بچوں میں انٹرنیٹ کا استعمال اور ہماری ذمے داری

(Sana Waheed, )

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی انٹرنیٹ کا استعمال تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔بچے ہوں یا بڑے انٹرنیٹ پرہر طبقہ فکر اور ہر عمر کے افراد کے لئے خاطر خواہ مواد موجود ہے۔انٹرنیٹ کی اہمیت اور افادیت سے ہم سب اچھی طرح واقف ہیں انٹرنیٹ کے فوائد اور نقصانات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں مگر اب ایسی خبریں منظر عام پر آرہی ہیں کہٹیکنالوجیکل کمپنیز کے مالکان اپنے بچوں کو موبائیل فون کے استعمال سے دور رکھتے ہیں جبکہ باقی دنیا کے بچے اس کے عادی ہو چکے ہیں ۔اس ضمن میں ایک ٹائمز جرنلسٹ کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی موٹی اسامیاں آپکے بچوں کو جدید ٹیکنالوجی کی اشیاء دیکر آپ سے بلین کما رہی ہیں جبکہ انکا اپنا گھر کتابوں سے بھرا ہے۔ یہ بات حیران کن ضرور ہے لیکن نا ممکن نہیں۔ ایک ریسرچ کے مطابق اسمارٹ فون کا ذیادہ استعمال بے خوابی، ڈپریشن،یاداشت کی خرابی اور دیگر دماغی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ جبکہ موبائیل فون کی اسکرین سے نکلنے والی شعاعیں بھی نقصان دہ ہوتی ہیں بلخصوص بچوں کے لئے شاید اسی لئے بل گیٹس اور مارک زکر برگ نہیں چاہتے کہ انکے بچے کمپیوٹر اور فیس بک کے عادی ہوں ۔جی ہاںدنیا کے دوسرے امیر ترین اور کمپیوٹر ونڈوز کے آنر بل گیٹس کے بچوں کے پاس انکے ذاتی موبائیل فون نہیں ہیں اور انکے گھر میں کمپیوٹر صرف کچن میں ہے انکے بچے 14سال کی عمر سے پہلے موبائیل فون استعمال نہیں کرسکتے اسی طرح فیس بک کے بانی مارک زکر برگ جن کا خیال ہے کہ فیس بک جیسی ایپس لوگوں کو قریب لانے کا ذریعہ ہیں اور پوری دنیا کو فیس بک' واٹس ایپ اور انسٹا گرام کی سہولت استعمال کرنی چاہیے لیکن اپنی بیٹیوں کے لئے وہ ایسا نہیں سوچتے وہ چاہتے ہیں کہ انکی بیٹیاں فیس بک کڈز میسینجر استعمال کرنے کے بجائے Dr suess کو پڑھیں اور باہر کھیلیں۔ آئی فون اور آئی پیڈ بنانے والے اسٹیو جابز کے گھر کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں انکے گھر میں بھی بچوں کو ٹیکنالوجی کے محدود استعمال کی اجازت ہے۔اب اگر ہم باقی دنیا کی بات کریں تو ہمارے بچے کم عمری سے ہی موبائیل اور آئی فون وغیرہ کے استعمال میں مہارت حاصل کرلیتے ہیںاور اپنا کثیر وقت انٹرنیٹ کے استعمال پر صرف کرتے ہیں انٹرنیٹ کی آسان اور 24 گھنٹے فراہمی بھی اسکی بڑی وجہ ہے۔سوشل میڈیا ایسا سحر ہے جسکے شکنجے سے بچ نکلنا ممکن نہیں پھر بھی اگر کوئی اسکے جال میں نہ پھنسے تو ایسے ایسے گیمز متعارف کرائے جا چکے ہیں جو کئی گھنٹوں تک وقت کے ضیاع کا باعث بن سکتے ہیںسینکڑوں کی تعداد میں بنائی گئی ویب سائٹس کے ذریعے ہر موضوع تک رسائی ممکن ہے یو ٹیوب پر دنیا بھر کی معلومات کا خزانہ ہے یہ تو طے ہے کہ انٹرنیٹ کے استعمال کا انحصار اسکے استعمال کرنے والے کے دماغ اور نیت پر ہے مگر بچوں کے حوالے سے بہت کچھ ایسا ہے جو والدین ہی طے کرتے ہیں۔ جہاں انٹرنیٹ کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا وہاں اس چیز کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کے انٹرنیٹ پر تفرقہ انگیز اور انتشار پیدا کرنے والا مواد بھی بکثرت موجود ہےجو غیر محسوس طریقے سے بچوں کے معصوم ذہنوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔حال ہی میں نیوزی لینڈ میں پیش آنے والے انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعے سے بھی اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ اگر ہم اس سانحے کے چشم کشاں حقائق کو پس پشت ڈال کر غور کریں تو منظر عام پر آنے والی دردناک ویڈیو انتہائی مقبول گیم pubg کی عکاسی کرتی ہے اگرچہ ہم اس گیم سے ناواقف ہیں اور ہمیں اس گیم کی تخلیق کے پیچھے بھی ایسی وجوہات نہیں ملیں جن سے یہ ثابت ہو کہ اسے مسلمانوں کے خلاف بنایا گیا ہے اس لئے ہم نے ایسے واقف کاروں سے رابطہ کیا جو بکثرت اس گیم کو کھیلنے کے عادی ہیں اور جب انہوں نے ہمارے خیال کی تصدیق کی تو ہمیں اندازہ ہوا بظاہر ایک معمولی گیم کس قدر اثر انداز ہو سکتا ہے یقینا حملہ آور نے اسے اپنے مذموم ارادوں کے لئے غلط استعمال کیا ۔ صد شکر کے ہم نے اپنے 9 سالہ بیٹے کو یہ گیم کھیلنے کی اجازت نہیں دی مگر اسکے ہم عمر بہت سے بچے اس گیم کو کھیلنے کے عادی ہیں۔ اور صرف یہی نہیں لڑائی جھگڑے اور مار دھاڑ والے کئی گیمز بچوں میں مقبول ہیں اور شاید والدین کے لئے ہر وقت اپنے بچوں کی نگرانی کرنا بھی ممکن نہ ہولیکن بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بچہ ان چیزوں کے منفی اثرات تو نہیں لے رہا۔ اگر بچہ منفی چیزوں سے محظوظ ہو رہا ہے تو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے یہ بات قابل تشویش ہے اور اسکے سدباب کے لئے مناسب اقدام کرکےبچوں کو بچایا جا سکتا ہے۔ ٹک ٹاک اور اس جیسی دوسری ایپس بھی بچوں کی اخلاقیات پر برے اثرات مرتب کرنے کا باعث ہیں ۔ جب یہجدید ٹیکنالوجی ہم تک پہنچانے والے ہی اپنی بنائی ہوئی چیزوں سے مطمئن نہیں تو ہم جیسے والدین کے لئے یہ بات لمحہ فکریہ ہے۔ ان تمام ویب سائٹس،ایپس اور گیمز کو بنایا ہی اس طرز پر جاتا ہے کہ یہ لوگوں کو اپنا عادی بنالیں۔ ان تمام حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے بچوں کو موبائیل فون کے استعمال کی کس حد تک اجازت دینی ہے؟ سوشل میڈیا کا کتنا استعمال کروانا ہے؟ کونسے گیمز انکی ذہنی استعداد کے لئے نقصان دہ نہیں ہیں؟ اور کونسی ایپس پر پابندی عائد کرنی ہے؟ اسکا فیصلہ ہم والدین پر چھوڑتے ہیں ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 270 Print Article Print
About the Author: Sana Waheed

Read More Articles by Sana Waheed: 12 Articles with 6653 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: