انسانیت کے دشمن کون

(Khawar Abbas Jatoi, )

کائنات میں شر کا منبع اور سر چشمہ شیطان لعین کا انسانوں میں سب سے بڑا ایجنٹ یہودی ہے اور یہودیوں کا سب سے بڑا آلہ کار پروٹسٹنٹ عیسائی ہیں۔ انہی کے ذریعے یہودیوں نے چرچ کو علیحدہ کرایا ، سود کی اجازت لی اور بینک آ ف انگلینڈ بنایا۔ انہی کے ذریعے سے یورپ کی وہ تہذیب پروان چڑھی ہے جس کی بنیاد سیکولرازم، سودپرمبنی سرمایاداری ہے۔ اس دوران علم کی دوسری آ نکھ بند کر دی گئی اور وحی کی جانب بالکل نہیں دیکھا گیالہٰذا دنیا میں دجالیت قائم ہوئی۔

سیکولرازم کے تحت مذہب کا تعلق انسان کی اجتماعی زندگی کے تمام گوشوں سے ختم کر دیا گیا۔ سود کے ذریعے یہودی نے پہلے یورپ کو جکڑا تھااب وہ چاہتے ہیں کہ پوری انسانیت ہمارے قبضے میں آ جائے۔ ورلڈ بینک اور آ ئی ایم ایف جیسے ادارے اسی لیے وجود میں لائے گئے ہیں۔ یہ فنانشل کلونیل ازم ہے جو اس وقت دنیا کے اندر اپنی جکڑ بندی کر رہا ہے۔ گلو بلائزیشن جب پورے عروج پر آ جائے گی اور معاہدہ ہوجائے گا تو ملک بے معنی ہو جائیں گے۔ حکومتوں کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی، اصل میں ملٹی نیشنل کمپنیاں ہی حکومت کر رہی ہوں گی۔ وہ اپنے منیجرز کو جو تنخواہیں دیتی ہیں، سرکاری ملازمت میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ در حقیقت یہود کا وہ سارا نظام ہے جس نے پہلے یورپ کو جکڑا پھر امریکا کو اور اب ساری دنیا کو جکڑ دینا چاہتا ہے۔ ہولوکاسٹ یہودیوں کے متعلق دوسری جنگ عظیم کے دوران سبق آموز واقعات کا مجموعہ ہے۔یہودی وہ قوم ہیں جن کے بارے میں دنیا کے کسی کونے میں بھی کوئی اچھی رائے نہیں پائی جاتی۔شیکسپیئر جیسے ڈرامہ نگار نے بھی ’’شائلاک‘‘ نامی سود خور اور ننگ انسانیت کردار کو یہودی مذہب کا پیراہن پہنایا ہے۔

قرآن مجید نے یہودیوں پر جو سب سے بڑا الزام دھرا ہے کہ وہ قاتلین انبیاء علیہم السلام ہیں اور حد تو یہ کہ انھوں نے محسن انسانیت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے قتل سے بھی دریغ نہیں کیا۔دنیا پر مسلمانوں کے ایک ہزار سالہ دور اقتدار میں یہودی بہت عافیت میں رہے اور یہ دور ختم ہوتے ہی انہوں نے اپنی سازشوں کا نشانہ مسلمانوں کو ہی بنایا اور فلسطینیوں کی کمر میں چھرا گھونپا۔دنیا کی ہر قوم ان کی پس پردہ ذہنیت سے خائف ہے اور انہیں اپنے سے دور رکھنا چاہتی ہے۔اسی لیے مغربی اقوام نے انھیں اپنے ہاں جگہ دینے کے بجائے مسلمانوں کے سر منڈھ دیا ہے۔ان کی ذہنیت،ان کی تاریخ،ان کے عقائد اور ان کا انجام اس قرآنی آ یت کے مصداق ہیں کہ ہم نے ان پر ذلت اور مسکنت مسلط کر دی ہے ’’ہولوکاست‘‘ یونانی الفاظ سے ماخوذ ایک مرکب ہے جس کا مطلب ’’مکمل طور پر نذد آتش کردینا ‘‘ہے۔ اس سے مراد یہودیوں کا یہ دعویٰ ہے کہ کم و بیش 60 لاکھ کچہریوں میں یہودی وکلا اور یہودی ججوں تک کو باہر نکال دیا گیا اور انہیں بری طرح مارا پیٹا گیا۔

1935 ء میں ہٹلر نے ایک تقریر کے ذریعے یہودیوں کو رہے سہے تمام سول حقوق سے بھی محروم کر دیا۔ یہودیوں کے خلاف نازیوں کا یہ آ غاز انجام تھا۔ جنگ عظیم دوم کے دوران جرمن نے ہولو کاسٹ کے لیے جو اصطلاح استعمال کی اس سے مراد ’’یہودیوں کے مسئلے کا آ خری حل ‘‘۔ یہ اصطلاح جرمن زبان سے متعلق تھی۔

صیہونی تاریخ دانوں کے متعلق جرمنی کا ہر ادارہ یہودیوں کے اتنے بڑے قتل کے پروگرام میں ملوث تھا۔ ان کے مطابق یہودیوں کا قتل عام اس تمام علاقے میں ہوا جو نازی جرمنوں کے قبضے میں تھے۔ اس سے پہلے یہاں یہودیوں کی بستیاں آباد تھیں اور 1939ء میں 7 ملین یہودی نفوس یہاں ہنسے بستے گھروں میں آ باد تھے جن میں 5 ملین کو قتل کر دیا گیا۔ پولینڈ اور روس میں قتل ہونے والوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ یہودی دعوے کے مطابق اس سے شدید ترین حالات روس کے مفتوحہ علاقوں میں بھی پیش آ ئے۔ یہاں یہودیوں کو زندہ بھی جلایا گیا اور جب سامان میسر نہ ہوا تو لاکھوں یہودیوں کو روس کے شدید ترین ٹھنڈے علاقوں میں تنہا چھوڑ دیا گیا اور یہ لوگ یخ بستہ اور جان لیوا ٹھنڈی ہواؤں سے زندگی کی بازی ہارگئے۔
اس سب کے باوجود 1941ء کے آ خر تک روس کے صرف 15 فیصد یہودی مارے گئے تھے، اس رفتار کو تیز کرنے کے لیے ایک بار پھر وسیع پیمانے پر زہریلی گیسوں کا تجربہ کیا گیا اور ظاہر ہے یہ تجربہ شہری علاقوں میں ممکن نہ تھا۔ اس کے لیے شہر سے باہر بہت بڑی بڑی جگہیں بنائی گئیں جہاں یہودی نسل کو نابود کرنے کا عمل سالوں تک دہرایا جاتا رہا، ایک پہلو یہ بھی ہے کہ دنیا کے کسی کونے سے اس وقت اور آ ج بھی یہودیوں کے حق میں کوئی آ واز بلند نہیں ہوئی۔ وجہ یہ ہے کہ اس قوم نے جس برتن میں کھایا اسی میں چھید کیا۔۔۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 164 Print Article Print
About the Author: Khawar Abbas Jatoi
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ