مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی تجویز کا رُکنا انڈیا کی ’شکست‘

کالعدم تنظیم جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی تجویز کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن چین نے 'ٹیکنیکل ہولڈ' کی بنیاد پر ایک بار پھر روک دیا۔
 


مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی تجویز سلامتی کونسل کے پانچ میں سے تین مستقل اراکین امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے گذشتہ ماہ دی تھی۔

یہ تجویز انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں 14 فروری کو ضلع پلوامہ میں ہونے والے ایک خود کش حملے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267 سینکشنز کمیٹی کے تحت دی گئی تھی۔
 


چین کے اس فیصلے کا مقصد کیا ہے یہ سمجھنے کے لیے، بی بی سی کے نمائندے ایڈراج راٹھور نے بیجنگ میں رہنے والے سینئر صحافی اتل انیجا سے گفتگو کی۔
 


کیا یہ انڈیا کی سفارتی شکست ہے؟
اس سوال پر اتل انیجا کہتے ہیں، ’اگر یہ آپ قلیل المدتی کے نظریہ سے دیکھیں تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ شکست ہے، لیکن مسعود اظہر اور دہشت گردی کا مسئلہ طویل المدتی مسئلہ ہے۔ چین نے طویل المدتی سفارتکاری کر رہا ہے کیونکہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ثالثی کرانا چاہتا ہے۔‘

اتل تنیجا کہتے ہیں: ’ابھی تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ انڈیا کی شکست ہے۔ چین نے اپنے وزیر خارجہ کو پاکستان بھیجا اور انڈیا سے بھی بات کرکے ثالثی کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اس وقت تو یہ دیکھنا ہوگا کہ تازہ فیصلے کے بعد ایسا ممکن ہے۔‘
 


حالیہ دنوں میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ایک خودکش حملہ 14 فروری کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر پلواما میں کیا گیا تھا، جس میں کم از کم چالیس سی آر پی ایف اہلکار ہلاک ہوئے۔ مسعود اظہر کی تنظیم جیش محمد کو اس حملے کا ذمہ دارقرار دیا جاتا ہے۔

اتل کہتے ہیں، ’چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہت قریبی ہیں۔ حالیہ دنوں میں، چین نے چین-پاکستان اقتصادی کوریڈور شروع کیا، جو ایک اہم منصوبہ تھا۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات بہت گہرے ہیں۔ مسعود اظہر پر پابندی روکنا ظاہر ہے کہ انہی تعلقات کا نتیجہ ہے لیکن ہم دیکھیں گے کہ چین اب اس گفتگو میں انڈیا کو کیسے شامل کرتا ہے۔ ‘

’تقریباً ایک ڈیڑھ سال سے جب سے چین اور انڈیا کے درمیان ڈوكلام تنازع ہوا ہے تب سے چین اپنی سفارت کاری کے تحت انڈیا کو بات چیت میں شامل کر رہا ہے۔ اس تبدیلی کو آپ عالمی منظر نامے میں دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ جب سے چین اور امریکہ کے تعلقات ناساز ہوئے ہیں چین اب دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے۔ چین کی سفارتکاری موجودہ سال میں بڑی تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ تاہم اس میں پاکستان کا پلڑا اب بھی بھاری ہے۔‘

چین کے مفاہمتی معاملات
اتل کا خیال ہے کہ سعودی عرب کی طرح چین بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کرانا چاہتا ہے۔

وہ کہتے ہیں، ’چین بار بار بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کرنے میں دلچسپی دکھا رہا ہے۔ مسعود اظہر کا مسئلہ ہو یا دہشت گردی کا، چین چاہتا ہے کہ وہ ایک ایسے نتیجے پر پہنچے جس سے پاکستان بھی ناراض نہ ہو اور انڈیا کے ساتھ اس کے نئے تعلقات بھی متاثر نہ ہوں۔‘
 


’یہ توازن بنائے رکھنا تھوڑا مشکل ہے، لیکن اگر چین ایسا کرنا چاہتا ہے تو اسے ایک منصوبہ بنانا ہوگا، جس میں انڈیا اور پاکستان دونوں کے مفادات کو سامنے رکھا جائے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس سمت میں کام جاری ہے۔ اگر چین مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی اجازت دیتا ہے، تو یہ پاکستان کی شکست ہوگی۔ چین کو یہ سوچنا پڑے گا کہ وہ اس کے بدلے پاکستان کو کیا دے گا۔‘

چین کا یہ فیصلہ آخری فیصلہ نہیں کہا جاتا ہے۔ ابھی تو اس پر کام شروع ہوا ہے۔ چین کے وزیر خارجہ ابھی پاکستان کے دورے سے واپس آ چکے ہیں اور انھوں نے انڈیا کے دورے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اب یہ انڈیا پر ہے کہ وہ کس طرح چین کے اس اقدام کا جواب دیتا ہے۔

چین کے فیصلہ پر انڈیا مایوس
انڈیا کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں ’مایوسی‘ کا اظہار کیا گیا ہے اور مزید کہا گیا کہ وہ ساتھی ممالک کے شکر گزار ہیں اور اور ہر ممکن کوشش کریں گے کہ مستقبل میں تمام اقدامات لیں جن کی مدد سے دہشت گردی کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

اس سے قبل سنہ 2001 میں سلامتی کونسل مسعود اظہر کی تنظیم جیشِ محمد کو بھی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکی ہے جبکہ 2002 میں پاکستان نے بھی اس تنظیم کو کالعدم قرار دیا تھا۔

مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ممنوعہ تنظیموں اور افراد کی لسٹ میں شامل کرنے کی کوشش سنہ 2009 سے جاری ہے۔ اس کے بعد سنہ 2016 اور سنہ 2017 میں بھی یہ تجویز سلامتی کونسل کے سامنے پیش کی گئی تاہم کونسل کے مستقل رکن چین کی جانب سے ہمیشہ اس کی مخالفت کی گئی جس کے باعث ایسا ممکن نہ ہو پایا۔
 


یہ چوتھا موقع ہے جب چین نے مسعود اظہر کے خلاف پیش کی گئی تجاویز کی مخالفت ثبوتوں اور شواہد کے ناکافی ہونے کی بنیاد پر کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل 15 اراکین پر مشتمل ہیں جن میں پانچ مستقل جبکہ 10 عارضی اراکین ہیں۔

عارضی اراکین کا انتخاب دو سال کی مدت کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

پانچ مستقل اراکین میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین شامل ہیں اور سلامتی کونسل کے کسی بھی فیصلے کی منظوری ان پانچ ممالک کی رضامندی سے مشروط ہے۔ مستقل ممالک میں سے اگر ایک بھی ملک کسی تجویز کے خلاف اپنی 'ویٹو پاور' استعمال کرتے ہوئے اس کی حمایت سے دستبردار ہوتا ہے تو اس فیصلے کو مسترد سمجھا جاتا ہے۔

مسعود اظہر اور جیش محمد کا تاریخی پس منظر
مسعود اظہر کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر بہاولپور میں مقیم ہیں۔ انڈیا نے کئی بار پاکستان سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے تاہم پاکستان ان کے خلاف شواہد کی عدم موجودگی کے باعث انکار کرتا رہا ہے۔

مسعود اظہر کی قیادت میں قائم ہونے والی جنگجو تنظیم جیش محمد کے قیام کی کہانی مختصر لیکن ہنگامہ خیز ہے۔

دسمبر 1999 میں بھارتی مسافر طیارے کے اغوا کے نتیجے میں عمر سعید شیخ اور مشتاق زرگر کے ہمراہ کشمیر کی جیل سے رہائی کے فوری بعد مولانا مسعود اظہر نے راولپنڈی میں حرکت المجاہدین کے سربراہ مولانا فضل الرحمان خلیل سے ملاقات کی جس میں تنظیمی امور پر بات چیت کی گئی۔

حرکت کے قریبی حلقوں کے مطابق یہ ملاقات اس حوالے سے کوئی زیادہ خوشگوار نہیں کہی جا سکتی کیونکہ مولانا مسعود اظہر نے تنظیم میں بڑی ذمہ داری کا مطالبہ کیا جب کہ مولانا فضل الرحمان خلیل نے انہیں کچھ عرصے کے لیے خاموش رہنے کا مشورہ دیا اور اس طرح معاملات طے نہ پا سکے۔

مولانا مسعود اظہر نے کچھ ہی دنوں کے بعد جنوری 2000 میں کراچی میں پہلی ریلی کے دوران جیش محمد کے قیام کا اعلان کر دیا۔

نہ صرف انڈیا کے زیر انتظام کشمیر بلکہ انڈیا کے اندر ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کی ذمہ داری اسی تنظیم پر عائد کی جاتی رہی ہے۔


Partner Content: BBC URDU

Reviews & Comments

Language: