سُرورِ علم ہے کیفِ شراب سے بہتر

(Haseeb Ejaz, Lahore)

سُرورِ علم ہے کیفِ شراب سے بہتر
کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر
کسی نے کتاب کو رفیق لکھا ،کسی نے مددگار، کسی نے ہمسفر، کسی نے غم خوار،کسی نے صحراؤں میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ،تو کسی نے شدید سردی میں ٹھنڈی دھوپ، تو کسی نے کتاب کو اندھیر ی رات میں روشنی کا دیا لکھا۔بلاشبہ کتاب کی اہمیت و افادیت کل بھی اہم تھی اور آج بھی جسے نظرانداز کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے، کتاب اور انسان کا رشتہ ہر گزرے وقت کے ساتھ مزید مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جارہا ہے اسی لئے آج بھی کتب بینی کا شوق رکھنے والے اچھی سے اچھی اور نئی سے نئی کتابوں کی تلاش میں کُتب خانوں کا رُخ کرتے ہیں یا نئے مقامات کی جستجو میں سرگرداں رہتے ہیں۔لاہور ایکسپو سنٹر میں کتاب میلے ’’لاہور بُک بیسٹیول‘‘کا انعقاد کیا ہوا کتب بینی کے شائقین خوشی سے نہال ہوگئے ،بچوں، جوانوں، بڑوں، بزرگوں، لکھاریوں کی گہما گہمی چہل پہل نے ثابت کردیا کہ ڈ یجیٹل کے اس دور میں جب ایک کلک پر ساری دنیا آپ کے سامنے ہوتوتب بھی خود کوکتاب سے دور نہیں کیا جاسکتا۔

قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن کے اشتراک سے منعقدہ لاہور بُک بیسٹیول میں ہر طرح کی کتابوں کے سو سے زائد سٹال موجود تھے، جہاں کاروباری مواقع کی بات اپنی جگہ کتاب سے دوری ختم کرنے کیلئے قیمتوں پر خصوصی رعائیت کیلئے اقدامات بھی کئے گئے تھے، افغانستان، بھارت، امریکہ سمیت دیگر ممالک سے درآمدر کرتا کتابیں بھی کم قیمت پر دستیاب تھیں، بچوں کے ذوق و شوق کے عین مطابق معروف لکھاریوں کی دلکش دیدہ زیب ٹائٹل پر مشتمل پُرکشش کتابوں کی بھی بھرمار تھی۔اسلامی بُک کارنرز بھی مرکزنگاہ رہے۔خواتین کے متعلقہ کتابوں کے سٹال پھر خوب رونق رہی۔نامور ادیبوں،شاعروں، کالم نگاروں اور صحافیوں کی موجودگی اس میلے کی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت تھی ۔جو خریدار بھی تھے اور کچھ اپنی کتابوں کو آٹوگراف کیساتھ خریداروں کو پیش بھی کر رہے تھے، کتاب لکھنے والوں کو اپنے درمیان دیکھ کر کتاب سے محبت کرنے والے خریداروں کی مسرت قابل دید تھی۔

اس موقع پرسحرانصاری کا کہناتھا کہ آنے والی خاصی تعداد کو دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے یہ تاثر بھی غلظ ثابت ہورہا ہے کہ کتاب کی اہمیت ختم ہورہی ہے،لوگوں کا جذبہ قابل تحسین ہے۔ایک چھت کے نیچے اتنے زیادہ سٹال کی موجودگی سے کتب بینی کو فروغ ملے گا۔

احمد حسن کانے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کتا ب کی اہمیت وافادیت کبھی بھی کم نہیں ہوسکتی، عارفِ کامل قمرالدین سیالولی نے پچاس سال پہلے ایک جملہ کہا تھا جو آج بھی تازہ دم ہے کہ اکثر کتابوں میں نور ہوتا ہے فتور نہیں ہوتا ، اس لئے اسے دل کی بصیرت سے پڑھنا چاہیے ،کتاب دوستی اور کتاب شناسی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی-

امجد اسلام امجد کا کہنا تھا کہ معاشرے میں ایسی تبدیلی آ رہی ہے کہ عوام کاکتاب کی ہارڈ کاپی سے فاصلہ بڑھتا جارہاہے ، اس طرح کا ایونٹ کا انعقاد بہت اہم اور مثبت ہے، یہ میلہ سب کو ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ جنہیں کتاب سے ، علم سے ، زندگی کو سمجھنے سے ، زندگی کے شعور میں دلچسپی ہے وہ آئیں اور یہاں آ کر کچھ وقت گزاریں ، مجھے ذاتی حیثیت میں یہاں آکر بہت دلی خوشی ہوئی ہے، ٹیکنالوجی نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور وہ اتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے کہ کسی کے جذبات و احساسات کی پروا نہیں کرتی ۔تو بہتر ہے کہ بغیر کسی تصادم کے اسی میں سے اپنا راستہ تلاش کیا جائے اور نئی راہیں متعین کی جائیں تاکہ کتاب اگلی نسل تک کسی نہ کسی شکل میں سفر کرے -

شعیب مرزا نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا والدین کا اولین فریضہ بنتا ہے کہ اپنے بچوں کو کتب بینی کی طرف مائل کریں،جبکہ ٹیکنالوجی کے باوجود کتب بینی کا رحجان ابھی باقی ہے، کتابیں باقی رہیں گی کیونکہ ہمارا قرآن پاک کتابی شکل میں ہے جس نے ہم قیامت تک فیض یاب ہوتے رہے گے اور اس طرح کتابیں بھی قیامت تک چھپتی رہے گی، اور لوگ طلب گار بھی رہے گے،

رضا صدیقی کا کہنا تھا کہ کتاب میلہ پہلے بھی لگتا ہے مگر اس بار زیادہ منظم انداز میں سجایا گیا ہے،کتابیں بھرپور ہیں اور ذوق کے مطابق ہیں، کتاب ذہنی بلوغت کیلئے بہت ضروری ہے، اگر آپ مطالعہ سے دور ہوں گے تو مفکر کا یہ قول صیح صادر ہوتا ہے کہ اگر دو دن تک کسی کتاب کا مطالعہ نہ کیا جائے تو تیسرے دن گفتگو میں وہ شیرینی باقی نہیں رہتی یعنی انداز تکلم تبدیل ہوجاتا ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ سونے سے پہلے بستر پر کتاب کامطالعہ بہت لطف دیتا ہے ۔

اظہر عباس نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بڑے شہروں کے علاوہ پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی کتاب میلوں کا اہتمام بہت ضروری ہے۔پُرامن معاشرے کے قیام میں بچوں کے ادیب کا اہم کردار ہے،کیونکہ ان کے قلم سے بنائے گئے کردار بچوں کے ذہنوں پر نقش ہوجاتے ہیں جو دیر پا ہوتے ہیں، جبکہ بچوں کا ادب بچوں کی تربیت میں بہت اہم اہمیت کا حامل ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک سوال کے جواب میں اظہارفکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں بچوں کے ادب میں اینیمیشن پر خاطر خواہ توجہ نہیں جار ہی ہے جبکہ یہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے،کیونکہ دوسرے ممالک میں کہانی کے کرداروں کو اینیمیٹ کر کے بچوں کے سامنے پیش کیا جاتا تو سیکھنے کا بہت بہترین و موثر نسخہ ہے۔

سید بدر سعید نے اپنے خیالات کے اظہار میں اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ لاہور میں کراچی کی نسبت کتب بینی بہت کم ہے، کراچی بڑا شہر ہے اور کتاب شائقین کا زیادہ ہونا تو ایک لازمی امر ہے، جس کا مطلب ہرگز یہ نہیں لاہور میں کتابوں کے شائقین بہت کم ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گرد اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے بہت ضروری ہے کہ کتب بینی کو فروغ دیا جائے اور ایسے ایونٹ کااہتمام کیا جائے۔ ایسے میلوں میں بچھڑے دوست بھی مل جاتے ہیں ۔

یسریٰ وصال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قومی زبان کے فروغ کیلئے بچوں کو ایسی ایونٹ میں ضرور آنا چاہیے جسکی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے، بہترین اہتمام پر قاسم علی شاہ سے اظہار تشکربھی کیا۔شعروادب کے حقیقی زندگی پر اثر کے حوالے سے کہا اس سے انسان حساس طبیعت ہوجاتا ہے،
ایم ایم علی نے کہا کہ جو پڑھنا چاہتا ہے اور قوت خرید کم ہے وہ ایسے میلوں میں باآسانی خریداری کرسکتا ہے، کتب بینی کو فروغ دینے کیلئے میلوں کے اہتمام کے علاوہ سیمینار کا انعقاد بھی ضروری ہے،جبکہ میڈیا پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ کتاب اور ادب کے فروغ کیلئے اپنا کردار سنجیدگی سے ادا کریں-

عالینہ ارشد نے کہا کہ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ صدی خود کو کتابوں سے جوڑنے کی صدی ہے،اگر ہم اپنا موزانہ کریں دوسرے ممالک کے ساتھ، تو وہاں پندرہ سے بیس ہزار کتابیں سالانہ چھپتی ہیں، مگر ہمارے ملک میں اس کی تعداد بہت کم ہے،،ادب پڑھنے والوں اور لکھنے والوں کیلئے اچھا رہے گاکہ کتابوں سے تعلق جوڑے رکھا جائے۔ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی اپنی دُنیا ہے مگر کتابوں سے رشتہ بہت پُرانا ہے اور ہمیشہ رہے گا،

شہزاد روشن گیلانی نے کہا کہ یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ آج بھی کتابوں سے محبت کرنے والے موجود ہیں ، تجویز پیش کرتے ہوئے کہا یہ میلہ پہلے سال میں ایک بار لگتا تھا پھر دوبار لگنے لگا تو اب کیا ہی اچھا ہوکہ اسکا زیادہ سے زیادہ اہتمام ہو، تا کہ لوگوں میں کتابیں خریدنے کا، پڑھنے کا شوق پیدا ہو۔

محمد انور جاوید نے اپنے خیالات کے اظہار میں کہا کہ یہاں اتنی زیادہ چہل پہل دل کو تسکین ملا۔ہر اصناف کے معروف لکھاری اور نئے لکھاری کی کثیر تعداد ایک چھت کے نیچے اکٹھی ہے جو حوصلہ افزاء بات ہے،

عبدالماجد مالک کا کہنا تھا کہ اس کتاب میلے میں لوگوں کارش تو ہے مگر خریدار کم اور دیکھنے والے زیادہ،کتب بینی کی روایت جو دم توڑ رہی ہے اُس کے سنجیدگی سے غوروفکر کی ضرورت ہے،۔
بڑی دلنشیں ہے کتابوں کی دُنیا
آؤ اس کتابوں کی دنیا کو آباد کریں

بتیس کتابوں کے مصنف چھ بار صدارتی ایوارڈیافتہ فہیم عالم کا کہنا تھا ہمارا موٹو ہے بچوں کی تعلیم، تربیت اور تفریح۔میں لکھتا بھی اسی نویت کا ہوں اور ہمارا ادارہ اسی موضوعات پر کتابیں شائع کرتی ہے۔

مہوش احسان نے کہا کہ مطالعہ کم ہو رہا ہے مگر لکھاری زیادہ ہورہے ہیں تو ایسے میں کتاب میلے سودمند ثابت ہوتے ہیں، اور یہاں وہ سب کتابیں باآسانی میسر ہوجاتیں ہیں جوکتب خانوں میں تلاش کرنا بہت مشکل کام ہے۔جبکہ نئے لکھاری کیلئے ایسے پلیٹ فاروم سے حوصلہ افزائی کا ساماں بھی ہے اُنہیں یہ بتانے کا موقع بھی ملتا ہے کہ وہ ادب کے دریا کو وہ قطرہ ہیں جو کل اس دریا میں شامل ہو کر اُسکا حصہ بنے گا۔فلک زاہد نے کہا کہ مجھے لگتا تھا کہ کتابوں کا رحجان کم ہو رہا ہے مگرآج کی رونق دیکھ کر بہت سکون ملا ہے،قرۃ العین خالد کا کہنا تھاکہ آج کل سوشل میڈیا کادور ہے، اور کتاب سے دوری بڑھ رہی ہے، کتاب سے تعلق مضبوط کرنے کیلیئے اسی تقریبات کا انعقاد نوجوان کے لئے بہت ضروری ہے ، ایک خریدار علی اکبر نے کہا کہ کتاب سے خاص لگاؤ پیدا ہو اس لئے بچوں کو ایسی تقریبات میں شامل ہوتے ہیں۔

اس میلے میں کچھ فروخت کنندہ نالاں بھی نظر آئے اُنکا کہنا تھاکہ یہ میلہ صرف و صرف فروغ تعلیم کیلئے انعقاد پذیرہوتے ہیں جس کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے کہ تاکہ لوگوں کتابوں کو بھی خریدیں کیونکہ لاہور میں کتب بینی کا شوق کم ہے جبکہ کراچی میں لوگ جوق در جوق آتے ہیں اور کتابیں دو دو باتھ فروخت ہوجاتیں ہیں۔

جبکہ بک کارنر جہل کے روح رواں شفیق الرحمن کا کہنا تھا کہ کتاب زندہ رہے گو تو قوم زندہ رہے گی،یہ کتابوں کی محفل ہے اور ہم قاری اور کتاب کے درمیان فاصلے کم کرنے کیلئے نصف صدی سے اشاعت کا کام کر رہے ہی اور کتاب میلوں میں خصوصی ڈسکاؤنٹ دینا بھی اُسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے -

ویزیٹرز کا کہنا تھا کہ اس میلے سے کتاب دوستی اور کتاب شناسی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔مجموعی طور پر ہر پہلو سے یہ کتاب میلہ اپنے اہداف کے حصول میں کامیاب رہا ۔ لوگوں کی بھرپور دلچسپی اس بات کی عکاس ہے کہ کتابوں کی اشاعت اور کتب بینی کے شائقین کی تعداد ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھ رہی ہے نا کہ کم ہو رہی ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ کتاب سے محبت زندہ رہی تھی، ادب قائم و دائم رہے گا اورہماری نئی نسل کا مستقبل تابناک و روشن ہے ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 366 Print Article Print
About the Author: Haseeb Ejaz Aashir

Read More Articles by Haseeb Ejaz Aashir: 95 Articles with 38114 views »
https://www.linkedin.com/in/haseebejazaashir.. View More

Reviews & Comments

Language: