غلامی کیا ہے؟ ذوق حسن و زیبائی سے محرومی!

(Malik Shafqat Ullah, )

پلوامہ فدائی حملے کے بعد بھارت کا جنگی جنون ایک بار پھر بڑھ گیا اور اس نے جنگ و جارحیت کیلئے مہم جوئی شروع کر رکھی ہے۔ بھارت میں عام انتخابات کا شیڈول جاری کیا جا چکا ہے جس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں پہلے مرحلے کے انتخابات 10 اپریل کو ہو نگے۔ لتہ پورہ جموں کشمیر کا علاقہ ہے جو سرینگر جموں شاہراہ پر واقع ہے۔اس علاقے کے نزدیک بھارتی فضائیہ کا ہوائی اڈہ اونتی پورہ میں ہے۔ یہ ائیر پورٹ پلوامہ سے چند کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے۔ جنوبی کشمیر گزشتہ چند برسوں سے عسکریت کا مرکز بنا ہوا ہے۔ جس طرح گزشتہ چند برسوں سے بھارتی فورسز نے کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ تیز کیا ہے اور قتل عام کا دورانیہ دراز ہو رہا ہے اس نے ہر ایک کشمیری کو بھارت سے متنفر کر دیا ہے۔ اس جد و جہد میں مزید نوجوان شامل ہو رہے ہیں ۔ طلباء اپنی تعلیم نا مکمل چھوڑ کر عسکریت کی طرف آ رہے ہیں۔ اس میں کسی سوجھ بوجھ یا شعور کا کوئی تعلق نہیں ، کیوں کہ لاتعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی بندوق اٹھانے پر مجبو ر ہوئے ہیں ۔ نصف درجن سے زیادہ پی ایچ ڈی سکالرز اپنے مستقبل سے بے نیاز ہو کر اس تحریک آزادی میں شامل ہوئے اور شہادت پائی۔ فدائی حملہ کوئی آسان کام نہیں ، اپنی جان دینا معمولی نہیں ۔ ایک ایسا نوجوان جس کے سامنے زندگی پڑی ہے ، وہ اپنے آپ کو قربان کیوں کر کرے، اس کی ذہن سازی کسی تنظیم نے نہیں کی بلکہ بھارت کی ریاستی دہشتگردی نے کی ہے۔

کشمیریوں کو بھار ت نے جوق در جوق بندوق اٹھانے پر مجبور کیا ، اگرچہ اقوام متحدہ بھی بندوق اٹھانے کی اجازت دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر A/RES/37/43 بتاریخ 3 دسمبر 1982 صاف طور پر بیرونی قبضے کے خلاف آزادی کی جنگ میں مسلح جد و جہد سمیت تما م دستیاب وسائل کے استعمال کی اجازت دیتی ہے۔ بھارت نے بھی کشمیر پر جبری قبضہ کر رکھا ہے اس قبضے کو ختم کرنے کیلئے اقوام متحدہ میں بھارتی حکمرانوں نے وعدے کئے ، سلامتی کونسل کی قراردادیں بھی موجو د ہیں۔لیکن بھارت نے ہمیشہ کشمیر میں رائے شماری کرانے کے وعدوں کو وفا نہ کیا بلکہ تحریک میں شامل ہونے والوں کا قتل عام کیا۔ ان کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا، سینکڑوں نوجوانوں کو تشد د کے دوران شہید اور معذور کیا ، گزشتہ برسوں میں ہزاروں نوجوانوں ، بچوں اور خواتین تک سے پیلٹ فائرنگ سے بینائی چھین لی ۔ کشمیریوں کو بینائی سے محروم کر کے بھارت کس امن اور ترقی کی امید رکھتا ہے؟ کشمیریوں پر گولہ باری کرنے والی فورسز پر کشمیری کیسے گل باری کر سکتے ہیں؟کشمیری اب جان چکے ہیں کہ بھارت صرف گولی کی زبان سمجھتا ہے مگر کشمیریوں کی گولی ہی نہیں، کنکریوں تک کو دہلی اور واشنگنٹن کے حکمرانوں نے پاکستان کے کھاتے میں ڈال دیا ہے۔ پلوامہ حملے کے بعد امریکی وزیر خارجہ پومپیو کا بیان آیا کہ اگر ایک اور کشمیر میں پلوامہ جیسا حملہ ہوا تو یہ پاکستان کیلئے اچھا نہیں ہو گا۔ حقائق سے جان چھڑا کر بھارت نے دنیا کو بھی اور اپنی عوام کو بھی گمراہ کیا ہے۔ یہاں تک کے پلوامہ حملے کے بعد بھارتی نیوز رومز،وار رومز بنے رہے ۔کشمیریوں کے ساتھ دھوکہ دہی کی جا رہی ہے۔مسئلہ کشمیرکو عالمی مسئلے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ تنازعہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔کشمیریوں کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنا کجا ، اس فیصلے میں شامل تک نہیں کیا گیا، اس سے بڑی نا انصافی اور کیا ہو سکتی ہے؟جب آج کا نوجوان اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے والد ، بھائی کو قتل ہوتے دیکھتا ہے، اپنے لئے تعصب اور امتیازی سلوک دیکھتا ہے ، اپنی ماں بہن کی تذلیل دیکھتا ہے تو اس میں انتقام کا جذبہ پیدا ہونا فطری ہے ۔

آج کشمیریوں کی سوچ پختہ ہو چکی ہے کہ اس نے بھارت سے آزادی لینی ہے ، بیرونی قبضے کو ختم کرنا ہے ، اس کیلئے بات چیت ضرور ہو سکتی ہے مگر کشمیری اس بات چیت میں کبھی شامل نہیں ہوا۔ بھارت طاقت اور تشدد آزما کر تحریک آزادی کو ختم کرنا چاہتا ہے مگر وہ آزادی کے ولولے کو کچل نہ سکا۔کشمیری اب تنگ آمد ، جنگ آمد کے تحت میدان میں ہیں، دنیا کی حالت دیکھ کر اور جس طرح افغان قوم نے پہلے سوویت یونین اور اب نیٹو فورسز کو شکست فاش دی ہے ، اس نے کشمیریوں کو بھی اس طرف مائل کیا ہے کہ بیرونی قبضے مسلسل جد و جہد سے ختم ہو سکتے ہیں۔پلوامہ حملے کے بعد جموں سمیت بھارت میں کشمیریوں پر حملے تیز ہوئے، تعلیم ، روزگار، کاروباراور ملازمت کیلئے بھارت کی ریاستوں میں موجود کشمیریوں کو ہوٹلوں ، ہوسٹلوں ، گیسٹ ہاؤسز اور کرایہ کے گھروں سے نکال دیا گیا ۔کشمیریوں پر بغاوت اور غداری کے مقدمے دائر کر کے انہیں گرفتار کیا گیا ۔ تعلیمی ادارں نے کشمیری طلبا کو ہوسٹلوں ، کالجوں سے نکال دیا ، سینکڑوں طلباء واپس وادی پہنچ گئے، یہاں تک کہ تعلیمی اداروں سے کشمیری پروفیسرز کو بھی بے دخل کیا گیا۔ لا تعداد کو ٹرینوں اور کوچوں میں تشدد کا نشانہ بنا یا گیا، جموں میں کرفیو کے باجود کشمیریوں پر حملے ہو رہے ہیں ، کیا یہ فورسز کی سرپرستی کے علاوہ ممکن ہے؟ فورسز کشمیر میں احتجاج کرنے والوں کو بارود، بندوق اور پیلٹ سے شہید ، معذور اور اندھا کرتی ہیں مگر جموں میں انہیں فورسز نے مسلمانوں کی املاک کو تباہ کرنے والے ہندو مظاہرین پر ایک گولی، لاٹھی ، ٹئیر گیس شیل یا پیلٹ فائر نہیں کیا۔ بھارت اور اس کے شدت پسندوں نے نہتے کشمیریوں کو چن چن کر نشانہ بنایا اور وہ کشمیریوں سے امن اور دوستی کے امید رکھتے ہیں ۔

کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کی حمایت کرنے پر پاکستان بھی ان کے نشانے پر ہے ، امن پسند دنیا نے اس صورتحال کا فوری نوٹس نہ لیا ، اس لئے جموں اور بھارت میں کشمیریوں اور مسلمانوں کی منظم نسل کشی تیز ہوئی اور کشمیر میں تشدد تشویشناک رخ اختیار کر گیا ہے۔جماعت اسلامی اور آزادی کی تحریکوں کے سر گرم کارکنوں کو صرف ایک پلوامہ حملہ بنیاد بنا کر گرفتار کیا جا رہا ہے۔ بھارت ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتا ہے۔ عام انتخابات کو کامیاب کرانے کیلئے بھارت کسی بھی حد تک گر سکتا تھا سو گر چکا۔ جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے اور مظلوم و مقہود قوم کو احساس ہو جاتا ہے کہ ان کے جائز آواز سننے کی بجائے ، اسے دبانے کے نیچ حربے اختیار کئے جاتے ہیں تو ایسے حالات میں شہید عادل ڈار جیسے نفوس جنم لیتے ہیں۔اگر پوری کشمیری قوم شہید عادل ڈار کے نقش قدم پر جانے کا ارادہ رکھتی ہے تو یہ بلا جواز نہیں ۔اگر مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی امنگوں اور آرزؤوں کے مطابق نہ ہوا تو یہ چنگاری نہ صرف اس پورے خطے بلکہ پورے عالمی خرمن کے امن کو خاکستر کر سکتی ہے۔یہ بھارت کی ہٹ دھرمی اور نہتے کشمیریوں پر ظلم و تشدد کا نتیجہ ہی ہے کہ کشمیری عوام انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو چکی ہے۔مسئلہ کشمیر کا با عزت حل ہی اس خطے میں مستقل امن کی ضمانت ہے ورنہ وہ وقت قریب ہے جب یہ پورا خطہ معمولی چنگاری سے راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گا۔اگر بھارت انتخابات میں ووٹ کاسٹنگ کو یقینی بنا سکا تو اقوام متحدہ میں اس کا مؤقف مزید مضبوط ہو جائے گا، لیکن ایسا ممکن نہیں۔ اب کی بار چال بھارت کی نہیں بلکہ اﷲ کی چلے گی۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 158 Print Article Print
About the Author: Malik Shafqat Ullah

Read More Articles by Malik Shafqat Ullah: 33 Articles with 9193 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: