میں بھی بدل گئی ہوں

(Mukhtar Ahmed, Islamabad)

معمولی سی جھڑپ تھی مگر وہ غصے سے لال پیلی ہوگئی- پل کے پل میں بیگ میں سامان ٹھونسا اور زمین پر پاؤں مار کر بولی "میں امی کے گھر جا رہی ہوں"-
اس نے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں، موبائل میں ہی لگا لگا بولا "جاؤ"-
اسے بڑی حیرت ہوئی- "آپ مجھے روکیں گے نہیں؟"-
"نہیں"-
"کیوں؟"-
"نہیں بتاؤں گا"-
"پہلے تو آپ اس طرح نہیں کرتے تھے"-
"اب میں پہلے جیسا نہیں رہا- بدل گیا ہوں"-
"ٹھیک ہے میں بھی اب کہیں نہیں جا رہی- آپ بدل گئے ہیں تو مجھے بھی خود کو بدلنا پڑے گا"-

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 199 Print Article Print
About the Author: Mukhtar Ahmed

Read More Articles by Mukhtar Ahmed: 59 Articles with 33488 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: