پاگل

(Prof Niamat Ali Murtazai, )

وہ اداکاری میں بچپن ہی سے دلچسپی رکھتا تھا۔ سکول کے ڈراموں میں بھی کبھی کبھی حصہ لے لیا کرتا تھا۔ کالج میں تو وہ ڈرامہ کلب کا باقاعدہ ممبر بن گیا تھا۔ اس کی اداکاری میں اس کی فطرتی صلاحیت نکھر کا سامنے آ رہی تھی اور اس کے گھر والوں کو یہ خدشہ بھی تھا کہ وہ اداکاری کے چکر میں بھٹک ہی نہ جائے یا کسی ایسی سوسائٹی کا شکار نہ ہو جائے جو اس کے لئے سود مند نہ ہو۔ اس کے دوستوں کو اس کی اس قدر اعلیٰ کارکاردگی اور اس کے نتیجے میں ملنے والی شاباش اور پزیرائی سے کبھی کبھی حسد بھی ہونے لگتا جس کا اظہار وہ اس پر طرح طرح کے مزاحیہ اور طنزیہ فقرے کس کر کیا کرتے۔ کوئی اسے مستقبل کا سلطان راہی کہتا، کوئی اسے نیا اکمل کہتا، کوئی اسے وحید مرادکا بھائی اور کوئی اسے ندیم کا نام دے دیتا۔ خیر دوستوں کی باتوں کا برا منانا اس کی طبیعت میں نہ تھا اور جب کامیابی مل رہی ہو تو انسان کو غصہ بھی کم آتا ہے اور دوسروں کی تنقید زیادہ بری نہیں لگتی بلکہ انسان اپنے دل ہی دل میں انجوائے کرتا ہے اور مسکراتے ہوئے ان سب باتوں کو سن لیتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکیل اب ٹی وی ڈراموں کا کامیاب ادا کار بن چکا تھا۔ اس کی شہرت ہر طرف پھیل ہی نہیں مستحکم بھی ہو چکی تھی۔ اس کا ڈرامے کی کاسٹ میں ہونا ،ڈرامے کی کامیابی کی ضمانت بن گیا تھا۔ اس کی زندگی ترقی کی شاہراہ پر بہت تیزی سے رواں دواں تھی کہ اس کے ساتھ ایک جذباتی حادثہ پیش آگیا۔
’پاگل لڑکی‘ نامی ڈرامہ سیریئل میں اسے سپرنٹنڈنٹ جیل کا رول ملا ۔ اس ڈرامے کی کہانی میں ایک لڑکی جس کے ساتھ کچھ برا ہو جاتا ہے اور وہ اس برائی کا بدلہ لینے کے لئے ایک نوجوان کو قتل کر دیتی ہے اور خود ہی گرفتاری دے دیتی ہے۔ اس پر مقدمہ چلتا ہے اور اسے عمر قید کی سزا ہوتی ہے۔ لیکن وہ حوالات میں اپنے جذبات کی شدت برداشت نہیں کر پاتی اور پاگل ہو جاتی ہے۔ اب اس پاگل لڑکی کو حوالات سے پاگل خانے منتقل کیا جانا ہوتا ہے۔شکیل اس ڈرامے میں حوالات کا سپرنٹنڈنٹ ہے۔ اس نے اس لڑکی کو حوالات سے پاگل خانے منتقل کرنا ہے۔ اس لڑکی سے اس کو کوئی خاص تعلق نہیں۔ کیوں کہ وہ شادی شدہ ہے ، اور اس کے کردار میں کسی قسم کی خرابی بھی نہیں ہے جو جیل کے پیشے یا موقع محل کے لحاظ سے ہو سکتی ہے یا ہو جاتی ہے۔ اس کی سروس کا ریکارڈ بہت قابلِ ستائش ہے اور اس کے افسران اس سے بہت خوش ہیں اور اسے ستائش کے کئی سرٹیفیکیٹ بھی مل چکے ہیں۔
’ پاگل لڑکی‘ کا کردار نائلہ کر رہی تھی جو کہ بہت خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ بہت امیر بھی تھی لیکن اداکاری سے اسے قدرتی لگاؤ تھا جس بنا پر وہ ڈراموں میں اپنی مرضی کے کردار لیا کرتی اور ان پر بہت محنت کر کے اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیا کرتی۔اس کی شہرت بھی کسی دوسرے ادا کار سے کم نہ تھی۔ وہ ’پاگل لڑکی‘ کا کردار کامیابی سے کر رہی تھی۔
جب شکیل ’پاگل لڑکی ‘ کو حوالات سے نکالنے اس کے کیبن میں داخل ہوا تو نہ جانے کیوں اس کے دل کی دھڑکن میں اصلی میں تیزی آ گئی۔ اس نے نائلہ کو بازو سے کیا پکڑا اس کا اپنا دل کسی جال کی کبھی نہ کھلنے والوں گرہوں میں پسیج گیا۔ اس نے نائلہ کا بازو پکڑا جو کہ پاگلوں جیسی حرکتیں کر رہی تھی کیوں کہ وہ پاگل لڑکی کا کردار کر رہی تھی۔ اس کے بال بکھرے، چہرہ گرد آلود، کپڑے پھٹے پرانے ، حرکات میں غیر منطقیت اور اشاروں میں بے معنویت تھی۔ اس نے اسے بازو سے پکڑ کرگھسیٹا۔ اس نے ’پاگل ‘ لڑکی کی آنکھوں میں دیکھا تو بس اس کا دل اس کے سینے سے اچھل کر ان آنکھوں کی جنت میں قید ہو گیا۔ وہ لڑکی پاگلوں کی طرح کی اداکاری کرتے ہوئے اس کے ساتھ چند قدم چلی ، اور پھر اسے گاڑی میں سوار کر دیا گیا۔ اس طرح ڈرامے کے اندر حقیقت کی دخل اندازی ہو چکی تھی۔ سین کے بعد شکیل اور نائلہ میں کچھ بات چیت ہوئی:
شکیل: آپ کی اداکاری کمال کی تھی۔ میں تو حیران رہ گیا ۔ آپ بالکل صحیح والی پاگل لگ رہی تھی۔
نائلہ: ( مسکراتے ہوئے، شکریہ )میں نے یہ کردار کرنے میں بہت محنت کی ہے۔ میں کئی بار اصل جیل بھی وزٹ کر چکی ہوں۔ اور اس اصل جیل کو اپنے تصور میں رکھتے ہوئے میں نے کئی راتیں اس میں گزارنے کی شعوری کو شش کی ہے۔ میں پاگل خانے بھی جاتی رہی ہوں اور میں نے پاگلوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ وہ کیسی حرکتیں کرتے ہیں۔
شکیل: (تعریف کرنے کی شائستگی کے ساتھ) آپ سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے۔
نائلہ : (شکیل کی طرف دیکھتے ہوئے) بہت شکریہ، ویسے تو ہر انسان دوسرے انسان سے کچھ نہ کچھ سیکھتا ہی رہتا ہے۔ ادا کاری تو ہوتی دوسروں کی نقالی ہے لیکن اتنی آسان نہیں ہے۔
اس طرح کی گفتگو میں یہ ملاقات ختم ہوئی لیکن شکیل کی زندگی میں ایک اور ڈرامہ سیریئل شروع ہو چکی تھی۔
اس کے بعد شکیل کی آنکھوں سے وہ لڑکی تو کبھی نہ نکل سکی لیکن اس کے ذہن سے پہچان نکل گئی۔ وہ اس کی محبت کا اسیر ہو گیا۔ اس نے نائلہ سے ڈرامے کے سیاق و سباق سے ہٹ کر بھی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی اس کوشش میں اسے جزوی کامیابی ملی ۔ نائلہ سے اس نے کچھ قدم آگے بڑھ کر بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے اسے صاف صاف بتا دیا کہ اس کا کسی سے محبت وغیرہ کا کوئی ارادہ نہیں اس کی منگنی اپنے کزن سے ہو چکی ہے اور کچھ مہینوں بعد ان کی شادی بھی طے ہو چکی ہے۔ اس کا منگیتر ، عمار ، لندن میں مقیم ہے اور ایک ہوٹل کے مالک کا بیٹا ہے۔ شکیل کسی طرح سے بھی نائلہ کا ہم پلہ نہ تھا لیکن عشق میں اتنی سمجھ ہو تو وہ ہو ہی کیوں۔ شکیل اپنی زندگی کے نقلی ڈرامے سے اصلی ڈرامے کا اداکار بن چکا تھا۔ وہ نائلہ کے عشق میں سب کچھ گنوا بیٹھا تھا اور اب اس کی زندگی خود ایک المیہ ڈرامے کا سین بن چکی تھی۔
شکیل کے شب وروز تنہائی کی چار دیواری میں بسر ہونے لگے تھے۔ اس نے نائلہ کا موبائل نمبر لیا ہو اتھا اور کبھی کبھی اس سے بات بھی کر لیا کرتا تھا۔ اس کو کبھی کبھی کوئی اچھا سا میسج بھی فارورڈ کر دیا کرتا اور وہ بھی اس کو رسپانس کر دیا کرتی۔ وہ جانتی تھی کہ جذباتی صدمہ انسان کو پاگل بنا سکتا ہے۔ لیکن وہ کسی کے لئے اپنی زندگی کی خوشی تو قربان نہیں کر سکتی تھی۔ لیکن شکیل اپنے جذبات کے حوالات میں خود ہی قید ہو چکا تھا۔ پاگل لڑکی کا ڈرامہ اسے جذباتی پاگل پن کا شکار بنا گیا تھا۔ اب اس کے پاس اس کیفیت سے باہر نکلنے کا کوئی رستہ نہ تھا۔ وہ کوئی نشہ نہیں کرنا چاہتا تھا، اور نہ ہی کسی کی زندگی میں کوئی خرابی لانا چاہتا تھا۔ ڈرامے کرتے کرتے اسے بہت سی باتیں سمجھ بھی آ چکی تھیں۔ ایک زمانہ تھا کہ وہ خود بھی عشق و محبت کرنے والوں کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔ کبھی کسی عاشق کا رول پلے کر کے وہ اس رول پر خوب ہنسا بھی کرتا تھا اور عملی زندگی میں ایسا کرنے والوں کو پرلے درجے کا بیوقوف بھی سمجھا کرتا۔ ایک دفعہ اس نے ہیروئن پینے والے ایک نشئی کا کاردار ادا کیا جس کے بعد اسے ایسے نشیئیوں سے سخت نفرت پیدا ہو گئی تھی اور اس نے کچھ دنوں کے لئے تو سیگرٹ بھی پینا چھوڑ دی تھی۔ لیکن جب سے نائلہ اس کی دھڑکنوں میں سما ئی تھی اسے وہ سب بے وقوف کردار بڑے معتبر دیکھائی دے رہے تھے ۔ اس کا اپنا دل کر رہا تھا کہ وہ نشہ کرنے لگے۔ زندگی کو سیگرٹ کے دھویں میں اڑا دینے میں جو مزا ہے وہ ڈراموں میں ادا کاری کرنے میں کہاں۔ جو کسی کے غم میں گھل گھل کے مرنے کا لطف ہے وہ دوسروں کا مذاق اڑانے میں ہرگز نہیں۔
حقیقی عشق کا لطف ڈراموں میں عشق کی اداکاری سے کبھی محسوس نہیں کیا جا سکتا۔ اب وہ ادا کاری اور حقیقت کے مابین واقع دیوارِ چین عبور کر چکا تھا اور اصل اور نقل کے مابین فرق بھانپ چکا تھا، جیسے نشہ کرنے والے نشے میں ملاوٹ پہچان لیتے ہیں۔
اس کی زندگی ترقی کی شاہراہ پر تیز رفتار گاڑی کی طرح حادثے کا شکار ہو چکی تھی۔ اب وہ ڈراموں سے دور ہٹ رہا تھا۔ اس کے پروڈیوسر اس کی پریشانی سمجھنے میں ناکام ہو چکے تھے ادا کار جلدی سے اپنی اصلیت ظاہر نہیں کیا کرتے ۔ ادا کاری ان کے رویوں میں بھی اتر آ تی ہے اور وہ ایک عام انسان کے برعکس زیادہ تہ دار شخصیت بن جاتے ہیں۔
اسے ایک دن نائلہ کی شادی کا کارڈ ملا جسے دیکھ کر اس کے حواس اس کے قابو سے باہر ہو گئے۔ اس نے اس کارڈ کو آگ لگانے دینے کا سوچا ، پھر اس نے کارڈ کو ریزہ ریزہ کر دینا چاہا۔ اس نے کارڈ پر بہت خوبصورت انداز میں لکھا نائلہ کا نام پڑھا۔ اس کے جذبات قابو سے باہر ہو چکے تھے۔ اس نے شدت ِ جذبات میں اپنے دونوں ہاتھ اپنی کنپٹیوں پر اس زور سے مارا کہ اس کا سر چکرا گیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات ہونے لگی۔ وہ کچھ دیر پاگلوں کی طرح فرش پر یوں بیٹھا رہا جیسے کمرے میں بیٹھنے کی کوئی چیز نہ ہو۔ اس نے اپنا سر پاس ہی پڑی کرسی کے ساتھ ٹکرایا اور پھر کچھ دیر کے لئے رک گیا اور سوچتا رہا کہ کہیں وہ پاگل نہ ہو جائے۔ وہ چاہتا تھا کہ پاگل ہو جائے تا کہ اس کے ذہن سے یہ صدمہ نکل جائے کہ وہ اپنی محبت سے محروم زندگی گزار رہا ہے، لیکن پاگل ہونے کے لئے وہ کیا کر سکتا تھا!
چند دن اسی سوچ میں گزر گئے کہ اس صدمے کو کیسے برداشت کیا جائے۔ قسمت اور حالات سے لڑنا اکثر آسان نہیں ہوتا اور محبت تو نام ہی رونے دھونے اور پریشان ہونے کا ہے۔ وہ کیا کرے کیا نہ کرے۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ وہ کہاں جائے۔ کہاں رہے جہاں نائلہ کا خوبصورت چہرہ اس کی آنکھوں کا تعاقب نہ کرے۔ وہ اپنی تمام ادا کاری کے باوجود اس حقیقت کے آگے ہار چکا تھا۔
ادھر نائلہ کو بھی شکیل کی ’ہا‘ لگ چکی تھی۔ شادی میں چند ہی دن رہ گئے تھے کہ اسے اپنے منگیتر کا فون آیا جس نے نائلہ کی امیدوں سے بھرے گلستان پر بجلی گرا دی۔ فون یہ تھا : نائلہ میں ایک برطانوی لڑکی سے شادی کر چکا ہوں، جو چند ہفتوں سے میری گرل فرینڈ تھی، اس لئے اس لئے اب میں آپ سے شادی نہیں کرناچاہتا۔ ہاں نائلہ، اگرآپ اب بھی مجھ سے شادی کی آرزو مند ہو تو میں اس پر غور کر سکتا ہوں۔‘ اس فون کو سنتے ہی نائلہ کی دنیا میں بھونچال سا آ گیا، اس کی آس و امید کی کئی منزلہ عمارت زمیں بوس ہو چکی تھی۔
لیکن اس نے اپنے آپ کو کسی حد تک سنبھالا اور اپنے کمرے کو اندر سے بند کر لیا۔اسے لگا کہ جیسے وہ پاگل ہو جائے گی۔ اسے وہ ’پاگل‘ لڑکی جس کا اس نے کردار کیا تھا اپنے اندر محسوس ہونے لگ پڑی لیکن اس نے آنکھیں کھول کر اپنے آس پاس دیکھا اور اپنے دل کو تسلی دی کہ نہیں وہ ٹھیک ہے اور ابھی پاگل نہیں ہوئی بعد میں کبھی ہو جائے تو پتہ نہیں۔
منگنی ، شادی اور پھر یکدم کی اس تبدیلی سے شکیل بالکل بے خبر تھا ۔ وہ کارڈ سے ہر روز نائلہ کی شادی کی تاریخ پڑتا اس پے اپنے بے اختیار آنسو گراتا ، اور پھر رکھ دیتا۔ اس کی صحت میں بڑی تیزی سے گراوٹ کا شکار ہو رہی تھی۔ وہ اس شادی سے پہلے پہلے مر جانا چاہتا تھا۔ لیکن موت تھی کہ آ نہیں رہی تھی۔ غم اتنا شدید تھا کہ سانس بھی بوجھل محسوس ہوتا تھا لیکن موت کا سکون اس سے کوسوں دور تھا۔ شاید اس نے بہت دیر بعد مرنا تھا لیکن اندر سے تو وہ کچھ لمحوں میں ہی مرگیا تھا۔ اس نے دعا کی قبولیت کی لمحات بھی آزمانے کی کوشش کی تھی لیکن عاشق ہوتے ہی نامراد ہیں ۔ موت بھی ان سے ’کنی کتراتی‘ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادھر نائلہ اپنے ساتھ پیش آنے والے حادثے کے اثرات سے باہر نکلنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔عمار سے اسے بچپن سے محبت تھی۔ دونوں نے ایک ہی سکول سے میٹرک کیا تھا اس کے بعد وہ اپنے والد کے ساتھ رہنے لندن چلا گیا جو وہاں ایک ہوٹل کا مالک تھا۔ اس وقت سے لے کر اب تک ان کے درمیان کوئی تیسرا شخص نہیں آ سکا تھا ، اور شادی کی تاریخ پکی ہونے تک بھی اسے عمار سے متعلق کوئی ایسی اطلاع نہیں ملی تھی کہ اس کی کوئی برطانوی دوشیزہ فرینڈ بن چکی ہے۔ شاید تقدیر کو کسی کی بھی محبت اچھی نہیں لگتی۔ وہ ہر کسی کی محبت اجاڑنے کے چکر میں ہی کیوں رہتی ہے۔ یا شاید شکیل کی کوئی بد دعا کام کر گئی ہے اور نائلہ کو شکیل کی محبت رد کرنے کی سزا ملی ہے۔ آخر کچھ تو ہے جس کا اثر پڑا ہے۔ بربادی بے سبب نہیں ہوتی۔
شادی کی تاریخ سے ایک دن پہلے شکیل نے نائلہ کو میسج داغ دیا کہ وہ اس کی شادی میں نہیں آسکتا کیوں کہ اس کی والدہ کی صحت خراب ہے اور وہ ہسپتال میں ایڈمٹ ہے۔ اس میسج کا نائلہ کی طرف سے صرف یہ جواب آیا : ’او کے‘ ۔ شکیل کو اس سے زیادہ کی توقع بھی نہیں تھی کیوں کہ یہ دعوت ڈرامے میں اکٹھا کام کرنے کی وجہ سے ہی آئی تھی اس کے پیچھے کسی قسم کا جذباتی تعلق ہرگز نہ تھا ۔
نائلہ اپنے اندر عجیب سی کیفیت محسوس کرنے لگی تھی۔ کبھی کبھی وہ گاڑی اس قدر بے احتیاطی سے چلاتی کہ اس کی اپنی جان خطرے میں پڑ جاتی لیکن وہ پھر اپنے آپ کو اور اپنی گاڑی کو سنبھال لتی ۔ کبھی کبھی وہ جان بوجھ کے اشارہ توڑ دیتی ۔ لیکن اس کے دل کی تسکین نہیں ہو رہی تھی۔ وہ کبھی کبھی شکیل سے رابطہ کرنے کا بھی سوچتی لیکن کچھ بھی نہ کر پاتی۔
جب انسان کے خواب ٹوٹتے ہیں تو انسان روتا ہی نہیں بکھر بھی جاتا ہے ، اس کے ذہن کا نیٹ ورک بھی ٹوٹتا اور روح بے جان ہو جاتی ہے۔ اس کی حالت پاگلوں سے بھی ابتر ہو جاتی ہے۔ نائلہ نے عمار سے شادی کے خوابوں کا ایک حسین محل بنایا ہوا تھا۔ اس محل میں لندن کا پورا شہر سما جاتا تھا اور یہ محل ونڈسر کے محل سے بھی کئی گنا بڑا تھا۔ اس نے سوچا ہوا تھا کہ لندن جا کر وہ وہاں کے ڈراموں میں بھی کام کیا کرے گی۔ اسے انگریزی زبان پر مکمل مہارت بھی حاصل تھی۔ وہ بی بی سی لندن کے ڈرامے بڑے شوق سے دیکھا کرتی اور ان کو اپنے لئے آسان ٹاسک کہا کرتی لیکن اب تو وہ خود ہی ڈرامہ بن چکی تھی۔
دل تو ٹوٹ چکا تھا، اب وہ خود کو توڑنا چاہتی تھی لیکن شکیل کی طرح اسے کوئی ایسا پتھر نہیں مل رہا تھا جس پر سر پھوڑکر وہ اپنی جان ہواؤں کے حوالے کر دے۔ اس کی خوبصورتی اب ایک مرجھایا کنول محسوس ہو رہی تھی۔ اسے اس دنیا کو خیر باد کہنے کے موقع کی تلاش تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دن وہ اپنے خیالوں میں کہیں دور نکل گئی اور اس کی گاڑی کا توازن بگڑنے لگا۔ اچانک اس کی گاڑی کسی سے ٹکرا گئی۔ اس نے بریک لگائی اور گاڑی سے فوراً باہر نکل کر دیکھا تو ایک شخص اس کے گاڑی سے ٹکر ا جانے کے بعد سڑک کے کنارے بے ہوش پڑا تھا۔ اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔لوگوں نے اٹھایا تو نائلہ کے اپنے ہوش بھی اڑ گئے کہ یہ تو وہی شکیل تھا جو اپنی بدحواسی میں کار سے ٹکرا گیا تھا۔ کچھ لوگ اسے اس حادثے کا ذمہ دار ٹھہرا رہے تھے اور کچھ اس کی ذمہ داری نائلہ پر ڈال رہے تھے۔ نائلہ نے اس حادثے کی ذمہ داری قبول کرلی اور جلد ہی زخمی کو نائلہ کی گاڑی میں ڈال کر ہسپتا ل پہنچایا گیا ۔ نائلہ کو اپنی غلطی کا احساس ہونے کے ساتھ ساتھ زخمی شکیل سے ہمدردی بھی ہوگئی۔ اور یہ ہمدردی اس سے پوچھے بغیر ہی اس کی محبت میں ڈھل گئی ۔ وہ اپنے آپ کو بد قسمت سمجھ رہی تھی کہ پہلی محبت میں ناکامی کے بعد دوسری محبت بذاتِ خود ہی مایوسی کے اندھیروں میں گم ہوتی جا رہی تھی۔
ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ مہارت اور خدا کی خاص مہربانی سے شکیل کی جان بچ گئی۔ اس کی جان تو بچ گئی لیکن پہچان نہ بچ سکی۔ وہ اپنی یادداشت کھو جانے کے ساتھ ساتھ پاگل بھی ہو چکا تھا ۔ اس کا دماغ اس بری طرح متاثر ہوا تھا کہ اس کی یادداشت کے واپس لانے میں ڈاکٹر اپنی بے بسی کا واضح اظہار کر رہے تھے۔ نائلہ نے ان سے پوچھا کہ کیا شکیل کسی بھی مہنگے ترین علاج سے واپس آ سکتا ہے جس پر ڈاکٹروں نے جواب دیا وہ اس وقت کے معلوم شدہ کسی بھی علاج سے واپس نہیں لایا جا سکتا۔ اس کی یادداشت کی واپسی کی کوئی صورت باقی نہ رہ گئی تھی سوائے خدائی حکمت کے۔
شکیل اب جسمانی طور پر تو ٹھیک ہو چکا تھا لیکن اسے سوائے پاگل خانے کسی اور جگہ رکھا نہیں جا سکتا تھا۔ اسے پاگل خانے کے ایک سلاخوں والے کیبن میں ڈال دیا گیا جس کی شکل بڑی حد تک اس کیبن سے ملتی جلتی تھی جس میں اس نے کبھی سپرنٹنڈنٹ کا رول کیا تھا۔ نائلہ کبھی کبھی اسے دیکھنے آیا کرتی۔ شکیل اس پاگل خانے میں بار بار اپنی جگہ سے اٹھ کر سلاخوں کے پاس جاتا، وہاں وہ یوں پوز بناتا جیسے وہ کسی چیز کو پکڑتا ہو جیسے اس نے کبھی نائلہ کا بازو پکڑا تھا ، پھر اس چیز کو گھسیٹنے کا انداز اپناتا ، اور دروازے کے طرف دھکیل دیتا جیسے اس نے ’ پاگل لڑکی‘ نائلہ کو دھکیلا تھا۔ اس کی ان حرکات کو کوئی بھی سمجھ نہیں سکتا تھا سوائے نائلہ کے جو اسے آنسو بھری نگاہوں سے دور سے دیکھ کر واپس چلی جایا کرتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 396 Print Article Print
About the Author: Niamat Ali

Read More Articles by Niamat Ali: 158 Articles with 140824 views »
LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More

Reviews & Comments

Language: