیکھتا ہے، خالق حقیقی کے محبوب پیغمبر رحمت العالمین، سرور کونین اور نبی آخرالزماں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے قول اور فعل سے مساوات کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم کیں اور تعلیم دی کہ عدل و انصاف کا ترازو اس قدر مضبوطی سے تھام لوکہ سخت ترین مخالفت اور شدید ترین محبت بھی اس ترازو کے کسی پلڑے کو جھکا نہ سکے،فرمان الہیٰ اور فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے انصاف کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے،ہمارا آج کا موضوع ہے انصاف، جب سے ہوش سنبھالا، مملکت خداداد کو نا انصافی کے دلدل میں دھنسا ہوا پایا، قائداعظم کا پاکستان بنا نہ علامہ اقبال کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا، پیپلز پارٹی، نواز لیگ، ق لیگ، اے این پی، جے یو آئی ف سب کو موقع ملا لیکن کسی نے بھی عدل کیا نہ انصاف، خود کو بنایا، خاندانوں کو بنایا، فیکٹریاں بنائیں، زمنین ہتھائیں، صحت، تعلیم، کھیل، ٹیکنالوجی، معیشت اور سفارتی سطح پر بھی پاکستان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، فائدہ حکمرانوں کا، نقصان پاکستان کا ہوا، نا انصافی، اقرباء پروری، لسانیت، ذاتی مفاد اور انسانیت دشمن سابقہ حکمرانوں کے شرمناک کردار پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن ضروری نہیں سمجھتا، اللہ پاک دے کر بھی آزماتا ہے اور لےکر بھی، شاید انہیں مزید مہلت نہ ملے، مکافات عمل بھی کسی چڑیا کا نام ہے،اب جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں، کیوں کہ جمہوریت انصاف کے ترازو میں پل رہی ہے، تل رہی ہے، اب پاکستان کی کمان بہترین ہاتھوں میں ہے،انسان خطاء کا پتلا ہے، وزیراعظم عمران خان سے اختلاف تھا، ہے اور رہے گا لیکن ان کی نیک نیتی، ایمانداری، دیانت داری پر شک نہیں کیا جاسکتا، قدرت نے انہیں جس میدان میں بھی موقع دیا، انہوں نے صلاحیتوں کا لوہا منوایا، اب کی بار انہیں بڑے اور کڑے امتحان کا سامنا ہے،بائیس کروڑ عوام کے حقوق، جان و مال کا تحفظ، انصاف کی فراہمی، امیر غریب کی تفریق کا خاتمہ اور صحت کی بنیادی سہولیات سرفہرست ہیں، انہوں نے مدینہ کی فلاحی ریاست کا تصور دیکر اور اس کیلئے عملی بنیادوں پر اقدامات کرکے اچھا آغاز کیا، اچھی مثال قائم کی، اب دیکھنا یہ ہےکہ وہ مملکت خداداد اور اس کے باسیوں کو ان کے حقوق دلوانے، چور، لٹیروں کا احتساب کرنے اور قانون کی بالا دستی کیلئے مزید کیا اقدامات کرتے ہیں۔۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 156 Print Article Print
About the Author: Adnan Bonairee

Read More Articles by Adnan Bonairee: 12 Articles with 2709 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: