مولوی ناصر

(Abdul Rahman Hashmi, Sargodha)

اتوار کا دن تھاہم سب دوست احباب مولوی ناصر کے ٹھیلے کے گرد حلقہ ڈالے براجمان تھے بریانی تو ہر روز ہی کھا کر جاتے ہیں مگر چھٹی کے دن یہاں نجی محفل لگ جاتی ہے ویسے بریانی کا ادب سے تعلق تو نہیں پھر بھی ہم سب احباب کومولوی کی بریانی پسند ہے اور مولوی ناصر کو اردو ادب پسند ہے اِس طرح ایک رشتہ قائم ہوہی جاتا ہے جس کااظہار اکثرمولوی صاحب ہم سب کوبریانی کھِلا کر کرتے ہیں اور ہم اتوار کو اُس کے ٹھیلے پر مجمع لگا کر کرتے ہیں ۔یہ محفل کئی گھنٹے جاری رہتی ہے جس میں ادب کے علاوہ طنزو مزاح۔ ملکی حالات ،دین و دنیا پر حاصل بحث ہوتی آج بھی محفلِ بریانی کم ادب جاری تھی ۔

اِس آغازِ بحث میں ایک آزاد پنچھی آن بیٹھا جس کی آمدیارانِ بریانی پر ناگوار گزری چند ساعت بعد ہی ہم سب پر انکشاف ہوا یہ اضافہ بلامبالغہ جستجوِ علم کے لئے اچھا ہے بحثِ حاصل و لا حاصل کے دوران موصوف بولے اِس دنیا میں بھلا عبادت قدسیہ سے مجھے کیا حاصل اُس کی اِس ضرر رسائی پر ہم دم بخود رہ گئے مادہ پرست سے شکست ہمیں گوارہ نہ تھی۔ہم میں علوم دینی کی استعداد ہی کہاں تھی لا چار ایک دوسرے کا منہ تاکنے لگے ۔

مولوی ناصر ہماری کمزوری کو پھانپ گیا اُس نے میری طرف اجازت طلب نظر سے دیکھا جس کی وجہ شاید میرا اور اُس کا استاد و شاگرد کا رشتہ تھا۔ میری نظر کو اجازت گردانتے ہوئے وہ موصوف کے پاس آن بیٹھا بھیا معلوم ہوتا ہے تم ہر بات کو دنیا کے ترازو سے دیکھتے ہو اچھی بات ہے اِس کائنات میں سب سے زیادہ انسان ہی اہم ہے جس میں لا تعد اد صلاحت موجود ہیں کیا تم نہیں چاہو گے ان صلاحتوں کو بروکار لا کر اِس دنیا میں سب سے عظیم ہو جاؤ۔ جس کے لئے تمہیں اپنی پوشیدہ صلاحت کواجاگر کرنی ہو گی ۔اِس کے لئے سب سے زیادہ ضرورت تمہیں یقین یعنی ( confidence )کی ہے اگر آپ کے لاشعور میں یہ بات بیٹھ جائے ایک پاور فل ہستی میری مدد کے لئے ہر سمے موجود ہے تو تم بھڑکتی آگ میں بھی کود جاؤ گے ماہر نفسیات کاکہنا ہے یقین سے تم ہر کام کر سکتے ہو آگ تو چیز ہی کیا ہے ۔ عیسیٰ علیہ اسلام کا ارشاد ہے میں اللہ پر یقین کے ساتھ اللہ کے حکم سے مردے زندہ کرتا ہوں اب ذرا تصور اللہ کو لاشعور میں پختہ کرکے دیکھو تمام دنیا زیر ہو جائے گی ۔یہ ہی کلمہ ہے جو ہم پڑھ کر ایمان لاتے ہیں۔

دوسری کامیابی( concentration )میں ہے اگر آپ کا ارتکاز ایک ہی کام کی سمت ہو گا وہ ہو جائے گا۔ کیا اِس کائنات میں کوئی ورزش ارتکاز حاصل کرنی کی ہے۔؟ بہت سے یوگی اپنے چیلوں کو یوگا کروا کرواکر مر گئے مگر چند ایک ہی کامیاب ہوئے ۔اب ذرا نماز کوعبادت کی نظر سے ہٹ کر یوگا کی نظر سے دیکھو کیا نماز سے حاصل ہونے والا ارتکاز اپنے پر لاگو کرکے دنیا میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتے ۔؟اللہ کی پہلی تلقین ہی نماز میں توجہ کی ہے نیوٹن سے لے کر آئن سٹائن تک تمام بڑے بڑے لوگ کیا سوچ کے ارتکاز سے کامیاب نہیں ہوئے ۔؟کوئی بڑا شخص جو سوچ کے ارتکاز کے بغیر بڑا ہوا ہو۔؟ پھر سب سے زیادہ ڈر انسان کو ناکامی کا ہوتا ہے کیا ہر عبادت صرف ایک بار ہی کرنی ہوتی ہے۔؟ اگر آپ کو عبادت سے لاشعور میں صلاحت اجاگر نہیں ہو رہی تو وقت کی پابندی کے ساتھ بار بار پریکٹس کرو ایک وقت ایسا ہو گا تم کامیاب ہو ہی جاؤ گے تم ناکامی میں سے کامیابی نکالنے کے ڈھنگ سے آشنا ہو ہی جاؤ گے اس عمل کو اپنے کاموں پر اپلائی کرو ناکامی ۔ بار بار کرنے سے آخیر کار کامیابی میں بدل جائے گی ۔ہر عبادت بار بار کرنے کا سبب یہ ہی ہے ۔ یہ ہی اللہ کی منشاہ ہے ۔

آخیر میں ایک بات اور سن لو تم دنیا دار ہو دنیا لینے کے لئے قسمت کو بھی دوش دیتے ہو ں گے کیا کوئی اللہ نے ہمیں قسمت بدلنے کا بھی گُر دیا ہے۔؟یقیناً وہ ہم سے محبت کرتا ہے ایسا ہو ہی نہیں سکتا اُس نے یہ گُر نہ دیا ہو تو سنو جس چیز کی تم کو طلب ہے وہ ہی مخلوق کو دو تم کووہ چیز زیادہ سے زیادہ ملنا شروع ہو جائے گی تم عزت کرو تم کو عزت ملے گی پیار دو پیار ملے گا یہ ہی قانونِ فطرت ہے عمل کا ہی رد عمل ہوتا ہے۔ جب تم نیوٹن کے قانون کو تسلیم کرتے ہو تودولت دے کر دیکھو ضرورچند دنوں میں ہی رنگ لگ جائیں گے ۔
چاہت کیسے رکھے گا رب سے وہ
کرتا ہے نفرت اُس کے بندے سے جو
رحمت امید سے ہے بندہ بس وہ
اُنس رکھتا ہے اُس کے بندے سے جو

اسی طرح ہر عبادت آپ کو دینا میں عروج پر لے جائے گی شرط فقط خلوص اور نیت کی ہے یہ تو دینا داری ہے ورنہ دوسری دینا کا تو تصور ہی نہیں ہو سکتا پھر ہم اپنی ناقص عقل سے کیا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔یہ ربِ کائنات کااحسان ہے ہم پراُس نے اپنے اُوصاف ہم میں پوشیدہ رکھ کرانہیں اجاگر کرنے کے گُر بتا دئے یوں ہی تو یہ دنیا تسخیر کرکے آپ کو اِس کا مالک نہیں بنایا ہم کتنے غافل ہیں اُس کا احسان ہی نہیں مانتے بلکہ اُس کے احسانوں کا تمسخر اڑاتے ہیں ۔

اب آپ کو یقین ہو گیا ہو گا اللہ نے اپنی عبادت اپنے لئے نہیں فرض کیں وہ ہم سے محبت کرتا ہے۔ چاہتا ہے ہم عظیم بن کر اِس دنیا میں رہیں یہ ہی نہیں گو تم دوسری دینا کو تسلیم نہ بھی کروعبادت سے یہ دنیا ہی جنت بن سکتی ہے۔یہ تو چند عبادات کا نہایت مختصرخلاصہ ہے ورنہ ہماری سوچ تورب کائنات کی رحمت کا احاطہ ہی نہیں کر سکتی۔

ہم سب پر ایک سکتہ سا طاری تھا آج معلوم ہوا اپنی بریانی میں مگن مولوی ناصر صرف ریش چہرہ سے مولوی نہیں بلکہ علمِ باطنیہ میں بھی کمال رکھتا ہے اُس نے ہمیں ایک غیر کے آگے چیت نہیں ہونے دیا ہماری طرف سے بول کر ہماری لاج رکھ لی ۔اب دن میں اُس کے پاس ایک بار ضرور جاتا ہوں بریانی کھانے کا مزادو چند ہو گیا ہے ۔۔ اللہ مولوی ناصر کو سلامت رکھے آمین ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 538 Print Article Print
About the Author: Abdul Rahman Hashmi

Read More Articles by Abdul Rahman Hashmi: 2 Articles with 1806 views »

افکار ہے میرا- عالم سے مفقود
کہتے ہیں یہ دیوانہ دیوانے ہیں
.. View More

Reviews & Comments

nice poetry g

By: Younis Dogar , Sillanwali on Apr, 13 2019
Reply Reply
0 Like
Younis nice man
By: Younis , Sillanwali on Apr, 13 2019
Reply Reply
0 Like
Language: