پیغام اسلام ؤ امن کانفرنس

(Babar Alyas, Chichawatni)

کی محمد ص سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
نوٹ!
عالمی پیغام اسلام ؤ امن کانفرنس اسلام آباد کے لیے ایک تحریر محترم جناب قاری حفیظ اللہ صاحب سالار پنجاب پاکستان علماء کونسل نے سینڈ کی اور اسکو مزید اپنے الفاظ لکھنے کا حکم بھی لہذا حکم کی تکمیل کرنے کی کوشش کی ھے اگر میرے الفاظ پیغام اسلام ؤ امن کانفرنس کی صحیح ترجمانی کرتے محسوس ہوں تو براۓ مہربانی دعا فرما دیں.
میں تیرے نام سے کرتا ھوں ابتدا مولا
میرے الفاظ کو بخش دے حیات مولا

سنا اور پڑھا ہے کہ یورپی لوگ بڑے باذوق ہوتے ہیں خوبصورت عمارتوں اچھے موسموں میں پرفضا مقامات ,پہاڑوں, غاروں ,سمندروں کی اچھلتی کودتی لہروں ,صحراٶں کے خاموش گوشوں ,سرسبز درختوں اور فطری نظاروں سے لطف اندوز ہوتے اور بڑی محبت بھی کرتے ہیں۔ اور یہ بھی شنید ہے کہ امریکی سیاح پرانے کھنڈرات ,تاریخی مقامات, قدیم سکوں اور نایاب برتنوں پے جان چھڑکتے ہیں۔ کہاجاتا ہے کہ انگریز نایاب پرندوں ۔ اژدھوں ,مگرمچھوں ,مینڈکوں ,چمگاڈروں اور درندوں کی نسل تک کی بقاء کے لئے لاکھوں کروڑوں ڈالڑخرچ کرنا سعادت سمجھتے ہیں۔ انہیں حیوانات کی نسلی ترقی کے لیے سرمایہ خرچ کرکے قلبی سکون ملتا ہے ۔میڈیا کے پروگرام بتاتے ہیں کہ یہ لوگ کتوں اور بلیوں سے بے حد پیار کرتے ہیں ان کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں۔ان کےلنچ کے لئے عالیشان ہوٹل تعمیر کئے گے ہیں۔ خدانخواستہ انہیں چھینک آجاے تو ان کے مالکوں کی جان پر بن جاتی ہے ان کے علاج معالجے کے لیے جو جدید سہولتوں پر مشتمل ہسپتال تعمیر کیے گے ہیں وہاں انکا علاج کروایا جاتا ہے ۔سیرگاہوں میں ان کےلیے جگہیں مخصوص کی گئی ہیں ان کے اعلی ذوق کی تسکین کےلئے میوزک کا تک کا انتظام کیا جاتا ہے , دنیا کے روزانہ اخبارات یہ بتاتے ہیں کئی متمول اور مخیر عیسائی مرنے سے پہلے اپنی ساری دولت حیوانوں کی فلاح وبہبود کے لئے وقف کرنا اپنی نجات تصور کرتے ہیں اہل مغرب میں کوئی کتوں کا شیدائی, کسی کو بلیوں سے عشق ,کوئی گھوڑوں پے فریفتہ, کسی کو الووں کی نسل کو لاحق خطرات کااحساس, کوئی گدھوں پے ڈھائے جانے والے ظلم پے سراپا درد ؤ احتجاج ,کسی کو چھپکلیوں چوہوں اور گلہریوں کی طرف انسانوں کی عدم توجہ کا شکوہ, مجھے اس وقت ان باذوق بابوٶں اور ان کے سرپرستوں سے یہ کہنا ہے کہ
اے خود کو باذوق ؤ اہل علم سمجھنے والے لوگوں تم خوبصورت عمارتوں, اچھے موسموں ,اچھلتی کودتی لہروں اور فطری نظاروں سے تو محبت کرتے ہو کیا کبھی خوبصورت نوجوان , اچھے انسانوں , اچھلتے کودتے بچوں اور فطری اوصاف سے مالامال لوگوں کے لیے بھی تمہارے دل میں کوئی جگہ ہے؟
اے مغربی سیاحوں پرانے کھنڈرات ,تاریخی مقامات اورنایاب برتنوں پر تو جان چھڑکتے ہو ,تمہیں وہ جیتے جاگتے انسان کیوں نظر نہیں آتے جو پرانے اوصاف ,تاریخی روایات ؤ نایاب اخلاق کے مالک ہیں ؟
اے خود کو رہنما کا لقب ؤ خطاب دینے والے لوگوں کیا اژدھوں ,مگرمچھوں ,چمگادڑوں اور جنگلی درندوں کی جنس کی کمیابی پر مگرمچھ کے آنسو بہانے والوں کیا یہ جفاکش, غیرت مند ,خودار سادہ ,بہادر ,قناعت پسند ,ایثار پیشہ لوگ اس قابل نہیں کہ ان کا تحفظ بھی کیا جاے ؟
سوچو تو سہی کن لوگوں کو مار رہے ہو ؟ کیوں مار رہے ہو ؟
کس نسل عظیم کاخاتمہ کرنے پے تلے ہوئے ہو ؟ کیا تم یہی چاہتے ہو زمین پر صرف الو ,گدھے ,طوطے مگرمچھ اور اژدھے ہی باقی رہ جائیں اور انسانوں کے لیے کوئی جگہ ,کوئی شہر ,کوئی گوشہ, کوئی غار محفوظ نہ رہے ؟ سوچو تو سہی کیا کر رہے ہو؟ کیوں کررہے ہو؟ کتنا بڑا جرم کر رہے ہو؟
انسانیت کو کتنی بڑی سزا دے رہے ہو خدا کی دھرتی سے کیسے قیمتی انسانوں کی نسل کشی کررہے ہو؟
پر افسوس میں تو نادان ہوں بھول ہی گیا ٹھہرئیے اغیار تو جو کر رہے ہیں سو کر رہے ہیں ہمیں ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنے کی بھی ضرورت ھے کہ ہم کیا کر رہے ہیں ؟ ہم کس سمت جا رہے ہیں ؟ہماری نوجوان نسل کس کی اتباع و اطاعت کا علم بلند کر رہیں ہیں ؟کیا ہم نے مسلمان کے تحفظ کے لیے کچھ کیا ؟ کیا ہم نے اسلام کی آفاقی , ابدی ؤ عالمگیری , دائمی سچائی ؤ حقیقت پسندی انصاف کو دنیا کے سامنے رکھا ؟ کیا ہم نے اسلام کا پیغام ,امن, محبت ,شفقت ؤ اخوت دنیا کو سیکھایا ؟
تیری آباد محفل میں جو دن ہم نے گزارے تھے
قلم لکھنے سے قاصر ہے وہ دن کتنے ہی پیارے تھے
ذرا غور ؤ فکر فرمائیں اگر وہ ہمارا جسم مٹانے پے تلے ہیں تو ہم بھی اسلام کا روشن چہرہ مسخ کرنے پے لگے ہیں ۔ مسلکی ,گروہی ,لسانی اور علاقائی اختلافات کو پروان چڑھانا ہی مقصد نہیں اور اس نے کیا ہمارا نقصان ان کفار سے کم کیا ہے کیا؟ کیا اگر مسلمانوں کے وجود کو دھرتی پے باقی رکھنا ضروری ہے تو کیا اسکی تعلیمات کو باقی رکھنا, اس کو پھیلانا ,بتانا ,عام کرنا اور اقوام عالم کے سادہ لوح انسانوں کے قلوب واذہان کے پائے جانے شکوک وشبہات کو دور کرنا ہماری ذمہ داری نہیں ؟
بہت شوق ہے نہ تجھے احساس دلانے کا
آہ بیٹھ اور بتا کس موڑ پہ وفا کی تم نے
سنو اے ہواؤں ! الجھنا نہ مجھ سے
مجھے کم نہ سمجھو میں جلتا دیا ہوں
اس ذمہداری کو بروقت سمجھتے ہوئے,پاکستان کے مسلمانوں کے کردار ؤ اخلاق, نئی نسل کی تعمیر سیرت کے لیے پاکستان علماء کونسل نے بیڑا اٹھایا ھے جسکی قیادت قائد محترم حضرت علامہ حافظ محمد طاہراشرفی صاحب دامت برکاتہم فرما رہے ہیں جنکی قیادت میں گذشتہ سال پیغام اسلام کے نام سے لاہور میں 23 ایرپل بروز پیر ایک عظیم ؤ الشان عالمی پیغام اسلام کانفرنس کا انعقاد ہوچکا ہے جس میں 12 اسلامی ممالک بشمول سعودی عرب فلسطین ترکی کے علماء کرام اور 28 ممالک کے نمائندےعالمی اسلامی فکر کے اتحاد پاکستان اور عالم اسلام کے استحکام کے لیے مضبوط لائحہ عمل فرقہ وارنہ اختلافات کا حل اور فرقہ پرور طبقات کی روک تھام کے لیے حل پیش کر چکے ہیں
تلاش ہو گی ہماری تمیں ہمارے بعد
بہت چراغ جلاؤ گے روشنی کہ لیئے
لہذا امسال بھی پاکستان علماء کونسل کی قیادت قائد محترم حضرت علامہ حافظ طاہر اشرفی صاحب فرما رہے ہیں.
‏سُنی سُنائی پر لشکر کشی سے بہتر تھا
تُو دیکھ لیتا مجھ سے گفتگو کر کے
پیغام اسلام ؤ امن کانفرنس ان شاءاللہ امسال 14 اپریل بروز اتوار صبع دس بجے اسلام آباد کنونشن سنٹر میں ہو رہی ہے مجھے یقین ہے کہ ان شاءاللہ پیغام اسلام ؤ امن کانفرنس نوجوان نسل میں نئی روح پھونکنے میں کامیاب ہو جاۓ گی. اللہ پاک اپنی رحمت خاص فرماۓ اور پیغام اسلام ؤ امن کانفرنس کے لیے ہونے والی تمام کوششوں کو قبول فرماۓ. آمین
خون دل دے کر نکھاریں گۓ رخ برگ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 220 Print Article Print
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas: 166 Articles with 51982 views »
I am a teacher. I am very fond of studying different issues in the world... View More

Reviews & Comments

Language: