بابا کی بینا

(Syeda Khair-ul-Bariyah, Lahore)

ایک دفعہ کا ذکر ہے کسی دور گاؤں میں ایک پیاری ننھی گڑیا چھوٹی سی کٹیا میں اپنے اماں ابا کے ساتھ رہا کرتی تھی. نام تھا اس کا بینا. بینا اماں ابا کی جان تھی اور اس کی میٹھی آواز, معصوم باتیں اور شرارتیں گھر میں رونق لگاۓ رکھتی تھیں. ابا اپنی بینا کی ساری خواہشات کو پورا کرنے کے لیے جنگل جا کر لکڑیاں کاٹتے اور شہر میں بیچا کرتے تھے. ابا جب گھر پہ نہ ہوتے تو بینا اداس ہو جاتی اور ابا کے آنے کا انتظار کیا کرتی تھی. گاؤں میں آبادی بھی بہت تھوڑی تھی سو بینا اکتا جاتی تھی. کیونکہ وہ بہت چھوٹی تھی اس لیے وہ یہ سمجھ نہیں پاتی تھی کہ اتنی محنت بابا اپنی گڑیا کے لیے کرتے ہیں. بینا یہ سوچ کے دکھی رہنے لگی کہ بابا اسے وقت نہیں دیتے. اماں بھی سارا دن گھر کے کاموں میں مصروف تو رہتی تھیں لیکن جیسے ہی وقت ملتا وہ بینا کے ساتھ کھیلتیں اور اس سے باتیں کیا کرتی تھیں. لیکن بینا کا دل تو بابا کے ساتھ زیادہ لگتا تھا. وقت کے ساتھ اسے لگنے لگا کہ بابا اسے بالکل توجہ نہیں دیتے. ایک دن بینا کٹیا سے کچھ دور بہتی ندی کے کنارے بیٹھی تھی کہ دو بہنیں, رینا اور نینا, ندی سے پانی بھرنے وہاں آ گئیں. باتوں ہی باتوں میں ان کی بینا سے دوستی ہو گئ. ان کے نام بھی بینا سے ملتے تھے سو انہیں یہ بات اور بھی اچھی لگی.بینا, رینا اور نینا نے فیصلہ کیا کہ وہ ہر روز شام کو ندی پہ کھیلنے آیا کریں گی. بینا نے سوچا کہ بابا کو تو میری کوئ فکر نہیں. میری سہیلیاں ہی میرے لیے سب کچھ ہیں.

بابا محسوس کر رہے تھے کہ بینا اب ان سے خفا رہتی ہے. اماں ابا نے بینا کو ایک رات سونے سے پہلے بتایا کہ دونوں اس سے بہت پیار کرتے ہیں اور دن بھر اسی کے لیے کام کرتے ہیں لیکن بینا کو لگا یہ سب دل بہلانے کی باتیں ہیں. برسات کا موسم تھا اور بینا معمول کے مطابق اپنی سہیلیوں کے ساتھ ندی کنارے کھیلنے گئ ہوئ تھی. اس دن بابا نے بھی سوچا کہ بینا کو ندی پہ پہنچ کے خوشی دیں گے. بابا دل ہی دل میں دکھی تھے کہ ان کی گڑیا ان سے وقت نہ ملنے پہ خفا رہتی ہے.

بابا نے بینا اور اس کی سہیلیوں کے لیے پھل لیے اور ندی کی طرف چل پڑے. راستے میں بارش ہونے لگی. ندی سے کچھ قدم دور انہیں چیخنے اور رونے کی آوازیں آنے لگیں. بینا ندی کے گرد کیچڑ ہونے کے باعث پھسل کر ندی میں جا گری تھی. ندی کا پانی برسات کی وجہ سے خطرناک حد تک اوپر آ چکا تھا.

بینا اپنی سہیلیوں کو مدد کے لیے پکار رہی تھی لیکن نہ سہیلیاں اور نہ ہی اردگرد موجود کوئ شخص اس خطرے میں پڑنا چاہتا تھا. بابا نے جیسے ہی اپنی ننھی گڑیا کو ڈوبتے دیکھا یک دم ندی میں چھلانگ لگا دی. سب لوگ پریشان تھے کہ باپ اور بیٹی میں سے کوئ نہ بچے گا. لیکن باپ کی محبت چھوٹی سی گڑیا کو کنارے تک کھینچ لائ. ننھی بینا نے ہوش سنبھالا تو اس نے چھوٹے چھوٹے آنسوؤں سے بھری موٹی موٹی آنکھوں سے اپنے بابا کو دیکھا اور گلے لگ کے رو دی:"بابا آپ اتنا پیار کرتے ہیں مجھ سے!"

سبق: ماں باپ کی ہر کوشش اپنے بچوں کے لیے ہوتی ہے اور وہ چاہے جتنے مصروف ہوں ان کے دل میں ہر پل بچوں کی یاد ہوتی ہے. ماں باپ کے پیار کا کوئ نعم البدل نہیں.

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 483 Print Article Print
About the Author: Syeda Khair-ul-Bariyah

Read More Articles by Syeda Khair-ul-Bariyah: 10 Articles with 3461 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: