ملکہ کا خواب

(Mukhtar Ahmad, Islamabad)

حماد احمد
اسلام آباد

رات ملکہ گل رخ نے ایک عجیب و غریب خواب دیکھا- اس نے دیکھا کہ وہ، بادشاہ اور ان کا بیٹا کسی انجانی جگہ پر ایک گھر میں رہ رہے ہیں- اس کا شوہر جو اتنی بڑی سلطنت کا حکمران ہے ، ایک لکڑ ہارا بن گیا ہے اور روز اپنی کلہاڑی اور گدھے کو ساتھ لے کر جنگل میں لکڑیاں کاٹنے جاتا ہے- اس کا بیٹا دن بھر محلے کے بچوں کے ساتھ کھیلتا کودتا اور ٹڈے پکڑتا پھرتا ہے- یہ خواب دیکھ کر ملکہ سخت پریشان ہوئی - اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس خواب کی تعبیر کیا ہوگی- مگر دوپہر کو اس خواب کی تعبیر سامنے آگئی-

ہوا یوں کے دوپہر کے کھانے کے بعد جب بادشاہ آرام کرنے کے لیے بستر پر دراز ہوا تو اس کے ذہن میں ایک عجیب و غریب خیال آیا- اس نے سوچا وہ بادشاہ ہے، اس کے آباؤ اجداد، باپ، دادا اور پڑ دادا سب ہی بادشاہ تھے- ان میں سے کسی نے بھی ایک عام آدمی کی طرح زندگی نہیں گزاری تھی تو کیوں نہ وہ کچھ روز کے لیے ایک عام آدمی بنے تاکہ اسے اندازہ ہو سکے کہ عام آدمی کس طرح رہتے سہتے ہیں- ویسے بھی سالانہ جشن میلہ پر بادشاہ کو دس روز کی چھٹیاں ملنے والی تھیں- یہ سالانہ چھٹیاں ہر سال بادشاہ کو ملا کرتی تھیں اور اس دوران دربار وغیرہ نہیں لگا کرتے تھے، بادشاہ یا تو اپنے گھر والوں کے ساتھ گھوما پھرا کرتا تھا یا آرام کرتا تھا-

ملکہ کمرے میں آئ تو اس نے اس خواہش کا تذکرہ اس ے کیا کیا کہ وہ چند دنوں کے لیے ایک عام آدمی کی طرح زندگی گزارنا چاہتا ہے- اس کی بات سن کر ملکہ کو ہنسی تو بہت آئ مگر اس نے ضبط کر کے ہنسی کو روک لیا اور سنجیدہ شکل بنا کر بولی- "رات میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ آپ جنگل میں لکڑیاں کاٹتے پھر رہے ہیں- یہ خواب میں نے آپ کو اس لیے نہیں سنایا تھا کہ کہیں آپ برا نہ مان جائیں لیکن میں پریشان ضرور تھی کہ جانے اس خواب کی کیا تعبیر ہو"-

"ملکہ تم اپنا خواب ہمیں سنا دیتیں- اس میں برا ماننے کی کیا بات تھی- لکڑ ہارے بھی تو انسان ہی ہوتے ہیں- یہ تو بتاؤ ہم نے کتنی لکڑیاں کاٹی تھیں؟" بادشاہ نے بڑے اشتیاق سے پوچھا-

"یہ تو میں دیکھ نہیں سکی تھی- آپ لکڑیاں کاٹ کاٹ کر ایک جگہ جمع کرتے جا رہے تھے- ان لکڑیوں کے آگے آپ کا گدھا کھڑا تھا، میں دیکھ ہی نہیں سکی کہ آپ نے کتنی لکڑیاں کاٹی تھیں"-

"آئندہ ہم اپنے گدھے کو کہیں اور کھڑا کیا کریں گے، تاکہ تم جب خواب دیکھو تو آسانی سے ہماری کاٹی ہوئی لکڑیوں کا شمار کر سکو"- بادشاہ نے کہا- وہ ملکہ کا خواب سن کر خوش ہو گیا تھا، اس نے ممنونیت بھرے لہجے میں کہا- "پیاری ملکہ- تمہارا بہت بہت شکریہ، تم نے ہمیں بہت اچھا خیال سجھا دیا ہے- تمھارے خواب کی روشنی میں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم لکڑہارے کے روپ میں ہی عام آدمی بنیں گے"- بادشاہ یہ کہہ کر چپ ہوگیا اور کچھ سوچنے لگا پھر بولا- "ہم تو چاہتے ہیں کہ تم بھی ہمارے ساتھ چلو- ہم جنگل سے لکڑیاں کاٹ کاٹ کر لایا کریں گے- تم گھر کے کام کاج کیا کرنا- شہزادہ دن بھر محلے کی گلیوں میں کھیلتا پھرے گا- تمہیں بھی تو پتہ چلنا چاہیے کہ ہماری رعایا کی عورتیں کیسے رہتی ہیں اور بچے کیسے پالتی ہیں"-

"اگر یہ آپ کا حکم ہے تو سر آنکھوں پر- اور اگر آپ ویسے ہی پوچھ رہے ہیں تو میری طرف سے انکار ہی سمجھیے- جب تک آپ لکڑہارے بنے رہیں گے، میں اپنی امی حضور کے پاس چلی جاتی ہوں"-

"ملکہ- اس کو ہمارا حکم ہی سمجھیے- لکر ہارا جب تھکا ماندہ شام کو گھر آیا کرے گا تو کیا خود ہی کھانا پکا کر کھائے گا- دن میں اپنے کپڑے دھوئے گا یا روزی کی تلاش میں جنگل جائے گا- پھر ہمارے گدھے کو گھاس کون ڈالا کرے گا؟ ملکہ ہم یہ بات محسوس کر رہے ہیں کہ کچھ دنوں سے بات بے بات آپ اپنی امی حضور کے پاس جانے کا کہنے لگتی ہیں- کیا آپ یہاں خوش نہیں ہیں؟"- بادشاہ نے کچھ خفگی سے کہا-

اس کے غصے اور ناراضگی سے ملکہ بہت ڈرتی تھی، جلدی سے بولی – "میں نے تو یہ سوچ کر امی حضور کے پاس جانے کی بات کی تھی کہ آپ کے جنگل جانے کے بعد میں اور شہزادہ محل میں اکیلے کیا کریں گے- میں یہاں آپ کے ساتھ بہت خوش ہوں، امی حضور کے پاس جاتی ہوں تو وہاں دل ہی نہیں لگتا، ہر دم آپ کا انتظار رہتا ہے کہ آپ آئیں اور مجھے لے جائیں- اگر یہ آپ کا حکم ہے کہ میں بھی آپ کے ساتھ چلوں تو جہاں پناہ ٹھیک ہے یہ باندی اس حکم کو بجا لائے گی- مگر سوال یہ ہے کہ ہم شہزادے کو کہاں چھوڑیں گے؟"

"شہزادے کو کہیں کیوں چھوڑیں گے- وہ بھی ہمارے ساتھ چلے گا- ہم کسی گاؤں میں جنگل کے پاس اپنے گھر کا انتظام کرلیں گے اور اس گھر میں ایک لکڑ ہارا، اس کی بیوی اور ان کا بچہ رہا کریں گے"-

اگلے روز بادشاہ نے وزیر کو بلا کر اسے جنگل کے قریب کسی گھر کا بندوبست کرنے کا کہا اور یہ حکم بھی دیا کہ ایک رسی، ایک کلہاڑی، ایک گدھا اور ضروریات زندگی کی مناسب چیزیں بھی اس گھر میں مہیا کر دی جائیں- وزیر اس عجیب و غریب حکم کو سن کر حیران تو بہت ہوا مگر اس نے کوئی سوال نہیں کیا- وہ بادشاہ کا نمک خوار اور بہت وفادار تھا مگر اس بات نے اس کے دل میں تجسس پیدا کر دیا تھا کہ بادشاہ ان سب چیزوں کا کیا کرے گا- بادشاہ ادھر ادھر ہوا تو وزیر نے اس بارے میں ملکہ سے بات کی- ملکہ نے بڑی اداسی سے کہا- "سب قصور میرے خواب کا ہے- میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ جہاں پناہ ایک لکڑہارے کے روپ میں جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہے ہیں، میرا خواب سن کر انہوں نے چند دنوں کے لیے لکڑ ہارا بننے کا ارادہ کر لیا ہے"- ملکہ کی بات سن کر وزیر کی آنکھیں سوچ میں ڈوب گئیں، اس نے تھوڑی دیر بعد کہا- "ملکہ عالیہ- یہ بھی تو ممکن ہے کہ بادشاہ سلامت کا یہ اقدام مناسب ہو- وہ غریب لوگوں کے ساتھ رہ کر ان کی مشکلات کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہوں اور پھر اس مشاہدے کے نتیجے میں وہ ان کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کریں- میں نے تاریخ پڑھی ہے، ہمارے ماضی کے حکمران ایسا ہی کیا کرتے تھے"-

اس کی بات سے ملکہ بھی مطمین ہو گئی تھی- وہ خود چاہتی تھی کہ بادشاہ کی رعایا سکھ چین سے رہے- وزیر نے فوراً ہی تمام انتظامات کر دیے - اس نے بہت سے سرکاری محافظ بھی اس علاقے میں تعینات کر دئیے تھے جہاں پر بادشاہ کی رہائش کا بندوبست کیا گیا تھا- یہ نہایت وفادار اور بہادر سپاہی تھے- وزیر نے ان کو تاکید کر دی تھی کہ انھیں بادشاہ سے چھپ کر اس پر نظر رکھنا ہو گی- اگر کبھی بادشاہ کو ان کی مدد کی ضرورت پڑے تو وہ اس کی مدد کو حاضر ہو جائیں-

اگلے روز منہ اندھیرے بادشاہ نے رخت سفر باندھا، ملکہ اور شہزادہ اس کے ساتھ تھے- وزیر نے ان کے سفر کے لیے تازہ دم گھوڑوں کی ایک آرام دہ بگھی کا انتظام کر دیا تھا تاکہ وہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائیں- منزل مقصود اس دور دراز گاؤں میں تھی جہاں بادشاہ کے نئے گھر کا انتظام کیا گیا تھا- چھوٹا سا شہزادہ بہت خوش تھا- محل کی زندگی میں پابندیاں بہت تھیں، یہ کرو یہ مت کرو، ہر وقت صاف ستھرے کپڑوں میں رہو، مٹی میں تو بالکل بھی نہ کھیلو، پانی میں چھپ چھپ نہ کرو، لباس کی جیبوں میں خوبانی یا کسی دوسرے پھلوں کی گٹھلیاں اور پتھر وغیرہ نہ رکھو، اور تو اور ننگے پاؤں بالکل بھی نہ چلو، چاہے قالین ہی کیوں نہ بچھا ہو- اب اس سفر کے دوران جو اس نے نئی نئی چیزیں اور بھانت بھانت کے لوگ دیکھے تو اسے بڑا مزہ آیا- ملکہ کے لیے بھی یہ منظر نئے تھے اور وہ ان کو دلچسپی سے دیکھ رہی تھی-

تقریباً ایک گھنٹہ بعد وہ لوگ اپنی منزل پر پہنچ گئے تھے- وہ ایک صاف ستھرا گاؤں تھا- صبح ہو گئی تھی اور لوگ اپنے اپنے کام کاجوں میں مصروف نظر آ رہے تھے- کسانوں نے کھیتوں کا رخ کر لیا تھا اور وہ ہل چلانے میں مصروف تھے- کچھ عورتیں کنوؤں پر پانی بھرتی نظر آئیں- جو بچے سو کر اٹھ گئے تھے وہ گلی محلوں میں دوڑتے بھاگتے پھر رہے تھے اور جو ابھی سو کر نہیں اٹھے تھے ان کے رونے کی آوازیں گھروں سے آ رہی تھیں- شہزادے کا چہرہ خوشی سے جگمگا رہا تھا- اس نے دیکھا ایک جگہ چند بچے بڑے بڑے گنے ہاتھوں میں پکڑ ے انھیں دانتوں سے چھیل چھیل کر کھا رہے ہیں- اس نے بادشاہ کا شانہ پکڑ کر ضد کی- "ابّا حضور ہم بھی یہ ڈنڈے کھائیں گے جو یہ بچے کھا رہے ہیں"- بادشاہ کو ہنسی آگئی- اس نے شہزادے کو بتایا کہ یہ ڈنڈے نہیں گنے ہیں، کھیتوں میں اگتے ہیں اور ان کے شیرے سے گڑ بنایا جاتا ہے- وزیر نے بادشاہ کو گھر کا محل وقوع اچھی طرح سمجھا دیا تھا، اسے نئے گھر تک پہنچنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی-

وہ لوگ گھر میں داخل ہوگئے- شہزادے نے ملکہ سے پوچھا- "امی حضور ہم کہاں آئے ہیں؟"- ملکہ نے جواب دیا- "شہزادے یہ ہمارا نیا گھر ہے، ہم اس میں رہیں گے"- شہزادہ خوشی سے اچھل پڑا- "تو امی حضور اب ہمیں محل میں تو نہیں جانا پڑے گا نا؟"- ملکہ بولی- "نہیں- ہم کچھ دن یہیں رہیں گے"-

وہ چھوٹا سا ایک گھر تھا- اس میں ایک کمرہ اور ایک بڑا سا صحن بھی تھا جس کے ایک کونے میں مرغیوں کا ایک ڈربہ تھا اور اس میں مرغیاں کڑکڑا رہی تھیں- مرغیاں دیکھ کر شہزادہ بہت خوش ہوا- اس نے دوڑ کر ان کے ڈربے کا دروازہ کھول دیا- ساری مرغیاں باہر نکل کر صحن میں بھاگنے دوڑنے لگیں اور خوشی سے کڑ کڑ کرنے لگیں- بادشاہ نے جلدی سے گھر کا دروازہ بند کر دیا تاکہ وہ باہر نہ چلی جائیں- صحن کے ایک گوشے میں ایک سائبان تھا جس کے نیچے ایک گدھا بندھا تھا اور گھاس کھا رہا تھا- بادشاہ نے ملکہ سے کہا- "ملکہ- اب تم ہمیں کچھ کھانے کو دیدو تاکہ ہم کام پر جائیں"- ملکہ نے کہا- "آپ احتیاط کیجیے- آپ کو ملکہ کہتے ہوۓ کسی نے سن لیا تو سمجھ جائے گا کہ آپ بادشاہ ہیں"- بادشاہ کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا- اس نے کہا- "ٹھیک کہتی ہو- ہمیں ان چیزوں کا خیال رکھنا چاہئیے- ہمیں پہلے ہی سب کے نام بدل کر رکھ لینا چاہیے تھے- آج سے ہمارا نام جمال لکڑہارا، تمہارا نام نور النسا اور شہزادے کا نام گلو ہوگا-

ابھی وہ لوگ باتوں میں مصروف تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی- ملکہ نے دروازہ کھول کر باہر جھانکا، دروازے پر ایک عورت کھڑی تھی اور اس کے ہاتھوں میں ایک خوان تھا جو کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا- وہ عورت ملکہ کو دیکھ کر بولی- "بہن میں آپ کے پڑوس میں رہتی ہوں- آپ لوگ نئے آئے ہیں اس لیے میں آپ کے لیے کھانا لے کر آئ ہوں- ابھی تو آپ کا سارا سامان پھیلا پڑا ہوگا، کھانا پکانا بڑا مشکل ہوگا"- ملکہ اور بادشاہ اس کے اخلاق سے بہت متاثر ہوےٴ- وہ عورت بولی- اچھا اب چلتی ہوں برتن بعد میں لے جاؤں گی- میرا شوہر دریا پر مچھلیاں پکڑنے جائے گا اس کو بھی کچھ کھلا پلا کر رخصت کروں"- یہ کہہ کر وہ عورت چلی گئی-

تھوڑی دیر بعد بادشاہ بھی اپنے گھر سے نکلا- پہلے پہلے تو شہزادے نے بھی ضد کی کہ وہ گدھے پر بیٹھے گا اور بادشاہ کے ساتھ جائے گا مگر ملکہ نے اسے بہلا لیا اور اسے مرغیوں کے دانوں کا پیالہ پکڑا دیا کہ ان کو ڈالتا رہے- بادشاہ گھر سے نکلا تو اس کی ملاقات پڑوس کےمچھیرے سے ہوئی- دونوں نے ایک دوسرے سے سلام دعا کی پھر اپنا تعارف کروایا- "میرا نام شرفو ہے"- مچھیرے نے کہا- "ہمارا نام جمال لکڑہارا ہے"- بادشاہ نے کہا- اس کی بات سن کر شرفو کو ہنسی آ گئی- اس نے بادشاہ کو سمجھانے کی خاطر کہا- "یہ کیسا نام ہے- یاد رکھو اپنے نام کے ساتھ اپنے پیشے کا نام نہیں لگاتے- مجھ سے کوئی میرا نام پوچھتا ہے تو میں کہتا ہوں میرا نام شرفو ہے، یہ نہیں کہتا کہ میں شرفو مچھیرا ہوں"- اس کی بات سن کر بادشاہ کو بڑی شرمندگی ہوئی اور اپنی غلطی کا احساس بھی- اس نے بات بدلتے ہوۓ پوچھا- "شرفو تم دن میں کتنی مچھلیاں پکڑ لیتے ہو؟"- شرفو بولا کبھی بہت ساری اور کبھی ایک بھی نہیں"- اس کے بعد وہ دونوں رخصت ہوۓ اور اپنے اپنے کاموں پر روانہ ہو گئے- بادشاہ جنگل میں پہنچا تو چاروں طرف ہرے بھرے درخت عجب بہار دکھا رہے تھے- ان پر بیٹھے پرندے اپنی اپنی سریلی آوازوں میں چہچہا رہے تھے- چاروں طرف ایک خوشگوار خنکی پھیلی ہوئی تھی- بادشاہ گدھے کو ایک درخت سے باندھ کر زمین پر بیٹھ گیا- اس نے کلہاڑی ایک طرف رکھ دی تھی اور کچھ سوچنے میں مگن ہو گیا تھا، اس کے چہرے پر فکر مندی کے آثار تھے- تھوڑی دیر بعد وہ اٹھا اور اپنی کلہاڑی اور گدھے کو لے کر واپس گھر کی جانب چل دیا- ملکہ نے شہزادے کو نہلا دھلا کر سلا دیا تھا- بادشاہ اتنی جلدی گھر واپس آیا تو اسے دیکھ کر ملکہ حیران ہو گئی- اس نے کہا "آپ بڑی جلدی آ گئے- کیا ہوا- میرے منہ میں خاک جنگل میں شیر چیتے تو نہیں ہیں؟"-

بادشاہ نے کہا- "صبح کیا نام رکھا تھا ہم نے تمہارا...ہاں...نور النسا- نور النسا شیر چیتوں کا تو ہم کو ڈر نہیں- یہ احساس البتہ اب ہمیں ہو گیا ہے کہ ہم غلطی پر تھے ہمیں لکڑ ہارا نہیں بننا چاہیے تھا- درخت اور پودے تو ہمارے دوست ہوتے ہیں، سوچو تو ذرا ان کے کتنے فائدے ہیں- ان سے ہمیں طرح طرح کے پھل حاصل ہوتے ہیں، ہم اناج حاصل کرتے ہیں، - ان پرخوبصورت رنگوں کے پھول لگتے ہیں اور ان پھولوں کی خوشبو ہماری فضا کو معطر رکھتی ہے- ان ہی پھولوں پر تتلیاں منڈلاتی ہیں اور شہد کی مکھیاں ان پھولوں سے شہد بناتی ہیں، سوچو اگر شہد نہ ہو تو ہر بچہ کھانستا پھرے، اس میں کالی مرچ ملا کر بچوں کو کھلانے سے ان کی کھانسی ختم ہو جاتی ہے- یہ درخت ہی تو ہیں جن پر پرندے اور بندر اپنا بسیرا کرتے ہیں- درختوں کی چھاؤں میں بیٹھ کر انسان سورج کی تمازت سے بچتا ہے، دور دراز کا سفر کرنے والے اس کے نیچے بیٹھ کر آرام کرتے ہیں- درخت نہ ہوں تو ہمارے گاؤں دیہات کی عورتیں ساون کے مہینے میں جھولے کس پر ڈالیں- پھر یہ درخت ہمارے ماحول کو خوبصورت بناتے ہیں- ہمیں یاد آ رہا ہے کہ ایک دفعہ ہمارے وزیر با تدبیر نے ہمیں بتایا تھا کہ درخت ہماری دنیا کی ہوا کو بھی صاف ستھرا رکھتے ہیں، اس ہوا کی وجہ سے ہی تو زمین پر زندگی ہے- ، یہ کتنے ظلم کی بات ہے کہ ہم انسان اپنے آرام اور فائدے کے لیے ان کو کاٹ دیتے ہیں"-

ملکہ گل رخ بادشاہ کی باتوں سے بہت متاثر ہوئی پھر کچھ سوچ کر بولی- "لیکن اگر لکڑیاں نہ ہوں تو گھروں میں چولہے کیسے جلیں گے، کھانا کیسے پکے گا؟"- بادشاہ نے جواب دیا- "اس کے بہت سے دوسرے ذرائع موجود ہیں- گائے بھینسوں کا گوبر ہے ان سے بنے اپلوں پر پکی روٹیوں کا ذائقہ ہی کچھ اور ہوتا ہے، پتھر کے کوئلے کے پہاڑ ہیں، پھر سوکھے ہوۓ درخت ، جھاڑیاں اور گھاس پھوس ہے- ملکہ ہم تمہارے شکر گزار ہیں کہ تم نے ہمارے لکڑ ہارے بننے کا خواب دیکھا جس کی وجہ سے ہم لکڑ ہارے بن کر یہاں آئے اور ہمارے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ درختوں کی حفاظت کرنا چاہہے، ان کو کاٹنا نہیں چاہیے- ہم واپس جا کر اس سلسلے میں شاہی فرمان جاری کریں گے کہ ملک کے سارے درخت اب سرکار کی ملکیت ہونگے اور ان کو کوئی بھی نہیں کاٹ سکے گا- جو کاٹتا ہوا پایا گیا سخت سزا پائے گا- ہم دوسرا فرمان یہ بھی جاری کریں گے کہ ملک کا ہر فرد پودے لگانے میں دلچسپی لے اور اپنے گھر میں کم از کم دس پودے لگائے تاکہ ہمارے ملک میں زیادہ سے زیادہ ہریالی ہو اور آب و ہوا بھی صاف رہے"-

وہ دن ان لوگوں نے خوب مزے سے گزارا- صبح ناشتہ لانے والی پڑوسن جب اپنے برتن لینے واپس آئ تو ملکہ نے اس سے کہا- "بہن ہم تمہارے حسن سلوک سے بہت خوش ہوۓ ہیں اور تمہارے شکر گزار ہیں- یہاں ہمارا قیام مختصر تھا- ہم آج رات یہاں سے روانہ ہو جائیں گے- ہمارا یہ گھر اب تمہارا ہوگا- اس سلسلے میں ضروری دستاویز بھی تمہیں مل جائیں گی- ملکہ کی یہ باتیں سن کر وہ عورت بہت خوش ہوئی اور اس کو دعائیں دیتی ہوئی چلی گئی-

رات ہوئی تو بادشاہ کا وفا دار وزیر اس کی خیر خیریت معلوم کرنے کے لیے حاضر ہوا- وہ ان سب کے لیے مزے مزے کے پکوان بھی لایا تھا- بادشاہ نے اس کو تمام باتیں بتائیں اور درختوں کی حفاظت کے سلسلے میں اقدامات کرنے کا کہا- اسی رات وہ لوگ واپس محل میں آ گئے- اچھی بات یہ ہوئی تھی کہ شہزادہ سو چکا تھا ورنہ وہ یہ ہی ضد کرتا کہ وہ محل نہیں جائے گا، گاؤں میں ہی رہے گا-

اس بادشاہ کی ریاست کے لوگوں میں ایک اچھی بات یہ بھی تھی کہ شاہی فرمان جاری ہو جانے کے بعد وہ اس پر بڑی سختی اور ذمہ داری سے عمل کرتے تھے- منادی کرنے والوں نے بادشاہ کا فرمان لوگوں تک پہنچایا تو لوگوں نے درختوں کی کٹائی بند کر دی - مگر لکڑہارے بہت پریشان تھے کیونکہ ان کی گزر بسر ہی اس پیشے کی بدولت ہوتی تھی- ایسے لوگوں کو بادشاہ نے زمینیں دے دیں تاکہ وہ ان پر فصلیں کاشت کریں اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالیں- ایسے کاریگر جو لکڑی کی مختلف گھریلو چیزیں بنا کر فروخت کرتے تھے بادشاہ نے انھیں بھی بڑی بڑی زمینیں دے دیں تا کہ وہ ان زمینوں پر خود اپنے درخت اگائیں اور ان درختوں کی لکڑیوں سے گھروں میں استعمال ہونے والی اشیا بنایں- ان اگائے ہوۓ درختوں کو کاٹنا جرم نہیں تھا، کیوں کہ ان سے گھروں کی کھڑکی دروازے، چار پائیاں، سنگھار میزیں اور دوسری استعمال کی چیزیں بنتی تھیں- ان اقدامات سے بہت جلد بادشاہ کا ملک ہرا بھرا ہوگیا- ملک میں درختوں کی بہتات ہوئی تو بارشیں بھی پابندی سے ہونے لگیں- بارشوں کی وجہ سے کسانوں کی فصلیں بہت اچھی ہوئیں اور اتنا اناج پیدا ہوا کہ دوسرے ملکوں کے تاجر یہاں کا رخ کرنے لگے اور غلہ خرید خرید کر اپنے ملکوں میں لے جانے لگے- تجارت بڑھی تو ملک میں دولت کی ریل پیل ہوگئی- دیکھا جائے تو اس ترقی کا سبب ملکہ تھی، جس کے ایک خواب کی وجہ سے بادشاہ کو درختوں کی اہمیت کا اندازہ ہوا تھا اور پھر اس کے بعد یہ تمام تبدلیاں رو نما ہوئیں-

(ختم شد)
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 313 Print Article Print
About the Author: Mukhtar Ahmad

Read More Articles by Mukhtar Ahmad: 59 Articles with 34691 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: