تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے

(Iftikhar Chaudhry, )

تحریک انصاف میں لڑائی منتحب اور غیر منتحب کی نہیں ہے بلکہ نظریاتی اور ڈھنگ ٹپاؤ گروہوں کے درمیان ہے بلکہ اس سے زیادہ آج کل ایک لفظ چل رہا ہے ایک مائینڈ سیٹ کی ہے۔بات نئے پرانے کی بھی نہیں جس نے پارٹی کی سوچ سے انحراف کیا عمران خان نے اسے بخشا نہیں تازہ مثال فیاض چوہان کی ہے۔ لڑائی دو مختلف سوچوں کے درمیان ہیں جو ہر دور میں مصاحب شاہ رہے اور ان لوگوں کے درمیان جو جہد مسلسل کے مسافر رہے۔ ایک وہ جو کارکنوں سے بیزار ہیں اور دوسرے وہ جو کارکنوں کے دلوں کی دھڑکن ۔فواد چودھری سلسلہ رعونتیہ کا شاہ ہیں اور نعیم الحق کارکنوں کے دلوں کی دھڑکن۔فواد چودھری ایم ڈی پی ٹی وی کو ہٹا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ میں ،میں ہوں ۔ان کا طرز عمل نہ صرف پارٹی کے مخالفین کو اچھا نہیں لگتا اندر کے لوگ بھی اسے پسند نہیں کرتے۔احترام آدمیت کا بنیاد عنصر جو کسی سیاست دان میں لازمی ہوتا ہے وہ ان صاحب میں سرے سے نہیں۔اپنے ساتھیوں کے ساتھ رعونت بے رخی ان کے خمیر میں شامل ہے۔تحریک انصاف کو اندر اور باہر سے جو تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے ان میں فواد چودھری کا بڑا ہاتھ ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے حال ہی میں مختلف شعبہ جات پر جو تعیناتیاں کی ہیں اگر ان لوگوں کے پروفائل دیکھے جائیں تو انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔پی ٹی وی کے حالیہ ایم ڈی ارشد خان ہی کی مثال لے لیں موصوف کے پاس بڑی کارپوریشنز کو چلانے کا وسیع تجربہ ہے۔پاکستان کے موبائل نیٹ ورک کی ایسی کمپنی کے ایم ڈی رہ چکے ہیں جو سب سے بڑی کمپنی گردانی جاتی ہے۔اسی طرح کی کئی کامیا بیاں ان کے پروفائل میں موجود ہیں۔وہ اسی ادارے کے دو بار ایم ڈی رہ چکے ہیں پہلی بار ۲۰۰۴ اور دوسری بار ۲۰۰۶ میں وہ یہ ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں اور اتفاق کی بات دیکھئے کہ دونوں بار ادارہ اگر منافع بخش نہیں تھا تو خسارے میں بھی نہیں گیا مگر اس وقت حالت یہ ہے کیہ پی ٹی وی حکومت ست اربوں روپے کے بیل آؤٹ پیکج کا مطالبہ کر رہا ہے۔ارشد خان ۱۹۹۹ سے ۲۰۰۴ تک یو فون کے سی ای او اور صدر بھی رہے ہیں اس ادارے کی کامیابی کے وہ بہترین سال قرار دئے جا سکتے ہیں جب اسے ایک اور بڑے ادارے سے مسابقت کا سامنا تھا جو پاکستان میں اس میدان میں کامیاب تھا اور نمبر ون بھی تھا۔علاوہ از ایں وہ پاکستان پوسٹ کے میں بھی ۲۰۰۶ اور ۲۰۰۸ کے عرصے میں بطور ایم ڈی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ارشد خان کے پاس تقریبا ۳۰ سال کا شاندار تجربہ اس دوران انہوں نے حکومتی،پرائیوٹ سیٹر میں ملازمتیں کی ہیں۔ان کے کئرئر میں بہت سے اداروں کا اجراء اور ڈوبتے ہوئے خسارے میں جاتی کمپنیوں کو کھڑا کرنا ہے۔ارشد خان عمران خان کی چوائیس ہیں ۔مجھے اس بات کا انتہائی دکھ ہے کہ بڑی سوچ بچار کے بعد انہیں ادارے میں لایا گیا پہلے بورڈ کے ممبر بنائے گئے بعد میں وہ ایم ڈی بنے۔پی ٹی وی کی ماضی کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ ادارہ حکومتی ترجمان بنا رہا ۔پیپلز پارٹی نے تو پھر بھی ایک روائت رکھی کہ اس میں اپوزیشن کو موقع ملتا رہا لیکن ماضی میں تو یہ نون لیگ کا گڑھ بن گیا خاص طور پر مسلم لیگ کے دیرینہ کارکن اور میاں صاحب کے کشمیری بھراء عطاء الحق قاسمی نے اسے نقیب نون بنا کر رکھا دونوں حکومتوں کے دور میں اس ادارے میں اندھہ دھند سیاسی بھرتیاں ہوئیں جیالے اور متوالے اس حد تک بھرتی کئے گئے کہ انہوں نے تبدیلی کو محسوس ہی نہیں کیا اور وزیر اعظم کے چین کے دوران سنگین غلطیاں کیں۔ارشد خان کو ادارے میں اس قسم کے افراد کا سامنا ہے۔

رہی بات مسٹرچودھری کی وہ در اصل نعیم الحق کی کنڈ لگانے میں مگن ہیں ۔بہت سے لوگ تو کہیں گے کہ اس مسئلے کو پارٹی کے ایک ذمہ دار کو اخبار کے کالموں میں لانے کی کیا ضرورت ہے۔تو میرا خدا گواہ ہے کہ میں کسی کے کہنے پر نہیں لکھ رہا لیکن میں نے محسوس کیا ہے کہ ایک شریف النفس شخص کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔اور یہ زیادتی وہ شخص کر رہا ہے جس نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہوا ہے۔نعیم الحق اس گل و گلزار کا اولیں مالی ہے جس میں عمران خان کے علاوہ احسن رشید،مواحد حسین،حفیظ خان شامل ہیں حفیظ خان پنجاب یونیورسٹی کے صدر رہے ہیں ان سے بھی تعلق رہا احسن رشید کے ساتھ پندرہ سال گزارے،مواحد حسین غالبا مشاہد حسین کے بھائی ہیں اور عمران خان کو دنیا جانتی ہے۔ہمیں کم از کم اس فرد کا تو خیال رکھنا چاہئے جو اس گلشن کا مالی ہو اور جس نے عمران خان کے ساتھ اپنی زندگی وقف کر دی ہو۔

جہلمی چودھری کے بارے میں تین سال پہلے ایک کالم لکھا تھا موصوف اس وقت مختلف چینیلز پر پروگرام کیا کرتے تھے ایک بار پی ٹی آئی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ پر وار کیا اور کہا وہاں تو کوئی کام نہیں ہو رہا اس وقت نعیم الحق سیکرٹری اطلاعات تھے۔میں نے اسی وقت کالم میں لکھا کہ اب یہ آیا ہی چاہتے ہیں۔خانوادہ ء لدھڑ میں میرے دوست شہباز حسین ہیں کبھی ان سے ملئے آپ کو رکھ رکھاؤ پیار محبت اور دوستوں سے تعلق کی بہار نظر آئے گی میں ان کا ایک توصیفی کالم لکھا جس میں صاف کہا یہ شخص مختلف ہے۔ہمیں اپنے گندے کپڑے گھر کے اندر ہی دھونے چاہئیں اور میری پوری کوشش رہی ہے کہ پارٹی کے اندر حتی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے اندر بھی جو ایک دوسرے سے اختلاف ہو اسے کوئی بڑا حل کر دے۔بد قسمتی یہ ہے کہ بعض روئیے ایسے ہوتے ہیں کہ جو اختلاف کو دشمنی کی حد تک لے جاتے ہیں بلا شک پانامہ کیس میں اس غیرت ناہیدنے ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے چونکہ وکیل بھی رہے ہیں ان کی خدمات اس حوالے سے یاد گار ہیں لیکن حد ذات میں زندہ رہنا اور اپنے آپ کو ہی بڑا سمجھنا یہ سوچ انسان کو اپنے پاؤں میں گرا دیتی ہے۔میں نے دل سے تہیہ کیا تھا کہ عمران خان کے ایک وفا دار ساتھی کی حیثیت سے انہیں پارٹی کے اندر باہر کے حالات بتاتا رہوں گا۔اور بتائے بھی ہیں۔چپ رہنے کو ترجیح دی کہ اندر کا معاملہ ہے انہیں بڑوں کا معاملہ بھی نہیں قرار دیتا اس لئے کہ میں اس زہر ہلاہل سے خود بڑا ہوں اور نعیم الحق کی عمر کے قریب قریب۔ایک طرف سے پاکستان کے وزیر اعظم کو بھارت کی جانب سے خطرات کا سمان اہے پوری قوم اس طرف لگی ہوئی ہے اور لاڈلے کو ارشد خان کا استعفی چاہئے۔میں حیران ہوں کہ وزیر اعظم نے بلا کر خاموش کیوں نہیں کیا ۔نعیم الحق بھی کھل کر میدان میں ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ارشد خان جن کے بارے میں اوپر لکھ چکا ہوں اب وہ نشانے پر ہیں وہ گرتے ہیں تو ماحول یہ بن گیا ہے کہ نعیم الحق گرے اور برقرار رہتے ہیں تو موصوف اپنی شکست سمجھتے ہیں۔ان کا دفاع کرنا میرے جیسے فرد کے لئے اس وقت بھی مشکل تھا جب وہ عاطف میاں قادیانی کی حمائت میں سامنے آئے۔در اصل میرا پہلا اختلاف تو سلمان تاثیر کے قتل کے وقت ہوا جب ان کی فیس بک پر پیپلز پارٹی اور اور ان کے حواری قتل پر پاکستانی معاشرے کی بربادی کر رہے تھے میرا اس وقت بھی اور اب بھی یہ مو ء قف ہے کہ ممتاز قادری نے ٹھیک کیا تھا جب آئین اور قوانین ناموس رسالتﷺ کا دفاع کرتے ہیں تو کون بد بخت ہو گا جو ان کو کالا قانون قرار دے۔اس قسم کے سر پھرے کی وجہ سے شان مصطفی قائم ہے ورنہ فواد چودھریوں جیسوں کے ہتھے چڑھتی تو وہ اس ملک کی قسمت کو یورپ والوں سے ملا دیتے۔ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت جو کچھ ہوا اور جو کچھ ان کا کردار رہا وہ بھی سیاہ تاریخ کا حصہ ہے ایک بڑے صحافی نے مجھے جب اسلام آباد کے ایک بڑے سینٹر کے فلیٹوں کی داستانیں سنائیں تو اکبر زمین میں گڑھ گیا۔

طعنہ یہ دیا جاتا ہے کہ نعیم الحق حلقے کی سیاست میں کونسلر منتحب نہیں ہو سکتا جی جناب اگر پی ٹی آئی صداقت عباسی کو سابق وزیر اعظم سے پٹوا سکتی ہے تو کیا نعیم الحق کو اسلام آباد کی سیٹ سے نہیں جتوا سکتی تھی۔پنڈی سے وہ ایم این اے اور ایم پی اے بھی اسمبلی میں پہنچے جو ان سیٹوں کا خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے تھے۔اگر عمران خان عامر کیانی کو ااسمبلی میں لا سکتے ہیں تو نعیم الحق کیوں نہیں دونوں نے کبھی حلقے کی سیاست نہیں کی دونوں پارٹی کے لئے بائیس سال تگ و دو کرتے رہے ایک کو کہا اسمبلی کا الیکشن لڑو دوسرے کو کہا پورے پاکستان کے الیکشن کی دیکھ بھال کرو۔
مرزا غالب کے شعر کے جواب میں یہ کہہ سکتا ہے تو ہی بتا یہ انداز گفتگو کیا ہے

اور تو اور بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اﷲ فراز نامی چھوٹے چودھری نے بھی ٹویٹ میں نعیم الحق کی پگڑی اچھالی۔سچ پوچھیں ہم نے بھی کہیں کی اینٹ اور کہیں کا روڑہ لے کر ان لوگوں کو اسمبلی بھیجا جن کو اسلام دو قومی نظریہ پارٹی کی بنیادی سوچ کی الف بے کا نہیں پتا۔عاصمہ قدیر کی پٹڑی سے اتری ہوئی باتیں،راجہ پورس اور رنجیت سنگھ کو ہیرو ماننے والے چودھری صاحب کبھی کبھی سوچتا ہوں ہم کس طرف سے کس جانب نکل گئے عمران خان نے آصف خان کو پارٹی سے نکال دیا تھا جب اس نے کہا کہ تحریک پاکستان میں پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الاﷲ کا نعرہ نہیں لگا تھا تو اب پی ٹی آئی یہ کیوں لگا رہی ہے سیف اﷲ نیازی اکبر ایس بابر سردار اظہر طارق کرنل یونس رضا اسد قیصر شاہ فرمان کرنل جاوید اعجاز چودھری سب گواہ ہیں کہ عمران خان نے کہا تھا جو اس سوچ سے باغی ہے بہتر ہے وہ پارٹی چھوڑ جائے اور آصف خان پارٹی چھوڑ گئے۔

پارٹی کو مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنائے جانے میں ہمارے اس نوجوان وزیر کا کردار اہم رہا ہے۔آسیہ ملعونہ کے معاملے اور عاطف میاں کے بارے میں مذہبی حلقوں کو شدت پسند کہنے پر جو لتر ہمیں پڑے معلوم ہیں۔پاکستان کوئی سوئیٹزر لینڈ نہیں۔

پارٹی ڈسپلن بھی کوئی چیز ہے جو معاملہ ایم ڈی پی ٹی وی کا ہے اس میں سر عام اسٹیشن جا کر پی ٹی وی ملازمین کے کندھوں پر بیٹھ کر مزدور رہنما کی تقریر کر کے تالیاں تو سمیٹی جا سکتی ہیں لیکن بحیثیت مجموعی یہ مناسب طرز عمل نہیں قرار دیا جا سکتا۔ بیس بائیس لاکھ تو آج کارپوریٹ سیکٹر میں معاوضہ کوئی چیز نہیں ۔آپ کی اطلاع کے لئے عرض کر دوں احسن رشید اس وقت چالیس لاکھ لیتے تھے جب روپیہ تگڑا تھا۔باقی چھوٹے میاں کو بتا دوں اگر آپ کے گھر میں چودھری شہباز حسین اور فوق نہ ہو تو لدھڑ ہاؤس میں کوے ہی کائیں کائیں کریں۔سیٹ آپ نے عمران خیان کے نام پر جیتی جلسہ آپ کا ناکام ترین صوبائی سیٹ جیت کر آپ نے جان بوجھ کر ہروائی اس سچ کا پتہ چلانا ہے تو دینہ جہلم کے کسی ایک کارکن سے پوچھ لیں ۔یہ پی ٹی آئی ہے یہاں لوگ اگر عمران خان کو کوئی غلط کام کرے تو وہ کارکن ان کا محاسبہ کرتے ہیں۔ ہر ایک بات پے کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے تمہی بتا دو یہ انداز گفتگو کیا ہے ۔ پیار محبت دوستوں کو ساتھ لے کے چلنا اپنی گردن میں سریا رکھے بغیر مسافرت پے نکلنے والے ہی دلوں میں رہتے ہیں ۔اور وہ جو حد ذات سے باہر سوچتے ہی نہ ہوں اور اپنے آپ کو عقل کل سمجھیں ان کے ساتھ وہی ہوتا ہے جو پنڈی بوائے کے ساتھ ہوا ہے۔ان لوگوں کا احترام واجب ہے جو پی ٹی آئی میں اس وقت آئے جب ٹانگے کی سواریاں ہی کل سرمایہ ء تحریک انصاف تھیں۔ ہر ایک بات پے کہتے ہو تم تو کیا ہے تمہی بتا دو یہ انداز گفتگو کیا ہے-

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 300 Print Article Print
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 381 Articles with 122390 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More

Reviews & Comments

Language: