کیا نیوزی لینڈ حملہ آور عیسائی دہشت گرد تھا ؟

(Idrees Jaami, )

اس وقت دنیا کو دہشت گردی کا سامنا ہے ، مسلمان جتنا دہشت گردی کا شکار ہے شاید اتنا کوئی اور ہو ، لیکن ہر تخریبی و دہشت گردی کے پس منظر میں مسلمانوں کو پیش کیا جاتا ہے گیارہ ستمبر کے بعد اسلامی دہشت گردی کا اتنا ہوا کھڑا کیا گیا کہ اسلام کی اصل شکل مسخ کردی گئی کہ آج دنیا کے کسی بھی کونے میں جب کوئی دہشت گردانہ حملہ ہوتا ہے تو اس کا الزام براہ راست مسلمانوں پر عائد کردیا جاتا ہے تو کیا نیوزی لینڈ کے شہر کرائسنٹ چرچ کی دو مساجد میں ہونیوالے دہشت گردانہ حملے کو عیسائی دہشت گردی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ؟ کی حملہ آور کو صلیبی دہشت گرد کہا جاسکتا ہے ؟ یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی ایک سنگین عالمی مسئلہ ہے اس کے باوجود دہشت گردی کی تعریف غیر واضح اور غیر متعین ہے اور دہشت گردی کی کوئی واضح تعریف نہ ہونے کے بھی پس پردہ کئی حقائق پوشیدہ ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ اسے ختم کرانا مقصود نہیں بلکہ طویل مدت تک جاری رکھنے کی کوشش ہے چونکہ دہشت گردی کا مقصد تخریب کاری پھیلا ، جان و مال کو تباہ کرنا ہے اس لیے دہشت گردی کی ابتداء بھی وہیں سے ہوتی ہے جہاں انسانیت سوز ہتھیار تیار کئے جاتے ہیں اور دنیا بھر کوفراہم کیے جاتے ہیں چونکہ اسلحہ بندی پر سالانہ کوئی ایک سے زائد ٹریلین ڈالر خرچ ہوتے ہیں چنانچہ بہت سے ہتھیار ساز ممالک کے ذرائع روزگار جنگ ، دہشت گردی ، تخریب سے وابستہ ہیں اس میں سرفہرست امریکہ اور یورپی ممالک ہیں جو جنگ اور دہشت گردی کو ایک کے طور پر نہ صرف استعمال کررہے ہیں بلکہ فروغ دینے کی کوشش بھی کررہے ہیں ۔ آپ دیکھیں کہ دنیا کے سامنے دہشت گردی کی جو پروفائل پیش کی گئی ہے اس میں فائدہ ہتھیار بنانے والی کمپنیوں اور ان کی سرپرستی کرنے والے ممالک کو ہے ۔ دہشت گردی کی دنیا میں صرف ایک بیانیہ ہے اور وہ ہے اسلامی دہشت گردی ، افغانستان ، عراق، شام اور دیگر اسلامی ممالک میں ہونیوالی تخریب کاری اسی دہشت کی وہ صورت ہے جسے دنیا میں اسلامی دہشت گردی کے نام سے متعارف کرلیا گیا ہ مذکورہ تینوں ممالک میں امریکی مداخلت کا جواز صرف اسلامی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بنیاد پر ہے ، جو ایک منظم ذہنیت اور پروفیشنل سرگرمیوں کا نتیجہ ہے ۔ اس لئے نیوزی لینڈ حملہ میں دہشت گردانہ حملوں کو عالمی میڈیا اور عالمی قیادتیں عیسائی دہشت گردی کا نام کیوں نہیں دے رہے ہیں یا اس سے قبل دنیا بھر میں مسلمانوں کی مساجد عبادت گاہوں پر ہونے والے حملوں کو عیسائی دہشت گردی ، ہندو دہشت گردی ، یہودی دہشت گردی کا نام نہیں دیا گیا مگر اسلاموفوبیا کے لیے سب سے زیادہ قرآن کی ان آیات کا حوالہ دیا جاتا ہے جس میں جنگ کا ذکر ہے پھر ان آیات کی تشریحات بھی اپنی من مرضی کے مطابق کرکے دنیا ے سامنے پیش کرکے ثابت کیا جاتا ہے کہ اسلام ایک شدت پسند اور جنگ و جدال والا مذہب ہے لیکن ایسا کرنے والے دیگر مذاہب کی کتابوں میں موجود جنگ کی ترغیب دینے والی آیتوں یا اشلوک ،کو کمال مکاری سے چھپالیتے ہیں یا د رہے کہ جنگ و جلال کا بیان دنیا کی تمام مذہبی کتابوں میں موجود ہے ۔ بائیل مقدس بھی اس سے مستشنیٰ نہیں ہے اس کے باوجود بھی کبھی کسی بھی شخص کی خونزیزی کو اس کے مذہب سے نہیں جوڑا جاتا ۔ عالمی بیانیہ اسلامی دہشت گردی صڑف مسلمانوں کے حصہ میں آتی ہے ۔ بائیل کی کتاب لوقا (LUKE)کی آیت 19:27کہتی ہے کہ میرے وہ دشمن جو میری حکمرانی کو تسلیم نہیں کرتے انہیں یہاں لاو اور ذبح کردو ۔ اسی طرح ایکزوڈس (EXODUS)کی آیت 15:3اور بائیل کی کتاب اشعیا (Isdiah)کی کتاب 19:2اور بائبل میں ایسی کئی مزید آیات ہیں ا جو جنگ و جدل کا درس دیتی ہیں لیکن ان آیات کا ذکر آپ کو کہیں نہیں ملے گا ۔ پس دنیا میں ہمیں یہی بتایا جاتا رہا ہے کہ بائبل میں صرف ایک پیغام ہے کہ اگر کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو اسے دوسرا گال پیش کردو ۔ اگر یہ سچ ہوتا اور عیسائی اگر اس پر عمل کرتے تب تو نہ ہی یہ دیا نو آبادیاتی دور دیکھتی ، نہ ہی پہلی جنگ عظیم وقوع پذیر ہوتی ۔ نہ ہی دوسری جنگ عظیم میں موج خوں بہتی اور نہ ہی امریکہ ایٹم بم گرانے جیسا غیر انسانی کام کرتا ، نہ ہی افغان جلتا نہ ہی عراق اور شام میں انسانی لاشے گرتے ۔ مقام افسوس تو یہ ہے کہ ان لوگوں نے سرانجام دیے ہیں جو اپنے آپ کو امن کے آرزو مند کہتے ہیں ۔ دنیا کے خود ساختی امن کے علمبرداروں کی کسی بھی کارروائی یا جنگ و جدل کو مذہب سے نہیں جوڑا گیا ۔ نیوزی لینڈ کے دہشت گردانہ واقعہ میں بھی یہی ہوتا نظر آرہا ہے اس سفاکی کے بعد کوئی بھی عیسائیت کے خلاف کچھ نہیں کہے گا ۔ اس قتل عام کے لیے نہ ہی عیسائیت کو مورد الزام ٹھہرایا جائے گا اور نہ ہی بائبل کی ان آیات کو کھود کھود کر بیان کیا جائے گا جس میں عیسائیوں کو جنگ کی ترغیب دی گئی ہے اس کے برعکس اسلام سے ڈرانے اور اسے جنگ و جدل کا مذہب بتانے کے لیے ذرائع ابلاغ کا بے دریغ استعمال کیا گیا اور دنیا کو یہ یقین دلایا گیا کہ مسلمان دہشت گرد ہیں اور اسلام نعوذ باﷲ دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے اسلام کے خلا ف یا وہ گوئی کرنے اور دہشت گردی کی آڑ میں مسلمانوں کو دہشت گرد گرداننے میں عالمی میڈیا نے بھرپور کردار ادا کیا ہے ۔ اس پروپیگنڈے میں میڈیا کو تمام عالمی چوہدری ممالک کی سرپرستی حاصل رہی گیارہ ستمبر کے بعد جارج بش کی بدنام زمنہ تقریر میں اس نے صلیبی جنگ کا اعلان کیا ۔ اسامہ بن لادن کو پکڑنے اور افغانستان پر حملہ کرنا اس نے اپنا مسیحی فرض قرار دیا اور اسی مسیحی فرض کے تحت اس نے افغانستان ، عراق اور شام کو میدان جنگ بنادیا ۔ نیوزی لینڈ حملہ ایک منظم منصوبہ بند حملہ تھا ۔ حملہ آور اور منصوبہ بندی کرنے والوں کی مسلمانوں سے نفرت کی انتہا کو پہنچ چکی تھی کہ وہ صرف بے قصور انسانوں کو قتل کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے پوری خون ریزی کی ویڈیو بھی بنائی جو براہ راست دیکھی گئی ۔ اب یہ ویڈیو فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا سے ہٹادی گئی ہے اور یہ کام وہی لوگ کررہے ہیں جنہوں نے گیارہ ستمبر کی ویڈیو سے جی بھر پر و پیگنڈہ کیا تھا اس ویڈیو پر کسی قسم کوئی سینسر نہیں لگا تھا نیوزی لینڈ حملہ کو اور حملہ آور کو آخر کیا نام دیں گے ؟ حملہ آور کی سوچ کا اندازہ آپ اس حقیقت سے لگاسکتے ہیں کہ حملہ آور کی مشین گن پر جو لکھا تھا وہ بھی صلیبی دہشت گردی کا تاریخ تھی حملہ آور نے اپنی بندوق پر Tours 732لکھا تھا اس طرح اس نے Battle of Toursکا حوالہ دیا ۔ جسے معرکہ بلاط الشہدا کہا جاتا ہے ۔ معرکہ بلاط الشہداء کو تاریخ کی 15اہم جنگوں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے یہ جنگ 10اکتوبر 732ء فرانش کے شہر ٹورز کے قریب لڑی گئی جس میں اسپین میں قائم خلافت بنوا میہ کو عیسائیوں کے ہاتھوں شکست ہوئی ۔ حملہ آور نے اپنی بلٹ پروف جیکٹ پر Sebastiano Venierلکھا تھا ۔ سباستیا نو وینئر سپہ سالار تھا جنگ لیپانٹو میں اسی کے ہاتھ فوج کی کمال تھی ۔ 7اکتوبر 1571کو سلطنت عثمانیہ اور مسیحی ممالک کے خلاف لڑی جانیوالی اس جنگ میں سلطنت عثمانیہ کو شکست ہوئی تھی ۔ اسی طرح حملہ آور نے اپنے اسلحہ اور جیکٹ پر ایسی کئی جنگوں کا حوالہ دیا ہے جس میں عیسائیوں کو فتح اور مسلمانوں کو شکست ایک اور قابل غور بات یہ ہے کہ بندوق اور جیکٹ پر جن جنگجوؤں کے نام لکھے ہیں وہ قومیتوں کے اعتبار سے پولش ، روسی ، اسپینی ، کینڈین ، رومی ، جرمن اور فرانسیسی ہیں مگر ان سب میں مشترک بات اسلام دشمنی تھی ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 245 Print Article Print
About the Author: Idrees Jaami

Read More Articles by Idrees Jaami: 14 Articles with 1982 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: