محبت مر بھی سکتی ہے

(Kanwal Naveed, Karachi)

ارمان اور سبین کی شادی کی تیاری ہو رہی تھی۔ سبین کو سارے مبارک باد کے ساتھ ساتھ خوش قسمت بھی قرار دے رہے تھے۔ ارمان اسے شادی کے بعد لاہور لے کر جانے والا تھا۔ سبین کی دوست عائشہ نے کہا۔ یار ایسی قسمت تو ہر لڑکی چاہتی ہے۔ سسرال کابوجھ نہ اُٹھانا پڑھے۔ سبین نے ہنستے ہوئے کہا۔ مجھے تو اس کی فیملی سے کوئی مسلہ نہیں بلکہ مجھے تو اچھا لگتا ہے اس کی امی اور چچی ساتھ رہتی ہیں ابھی تک۔ مجھے بڑھے خاندان کاہونا پسند ہے ۔ دیکھو نا ۔ نہ میری کوئی بہن ہے نہ بھائی ۔ میں تو اکیلی ہی رہی ہوں ۔ اب ارمان کے ساتھ بھی اکیلی۔
سبین بیٹھی ہوئی شادی کی فلم دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی۔اب اس کی شادی کو چار سال ہو چکے تھے ۔ان چار سالوں میں ارمان کی اسے سمجھ نہیں آئی تھی۔ وہ حد درجہ کوشش کرتا کہ سبین اس سے زیادہ فری ہونے کی کوشش نہ کرئے۔ سبین اورارمان کراچی سے اتنی دور اپنے رشتے داروں سے الگ رہ رہے تھے۔ارمان سبین کو سال میں فقط ایک ہی بار کراچی لے کر جاتا۔اس کی وجہ وہ اپنے مالی حالات کو قرار دیتا۔ سبین ہر حالت میں ارمان کی خوشی چاہتی تھی۔ یہ ہی وجہ تھی کہ وہ اس کے غصے کو برداشت کرتی ۔ اس کی ہر ذیادتی کو اچھی مشرقی بیوی کی طرح سہہ جاتی۔ سبین کو کہانیاں لکھنے کا بہت شوق تھا۔ وہ وہ شروع ہی سے اپنے سکول کے رسالہ پھر کالج اور یونیورسٹی کے رسالے میں بھی بطور لکھاری خود کو منوا چکی تھی۔ وہ معاشرے کے بہت سے مسائل کوزیر بحث لانے کی کوشش کرتی۔ جب اس نے ارمان سے اس کا تذکرہ کیا تو ارمان نے ہنستے ہوئے کہا۔ تم لکھ کر شائع کروا لیا کرو۔ کیا پتہ کسی دن حمیرا احمد کی طرح تمہارا بھی نام ہو۔ سبین نے حیرت سے ارمان کی طرف دیکھا۔ اس نے اپنے بارے میں اس طرح تو کبھی نہیں سوچا تھا۔
ارمان کی کہی ہوئی ایک چھوٹی سی بات نے اسے بہت سے ڈائجسٹ میں لکھنے والی بہترین لکھاری بنا دیا تھا۔ وہ سبین کنول کے نام سے جانی جانے لگی تھی۔ اس نے ارمان سے بہت کہا کہ وہ کبھی اس کی کوئی کہانی پڑھ کر رائے دے مگر ارمان ہر بار ہنس کر کہتا ،میرے پاس اتنا فضول ٹائم نہیں ہوتا۔ رائٹر صاحبہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ ارمان اور سبین کی شادی کو سات سال ہو چکے تھے۔سبین ہرگزرتے پل کے ساتھ اس لمحے کا انتظار کرتی ۔ جب ارمان اس سے اپنی محبت کا اظہار کرئے۔ مگر ارمان اپنی دھن میں رہنے والا انسان تھا۔ اس کے نزدیک میاں بیوی کا رشتہ ضرورت کا رشتہ تھا۔ جہاں آدمی کو عورت گھر سنبھالنے اور بچے پیدا کرنے کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔ وہ سبین کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا ۔سوائے ان ضروریات کے جو جذبات سے منسلک ہوتی ہیں ۔ سبین کا وقت اب عرشیہ کے ساتھ گزرنے لگا ، چار سال کی عرشیہ جب سکول جانے لگی تو سبین کے دماغ میں دوبارہ سے بہترین لکھاری بننے کا جنون سر اُٹھانے لگا۔ اب وہ ارمان کی بجائے ناول پڑھنے اور لکھنے پر ذیادہ دھیان دینے لگی۔ ارمان بیوی کو پہلے ہی کچھ دور رکھنے کی سوچ رکھتا ہے،اسے ذرا برابر بھی فرق نہیں پڑا کہ سبین اب پہلے کی طرح نہ تو اس کے لیے بنتی سنورتی تھی ۔ نہ ہی دیر تک اسے موبائل فون کو استعمال کرتے دیکھتی رہتی تھی۔ وہ صبح چار بجے اُٹھ جاتی ۔ یہ ارمان کو پتہ تھامگر وہ کرتی کیا تھی ،یہ اسے خبر نہ تھی اور نہ ہی اسے دلچسپی تھی کہ وہ کیا کرتی ہے۔ اسے یہ بھی پتہ تھا کہ وہ کہانیاں لکھتی ہےمگر اب تک وہ کون کون سی کہانیاں لکھ چکی ہے۔ قارین کو کون سی کہانیاں اچھی لگی ،ان سب سے وہ انجان تھا۔ وہ جاننا بھی نہیں چاہتا تھا۔ اس کی زندگی میں مومنہ آ چکی تھی۔ ہوٹل مینجمنٹ سٹاف میں اچانک سے اس قدر خوبصورت عورت کا آجانا ہر مرد کی دلچسپی کا باعث بنا ہوا تھا۔
ایسے میں مومنہ کی دلچسپی ارمان میں دیکھ کر سٹاف کا ہر ممبر اسے مبارکباد دیتا پھرتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے کب دوستی مراسم میں بدلی ارمان کو پتہ ہی نہیں چلا۔ مومنہ کے بچے نہ تھے اور شوہر سال بھر سے دُبئی میں تھا۔ اس نے ارمان کو رات کے کھانے پر گھر بلایا۔ ارمان اچھی طرح تیار ہو کر جانے کو نکلنے ہی والا تھا کہ سبین نے آواز دیتے ہوئے کہا۔ آپ کا موبائل۔ارمان نے غصے سے کہا۔ مجھے پیچھے سے آواز نہیں دیا کرو۔ میں خود اپنی چیزیں دیکھ سکتا ہوا ۔ یہ کہتا ہوا نکل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کافی دن سے سبین نے کہانی نہیں لکھی تھی، عرشیہ بھی سو رہی تھی۔ اس کے دماغ میں اچانک سے کہانی نے جنم لیا۔ اس نے کہانی کا نام تجویذ کرتے ہوئے ٹائیٹل دیا۔ ( محبت مر بھی سکتی ہے۔)عموماً وہ کہانی لکھنے کی شروعات شعر سے کرتی۔
میری انکھوں سے اب کہ نمی بھی چھین لی اس نے
کہ درد حد سے بڑھ جائے تو پھر کوئی درد نہیں ہوتا
اس نے کہانی کچھ اس نے اس طرح شروع کی جس طرح اس کی اپنی زندگی تھی۔ ارمان سے بار بار محبت کا مطالبہ کرنا اور ارمان کا اسے جھٹک دینا۔ کہانی کی ہیروین بھی اپنے شوہر سے بار بار محبت کا مطالبہ کرتی ہے ۔بہت سال گزر جانے پر جب شوہر اس کو ویسی محبت نہیں دیتا ،جیسی وہ چاہتی ہے تو وہ اپنے ایک کزن سے دوستی کر لیتی ہے۔ وہ کزن اس سے جب محبت کا اظہار کرتا ہے تو وہ بلکل ایسے کرتا ہے جیسے وہ اپنی شوہر سے محبت کا اظہار چاہتی ہے۔ سبین ہیروین اور ہیرو کے نام تو بدل دیتی ہے لیکن ہیروین جس کزن سے پیار کرنے لگتی ہےاور شوہر کو دھوکا دینے لگتی ہے ،اس کزن کا نام اور کام اپنے ایک کزن سے مشابہ لکھ دیتی ہے۔یہ سب وہ غیر دانستہ طور پر کرتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرہ طرف ،ارمان مومنہ کے گھر پہنچا، کھانا کھانے کے بعد مومنہ اسے رات رُک جانے کا کہنے لگی۔ ارمان سوچنے لگا۔ اتنی خوبصورت عورت اور ۔۔۔۔۔۔اس کا دل اور دماغ آپس میں لڑ ہی رہےتھے کہ مومنہ کے شوہر کا فون آ گیا ۔ اس نے اشارے سے ارمان کو خاموش رہنے کا کہا ۔ ارمان مومنہ کے چہرے کی طرف ہی بغور دیکھتا رہا۔ رسمی دُعا سلام کے بعد وہ اپنے شوہر سے واپس آنے کا کہنے لگی ۔ فون سنتے سنتے وہ ارمان کے بہت قریب آ کر بیٹھ گئی۔ اس کا شوہر اپنی مجبوریوں کی ایک لمبی فہرست پڑھ رہا تھا کہ اس نے فون کا سپیکرآن کر دیا۔ ارمان بھی دیر تک اس کی بے تکی باتیں سن رہا تھا۔ فون بند کرنے کے بعد اس نے ارمان کے چہرے پر اپنا چہرہ جھکاتے ہوئے کہا۔ آدمی نہ جانے کیوں سمجھتا ہے کہ عورت کو پیسوں سے خوش کیا جا سکتا ہے۔ نہیں مائی ڈیر۔عورت تو فقط ایک ساتھ کی خواہش کرتی ہے۔ اسے تو بس کوئی یقین دلانے والا چاہیے کہ کوئی ہے جو اسے دل و جان سے چاہتا ہے۔ تم نے دیکھا ارمان اتنی ساری باتوں میں میرا شوہر یہ کہنا بھول گیا کہ وہ مجھے یاد کرتا ہے۔ اگر وہ یہ کہہ دیتا تو آ ج تم یہاں نہیں بیٹھے ہوتے۔ تم جب مجھے کہتے ہو کہ تم نے مجھ سے خوبصورت عورت نہیں دیکھی ،تو میراوجود تسکین اور سکون سے بھر جاتا ہے۔ اوروہ میراشوہرسمجھتا ہے کہ میری ہر ضرورت پوری کر رہا ہے۔ اسے مجھ سے پوچھنا بھی تو چاہیے نا کہ میری ہر ضرورت پوری بھی ہو رہی ہے کہ نہیں ۔ یہ کہتے ہوئے مومنہ نے اپنا سر ارمان کے کندھے پر رکھ دیا۔
ارمان نے پانی کا ایک گھونٹ بھرا ہی تھا کہ مومنہ پھر بولی۔ ارمان تمہیں پتہ ہے کہ عورت کے لیے اچھا گھر۔ بچے ۔ زیور۔ ہر شے بے معنی ہو جاتی ہے ،جب اسے یہ احساس نہ ملے کہ اس کا شوہر اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ایسے میں اگر وہ اس احساس کو کسی اور میں ڈھونڈ لے تو کیا بُرائی ہے۔ ایسے میں پھر شوہر جائے پہاڑ میں ۔اس نے مسکرا کر ارمان کی طرف سر اُٹھا کر دیکھا تو ارمان کے ہاتھ سے پانی کا گلاس زمین پر جا گِرا۔
ارمان فوراً سے اُٹھ کھڑا ہوا۔
ارے کیا ہو گیا۔ مومنہ نے حیرت سے پوچھا۔ ارمان نے افسردگی سے کہا۔ اللہ تعالی ٰ نے عورت کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں اس کے گھر اور مال کی حفاظت کرئے اور اس کے بستر میں کسی کو نہ آنے دے۔ مومنہ کا منہ تعجب سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔ کیا؟ اس نے حیرت سے ارمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ تمہیں پتہ تھا نا کہ یہاں میں نے تمہیں درس قرآن سننے کے لیے نہیں بلایا ۔ اگر ایسا تھا تو تم یہاں آئے کیوں تھے۔
ارمان کچھ کہے بغیر دروازے سے باہر نکل گیا۔ بار بار اس کا خیال مومنہ کی طرف جا رہا تھا۔ وہ بھی تو تنہا رہتی ہے۔ میں نے بھی کبھی اس سے محبت کا اظہار نہیں کیا۔ بلکہ عرشیہ کی پیدائش کے بعد تو بار بار اسے احساس بھی دلاتا رہتا ہوں کہ وہ اب پہلے جیسی نہیں رہی ۔ کیا وہ بھی ایسا کچھ کر سکتی ہے ۔ یہ سوچتے ہوئے وہ تیزی سے گاڑی چلاتے ہوئے گھر پہنچا ۔اس نے بے چینی اور کش مکش میں دھیرے سے چابی سے دروازہ کھولا اور بغیر آواز کیے دھیرے دھیرے کمرے میں داخل ہوا۔ جہاں مومنہ سو رہی تھی ۔ اس کا لیب ٹاپ آن تھا۔
ارمان کافی دیر تک مومنہ کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ کیا یہ مجھ سے دھوکا کر سکتی ہے۔ اسے بے اختیار مومنہ یاد آئی۔کوئی کچھ بھی کر سکتا ہے اس کے دماغ نے کہا۔ لیب ٹاپ کی آواز نے اشارہ دیا کہ بیٹری ختم ہو رہی تھی۔ اس نے لیب ٹاپ کو بیٹری لگائی۔ دیکھا تو کہانی سامنے لکھی تھی۔ جس کا نام تھا محبت مر بھی سکتی ہے۔
اس نے کہانی کو غیر دانستہ طور پر پڑھنا شروع کیا ۔ کہانی کی شروعات بلکل اسی طرح کی زندگی سے تھی ۔ جو وہ اور سبین جی رہے تھے۔ شوہر کا بیزار ہونا۔ بیوی کا بے اختیار ہونا۔ اسے ایسے لگا کہ سبین نے اسے اور خود کو کہانی میں بیان کیا ہے ۔ وہ مذید جاننا چاہتا تھا کہ سبین اس کے بارے میں کیا سوچتی ہے ۔ اس کی نظریں کہانی کے متن پر تیزی سے حرکت کرنے لگتی ہیں ۔
کہانی کی ہیروین عمارہ سے اس کی دوست صنم کہتی ہے ۔ تم اپنے شوہر کی بے اعتنائی پر کیوں روتی ہے۔ (تمہیں کس نے کہا تھا کہ فراز تم سے محبت کرتا ہے ۔ کیوں صبح شام اس کا رونا روتی ہو۔ ممکن ہے وہ کسی دوسری عورت میں دلچسپی لے رہا ہو۔ زندگی اتنی بے کار شے نہیں کہ انسان ایک ہی انسان کے پیچھے ضائع کر دے۔ بہت مل جاتے ہیں ۔دل بہلانے کو۔ دل بہلانے میں کچھ بُرائی بھی نہیں )
ارمان نے غصے سے مٹھی بند کرتے ہوئے ،سبین کی طرف دیکھا ۔ جو اسے ایک مکار اور فریبی عورت نظر آ رہی تھی۔ وہ مذید پڑھنے لگا۔(اذیت ، کس نے کہا تھا ۔عمارہ نے اپنی بھیگی ہوئی پلکوں کو صاف کرتے ہوئے کہا۔ کیا سورج بولتا ہے کہ وہ روشنی دے رہا ہے،بارش برستے ہوئے کہتی ہے کہ میں برس رہی ہوں۔ کچھ باتیں کہنے کی نہیں محسوس کرنے کی ہوتی ہیں ۔)
ہیروین کی دوست کہتی ہے ( جب محسوسات دھوکا دیں تو الزام دوسرے پر نہیں خود پر لگانا چاہیے۔)
ہیروین کہتی ہے ( خود پر ہی الزام رکھا ہے ۔ اسی لیے خود کو تکلیف دینے کا سوچ رہی ہوں ۔اب دیکھنا تکلیف میں اُٹھاوں کی اور روح اس کی کانپ جائے گی۔ )
ارمان غصے اور تکلیف سے دانتوں کو پیستا ہوا کرسل کو اوپر کرنے لگا تا کہ کہانی کو مذید پڑھ سکے۔ اس کی انکھوں میں آنسو آ گئے ، جب اس نے وقاص کا نام پڑھا۔ سبین کے کزن کا نام بھی وقاض ہی تو ہے اس کے دماغ میں وقاص کا نام ہتھوڑے کی طرح لگا۔بے بس اور شوہر کی ستائی ہوئی ہیروین عمارہ وقاص کی خلوص بھری باتوں کو سن کراس سے اپنے دُکھوں کا رونا روتی ہےیہ بات جیت محبت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ کہانی میں شوہر کی ذیادتیوں پر خاموشی اختیار کرنے والی عمارہ اپنے کزن وقاص سے فون پر بات جیت کرنے لگتی ہے۔ وقاص اسے طلاق لینے کا مشورہ دیتا ہے۔
ارمان نے لیب ٹاپ پر سادے صفحات کو دیکھا ۔ اس کا خون کھول گیا۔ اس نے سوئی ہوئی سبین کے چہرے کو نفرت سے دیکھتے ہوئے سوچا ۔ یہ میرے ساتھ ایسے کھیل بھی کھیل سکتی ہے۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ یہ مومنہ سے کم ہے کیا۔ عورت ہوتی ہی کم ظرف ہے۔ کس چیز کی کمی چھوڑی تھی میں نے اس بے غیرت کے لیے۔ وقاص۔
اس نے اپنے گِرتے ہوئے آنسو اپنی شرٹ سے صاف کئے۔اس نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا۔ خون کے آنسو رولاوں گا ۔یہ کہہ کر اس نے لیب ٹاپ کو اس ذور سے زمین پر پٹخا کہ سبین کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے بازو سے پکڑ کر اسے جھنجھوڑ کر رکھ دی۔ سبین نے حیرت اور تکلیف کے ملے جلے جذبات سے انکھوں کو رگڑتے ہوئے ، ارمان نے غضب ناک چہرے اور سرخ انکھوں کو دیکھا۔ ڈرتے ہوئے بولی ۔ کیا ہوا؟
وہ اپنے لیپ ٹاپ کو دیکھنے لگی تو ارمان نے اپنی ٹانگوں سے مار مار کے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔ سبین چپ چاپ حیرت کا مجسمہ بنے اسے دیکھتی رہی۔ اسے ابھی تک کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ آخر ہوا کیا ہے۔ وہ اندازہ بھی نہین لگا پا رہی تھی ۔ صبح کے پونے چار کا وقت تھا۔ ارمان اس پر بدکردار ہونے کا الزام لگا رہا تھا۔ اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا۔ شادی کے گزشتہ تمام سالوں میں اگرچہ ان کے درمیان کہیں لڑائیاں ہوئیں تھیں ۔ شروع کی لڑائیوں میں ارمان ہاتھ اُٹھا تا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سبین نے خود کو اس کے مزاج کے مطابق ڈھال لیا تھا۔ ان تمام سالوں میں اس نے کبھی سبین کے کردار پر انگلی نہیں اُٹھائی تھی۔
اس نے چیختے ہوئے کہا۔پاکیزہ عورت۔تمہارے جیسی کے ساتھ اتنے سال برباد ہو گئے میرے۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اتنے معصوم سے چہرے کے پیچھے اتنی گندی عورت ہے۔ اس نے پاس آتے ہوئے،تھپڑ بنایا مگر مارنے سے خود کو روکتے ہوئے کہا۔ تمہارے جیسی گندی عورت کو تو میں ہاتھ بھی نہ لگاو۔
سبین کی انکھیں اس تذلیل کے بعدبرسنے لگیں ۔ میں نے کیا کیا ہے؟ آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں ۔ ارمان ۔ آپ کو ہوا کیا ہے۔بے بسی سے سبین نے ڈگمگاتی ہوئی آواز میں کہا۔ارمان نے تکیے کو غصے سے دبوچتے ہوئے کہا۔ کب سے مل رہی ہو ،وقاص سے ۔تم کیا سمجھتی ہو چکر چلاو گی۔ مجھے پتہ بھی نہیں چلے گا۔ میں دُبئی میں نہیں رہتا۔ یہاں رہتا ہوں ۔سمجھی۔تمہیں اور تمہارے وقاص کا وہ حال کروں گا کہ کوئی بیوی اپنے شوہر کی پیٹھ پیچھے چکر نہیں چلائے گی۔ سائیڈ ٹیبل پر پڑا ہوا گلدان ارمان نے اُٹھاتے ہوئے الٹا پیچھے کی طرف پھینکا۔ سبین ذور سے چیخی عرشیہ ، میری بچی۔میری بچی۔
ارمان نے بیچھے مڑ کر دیکھاتو خون سے لہو لہان عرشیہ گلدان لگنے کی وجہ سے ایک چیخ کے ساتھ زمین پر گِر چکی تھی۔ ارمان نے کانپتے ہاتھوں اورپھٹی پھتی انکھوں کے ساتھ عرشیہ کو اپنی باہوں میں اُٹھایا۔ سبین نے عرشیہ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو ارمان نے ایک دھکے سے اسے پیچھے کرتے ہوئے کہا۔ اپنے گندے ہاتھ میری بیٹی کو نہ لگانا۔ اب کی بار سبین بھی چیخی۔ وہ میری بیٹی بھی ہے۔ارمان میں نے کچھ نہیں کیا۔ خدا کے لیے ہوش میں آئیں ۔ ہوسپٹل لے کر چلیں ۔ میری عرشی کو۔ خدا کے لیے رحم کھائیں ۔ پلیز۔
ارمان گاڑی کی چابی لے کر تیزی سے عرشیہ کے ساتھ گھر سے نکل گیا۔ سبین کو ابھی تک سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر ہوا کیا ہے۔ آخر ارمان کو کس نے کہا کہ وہ بدکردار ہے۔ اس کی زندگی کسی بھی قسم کی گندگی سے پاک رہی تھی۔ عرشیہ کو ساتھ لے جاتے ہوئے ارمان باہر کے گیٹ کو تالا لگا کر گیا تھا۔ اس نے چیختے ہوئے کہاتھا ۔ تمہارا فیصلہ میں آ کر کروں گا۔
وہ کبھی اپنی عزت اور کبھی اپنی بیٹی سے متعلق سوچ کر رو رہی تھی ۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ ہوا کیا ہے؟نہ ہی اس کی سمجھ میں یہ بات آ رہی تھی کہ اب وہ کیا کرئے۔ وہ عرشیہ کو دیکھنا چاہتی تھی جبکہ ارمان اس سے بات تک کرنے کا روادار نہ تھا۔ سبین نے اپنے والدین کو فون کر کے تمام حالات سے آ گاہ کیا۔ اس کے والد اپنے بھائی کے ساتھ فوراً لاہور پہنچے۔ ارمان کی حالت بہت بُری تھی۔ وہ ایسے گم سم بیٹھا تھا جیسے کاٹو تو لہو نہیں ۔ عرشیہ کی حالت نے اس کے ہوش و حواس چھین لیے تھے۔سبین کے والد نے جب سبین سے تمام واقعات کو سنا تو غصے سے ارمان کو پولیس کے حوالے کرنے کا کہنے لگے۔ سبین نے انہیں روکا ۔
وہ جانتی تھی ارمان دنیا میں اگر خود سے بڑھ کر کسی کو چاہتا ہے تو وہ عرشیہ ہی ہے۔
ارمان کا غصہ کچھ ٹھنڈا ہو چکا تھا ۔عرشیہ کی حالت بہت نازک تھی ۔ ارمان سے جب سبین کے والد صاحب نے بات کی تو اس نے فوراً سے وقاص کا نام لیتے ہوئے کہا۔ پوچھئے اپنی پاکیزہ بیٹی سے جو اپنے کزن سے محبت کا کھیل رچا کر معصوم ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ عرشیہ ٹھیک ہو جائے تو میں اسے طلاق دوں گا۔ سبین کے والدنے حیرت سے کہا، کون وقاص ۔ سبین کی خالہ کا بیٹا۔ سبین دوسرے کمرے میں بیٹھی ساری باتیں سننے کی کوشش کر رہی تھی۔ ارمان نے کہا۔ ہاں وہی بےغیرت جو دوسروں کی بیویوں کو طلاق لینے کے لیے اُکساتا ہے۔ سبین کے والد نے غصے سے کہا۔ کیا بکواس کر رہے ہوتم ۔ وہ تو سبین کا رضائی بھائی ہے۔ بچپن میں ہمارے ساتھ ہی رہا ہے ،اپنی ماں کے مر جانے کے بعد ۔ سبین کا اس کے ساتھ کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ تو بہن بھائی ہیں ۔ تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کیا کوئی فون ریکارڈ یا کوئی ایسی چیز جو سبین کے گناہ کو ثابت کرتی ہو۔ارمان نے غصے سے کہا۔ وہ ثابت کرئے کہ میں غلط کہہ رہا ہوں ۔ مجھے کچھ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
سبین روتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی۔ کیا ثابت کروں؟ کیسے ثابت کروں ۔ شادی کے دن کے بعد سے نہ تو میں نے وقاص کو کبھی دیکھا اور نہ ہی میری اس سے کبھی بات ہوئی۔ اس نے کسی انگریز عورت سے شادی کر لی ہے امریکہ میں تب سے خاندان والوں سے اس کا کوئی رابطہ نہیں ہے۔ وہ میرا بھائی ہے ۔ میری ماں کا دودھ پیا ہے اس نے۔آپ کو کس نے یہ کہا ہے۔ ارمان غصے سے کھڑا ہو گیا۔ وہ چیخ کر بولا تم نے ،تم نے کہا ہے۔ سبین نے روتے ہوئے کہا ۔ کب ؟ کس وقت۔
تمہاری کہانی ، کیا لکھا تھا تم نے ۔۔۔۔۔۔سبین نے چیختے ہوئے کہا۔ کہانی،کون سی کہانی۔ آپ نے میری کون سی کہانی پڑھی ہے۔ کہانی اور اصل زندگی کا کیا تعلق ، آپ ہی نے مجھے کہا تھا کہ میں کہانیاں لکھا کروں ۔ آپ کی اجازت کے بغیر تو میں نے کبھی کچھ بھی نہیں کیا ارمان۔ ارمان نے غصے سے کہا ۔ میں کیسے مان لوں تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ سبین نے چیخ کر کہا نہ مانیں ۔ مجھے کچھ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ۔ آپ کیا مجھے طلاق دین گئے ،میں خود ایسے آدمی کے ساتھ نہیں رہوں گی،جو دماغی طور پر اپائیج ہو ۔ایک کہانی ہی تو تھی۔ ایک کہانی کے لیے آپ نے یہ سب کیا۔ اس طرح تو میں نے ایک آدمی کی کہانی بھی لکھی ہے جس کا کردار آپ جیسا ہی ہے ۔ جو کہانی میں اپنی بیوی کو دھوکا دیتا ہے ۔ وہ پڑھنے کے بعد کیا آپ سمجھتے کہ میں آپ کو دھوکے باز سمجھتی ہوں ۔ کہانیاں تو یوں ہی لکھی جاتی ہیں ۔ اتنے سال میں نے آپ کے ساتھ برباد کر ڈالے۔ میرے اللہ۔ وہ روتے روتے غش کھا کر گَر گئی۔ سبین کے والد نے حیرت سے ارمان کی طرف دیکھا۔ تم کہانی کے کرداروں کو بنیاد بنا کر میری بیٹی کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے چیخ کر کہا۔ سبین جو فیصلہ کرئے گی۔ مجھے منظور ہو گا۔ میری بیٹی میرا غرور ہے۔ مجھے اس پر خود سے ذیادہ یقین ہے۔ اس پر بہتان لگانے سے پہلے اتنا تو سوچتے کل قیامت کے دن رب کو کیا جواب دو گئے۔ ارمان شش پنچ کی کیفیت میں سبین اور اس کے والد کو دیکھ رہا تھا کہ اس کے فون کی گھنٹی بجی ۔مومنہ کا نام سکرین پر نظر آ رہا تھا۔ ارمان نے کال کاٹ دی۔ سبین کے والد اسے پانی دے رہے تھے ۔ وہ دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ اس نے سبین کا موبائل چیک کیا۔ اس میں وقاص نام کے کسی فرد کا نمبر موجود نہیں تھا۔ وہ سر پکڑ کر بستر پر بیٹھ گیا ۔ ہوسپٹل سے اس کے دوست الیان کی کال آئی ۔ وہ باہر جانے لگاتو اس نے مڑ کر دیکھا۔ سبین روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ میں ارمان کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔ ان تمام سالوں میں میں نے ان کے منہ سے اپنی تعریف کبھی نہیں سنی۔میری خواہش تھی کہ وہ مجھ پر فخر کریں کہ میں ان کی بیوی ہوں ۔ انہوں نے تو مجھے میری نظر میں گِرا دیا۔ اتنے سالوں میں وہ مجھے اتنا بھی نہیں جان پائے ۔ وہ اپنے ابو سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ ارمان چوروں کی طرح دروازے پر کھڑا تھا۔ اس نے اپنے آپ سے کہا۔ کیا یہ غلط فہمی تھی۔ اوہ میرے خدا۔سبین کے الفاظ اس کے وجود کو جکڑ رہے تھے۔ اس دن سے پہلے میں مر کیوں نہیں گئی ابو ۔ کاش میں عورت نہ ہوتی ۔ کاش میں ہوتی ہی نہ ۔ کاش۔سبین کے الفاظ اس کے کانوں میں گونج رہے تھے۔ اس کاسر درد سے پھٹ رہا تھا۔ سبین کی تو ایسی کوئی دوست ہی نہیں جیسے عمارہ کی تھی۔وقاص تو دوسرے ملک ہوتا ہے اور سبین کے پاس تو اس کا نمبر ہی نہی ۔ وہ اس کا رضائی بھائی بھی ہے۔ ممکن ہے کہ سبین سچی ہو۔ مجھے سبین سے پوچھنا چاہیے تھا۔ تحقیق کرنے کے بعد کوئی ردعمل ظاہر کرنا چائے تھا ۔ اسے فوراً سے اپنے دوست جاوید کا خیال آیا ۔ جو موبائل سروس سے ہی منسلک تھا۔ سبین کے موبائل کی ساری ڈیٹیل نکلواتا ہوں ۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سب سامنے آ جائے گا۔ اس نے اپنے آپ سے کہا اور ہوسپٹل پہنچ گیا۔ عرشیہ کے سر پر گہری چوٹ کا زمہ دار میں ہوں ، وہ اس کا معصوم چہرا دیکھ رہا تھا۔ ارمان اسے دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔ کچھ گھنٹوں میں جاوید نے سبین کے موبائل کا مکمل ریکارڈ ارمان کو بھیج دیا تھا۔ ارمان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ خوش ہو کہ اس کی بیوی بے گناہ ہے یا اپنے کئے پر روئے۔ سبین ہوسپٹل میں آ چکی تھی۔ ارمان اس کے پاس آ کر کھڑا ہوا تو وہ وہاں سے بہت دور جا کر کھڑی ہو گی۔ ارمان نے ہونٹوں ہر زبان پھیرتے ہوئے اس سے افسردگی سے کہا۔ سبین جو ہوا بس ایک غلط فہمی تھی۔ اسے جانے دو۔ سبین نے غصے سے ارمان کی طرف دیکھا اور کچھ کہے بغیردوسری طرف چلی گئی۔ عرشیہ کو ہوش آ چکا تھا۔
ارمان اور سبین دونوں ہی اس کے پاس کھڑے تھے۔ سبین نے روتے ہوئے کہا۔ اللہ تیرا شکر ہے۔ عرشیہ نے ارمان اور عرشیہ کی طرف دیکھ کر کہا۔ مما ، پاپا آپ کیوں لڑ رہے تھے۔ لڑنا اچھی بات نہیں ہوتی نا۔ سبین نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔ ہاں بیٹا ، اب کوئی لڑائی نہیں ہو گی۔ میں آپ کو لے کر بہت دور چلی جاوں گی۔ارمان چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ بول سکا۔
عرشیہ کو دواوں کے ساتھ ہوسپٹل سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔ سبین نے اپنے والد سے کہہ کر کراچی کے ٹکٹ کروا لیے تھے۔ ارمان افسردگی سے اسے پیکنگ کرتا دیکھ رہا تھا۔ اس نے کبھی کسی سے معافی نہیں مانگی تھی۔ سوری کہنا اسے بہت مشکل معلوم ہو رہا تھا۔ وہ بس خاموشی سے اسے چیزوں کو نکالتا دیکھتا رہا۔اس نے اونچی آواز سے کہا ۔ تم عرشیہ کو ساتھ نہیں لے جا سکتی ۔ٹھیک ہے مجھے غلط فہمی ہوئی تھی۔ تم نے لکھا بھی تو اتنا گھٹیا تھا۔ قصور تمہارا بھی ہے۔ جاو گی تو تمہیں لینے نہیں آوں گا ۔ یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا۔
ارمان نے دل ہی دل میں سوچا عرشیہ کو اس حالت میں چھوڑ کر نہیں جائے گی ۔ وہ گیسٹ روم میں بیٹھا تھا ۔ دوسرے دن اسے اپنے سسر کے گاڑی منگوانے کے لیے کئے جانے والے فون کی آواز آرہی تھی۔ اسے حیرت ہوئی جب سبین بیگ اُٹھا کر گھر سے نکل گئی ۔ارمان باہر آیا تو عرشیہ سبین کے ساتھ نہیں تھی۔ سبین ۔ ۔۔۔ابھی اس نے کچھ نہیں بولا تھاکہ سبین نے غصے سے کہا۔ اپنی زبان سے میرا نام لینے کی ضرورت نہیں ۔ عرشیہ کا فیصلہ اب کورٹ میں ہو گا۔ وہ گھر سے اپنے والد کے پیچھے نکل گئی ۔ ارمان حیرت اور افسوس سے دیکھتا رہ گیا۔

ارمان نے الیان کو بلایا ۔ الیان ہونے والے تمام حالات سے واقف تھا۔اس نے ارمان سے پوچھا؟ کیا تم نے بھابی سے سوری کہا۔ ارمان رونی صورت بنا کر بولا ۔ کیا کرتا اس کے پیر پکڑتا ۔ کہا تو تھا کہ غلط فہمی ہو گئی تھی۔ الیان نے ارمان کو گھورتے ہوئے کہا غلط فہمی ، یار تم جانتے ہے ، ہماری بیویاں ہم سے فقط محبت اور عزت کے علاوہ کچھ نہیں چاہتی۔ میں نے جب ارم کو بتایا تو وہ بولی الیان اگر آپ نے یہ سب کیا ہوتا تو میں بھی سبین کی طرح آپ کو چھوڑ کر چلی جاتی۔ بیوی اس یقین کے ساتھ ہی اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہے کہ وہ اس کا محافظ ہے۔ وہ معاشرے میں اسی کی وجہ سے باعزت ہے ۔ جب شوہر ہی بیوی کو بےعزت کر دے ، بد چلنی کے الزام لگانے لگے تو ایسے آدمی کے ساتھ رہنے سے تو اچھا ہے کہ اکیلا رہا جائے۔ ارم کہہ رہی تھی کہ مرد کو اپنے مرد ہونے کا نا جائز فائدہ نہیں اُٹھانا چاہیے۔ ہر حاکم کو اس حاکم اعلی ٰ کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے ۔ارمان نے افسردگی سے کہا۔ کیا کروں یار ۔ میرا خیال تھا وہ نہیں جائے گی۔ وہ تو عرشیہ کو بھی چھوڑ کر چل پڑھی۔ چار بجے کی فلائیٹ ہے ۔ الیان نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔ ابھی بھی وقت ہے بھابی کو اپنی محبت کا یقین دلا کر عرشیہ کا واسطہ دے کر روک لو۔ یاد رکھو ، ارمان تمہاری بھی بیٹی ہے ۔ اس باپ کا سوچو ، کیا گزر رہی ہو گی ان پر۔ وقت کبھی کسی کے لیے نہیں لوٹتا۔ زندگی ہر کسی کو دوسرا موقع نہیں دیتی ۔ سوچو اگر عرشیہ کو کچھ ہو جاتا۔ سوچو اگر سچ مچ بھابی نے تم سے طلاق لے لی تو؟
ارمان چابی لے کر بھاگتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا۔ وہ گھڑی دیکھ رہا تھا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے دیکھا وہ موبائل تو گھر ہی بھول گیا تھا۔ اس نے دل ہی دل میں کہا۔ گولی مارو موبائل کو۔ تیزی سے گاڑی چلاتا ہوا ائیر پورٹ کی طر ف جانے لگا۔ اس نے تھوک نگلتے ہوئے کہا۔ اللہ نہ کرئے کبھی میری بیٹی کے ساتھ ایسا کچھ ہو۔ اس کا جیون ساتھی اسے اپنی جان سے آگے رکھے، یہ کہتے ہی اس کی انکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ ائیر پورٹ پر پہنچ چکا تھا۔ ابھی فلائٹ میں وقت تھا۔
سبین کو دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی ۔ وہ بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا۔ بے چینی سے مسلسل ڈرائیو نے اس کی حالت خراب کی ہوئی تھی۔ سبین کو دیکھ کر اسے سکون سا محسوس ہوا۔اس نے ہلکی سی آواز میں کہا۔یہ کیا مذاق ہے تم ایسا کیسے کر سکتی ہو؟
سبین نے بیزاری سے ارمان کی طرف دیکھا،پھر سنجیدگی سے بولی ! آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟
اس نے سبین کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔ تو کہاں جاوں ۔اس نے ہاتھ چھڑانے کی ناکام کوشش کی اور افسردگی سے بولی۔ آپ کے سوال کا جواب آپ بہتر جانتے ہیں ۔ارمان نے اس کے چہرے کو سیدھا کرتے ہوئے کہا۔ میری جانب دیکھو نا۔ پلیز ۔تم تو مجھ سے محبت کرتی تھی نا۔ اسی محبت کی خاطر واپس چلو۔سبین کی انکھوں میں آنسو ٹھہر سے گئے۔ اس نے پلک جھپکائے بغیر کہا۔ محبت کرتی تھی اور کرتی ہوں میں بڑا فرق ہے۔ارمان نے اٹکتے ہوئے لہجے میں کہا۔میں اپنی محبت سے سب کچھ ٹھیک کر دوں گا۔ تمہاری محبت بھی زندہ ہو جائے گی۔ ہم ایک نئی شروعات کریں گئے ۔ سبین کے چہرے پر تمسخر خیز ہنسی تھی ۔اس نے افسردگی سے کہا، گٹر میں گِر جانے کے بعد گلاب ، گلاب نہیں رہتا،آب زم زم بھی وہاں اپنا آپ کھو دیتا ہے۔ پھر کوئی اسے پینا نہیں چاہتا۔ آپ کی محبت بھی میرے لیے آب زم زم کی طرح تھی ۔جو اپنا وجود کھو چکی ہے۔ جو مر چکی ہے اور مردے زندہ نہیں ہوتے بلکہ دفن کئے جاتے ہیں ۔ اگرچہ چار دن تو رونا ہے ہی۔ اس کی انکھیں چھلکنے لگی تھیں ۔ جو روکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔سبین کے والد خاموش رہے لیکن ان کی انکھوں میں سے بھی آنسو بہہ گئے۔اپنے سسر کی انکھوں سے آنسو بہتے دیکھ کر ارمان کی انکھیں بھی بھیگ گئیں ۔اس نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔ میں نے تو سنا تھا کہ محبت مر نہیں سکتی۔کیا محبت مر بھی سکتی ہے؟
سبین نے اس کی نظروں میں وثوق سے دیکھا اور پریقین لہجے میں بولی۔ ہاں بلکل محبت مر بھی سکتی ہے۔ ان کی فلائیٹ اُڑان بھرنے کے لیے تیار تھی۔ وہ ارمان کے سامنے سے اجنبیوں کی طرح گزر چکی تھی ۔ جہاز میں بیٹھتے ہوئے اس نے اپنے والد کو اپنی جانب دیکھتے ہوئے دیکھا۔ جن کی انکھیں بول رہی تھیں اور لب خاموش تھے ۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی بیٹی اپنا گھر چھوڑ کر اس طرح سے میکے جائے۔ سبین نے اپنے ابو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ابو جی کیا میں نے غلط کہا۔ اس کے ابو نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ نہیں بیٹا تم نے بلکل ٹھیک کہا۔ محبت مر سکتی ہے واقعی ، مگر کوئی ایسی چیز بھی ہے جو کبھی نہیں مرتی۔ سبین نے اپنی انکھوں کو صاف کرتے ہوئے کہا۔ وہ کیا ہے ابو جی۔ انہوں نے سبین کی طرف دیکھ کر کہا۔ اپنا موبائل کھول کر دیکھ لو۔ سبین نے حیرت سے موبائل کھولا تو سامنے سکرین پر عرشیہ کی تصویر تھی ۔ جواب اسے مل چکا تھا۔ اس نے دبی دبی آواز میں کہا مامتا۔ ماں کی محبت ۔یہ کہہ کر وہ جہاز سے اُتر گئی۔سبین نے پیچھے مڑ کر اپنے ابو جی کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا رہے تھے۔
ختم شد۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 879 Print Article Print
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 154068 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More

Reviews & Comments

FIRST TIME KOI STORY PARHI I LIKE IT.. BHOOT AXHI STORY LIKHI AP NY U R 100 GUD..
By: MALIK, KARACHI on Mar, 09 2019
Reply Reply
0 Like
Language: