جہیز سنت ﷺ سے پھندہ کیوں بنا

(Ali Jan, Lahore)

انسانوں نے جب سے قبیلے بنائے تب سے رسم ورواج قائم ہیں ان میں کچھ اچھے رسم ورواج تھے تو کچھ رسم رواج نے انسانوں کو نقصان دیا جن کے ختم ہونے پر انسانوں نے شکرادا کیامگرکچھ اچھے رسم ورواج بھی ان کی بھینٹ چڑھ گئے جیسے ایک ذات یا برادری کا قبیلہ ہوتا تھا مثلاًایک قبیلہ بھٹی برادری کا ہے تواس میں سارے بھٹی ہونگے اگلا قبیلہ آرائیں برادری کا ہوگا جس کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ اس میں کسی قسم کے لڑائی جھگڑے فساد کی بات نہ ہوتی تھی کیونکہ سب ایک ہی برادری کے ہوتے کسی کے گھرشادی ہوتی تو پوری برادری مل کراس کے ساتھ کھڑے ہوتے کیونکہ اس کیلئے کئی من دودھ،چاول،آٹا اورجہیز کاسامان وغیرہ اکٹھاکرنا جس سے شادی باآسانی ہوجاتی مگراب ایک ہی گاؤں میں الگ قوم ذات کے لوگ رہتے ہیں تو لڑائی جھگڑے زیادہ ہوگئے ہیں صدیوں سے چلے آرہے رسم ورواج میں ایک رسم جہیز کی ہے سننے اور پڑھنے میں آتا ہے کہ دین اسلام سے پہلے بیٹیوں کو زندہ جلا دیا جاتا تھا ،دفن کردیا جاتا تھا یا بیچا جاتا تھا اس سوچ سے ہی باپ،بھائی کے علاوہ ہرزی انسان کی روح تک کانپ جاتی ہے میں سوچتاہوں اگراسلام سے پہلے یہ سب ہوتا تھا تو کیااب اسلام ختم ہوگیا ہے آج بھی لوگ بیٹیاں پیداہونے سے ڈرتے چاہے بیٹی کو جتنا بیٹے جیسے سہولیات دے دیں اسے فرینڈلی ماحول دیں مگرپھربھی دل میں ڈرلگا رہتا ہے کہ ہے تو بیٹی ہی کیونکہ باہرجتنے درندے ہیں ان سے بیٹی کو کیسے بچایاجائے یہ ڈرسالگارہتا ہے اگران سے بچ جائے تو شادی کے وقت پیسے کے بھوکے اپنے بیٹے پرخرچ کی گئی رقم کا معاوضہ جہیز کی صورت میں لینے آجاتے ہیں جہیزجس کے اصطلاحی معنی استعمال کی چیزوں کے ہیں جو والدین بیٹی کو رخصت کرتے وقت اسے دیتے ہیں کہ ہماری بیٹی ان چیزوں کااستعمال کرے گی مگرآج کے دور میں جہیز ایک ناسور بن چکا ہے کیونکہ اکثرلڑکے والے کہتے ہیں ہمارے لڑکے کوکارپسندہے فلاں فلاں چیز پسند ہے اب ایک مڈل کلاس خاندان اتنی مہنگی اشیاء کیسے افورڈ کرسکتا ہے انہی وجوہات کی وجہ سے غریب خاندان اﷲ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں بیٹی نہیں بیٹا عطافرماکیونکہ بیٹی کے پیداہونے سے لے کراسکے جوان ہونے تک صرف جہیز کوجمع کرنے میں لگ جاتے ہیں مگرپھربھی کم پڑتا ہے ماں باپ کوڈرلگارہتا ہے کہ اگرجہیز کاانتظام نہ ہوسکا تو رشتہ ٹوٹ جائے گا اور ہماری نازک کلی مرجھا جائے گی اور دنیا والوں کی الگ باتیں سننا پڑیں گی اور بیٹی کو اتنا سامان تو دیں جس سے دنیا میں ناک کٹنے سے بچ جائے حالانکہ لڑکے والوں کو چاہیے جب رشتہ دیکھنے جائیں تو حضور نبی کریم ﷺ کی اس حدیث کو ضرور یادرکھیں آپ ﷺ نے فرمایا عورت سے شادی کرنے میں چارچیزیں دیکھو(i)دولت مندی(ii)خاندانی شرافت (iii)خوبصورتی (iv)دین داری لیکن تم دین داری کو زیادہ مقدم سمجھوآج کے دور میں قرآن وحدیث میں احکامات کو پیٹھ پیچھے ڈال کر ہم جہیز کو ہی ترجیح دیتے ہیں اورجہیز کو ہی رشتہ کی مضبوطی کا ضامن سمجھتے ہیں ۔مسلمانوں میں جہیز جیسی لعنت پائی جاتی ہے اس کی وجہ ہندؤں کیساتھ اختلاط ہے ہندؤں کی تاریخ بتاتی ہے کہ:قدیم ہندوقانون کے مطابق باپ بھائی کی جائیداد میں سے عورت کا کوئی حصہ نہ تھا ہاں البتہ رخصتی کے وقت مال وزرداماد کے حوالے کیے جاتے تھے جس سے بیٹی کو باتین نہ سنناپڑیں اور باپ اس وقت جو کچھ دیتا ہے اس کے بعد وہ اپنی بیٹی سے ایسے سمجھیں قطع تعلق ہوجاتا تھا جسے کنیادان کہتے تھے(یعنی بیٹی خیرات،مفت دے دینا)ہندوتاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ ان کے ہاں شادی کے تین طریقے رائج تھے(i)برھما(ii)گندھروا(iii)اسورا۔اب جوبرھما تھے وہ ویدجاننے اور اچھے اخلاق والے لڑکے کو بطورہبہ دیا جاتا تھااس رواج میں والد اپنی بیٹی کوبیش بہادولت اور زیورات دیتا تھا تاکہ اسے کسی چیز کی کمی نہ ہو یہ کیونکہ یہ بھی ہمیشہ کا بندھن تھا۔گندھرواطریقہ میں لڑکا اور لڑکی اپنی مرضی سے شادی کرتے تھے جسے آج لومیرج کہتے ہیں ۔اسوراکارواج میں لڑکا لڑکی کے خونی رشتہ داروں کو پیسہ دے کرلڑکی لے لیتا تھا یعنی کے والدین یا رشتہ دار لڑکی بیچ دیتے تھے ۔دوطریقے آج بھی کہیں نہ کہیں پائے جاتے ہیں مگرپہلارواج آج کل عام ہے کیونکہ اس میں والد جو سونے زیورات دیتا تھا وہ آجکل جہیز کی شکل لے چکا ہے ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں پرلگتا ہے ہم نام کے مسلمان رہ گئے ہیں کیونکہ اگرہم جہیزجیسی لعنت کو ختم کردیں تو کئی سفیدپوش بیٹیوں کے گھربس جائیں اگرلڑکیوں کے مقابلے اندازہ لگایا جائے تولڑکے بہت کم ہے اور پڑھے لکھے لڑکوں کی تعدادبہت ہی کم ہے اور جو لڑکا تھوڑابہت کمانے والا ہے تو اسکے والدین کو پرلگے ہوتے ہیں اور وہ ایسی بہو کے متلاشی ہوتے ہیں جوچلتی پھرتی سونے کی کان ہو۔شادی ایک پاک بندھن ہے جسے آجکل کے لوگوں نے کاروبار بنا کررکھ دیا ہے جوان بیٹی کے گھرمیں بیٹھنے کا دکھ صرف ایک باپ ہی سمجھ سکتا ہے کیونکہ جب جوان بیٹی گھرمیں بیٹھی ہوباپ کام پر ضرورہوتا ہے مگر اس کا دل ودماغ گھرپرہوتا ہے کہ کب کوئی اچھا لڑکا ملے تو اپنی بیٹی کو رخصت کروں مگرمڈل کلاس خاندان میں یہ باتیں باربار ڈراتی ہیں کیونکہ لڑکے والے آکے کہہ دیتے ہیں ہمیں فلاں فلاں چیز چاہیے ورنہ ہم رشتہ نہیں کرتے اب جب کوئی لڑکی دیکھنے آتا ہے تو مجبوراً والدین ہربات مان لیتے ہیں ورنہ لوگ باتیں کرتے ہیں کہہ لڑکی میں کوئی کھوٹ ہو گا جس وجہ سے یہ رشتہ نہیں ہوا۔لڑکی کے کھوٹ سے یاد آیا میرے ایک جاننے والے صحافی کی بیٹی کے ساتھ دو لڑکوں نے زیادتی کی اور ویڈیوز بنالیں اس کی اکلوتی لڑکی ہونے کی وجہ سے اس نے بڑی کوشش کی کہہ بات باہر نہ نکلے مگرجیسے دیواروں کے کان ہو دنیا کو سب پتا چل جاتا ہے اب اس نے جو عزت بنائی تھی وہ گئی اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس لڑکی سے اب کون شادی کرے گا اور اگرکوئی کرے گا بھی تو اسے روز کے تانے مار ڈالیں گے مگراس میں اس لڑکی کا کیا قصور ہے سب کیا دھراان لڑکوں کا ہے ۔جہیز والدین کی طرف سے محبت وشفقت کی نشانی ہوتی ہے جیسا کے ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ نے اپنی پیاری بیٹی حضرت بی بی فاطمہ کو جہیز میں چادر مشکیزہ، چمڑے کاتکیہ اور کچھ روایات میں آتا ہے کہ مٹی کا پیالہ بھی دے کررخصت کیا تھا ۔حضورنبی کریم ﷺ نے جتنی بھی شادیاں کیں کوئی بھی بیوی جہیز لے کرنہیں آئی اور اسلام میں والدین کی استطاعت اور حیثیت کے مطابق جہیز کا تصور پایا جاتا ہے البتہ یہ فرض یا واجب نہیں۔ایک سروے کے مطابق ساؤتھ ایشیاء کے ممالک بھارت،پاکستان اور بنگلادیش میں کنواری لڑکیوں کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے والدین کے پاس جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بچیاں کنواری ہی اپنے والدین کے گھردم توڑ دیتی ہیں اور یہ مسئلہ اب خطرناک بنتا جارہا ہے ۔2005میں جہیز کا قانون سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے مذہبی امورکے اس وقت کے چیئرمین سمیع الحق نے جہیز کی بے جا کنٹرول کی حد بندی کا بل منظورکردیا جس میں 50,000سے زائد کا جہیز لینے والے کو ایک سال قید کی سزا دی جائے گی مگرآج تک اس قانون پر عمل نہ ہوسکا ۔اگرہم کالم نگارصحافی جہیز کو لعنت یا فرسودہ روایات کہتے ہیں تو یہ درست نہیں اگراس میں مسائل آرہے ہیں کیونکہ آپ ﷺ نے اپنی بیٹی کو بھی جہیز دیا تھا اور جو کام ہمارے نبی کریں وہ غلط ہوہی نہیں سکتا اسی لیے جہیز کو غلط نہ کہیں کیونکہ اس رسم کو لالچی لوگ خراب کررہے ہیں کیونکہ جہیز جتنالڑکی کے والدین دیں وہ ہمارے نبی ﷺ کے مطابق ہے اور اگرلڑکے والے ڈیمانڈ کریں تو وہ غلط ہے اسی لیے جہیز کو غلط نہ سمجھیں اور اپنے آپ کو درست کریں ۔اسی لیے ہماری مسلمان بہنیں آگے بڑھیں اور اپنے علاقے میں جہیز کے متعلق صحیح اسلامی تصوراجاگرکریں اور جو جہیز کے بھوکے خاندان ہیں انکے خلاف نوجوانوں کو آگے آنا ہوگا تاکہ اس برائی کا خاتمہ ہوسکے اس میں سب سے اہم کردار ہماری حکومت کو اداکرنا ہوگا اور جائزہ لینا ہوگا کہ جو بھی جہیز لے اسکے خلاف سخت کاروائی کریں اور سزائیں دیں ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 253 Print Article Print
About the Author: Ali Jan

Read More Articles by Ali Jan: 144 Articles with 29910 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: