پہلی ملاقات

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

یہ میری اُس سے پہلی ملاقات تھی۔لکھنا ہمارے تعلقات کی بنیاد تھا۔ میں ایک تقریب میں شرکت کے لیے پشاور سے دبئی گیا ہواتھا، دبئی جانے سے قبل ہی میں نے اپنے پروگرام سے اُسے آگاہ کردیا تھا۔ نجی مصروفیات سے فارغ ہوکر میں نے زارا کو بتایا کہ میں فارغ ہوں، ملاقات کے لیے تاریخ ،دن اور وقت دبئی کے ایک بڑے مال میں طے ہوگیا۔ میں طے شدہ وقت سے کچھ پہلے ہی مقررہ جگہ پہنچ گیا ، شاید اس سے ملاقات اور اسے دیکھنے کی امنگ مجھ میں کچھ زیادہ ہی تھی۔ میری نظریں اجنبی چہرہ کی تلاش میں تھیں، میرا چہرہ بھی اس کے لیے اجنبی تھا۔ میں کبھی ادھر کبھی ادھر ، نظریں دوڑا رہا تھا، آخر کار تھک کر ایک دکان کے باہر رکھی کرسی پر بیٹھ گیا ۔نظریں مال میں داخل ہونے والے راستے پر جمی ہوئی تھیں۔ ذہن اپنے دوست کی شکل و صورت اور شخصیت کے بارے میں تانے بانے بن رہا تھا۔ کیسی ہوگی وہ؟ لمبی، پتلی، موٹی، باپردہ یا بے پردہ ، چشمہ لگا ہوگا یا نہیں، آئے گی بھی یانہیں، کہیں کوئی بات نہ ہوگئی ہو ، کوئی پریشانی نہ نکل آئی ہو، کوئی مجبوری وغیرہ وغیرہ۔ میں اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ مال میں داخل ہونے والے راستے سے ایک خاتون جو تنہا تھی، ابائے میں ملبوس، رنگین اسکارف کے ساتھ لمبے لمبے قدموں سے آتی نظر آئی ، تحت الشعور نے کہا کہ ہو نہ ہو یہی وہ شاہکار ہے جس کا مجھے انتظارہے، چند لمحوں میں ہم کچھ فاصلے پر سے آمنے سامنے تھے، فاصلہ تیزی سے کم ہورہا تھا، دونوں نے محسوس کر لیا کہ ہم ہی ہیں آج کے ملاقاتی۔سلام کا تبادلہ ہوا ،میں زارا ہوں ،اس نے کہا، میرا نام سمیرہے ۔ دونوں کے لیے اتنا ہی تعارف کافی تھا۔ دونوں کے چہروں پر خوشگوار تاثرات تھے۔ یعنی دونوں نے ہی خوشی کے ساتھ ایک دوسرے کا استقبال کیا۔کچھ وقت ادھر ادھر چکاچوند روشنی میں پھر کسی گوشہ آفیت کی تلاش شروع ہوئی ، جلد ہی ایک ایسی جگہ میسر آگئی جہاں ہم ایک دوسرے کے مقابل بیٹھ گئے۔ واٹس اپ اور فیس بک پر ایک دوسرے کی پوسٹ پر کمنٹس یا لائک کرنے والے آج سالوں بعد آمنے سامنے تھے، زارا اپنی فیملی کے ساتھ کافی عرصے سے دبئی میں رہ رہی تھی، شاعری اور نثر نگاری اس کا محبوب مشغلہ ہے، زارا پر وقار شخصیت کی مالک تھی۔وہ ایک اچھی شاعرہ ہے اور افسانے اور کالم بھی لکھتی ،ہمارے درمیان سوشل میڈیا پر لکھنا قدر مشترک اور دوستی کی بنیاد تھا۔

سوشل میڈیا پر کس کے کتنے دوست ہیں اور دوستی کی نوعیت کیا ہے کسی کوکچھ معلوم نہیں ہوتا، بے شمار دوست سمجھتے ہیں کہ سامنے والا بس ہمارا ہی دوست ہے۔ جب کہ ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ زارا سے گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا۔ کچھ ہم نے اپنی کہی کچھ اس نے اپنا حال سنایا۔ لکھنے کی باتیں ہوئیں، شاعری زیر بحث آئی ، اشعار کا تبادلہ بھی ہوا۔دبئی میں ایک ایسی صاحب بھی تھے جو ہم دنوں کے دوست تھے۔ میں ان سے فاصلے پر تھا اس لیے میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھا تھاسوشل میڈیا ہی ہمارے تعلق کی بنیاد تھا، وہ زارا کے بھی دوست تھے ، شاید دوست سے بھی بڑھ کر تعلق تھا ۔ مجھے اپنی اس دوست سے ملاقات کے بعد برنی صاحب سے ملاقات کے لیے جانا تھا وہ ایک آفس میں بیٹھا کرتے تھے۔زارا سے گفتگو کے دوران برنی صاحب کا ذکر بھی نکل آیا، مجھے نہیں علم تھا کہ زارابھی ان کی دوست اور زیادہ قریب ہے۔ اس نے کہا کہ چلیں یہاں سے ان سے ملنے چلتے ہیں۔ زارانے اسی وقت برنی صاحب کو فون ملایا سلام دعا کی اور میرا بتا یا کہ میں پشاور سے آیا ہوا ہوں اور یہ کہ ہم دونوں آپ سے ملاقات کے لیے حاضر ہورہے ہیں۔ زارا کے تاثرات سے لگا کہ وہ قدر خوش ہوئی، گفتگو اور ان کے مثبت جواب سے۔ ٹیکسی لی برنی صاحب کے دفتر ۔اس کے قدم بتارہے تھے کہ وہ یہاں آتے رہے ہیں۔ جیسے جیسے قدم آگے بڑھ رہے تھے زارا کے چہرہ پر خوشگوار اثرات کا اضافہ ہورہا تھا۔دفتر میں داخل ہوئے ۔ برنی صاحب نے ہمیں دیکھا تو اپنی سیٹ سے کھڑے تو ہوگئے گلے بھی ملے لیکن محسوس ہوا کہ ان کی نگاہیں زارا کا تعاقب کر رہی ہیں، ان کی آنکھوں میں چمک اور خوشی ہے۔ زارا کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ اس دفتر سے بخوبی آگاہ ہے ۔ وہ ایک طرف بیٹھ گئی اور ہماری گفتگو میں زیادہ مخل نہیں ہوئی۔ برنی صاحب گفتگو مجھ سے کر رہے تھے جب کہ ان کی نگاہوں کا مرکز زارا تھی۔

یہ کوئی خاص بات نہیں تھی ساتھ کام کرنے والوں کے مابین اچھے تعلقات ہو ہی جاتے ہیں۔لیکن اگر تعلقات مخالف جنس کے ساتھ ہوں تو ان میں احتیاط لازم ہے بصورت دیگر لوگ تیکھی نظروں سے کچھ سے کچھ کہانی گھڑ لیتے ہیں۔ راستے میں زارا نے سوال کیا ، سمیر آپ اس ملاقات کو کس نظرسے دیکھتے ہیں۔ مجھے قطعناً اندازہ نہیں تھا کہ زارا مجھ سے یہ سوال پوچھ سکتی ہے۔ اس کا اشارہ برنی صاحب سے اس کے تعلقات کے حوالے سے تھا۔ کچھ لمحہ تو میں سوچ میں پڑگیاکہ سچائی سے سب کچھ بتا دوں یا مصلحت سے کام لوں۔ میرے ضمیر نے یہ گوارا نہ کیا کہ زارا کے ساتھ غلط بیانی کروں۔میرے سامنے صرف زارا ہی نہ تھی بلکہ اس کے بچے اور اس کا خاندان ، اور پھر زارا کی عزت و ناموس تھی۔ اس لیے زارا سے اپنی دوستی کی پروا نہ کرتے ہوئے ، جو کچھ محسوس کیا سچ سچ کہہ دیا۔میں نے کہا کہ مجھے تو برنی صاحب کے تیور کچھ اچھے نہیں لگے، زارا جی یہاں آپ کی کچھ ڈھیل لگتی ہے۔ آپ کو زیادہ محتاط اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ مانا محبت کھوٹ نہیں ہوتی، فی زمانہ ایسی محبتیں نہیں ملتی، لیکن زارا نے دعویٰ کیا کہ اُسے ایسی محبت کرنی آتی ہے۔ ممکن ہے کہ وہ صحیح ہو لیکن میرا تجربہ مختلف ہی ہے۔ زمانے کی نظریں عقاب سے بھی زیادہ تیز ہوتی ہیں ۔ زارا سے پہلی ملاقات مفید اور سود مند رہی ۔ہم دونوں نے علمی و ادبی موضوعات پر گفتگو کا سلسلہ جاری رکھنے کا وعدہ کیا ۔ زارا سے یہ باتیں کرتے اور رخصت ہوتے میں اپنے آپ کو افسردہ محسوس کررہاتھا۔شاید اچھے دوست سے بچھڑنے کا دکھ تھا۔ زارا کے چہرے پر مسکراہٹ صاف عیاں تھی۔ ایک دوسرے کو الودع کہا اور اپنی اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگئے ۔(شائع شدہ سہ ماہی جریدہ’ سلسلہ ‘نمبر 42مارچ 2019)

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 447 Print Article Print
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 653 Articles with 476510 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Reviews & Comments

Language: