ان کے لیے احتجاج کون کرئے؟

(Kanwal Naveed, Karachi)

یہ کچھ کچھ مذاق سا لگتا ہے مجھے
حق اور حقوق کی بات کرتے ہیں سبھی
ماحول کو آلودگی سے پاک کرنے والوں
کاغذ چننے والے بچوں کو دیکھا ہے کبھی
ہمارے ہاں روز بروز کچرے کے ڈھیروں اور آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمارے ارد گرد لوگ اس پر غم و غصہ کااظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر یہی غلاظت کے ڈھیر ہمارے معاشرے کے ایک طبقہ کے لیے ان کے روز گار کا ذریعہ ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ شاہد حکومت کچرے کے ان ڈھیروں کو ختم کرنے سے گریزاں ہیں ۔ کیا ہو گا اگر صبح صبح تھیلا اُٹھائے چار سال کا بچہ منہ دھوئے بغیر اپنی جگی سے نکلے اور کچرے کے ڈھیر پہنچ کر اسے معلوم ہو کہ آج تو کچرے کے ڈھیر کی جگہ پر فقط کھلا میدان ہی ہے۔ وہ بیچارا تو بوکھلا جائے گا۔ اسے لگے گا شاہد وہ ابھی نیند سے جاگا ہی نہیں ۔ سوچیے جب اسے یقین ہو جائے گا کہ وہ جاگ گیا ہے تو کیا ؟ وہ تو دھاڑیں مار ما ر کر روئے گا ۔ اللہ کو پکارے گا۔اس کے کھانے کا سامان کرنے والا وہ غلاظت کا ڈھیر اے رب کیوں چھین لیا۔

اقبال کا وہ شاھین زمین پر ناک رگڑتا نظر آئے گا۔ کیا اس کے لیے بھی اقبال کا شاھین ہونے کا دعویٰ درست ہو گا۔ یا پھر یہ بھی ایک مذاق ہے ۔

مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کوئی کیوں ان بچوں کے لیے آواز بلند نہیں کرتا ۔ اقبال کا وہ شعرہمارے حکمرانوں کو کیوں کوئی یاد نہیں کرواتا ۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر۔۔۔۔ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا

ہم جن ستاروں کو آج پتھر بننے کے لیے کچرے کے ڈھیرفراہم کر رہے ہیں کل وہ ہماری قوم کے ماتھے کو داغدارکریں گئے۔ اپنے بچوں کو تو جانور بھی سنبھال لیتے ہیں ۔ انسان ہونے کے ناطے ہمیں کیا ان بچوں کے لیے کچھ کرنا چاہیے یا نہیں ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے جواب کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں ۔
ہمارے ہاں میڈیا بھی گندگی اور غلاظت کے ڈھیر وں کو تو دیکھاتا ہے لیکن ان غلاظت سے لتھڑے اجسام کو ہر کوئی فراموش کر دیتا ہے۔ جو انسان ہو کر انسانیت کی دہلیز سے کہیں دور رہتے ہیں ۔ کیا یہ مسلمان نہیں ۔ کیا یہ قوم کے معمار نہیں بن سکتے ۔ان کے لیے احتجاج کون کرئے گا۔کل جب میں نے ایک سگرٹ نوشی کرتے ہوئے ، شانوں پر کچرے سے جمع کردہ چیزوں سے بھر ے تھیلے کو اُٹھائے دس سالہ بچے کو اپنی گاڑی کے قریب سے گزرتے ہوئے دیکھا تو اپنے آٹھ سالہ بیٹے کی طرف نگاہ گھوم گئی ۔ یہ سوچ کر کہ کہیں وہ اس بچے کو سگرٹ پیتے تو نہیں دیکھ رہا۔ ایسا نہیں تھا۔ میں نے پھر اطمینان سے دوبارہ اس دس سالہ بچہ کی طرف دیکھا۔ جو سگرٹ کو انگلی میں دبائے بڑی حسرت سے میرے بیٹے کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ جو سکول یونیفارم میں تھا۔ میں بھی بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح یہ سوچتے ہوئے گزر گئی کہ کاش ہمارے معاشرے کے یہ بچے بھی کسی طرح سنور جائیں ۔ انہیں بھی اچھا ماحول میسر ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ اللہ تعالی آسمان سے کوئی سیڑھی نہیں لٹکائے گا۔ ہمیں اور آپ ہی کو ان بچوں کے لیے آواز بلند کرنا ہو گی۔ اگر ایسا نہ کیا تو یہ بچے کل کے چور ، ڈاکو اور لٹیرے ہی بنیں گئے۔ان کے ایسا ہونے کے زمہ دار ہم ہی ہوں گئے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 227 Print Article Print
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 154346 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More

Reviews & Comments

Language: