تنخواہوں کا مسئلہ․․․ سخت نگرانی کی ضرورت!

(Muhammad Anwar Graywal, Bahawlpur)

 اگر عمران خان نے پنجاب اسمبلی کے تنخواہوں میں اضافے کے ظالمانہ اور غاصبانہ بل کو عملی طور پر روک دیا تو اُن کے سیاسی قد میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ یہ بل اہالیانِ پنجاب پر بجلی بن کر گرا تھا، کس سرعت کے ساتھ یہ بل پیش ہوا اور کس تیزی کے ساتھ اسے شرف منظوری بخش دیا گیا، مفاد کے اس کھیل میں سب ہی ایک قطار میں کھڑے ہوگئے، نہ کوئی اپوزیشن رہی اور نہ ہی حکومتی نمائندگی۔ یکجہتی کی ایسی مثالیں ہنگامی حالات میں ہی پیدا ہوتی ہیں، گزشتہ دنوں ملک پر جنگ کے سائے منڈلانے لگے تھے تو پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی تھی۔ اُدھر پنجاب اسمبلی میں یکجہتی کا یہ عظیم الشان مظاہرہ اپنے مفادات کو پیشِ نظر رکھ کر کیا گیا۔ عوام نے نفرت کا اظہار کیا تو روایتی طور پر صوبائی اور وفاقی وزراء بھی بل کے حق میں خم ٹھونک کر میدان میں اتر آئے، ’’اگر یہ اضافہ نہیں ہوگا تو درمیانے طبقے کے لوگ کس طرح انتخابی سیاست کا رخ کریں گے؟‘‘ ’’تنخواہیں دوسرے صوبوں سے بہت کم تھیں، اضافہ ضروری تھا‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ مگر جب عمران خان نے برہمی کا اظہار کیا تو یہی وزیر ’یوٹرن‘ لیتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے منظور شدہ بل پر تنقید کے ڈونگرے برسانے لگے، کہ انہیں ایسے اقدام سے گریز کرنا چاہیے تھا جس سے ملک کی معاشی صورت حال پر منفی اثرات مرتب ہونے کے خطرات ہوں۔ واقعی اپنے موقف کو یکسر تبدیل کرنے کے ہنر سے آشنا شخص ہی کامیاب سیاست دان کہلا سکتا ہے۔

خبر پڑھتے ہی قوم کا خون کھولنے لگ گیا تھا، سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس قابل اعتراض اقدام کی پُر زور مذمت کرنے کے لئے کون سے الفاظ استعمال کئے جائیں، جذبات کا اظہار کس طرح کیا جائے؟ مئی کا مہینہ شدید ترین گرمی کے آغاز کا مہینہ ہوتا ہے، مگر اپنے ہاں یہ پورا مہینہ سرکاری ملازمین سڑکوں پر احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں، یہ دراصل عام دفتری ملازم ہوتے ہیں جنہیں اپنی تنخواہ میں اضافے کے لئے احتجاج کا سہارا لینا پڑتا ہے، حکومت بذات خود کبھی اضافہ نہیں کرتی۔ ملازمین گرمی کے باوجود کبھی سڑک پر لیٹ جاتے ہیں، کبھی سینہ کوبی کرتے ہیں، کبھی روٹیوں کے ’’ہار‘‘ گلے میں ڈال کر سڑک پر آتے ہیں تو کبھی خود کو زنجیروں میں جکڑ کر ریلیاں نکالتے ہیں۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک ان کی تنخواہ میں اضافہ نہیں کر دیا جاتا۔ یہ بھی کبھی دس فیصد سے زیادہ نہیں ہوتا۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ جب تک یہ لوگ ریلیاں نہ نکالیں گے، اضافہ ممکن نہ ہوگا۔ یہ الگ کہانی ہے کہ بڑے افسروں کی تنخواہوں میں اضافے کا تناسب زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن سے الحاق شدہ سکول مالکان بھی آج کل سڑکوں پر ہیں، اول تو ان کی پے منٹ کئی ماہ کی تاخیر کا شکا ر ہے، دوسری اہم بات یہ کہ گزشتہ پانچ برس سے ان کے فنڈ میں اضافہ نہیں ہوا، جو کہ صرف پانچ سو پچاس روپے فی بچہ ادا کیا جارہا ہے۔

اِدھر قانون سازوں کا عالم یہ ہے کہ پلک جھپکتے میں تنخواہوں میں سیکڑوں گنا اضافہ ہو گیا، نہ جلوس نکالنے کی نوبت آئی ، نہ گریبان چاک کیا اور نہ ہی کسی سڑک پر احتجاجاً مرغا بنے۔ کون سا ممبر اسمبلی ہے جو کروڑوں روپے خرچ کرکے ایوان تک نہیں پہنچتا، الیکشن کمیشن ہے کہ آنکھیں بند کر کے اُن کے دیئے ہوئے کوائف کو تسلیم کر کے رکنیت کا جواز بخش دیتا ہے۔ اِن اربوں کروڑوں پتی لوگوں کے اثاثے دیکھیں تو کسی کے پاس گاڑی نہیں ہے تو کوئی بیچارہ بے گھر ہے، کوئی بیوی کی گاڑی میں سفر کرتا ہے تو کوئی اپنی شریک حیات کے گھر میں زندگی کے دن پورے کر رہا ہے۔ شاید پورے پنجاب میں دو چار سے زیادہ ایسے ممبران اسمبلی نہ ہوں جو واقعی درمیانے درجے کے ہوں اور پارٹی یا چاہنے والوں کی مدد سے منتخب ہوگئے۔ تمام سیاستدان اپنی سیاست کو خدمت قرار دیتے نہیں تھکتے، اور بتاتے ہیں کہ ہم سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں، مگر عجیب عابد ہیں جن ووٹروں کی خدمت کا عزم دہراتے ہیں، اس کا معاوضہ بھی طلب کرتے ہیں، ڈھٹائی کے ساتھ عبادت بھی کہتے ہیں۔

عمران خان ایسے ریوڑ کی نگرانی پر مامور ہیں جن میں سے ہر ایک حدود سے باہر کی طرف بھاگتا ہے، چرواہے کو بزور بازو اسے روکنا پڑتا ہے، وہ ایک کو قابو کرتا ہے تو دوسری طرف ایک اور بھاگ نکلتاہے۔ ان لوگوں پر ’’ٹویٹ‘‘ اثر انداز نہیں ہوتا، یہاں سخت اور مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے۔ اس قلیل وقت میں کتنے وزیر اپنی وزارتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، بہت ہیں جو تیار بیٹھے ہیں، جس غلطی کی بنا پر ایک وزیر کی چھٹی ہوئی، آنے والا بھی اسی ڈگر پر سفر جاری رکھتا ہے۔ یہاں غلطیوں سے سبق سیکھنے کا کوئی امکان نہیں، یہاں غلطیاں دہرانے کی داستان ہے۔ بے خبری بھی جرم ہے، جس بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ کی وزیراعظم ہر موقع پر تعریف کریں، اور اس کی کابینہ کے ہر اجلاس کی صدارت بھی کریں تو اس کے فیصلوں کی ذمہ داری میں بھی حصہ دار ہیں۔ تازہ بل کا واضح مطلب یہ ہے کہ حکومتی ارکان کی بھاری اکثریت داؤ پر ہی ہے، کہ جب لگ جائے تو کام کرلیا جائے۔ عمران خان نے اس غیر سنجیدہ عمل کو بروقت روک کر اپنی ساکھ کو بچایا ہے، ورنہ ان کے اپنے لگائے ہوئے پودے اپنی ہی جڑوں کو کھانے کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ ملک دوست نہیں بلکہ مفاد دوست لوگ ہیں۔ کیا اسمبلیوں کا کورم آئے روز نہیں ٹوٹا رہتا؟کیا قانون سازی میں حد درجہ سست روی سے کام نہیں لیا جاتا؟ کیا اسمبلی میں حاضر ہوئے بغیر پیسے لینے کا عمل جائز ہے؟ اگر جائز ہے تو کیا اساتذہ یا دیگر سرکاری ملازمین کو بھی ڈیوٹی پر گئے بغیر تنخواہ نہیں ملنی چاہیے؟ کیا یہ استحقاق کے حامل ممبران اسمبلی ہر بے اصولی کے لئے آزاد ہیں؟ کیا اس استثنائی مخلوق کے پاس ہر غلط کام کا جوازاور استحقاق موجود ہوتا ہے؟
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 169 Print Article Print
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 567 Articles with 198446 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: