ہم سب کا مان ہے حصہ سوٸم

(Tahira afzaal, Rawalpindi)

واقعی کہتے تو ٹھیک ہیں ۔ایڈیسن نے بلب بنا کر پروانوں کے ناحق قتلِ عام کو اپنے سر لے لیا ہے لیکن کیا مگس یعنی شہد کی مکھی نے باغ میں جانا چھوڑ دیا ہے ۔کیا شہد بننا رک گیا ہے۔اب موم اور موم بتی نہیں بناٸ جاتی؟ اللّہ تعالیٰ کا کارخانہ جس ڈگر پر تھا اسی طرح چل رہا ہے۔ شہد کی مکھیاں اپنا کام کر رہی ہیں ۔شہد اور موم بن رہا ہے ۔پروانے جل رہے ہیں۔لیکن ہم اپنی ڈگر سے ہٹ گۓ ہیں ۔ہم نے اپنی قومی زبان کو بالکل بے یارو مدد گار چھوڑ دیا ہے ۔ہمارے بچے اس کا جو بھی حشر کریں ہم آنکھیں بند کیۓ اور کان لپیٹے پڑے ہیں ۔ رات خواب میں اُردو کو روتے ہوۓ یہ کہتے سنا ”ہمیں کھو کر بہت پچھتاٶ گے جب ہم نہیں ہونگے“ اللّہ تعالیٰ ہمیں اپنی قومی زبان کی بقا کے لیۓ اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرماۓ کیونکہ یہی تو ہم سب کا مان ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahira afzaal

Read More Articles by Tahira afzaal: 15 Articles with 7524 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Mar, 2019 Views: 412

Comments

آپ کی رائے