شوبز کی دنیا ،میڈیا اور گرم مصالحہ !

(Fareed Ashraf Ghazi, Karachi)

چو نکیے نہیں! میں غلط نہیں لکھ گیا ۔بلکہ یہ میرے اس مضمون کا عنوان ہے جو میں اپنے اس کالم کے ذریعے آپ تک پہنچار ہا ہوں ۔ جی ہاں !تو ذکر ہو رہا تھا گرم مصالحے کا ، لیکن ٹھہر یئے! کہیں آپ یہ توسمجھ نہیں بیٹھے کہ ا ب میں کھا نا پکانے کی ترکیبیں بتاؤں گا ۔جی نہیںِ،میرا ا یسا کوئی ارادہ نہیں اور نہ ہی میں اس گرم مصالحے کا تذکرہ کروں گا جو کہ گھروں میں خواتین کے استعمال میں رہتا ہے ۔ بلکہ اس وقت میں اس گرم مصالحے کا تذکرہ کر رہا ہوں جو بے حد گرم ہوتا ہے اور جس کے اجزائے تر کیبی سے نوجوان طبقہ خوب اچھی طر ح واقف ہے۔ اگر آپ اب بھی نہیں سمجھے تو میں مزید سسپنس نہیں پیدا کروں گا ۔ جی ہاں!میں اس گرم مصالحے کا ذکر کر رہا ہوں جوکہ آج کل دنیا بھر کی فلموں میں کژت سے استعمال کیا جا رہا ہے اور جس کی مانگ د ن بہ دن بالکل اسی طرح بڑ ھتی چلی جا رہی ہے جس طر ح کہ اشیائے صرف کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

اس گرم مصالحے کا استعمال انگریزی اور بھارتی فلموں میں تو خیر ایک عام سی بات ہے لیکن ہماری پنجابی اور پشتو فلموں میں بھی اس’’ گرم مصالحے‘‘ کا اس خوبی سے استعمال کیا جارہا ہے کہ اس مصالحے کی خو شبو اور کشش ہمارے طالب علم ساتھیوں کو مسلسل اپنی طرف کھینچ رہی ہے اور ہمارے طالب علم ساتھی جوق در جوق کلاسوں میں نظر آنے کے بجائے اب پارکوں میں ’’ڈیٹ ‘‘مارتے ہوئے یامختلف سنیماؤں کی قطاروں میں د ھکے کھاتے نظر آتے ہیں ۔ اور اسی پر بس نہیں ہو تا بلکہ جب وہ اس گرم مصالحے سے لطف اندوز ہو کر اپنے دوستوں کے پاس جاتے ہیں تو خوب نمک مرچ لگا کر فلم ،گانے یا کسی نئے موبائل کلپ کی خوبیاں گنواتے ہیں اور پھر ہمارے طالب علم ساتھی اپنا پیسہ اور قیمتی وقت بر باد کرنے کے لیے موبائل کلپس ڈاؤنڈ لوڈ کروانے کے لیئے کسی کمپیوٹر کی دکان پر یا پھر الٹی سیدھی فلمیں دیکھنے سنیماپہنچ جاتے ہیں ۔ غرضیکہ اس گرم مصالحے کا جتنا اثر ہماری طلبہ برادری پر ہورہا ہے زندگی کے کسی اور شعبے میں ہوتا نظر نہیں آتا ۔کچھ عرصہ پہلے تک تو اس گرم مصالحے سے لطف اندوز ہونے کے لیئے سینماگھروں میں ٹکٹ خریدکر کرجانا پڑتا تھالیکن جدید دور میں کیبل،انٹرنیٹ اور موبائل کے ذریعے یہ ’’گرم مصالحہ‘‘ اب گھر گھر بلکہ ہاتھوں ہاتھ پہنچ گیاہے اور وہ بھی انتہائی سستے داموں جبکہ میموری کارڈز نے اس گرما گرم مصالحہ سے لذت حاصل کرنے کو اور بھی آسان بنا دیا ہے۔اب آپ خود ہی بتائیں کہ اگر آپ اپنے بچوں کو اس گرم مصالحہ کے چٹخارے سے محفوظ یا دور رکھنا چاہیں تو کیا آپ ایسا کرسکتے ہیں؟میرا خیال ہے کہ اب ایسا کرنا ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔سیکسی مناظر سے بھرپورملکی وغیر ملکی فلمیں اور ان کے آئٹم سونگ ہماری نوجوان نسل کے خون میں اخلاق باختگی کاطوفان کھڑاکردینے کے لیئے کافی ہیں جبکہ اب تو پرائیویٹ ٹی وی چینلز نے بھی تمام اخلاقی حدود پھلانگ کر آزادی اور بے باکی پر مبنی ڈرامے اور پروگرام زور شور سے دکھاکر گھروں میں بھی بے حیائی اورولگریٹی کے مناظر پہنچادیئے ہیں جن میں بھارتی میڈیا سب سے آگے ہے لیکن ہمارا میڈیا بھی ان سے کم نہیں ،کسی بھی پاکستانی چینل کا ڈرامہ کوئی شو یا اشتہار دیکھ لیں آپ کو بولڈنیس کے نام پر نوجوان لڑکیاں بے حیائی کاپرچار کرتی ہوئی نظر آئیں گی یہ ہی وجہ ہے کہ طالب علموں کی اخلاقی حالت دن بہ دن بگڑتی چلی جارہی ہے اور وہ تعلیم میں دلچسپی لینے کی بجائے ان خرافات میں مبتلا ہوکر اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہورہے ہیں،وہ اس گرم مصالحے سے بھرپور دیسی و غیرملکی فلمیں،ان کے آئٹم سونگ اورسیکسی شوز دیکھ دیکھ کر ذہنی اور جنسی مریض بنتے چلے جارہے ہیں جس کی وجہ سے ان کا مستقبل تباہوبرباد ہورہاہے اور ان کے والدین کی امیدیں اور خواہشات دم توڑ رہی ہیں ۔اس قوم کا مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیئے ،ہر قسم کی ملکی و غیرفلموں کو سختی سے سنسر کیا جائے ،فحش فلموں کی نمائش کو ممنوع قردار دیا جائے اور ٹی وی چینلز پربے ہودہ پروگراموں، ولگر اشتہارات اور ناجائز تعلقات کی کہانیوں پر مشتمل ڈراموں کی نمائش پر پابندی عائد کی جائے تو پھر کہیں جاکر اس قوم کے معماروں کو اس قابل بنایا جاسکتا ہے کہ وہ ملک و قوم کی کوئی خدمت کرسکیں ورنہ جس طرح سے میڈیا عریانیت اور فحاشی کے فروغ میں مصروف نظر آتا ہے اور جس طرح انٹر ٹینمنٹ کے نام پر نئی نسل کے ذہنوں میں گندگی کو بھرا جارہا ہے وہ نتائج کے حوالے سے انتہائی خطرناک اور کسی بھی قوم کے نوجوانوں کو برباد کرنے کے لیے بہت کافی ہے ۔خیر یہ تو گرم مصالحے کی بات ہوئی لیکن ذرا ستم ظریفی تو ملا حظہ فرمایئے کے اس گرم مصالحے کی بہتر نشودنما کے لیے طلبہ کی راہ میں حائل مشکلات کو کم سے کم کیا جارہا ہے ۔جگہ جگہ بنے ہوئے پارک اور تفریح گاہیں اور سینماوں میں ہونے والے مارننگ شوز ان طلبہ کا ایک محفوظ ٹھکانہ ہیں جہاں وہ بہت آرام کے ساتھ ’’ڈیٹ ‘‘مار سکتے ہیں، والدین تو سمجھ رہے ہیں کہ ہمارا بیٹا یا بیٹی کالج یا اسکول پڑھنے گیا ہے اور ان کی اولاد کسی ائیرکنڈیشنڈ سینما میں بیٹھے صبح کا خاص شو دیکھ رہی ہے یا پھر کسی پارک میں ’’ڈیٹ‘‘مارنے میں مصروف ہے۔ پرویز مشرف کے دور حکومت میں اس گرم مصالحے کے شوقینوں کے لیئے ہر محلے میں تفریحی پارک بھی بنادیئے گئے تھے جو آج بھی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو’’ڈیٹ ‘‘ کے لیئے انتہائی خوبصورت ،محفوظ اور مفت جگہ فراہم کرتے ہیں جہاں بیٹھ کر وہ اپنے محبوب کے ساتھ باتیں کرنے کے علاوہ اسمارٹ یا یا نارمل موبائل میں موجود میموری کارڈز کے ذریعے جو چاہیں دیکھ لیتے ہیں اور چاہیں تو ان سیکسی موبائل کلپ میں دکھائے جانے والے سیکسی مناظر میں سے کسی ایک آدھ منظر کی نقل یا تجربہ بھی کرسکتے ہیں کیونکہ اب پارکوں اور تفریح گاہوں میں موجود جوان جوڑوں سے کوئی نکاح نامہ طلب کرنے کا مجاز بھی نہیں رہا کیونکہ پرویز مشرف نے اپنے دور میں ایک قانون کے ذریعے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیئے جنسی آزادی کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ دور کردی تھی جس سے نوجوان نسل بھرپور فائدہ اٹھاتی ہوئی نظر آتی ہے ۔آپ صبح یا شام کسی بھی چھوٹے بڑے پارک یا کسی مشہورتفریح گاہ کا ایک چکر لگا کر دیکھ لیں جو کچھ اس کا لم میں لکھا گیا ہے اس کا عملی نمونہ آپ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے ۔ایک تو ویسے ہی کالجوں یا یونیورسٹی میں کونسی پڑھائی ہوتی ہے جو سونے پر سہاگہ کے مصداق گلی محلوں میں جگہ جگہ پارک بناکر’’ڈیٹ‘‘ کے لیئے آسانیاں پیدا کردی گئی ہیں اور سینماؤں میں مارننگ شو بھی شروع کردیے گئے ہیں لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ جوکچھ ہوچکاہے اس پر ماتم کرنے کی بجائے آنے والے کل کی اصلا ح کی جائے اور اصلاح صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اس گرم مصالحے سے اس قوم کے معماروں کو نجات دلادی جائے ،ہر قسم کی ملکی و غیرفلموں کو سختی سے سنسر کیا جائے ،فحش فلموں کی نمائش کو ممنوع قردار دیا جائے۔ پیمرا کاادارہ کیبل آپریٹرز کو پابند کرے کہ وہ بے ہودہ ڈرامے اور شوز نہ دکھائیں اور ٹی وی چینلز کو بھی اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہ ڈرامے یا شوز نشر کرتے وقت اسے پاکستان کی ثقافت اور قانون کے مطابق سینسر کرکے نشر کریں اور اس کے ساتھ ہی سٹی گورنمنٹ کوچاہیئے کہ وہ اپنے زیر انتظام چلنے والے پارکوں اور تفریح گاہوں میں اوباش نوجوانوں اور گمراہ لڑکیوں کی آمدورفت پر نظر رکھنے کا بندوبست کرے اور اگر وہاں کوئی غیراخلاقی حرکتیں کرتا ہوا دکھائی دے تو اسے فوراً پارک سے باہر نکال دیا جائے کیونکہ ان پارکوں اور تفریح گاہوں میں فیملیز بھی آتی ہیں اور غیر اخلاقی حرکتوں کی وجہ سے پارکوں کا ماحول خراب ہونے کے علاوہ یہاں آنے والی فیملیز کی تفریح میں بھی خلل پڑتا ہے اس کے علاوہ پاکستانی سنیماؤں میں مارننگ شوز دکھائے جانے پر بھی پابندی عائد کی جائے تب کہیں جاکرصورت حال میں کوئی بہتر تبدیل لائی جاسکتی ہے ورنہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان میں بھی امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی طرح سر عام جنسی سرگرمیاں ہوں گی اور کوئی انہیں روک نہ پائے گا۔اگر آپ کو اپنی اولاد کا کل سنوارنا ہے تو آپ کو آج کچھ کرنا ہوگا ورنہ آنے والا کل آپ کے ہاتھ میں نہیں ان کے ہاتھ میں ہوگا جو ہمارے معاشرے کوعریانیت اوراخلاق باختگی کی دلدل میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔لہذا اس سے پہلے کہ وقت بالکل ہی ہاتھوں سے نکل جائے، خدارا!قوم کے نوجوانوں کو عریانیت اور فحاشی کے اس’’ گرم مصالحے‘‘ سے نجات دلائی جائے!

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 517 Print Article Print
About the Author: Fareed Ashraf Ghazi

Read More Articles by Fareed Ashraf Ghazi : 103 Articles with 55665 views »
Famous Writer,Poet,Host,Journalist of Karachi.
Author of Several Book on Different Topics.
.. View More

Reviews & Comments

Language: