نظریہ پاکستان کی بقا اور ہمارا کردار

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: انیلہ افضال
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیﷺ
ہماری نئی نسل نے ایک آزاد ملک میں آنکھ کھولی ہے اسی لیے وہ اس کی قدر وقیمت سے ناواقف ہے چہ جائیکہ ہم ان سے یہ امید رکھیں کہ وہ اساس پاکستان اور نظریہ پاکستان سے آگاہ بھی ہوں گے کیونکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہماری نسلوں کو اساس پاکستان اور نظریہ پاکستان سے دور کر دیا گیا ہے۔ اگر ہم نظریہ پاکستان کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اس کی اساس کو سمجھنا ہوگا۔
اس سلسلے میں ہمیں سب سے پہلے تو یہ جاننا ہو گا کہ نظریہ دراصل کیا ہوتا ہے؟ ’’نظریہ وہ مستحکم سوچ ہے جو آپ کو عملی زندگی میں قدم اٹھانے پر مجبور کرے‘‘۔ نظریہ کا تصور یونانی فلسفے سے آیا، جہاں اسے ’’تھیوریا‘‘ کہا جاتا تھا اور اس کا اصل مطلب ’’کو نظر سے دیکھنا یا ناظِر‘‘ کے تھے، مگر فلسفہ میں ’’غور و فکر یا قیاس‘‘ قرار پائے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا نظریہ تھا جو قیام پاکستان کی اساس بنا؟ یہ نظریہ ’’دو قومی نظریہ‘‘ کہلاتا ہے۔ جیسا کہ واضح ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ متحدہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمان کوئی اقلیت نہیں ہیں بلکہ ایک علیحدہ قوم ہیں اور قومیت کی ہر تعریف پر پورا اترتے ہیں۔ 22 مارچ 1930کو قائد اعظم نے مرکزی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مسلم قومیت کی بنیاد کے بارے میں دو ٹوک الفاظ میں فرمایا: ’’مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد صرف کلمہ توحید ہے۔ نہ وطن ہے، نہ نسل ہے۔ ہندوستان کا جب پہلا فرد مسلمان ہوا تھا تو وہ پہلی قوم کا فرد نہیں رہا تھا، وہ ایک الگ قوم کا فرد بن گیا تھا‘‘۔

آپ نے غور فرمایا کہ پاکستان کے مطالبے کا جذبہ محرکہ کیا تھا۔ اس کی وجہ نہ ہندوؤں کی تنگ نظری تھی، نہ انگریزوں کی چال یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ تھا‘‘۔ پھر8 مارچ 1944 کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ایک تقریر کے دوران فرمایا، ’’ہم کوئی ایسا نظام حکومت قبول نہیں کر سکتے جس کی رو سے ایک غیر مسلم اکثریت محض تعداد کی بناء پر ہم مسلمانوں پر حکومت کرے اور ہمیں اپنا مال بردار بنا لے‘‘۔

دوسری بات جو دو قومی نظریے سے براہِ راست طور پر تعلق رکھتی ہے، اسے دو قومی نظریہ کہہ لیجے یا دو قومی معیشت یہ کوئی جدید تصور نہیں تھا بلکہ تقریباً ایک ہزار سال پہلے البیرونی سال ہاسال تک ہندو معاشرے کے مطالعے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ ہندو اور مسلمان ہر معاملے میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان کے عقائد اور ہمارے عقائد میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ہندوؤں کا کٹرپن تمام غیر ملکیوں پر مرتکز ہے۔ ہندو انہیں ملیچھ یا ناپاک کہتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہر قسم کا رابطہ ممنوع قراردیتے ہیں نہ ان کے ساتھ شادی بیاہ کا رشتہ روا رکھتے ہیں نہ ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے کے روادار ہیں کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ ایسا کرنے سے ان کا دھرم بھرشٹ ہوجائے گا۔ تحریک آزادی ہند کے جدید مؤرخ آر۔ سی موجمدار تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ البیرونی کے الفاظ 1800ء تک قریب قریب بالکل درست تھے۔ گویا مغلوں کی رواداری اور اکبر کا دین الہٰی بھی ہندوؤں کے زاویہ نگاہ میں کوئی تبدیلی نہ پیدا کر سکا اور اگر ہم جنوبی ایشیا کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ یہ ایک دو قومی خطہ تھا ایک دور میں مسلمان قوم غالب تھی۔ پھر دونوں قوموں پر انگریزوں کا تسلط ہوا۔ ہماری قومی جدوجہد کے پہلے دورمسلمانوں نے ایک مرتبہ پھر غالب آنے کی کوشش کی دوسرے دور میں اسے ’’دوقومی ملک‘‘ بنانے کی سعی فرمائی۔ جداگانہ انتخاب کی تجویز اسی دور کی یادگار ہے اور جب ’’دوقومی ملک‘‘ بنانا ناممکن نظر آیا تو یہ خطہ دو ملکوں میں بٹ گیا۔ ایک ہندوؤں کا ملک ایک مسلمانوں کا ملک۔

اوپر بیان کیے گئے مندرجات سے نظریہ پاکستان تو مکمل طور سے واضح ہو جاتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے اس نظریہ کی بقا کے لیے کیا اقدامات کیے اور مزید کن اقدامات کی ضرورت ہے؟ تو ایک نظر ان اقدامات پر بھی ڈال لیں جو مختلف ادوار میں اساس پاکستان کی بقا کے لیے کیے گئے ہیں۔27ستمبر 1971ء کو پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے ملک کے ممتاز ماہرین تعلیم اور دانشوروں کو لاہور میں اکٹھا کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ نظریہ پاکستان کی تعریف کریں۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر علامہ علاؤالدین صدیقی نے اپنے تحریری مقالے میں کہا کہ، ’’نظریہ پاکستان دراصل اسلام کا دوسرا نام ہے‘‘۔ 1981ء میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں مطالعہ پاکستان کو سرکاری تعلیمی اداروں میں لازمی مضمون کے طور پر متعارف کرایا گیا تاکہ نئی نسل کو نظریہ پاکستان سے متعارف کروایا جاسکے۔ حکومتی سطح پر وقتاً فوقتاً کئی ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جن کے ذریعے سے نظریہ پاکستان کو عام عوام کے ذہنوں میں راسخ کرنے کی سعی کی گئی ہے۔

آج ہمارا ملک نہ صرف بھارت اور دیگر صیہونی قوتوں سے نبرد آزما ہے بلکہ اس علاقائیت، صوبائیت، لسانئیت اور سیاسی خلفشار کا بھی سامنا ہے۔ ایسے میں نظریہ پاکستان سیکولرزم کے نعروں میں کہیں دم توڑتا نظر آتا ہے۔ دوسری طرف بھارت دیگر صیہونی قوتوں کے ساتھ مل کر پاکستان کو دبوچنے اور پھر ہضم کر جانے کی سر توڑ کوششیں کر رہا ہے۔

ایسے میں وقت کی اہم ضرورت ہے کہ نظریہ پاکستان اور اسلام کے ہمہ گیر نظریہ وحدت ملّت پر ایمان رکھنے والے محب وطن پاکستانی زعماء، دانشوراور پاکستان سے محبت کرنے والے افراد، جماعتیں اور ادارے نوجوان نسل اور ملت اسلامیہ کے شعور کو بیدار کرنے کا اہتمام کریں، نوجوانوں کو نظریہ پاکستان کی حقیقت سے آگاہ کریں اور ان کو بتائیں 1971ء کے بعد اس بچے کھْچے آدھے پاکستان کی بقا کا راز صرف اور صرف نظام مصطفیٰﷺ کے قیام، نظریہ پاکستا ن کی روشنی میں ملک عزیز کے اداروں کے استحکام اور ایک بے لوث مخلص، نظریہ کائنات سے با خبر، نظام مصطفیٰﷺ کو سمجھنے والی عالم فاضل اور دیانتدار قیادت کے انتخاب میں پنہاں ہے۔ پاکستان کی حفاظت کا یہ اہم فریضہ صرف اور صرف پاکستان کی وہ نوجوان نسل ہی سر انجام دے سکتی ہے جو نظریہ کائنات اور نظریہ پاکستان پر یقین رکھتی ہو۔
بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 182 Print Article Print
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1115 Articles with 345298 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: