درخت لگائیں، جنت میں گھر بنائیں

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

 شجرکاری مہم شروع جاری ہے۔اس مہم میں حکومتی اہلکار اور عوام ، سول سوسائٹی، طلباء و طالبات بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔زمین کا زیور درخت پیڑ پودے صحت مند اور محفوظ زندگی کی نشانی ہیں۔ اگر پھل دار درخت لگائے جائیں تو ملک میں پھل اور میوہ جات کی فراوانی ہو سکتی ہے۔ ہر موسم میں ہرے بھرے رہنے والے درخت لگانے بھی ضروری ہیں مگر پھل دار درخت کے فوائد زیادہ ہیں۔ اس سے معاشی حالت بھی بہتری آتی ہے اور ماحولیاتی آلودگی بھی کم ہو سکتی ہے۔ عمراں خان کو موقع مل رہا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ثابت کر سکتے ہیں۔ ان کا میڈیا ٹرائل ہوا تو ہو سکتا ہے کہ وہ اس طرح کام نہ کر سکیں جیسا کہ ان کا عزم ہے۔یا وہ رکاوٹوں کا بہانہ پیش کر کے سب کے منہ بند کر دیں۔ پاکستان نے پیپلز پارٹی کو بھی آزما لیا، مسلم لیگ ن کو بھی دیکھ لیا۔میاں برادران نے عدالتوں، نیب کا سامنا کیا، بیگم کلثوم نواز کی قربانی دی، لیکن ملک سے فرار نہ ہوئے، زرداری صاحب بھی پھر سے جیل جانے کو تیار بیٹھے ہیں، مسلم لیگ ق کا زمانہ بھی گزر گیا۔ ان کا ایک اور دور سامنے آ رہا ہے۔ چوھدری صاحب پنجاب اسمبلی کا ایوان چلا کر اپنی صلاحتیں منوا سکتے ہیں۔ کیااب یہ کریڈٹ عمران خان کو دیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم ہاؤ س کے اخرجات کم دیئے۔بھینسیں فروخت کر دیں، گاڑیوں کی نیلامی ہوگئی۔ وزیراعظم ہاؤ س ملک کا سب سے بڑا ریسرچ سنٹر بن رہا تھا۔ ان کے رفقاء کے بارے میں جو کچھ دکھایا جا رہا ہے وہ سب عمران خان کی پالیسی اور اعلانات سے مطابقت کیسے نہیں رکھتا۔ مگر شجرکاری مہم کے حوالے سے ملک گیر سطح پر جو مہم چلی ہے وہ انتہائی خوش آئیند ہے۔ اس کی تعریف ہونی چاہیئے۔ کیوں کہ درخت لگیں گے تو ماحول صاف ستھرا ہو گا۔ بارانی علاقوں میں بھی درخت لگائے جا سکتے ہیں۔ تا ہم ہر علاقہ کی منفرد آب و ہوا ہے۔ زمین کے مطابق درختوں اور پودوں کا انتخاب ضروری ہوتا ہے۔ درخت زمین کے کٹاؤ ، لینڈ سلائیڈنگ میں بھی کمی لا سکتے ہیں ۔ سالانہ ہزاروں ایکڑ اراضی کٹاؤ کی وجہ سے سمندر کی نذر ہو جاتی ہے۔ درخت سایہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ مال مویشیوں کے لئے پتے، چارہ بھی ان سے ہی ملتا ہے۔ جن علاقوں میں زیادہ درخت ہوں، وہاں کے لوگ مال مویشی بھی پال سکتے ہیں۔ جو دودھ، اون ، گوشت کا زریعہ ہیں۔یہی نہیں دنیا میں لوگ مویشیوں کے گوبر سے کئی فوائد حاصل کرتے ہیں۔ گوبر سے گیس اور بجلی تیار کی جاتی ہے، گوبر کھاد کا بہترین متبادل ہے۔یہ زمین کو زرخیز کرتا ہے۔جس سے کاشت بڑھ جاتی ہے۔ لوگ فن و ہنر سے بھی اپنی مالی حالت بہتر کر سکتے ہیں۔ اس طرح زیادہ سے زیادہ شجرکاری معیشت کو بڑھاتی ہے۔ تا ہم پھلدار درخت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ان درختوں کی ہر سال پت جھڑ موسم میں کٹائی کی جاتی ہے۔ کشمیر میں سیب کے درختوں کی ہر سال نومبر دسمبر میں کٹائی کی جاتی ہے۔ اس کٹائی کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ جن علاقوں میں برف باری ہوتی ہے، اس کٹائی کی وجہ سے برف کے بوجھ تلے دب کر ٹہنیاں اور شاخیں ٹوٹتی نہیں ہیں۔ اس لئے درخت محفوظ رہتا ہے۔ اسے زخم نہیں لگتا۔ اس کٹائی کا بھی فائدہ ہے کہ لکڑیاں بالن کے کام آسکتی ہیں یا ان سے لکڑی کی دیگر اشیاء جیسے کہ ٹوکریاں، چھاج وغیرہ تیار کی جاتی ہیں۔ لکڑیوں کا فرنیچر بھی دیدہ زیب ہوتا ہے۔ یہ سب نقش نگاری کے بھی کام آتی ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں لوگ لکڑی کے مکان تعمیر کرتے ہیں۔ یہاں تک چھتیں بھی لکڑی کی ہوتی ہیں۔ علاوہ ازیں صوفے ، میز ، کرسیاں، الماریاں، کھڑکیاں ، دروازے بھی لکڑی سے تیار کئے جاتے ہیں۔

شجرکاری مہم میں ہر کسی ، ہر فرد، ہر ادارے، ہر گھر کو بھر پور حصہ لینا چاہیئے۔یہ کام رضاکارانہ ہے۔عوام اپنی ذمہ داریاں پوری کر سکتے ہیں۔اسلام نے درخت لگانا جنت میں گھر تعمیر کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ یہ کام حکومت کا ہی نہیں ہر فرد کا ہے۔ ہر انسان کم از کم پانچ درخت لگائے تو پاکستان شجرستان بن سکتا ہے۔ہر سو ہریالی آ سکتی ہے۔ ماحول انسان دوست بن سکتا ہے۔ یہ قومی خدمت بھی ہو گی اور گھریلو آمدن میں اضافہ بھی ہو گا۔ وزیراعظم عمران خان نے پانچ سال میں 10ارب درخت لگانے کا اعلان کیا ہے۔ شجرکاری کا دنیا کے لئے بھی فائدہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگانے سے گلوبل وارمنگ بھی کم ہو گی۔ پاکستان کا یہ کردار منفرد ہے ۔ دیگر ممالک بھی اس طرح شجرکاری مہم شروع کر سکتے ہیں۔ ہر ملک اپنی آب و ہوا اور موسم کے مطابق اس میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔ اب موسمیات محکمہ کے مشیروں، ذمہ داروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کس طرح اس مہم کو کامیاببنا سکتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ وفاق کے پی کے ماڈل کے طور پر شجرکاری میں حصہ لے رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں 200کے قریب مراکز قائم کئے گئے ہیں جہاں عوام کو مفت درخت دستیاب ہوں گے۔ لوگ درخت حاصل کر کے انہیں اپنے گھروں، آس پاس ، باغات اور ڈھلوانوں پر لگا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے مکھنیال ہری پور علاقہ میں دیودار کا پودا لگا کر اس مہم کو عزم کے ساتھ شروع کیا تھا۔ دیودار اب ملک میں نایاب ہو رہا ہے۔ یہ سطح سمندر سے ایک خاص بلندی پر پایا جاتا ہے۔جیسے کہ آزاد کشمیر کی وادی نیلم کے بالائی علاقے۔ اس کی لکڑی انتہائی قیمتی اور خوشبودار ہوتی ہے۔ جو خاص فرنیچر اور دیگر کاموں کے لئے بروئے کار آتی ہے۔ مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ صرف درخت لگانا ہی کوئی کام نہیں۔ بلکہ درخت لگا کر اس کی حفاظت اس سے بھی بڑی ذمہ داری ہے۔ درختوں کو پانی دیا جائے۔ ان کے گرد جنگلا کھڑا کیا جائے۔ تا کہ انہیں بچے یا مال مویشی اکھاڑ نہ سکیں۔ اگر درخت لگا کر ان کی مناسب حفاظتکی جانب بھی توجہ دی گئی تو اسے کامیاب شجرکاری مہم قرار دیا جاسکے گا۔ اگر عوام پھلدار درخت لگائیں تو یہ انشاء اﷲ سب کے لئے نفع بخشثابت ہوں گے۔کاربن ڈائکسائیڈ جیسی خراب یا انسان کے لئے مضر صحت گیسیں درختوں کی غذا ہیں جب کہ انسان کے لئے فائدہ مند غذا آکسیجن ہے جو درخت خارج کرتے ہیں۔ درخت لگانا عین عبادت ہے ۔ درختوں سے ہمارا ماحول انسان دوست بنتا ہے۔ انسان دوست ماحول ہی آج ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس لئے ہمیں شجرکاری کے ساتھ شجر پروری کی آگاہی ہونی چاہیئے۔اگر ہم درخت لگانے کے ساتھ اپنے گھروں، چھتوں، دیواروں پر ، گملوں میں پھول پودے لگائیں تو ماحول خوبصورت اور انسان دوست بن سکتا ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 192 Print Article Print
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 465 Articles with 145174 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More

Reviews & Comments

Language: