لڑکا کرتا کیا ہے؟

(Mukhtar Ahmed, Islamabad)

لڑکا تعلیم سے فارغ ہو کر اپنے پاؤں پر کھڑا ہوجائے تو ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے کہ اب اس کی چاند جیسی بہو کو بھی گھر میں آجانا چاہیے- سہیل بھی تعلیم سے فارغ ہو نے کے بعد برسر روزگار ہو گیا تھا اور ماں کے خیال میں اب شادی کے لائق ہوگیا تھا-

ماں کی نظروں میں ملنے جلنے والوں کی بہت سی لڑکیاں تھیں- مگر ماحول کو دیکھتے ہوۓ اس نے یہ مناسب سمجھا کہ پہلے بیٹے سے پوچھ لے کہ وہ تو کہیں شادی نہیں کرنا چاہتا، تاکہ حجت تمام ہو اور بعد کی ممکنہ الزام تراشیوں سے بھی بچا جا سکے- ماں کے پوچھنے پر وہ بولا- "ماں میری نظر میں تو بہت سی لڑکیاں ہیں، مگر ان میں سے کوئی بھی مجھ سے شادی کرنے پر تیار نہیں- اس لیے آپ ہی کسی کو دیکھ لیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں"-

ماں کی آنکھوں میں ایک فخریہ چمک پیدا ہوئی- سہیل کی شرافت اور سعادت مندی نے ان کا دل جیت لیا تھا- وہ اس بات کی حامی تھیں کہ شادی کے بعد جتنا دل چاہے محبت کرو، بہت اچھی بات ہے- شادی سے پہلے کی محبتوں میں شادی کے بعد وہ پہلے جیسی بات اور گرم جوشی نہیں رہتی- اس بارے میں ان کے سامنے بہت سی مثالیں تھیں-

ان کی نظروں میں جو چند ایک لڑکیاں تھیں ، سہیل کی چھوٹی بہن نائلہ نے ان کی لسٹ بنا لی اور پھر ان پر نمبر بھی لگا دئیے کہ کس کو پہلے دیکھنے جانا ہے اور کس کو بعد میں- نائلہ نے پہلے نمبر پر رمشا کو رکھا تھا- سرکاری محکموں کی طرح یہاں بھی جان پہچان اور اثرو رسوخ والا گر کام کر گیا تھا- رمشا کالج کی شروع کی کلاسوں سے ہی اس کی دوست تھی- وہ دونوں اسی سال کالج سے کامیاب ہو کر نکلی تھیں اور ان کی آپس میں گہری دوستی تھی- نائلہ نے ماں کو رمشا کے بارے میں تفصیل سے باتیں بتا دی تھیں- وہ چاہتی تھی کہ سہیل بھائی کی شادی رمشا سے ہوجائے- اسے سہیل کی سب عادتوں کا پتہ تھا اسی لیے اسے یقین تھا کہ رمشا ایک مثالی بیوی ثابت ہوگی- نائلہ کی بات سن کر ماں نے سوچا کہ چلو پہلے اس لڑکی کو دیکھ لیتے ہیں- پسند آگئی تو شادی کردیں گے- نائلہ بھی خوش ہوجائے گی کہ اس کی سہیلی بھابی بن کر گھر آگئی ہے-

سہیل ستائیس اٹھائیس سال کا ایک وجیہہ نوجوان تھا- اس کی ماں کو یقین تھا کہ اتنا اچھا لڑکا دیکھ کر رمشا کے گھر والے فوراً ہی ہاں کردیں گے- اچھی لڑکیاں تو بہت ساری مل جاتی ہیں، مگر اچھے لڑکے تو بہت زیادہ ڈھونڈنے کے بعد ہی ملتے ہیں-

بات کو آگے بڑھانے کے لیے پہلے سہیل کی ماں نے رمشا کی ماں سے فون پر بات کی اور آخر ایک روز اس کے بلانے پر وہ تینوں ان کے گھر پہنچ گئے- مقصد یہ ہی تھا کہ لڑکی دیکھ بھی لیں گے اور لڑکا دکھا بھی دیں گے -

اس بر دکھاوے کی تقریب میں رمشا کے باپ نے اپنے بھائی کی فیملی کو بھی مدعو کیا تھا- اس فیملی میں اس کا چھوٹا بھائی، اس کی بیوی اور نوجوان بیٹا احتشام شامل تھے- رمشا کا باپ سیدھا سادہ اور اصول پسند آدمی تھا- وہ جب سہیل سے ملا تو اسے کسی اور بات کی فکر نہیں تھی، فکر تھی تو اس بات کی کہ لڑکا کرتا کیا ہے-

رمشا کے باپ کے پوچھنے پر سہیل نے بتایا کہ وہ ایک خفیہ محکمے میں ایک اچھے عہدے پر فائز ہے- اس نے مزید کہا "انکل اس سے زیادہ میں اور کچھ نہیں بتا سکتا، محکمے کی طرف سے اس بارے میں سختی سے ممانعت ہے"- اس گفتگو کو احتشام بڑے غور سے سن رہا تھا- ایک عجیب سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر تھی-

رمشا کا باپ خود ایک سرکاری ادارے میں کام کرچکا تھا- اس کے علم میں ایسے کئی حساس ادارے تھے جہاں پر کام کرنے والوں کو اپنی ملازمت اور کام کی تفصیلات دوسروں سے پوشیدہ رکھنا پڑتی تھیں-

رمشا کے باپ کو سہیل بہت پسند آگیا تھا- اس پسند کے پیچھے وہ ادارہ بھی تھا جس میں وہ کام کرتا تھا- داماد اگر ایسے کسی محکمے میں ہو تو خاندان والوں پر اس بات کا بڑا رعب پڑتا ہے-

اس کے بھائی اور بھاوج کو بھی سہیل مناسب لگا تھا- ان کا بیٹا احتشام البتہ خوش نظر نہیں آ رہا تھا- اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ خود رمشا کو پسند کرتا تھا اور اس سے شادی کرنا چاہتا تھا- ویسے تو اس کی موبائل پر بھی کئی لڑکیوں سے دوستی تھی اور اس کے علاوہ خاندان کی چند ایک لڑکیوں سے بھی اس کے پیار محبّت والے مراسم تھے اور تمام دوسری بے وقوف اور معصوم لڑکیوں کی طرح وہ سب یہ ہی سمجھتی تھیں کہ وہ ان سے شادی کرے گا، مگر شادی کا ارادہ اس کا صرف رمشا کے ساتھ ہی تھا- رمشا ہی واحد لڑکی تھی جس سے وہ سچا پیار کرتا تھا- باقیوں سے تو صرف وقت گزاری کا تعلق تھا-

وہ ایک کورئیر سروس میں عارضی طور پر کام کرتا تھا، جہاں اسے بہت کم تنخواہ ملتی تھی- اس تنخواہ میں بیوی بچوں کا بوجھ اٹھانا مشکل تھا- وہ کسی اچھی سی نوکری کی تلاش میں تھا، اس کا خیال تھا کہ اچھی سی نوکری ملتے ہی وہ مختلف بہانے بنا کر، جیسا کہ اس قماش کے دوسرے لڑکے کرتے ہیں، باقی لڑکیوں سے دوستی ختم کردے گا اور اپنا رشتہ رمشا کے لیے بھیج دے گا، مگر بیچ میں سہیل نے رنگ میں بھنگ ڈال دی- سارے خواب چکنا چور ہو کر رہ گئے تھے- اسے اپنی سچی محبّت کی ناؤ ڈوبتی نظر آنے لگی- بس ایک بات اسے سہارا دے رہی تھی- وہ ہی بات جو سہیل نے کہی تھی کہ وہ کسی خفیہ محکمے میں کسی اچھے عہدے پر فائز ہے-

کون لڑکی ایسی ہوگی جس کے رشتے کی بات چیت چل رہی ہو اور وہ اس سیشن کے دوران تاک جھانک نہ کرے- رمشا نے بھی ڈرائنگ روم کی کھڑکی کے ایک سوراخ سے سہیل اور اپنے باپ کی ساری گفتگو سنی بھی تھی اور انھیں باتیں کرتے ہوۓ دیکھا بھی تھا- یہ سوراخ اس کی چھوٹی بہن نے دریافت کیا تھا، اس میں سے جھانک کر اندر دیکھنا رمشا کو بہت عجیب سا لگ رہا تھا اور وہ شرمندگی محسوس کر رہی تھی، مگر وہ شرمندگی کے بوجھ کا احساس سر پر لیے مسلسل اندر جھانکتی رہی-

سہیل سے اس کی کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی- اس کے بارے میں اسے صرف یہ معلوم تھا کہ وہ اس کی سہیلی نائلہ کا بھائی ہے- رمشا نے سہیل کو آج پہلی مرتبہ دیکھا تھا، اور وہ اس کو اچھا لگا تھا- اس کی آنکھوں میں اسے بچوں جیسی معصومیت نظر آئ تھی- لڑکیاں پہلے تو لڑکوں میں کوئی اچھی رومانٹک سی بات ڈھونڈتی ہیں، پھر اس اچھی بات کو وجہ بنا کر ان سے محبّت کرنے لگتی ہیں- اس محبّت کے کھیل میں چند ایک تو کامیاب ہو جاتی ہیں اور ان کا گھر باعزت طریقے سے بس جاتا ہے مگر بے شمار ایسی بھی ہوتی ہیں جو اپنی معصومیت اور نرم دلی کی وجہ سے دھوکہ کھا جاتی ہیں اور زندگی بھر ایک خلش کے ساتھ جیتی ہیں- یہ خلش انھیں ذہنی مریضہ بھی بنا دیتی ہے- رمشا کو بھی سہیل سے ٹوٹ کر محبّت کرنے کی ایک وجہ مل گئی تھی، آنکھوں میں بچوں جیسی معصومیت والی!!!

رمشا کی ماں نے ان سے کہہ دیا تھا کہ وہ سوچ کر جواب دیں گے- جب اس نے رمشا کے بارے میں کریدا کہ وہ انھیں کیسی لگی تو نائلہ نے ہنس کر کہا "جس دن سہیل بھائی نتیجہ آئے گا، اسی روز ہم بھی رمشا کا رزلٹ آؤٹ کردیں گے"-

جب سہیل اپنی ماں اور بہن کے ساتھ چلا گیا تو ان کے جانے کے بعد چائے کا ایک اور دور چلنے کا پروگرام بنا اور اسی موضوع پر گفتگو ہونے لگی- رمشا نے جلدی جلدی چائے بنا کر چھوٹی بہن کے ہاتھ ڈرائنگ روم میں بھجوائی اور خود اسی جگہ پر کھڑی ہو کر اندر جھانکنے لگی، جس جگہ سے اس نے پچھلی کاروائی دیکھی تھی-

سب لوگوں کی باتوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ انھیں سہیل اس شادی کے لیے موزوں ترین لڑکا لگ رہا ہے- جب کچھ خاموشی ہوئی تو احتشام نے کھنکھار کر کہا "مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ آپ سب لوگ دھوکہ کھا رہے ہیں، ظاہری باتیں دیکھ کر ان پر یقین کرلیا ہے، اندر کیا ہے، نہ کسی نے جانا اور نہ جاننے کی ضرورت محسوس کی"-

اس کی اس بات سے ڈرائنگ روم میں سناٹا چھا گیا- احتشام کی ماں نے چپکے سے اس کی ٹانگ میں چٹکی لی اور اشارہ کیا کہ وہ خاموش رہے- اس نے ماں کا ہاتھ ایک طرف ہٹا کر مزید کہا "سہیل صاحب جس خفیہ ادارے میں کام کرتے ہیں اس ادارے کو میں اچھی طرح جانتا ہوں"-

احتشام کی باتیں سن کر رمشا سخت پریشان ہو گئی تھی- اسے پتہ تھا کہ احتشام اسے پسند کرتا ہے، مگر شروع ہی سے اس کی عادتیں دیکھ کر اور بے شمار لڑکیوں سے دوستی کرنے کی وجہ سے وہ اس سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتی تھی- اب وہ پتہ نہیں کونسا کھیل کھیلنا چاہ رہا تھا-

احتشام تم خاموش نہیں بیٹھو گے"- اس بار اس کی ماں نے تیز آواز میں سرزنش کی- اس پر رمشا کے باپ نے کہا "نہیں بھابی- احتشام کو کہنے دیں- یہ رمشا کے مستقبل کا سوال ہے- ہمیں احتشام کی بات سننا پڑے گی- ہاں احتشام تم کیا کہہ رہے تھے؟ "-

"یہ لڑکا سہیل میرے آفس کی بلڈنگ کی کسی فرم میں سیکورٹی گارڈ ہے- اس کی نئی نئی بھرتی ہوئی ہے- میں پچھلے ہفتے سے اس کو روز وہاں دیکھتا ہوں- ایک گن ہاتھ میں پکڑ کر ٹہلتا رہتا ہے- یہ بات میں اس کی موجودگی میں بھی کرسکتا تھا، مگر میں نے مناسب نہیں سمجھا"-

اس اطلاع پر جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا- رمشا کا باپ صوفے سے اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگا- "اگر یہ سچ ہے تو اس نے ہم سے جھوٹ کیوں بولا، ہمیں اندھیرے میں کیوں رکھا؟- احتشام بیٹے تمہیں غلط فہمی تو نہیں ہوئی؟"- انہوں نے کوئی فیصلہ کن بات کہنے سے پہلے ایک مرتبہ پھر اس بات کی تصدیق کرنا چاہی-

"غلط فہمی کیسی- آپ چاہیں تو خود وہاں آکر دیکھ لیں ورنہ میں کل اس کی موبائل میں تصویر بنا کر لے آؤں گا"- احتشام نے بڑے یقین سے کہا-

"اگر واقعی وہ سیکورٹی گارڈ سہیل ہی ہے تو ہمارا وہاں جانا مناسب نہیں- تم اس کی تصویر لے آنا- اگر تمہاری بات ٹھیک نکلی تو میں اس کا وہ حشر کرونگا کہ زندگی بھر یاد رکھے گا- علاقے کا ڈی ایس پی میرے بچپن کا دوست ہے"- رمشا کا باپ سخت غصے میں آ گیا تھا-

سب لوگوں کو جیسے چپ سی لگ گئی تھی- تھوڑی دیر کے بعد احتشام اپنے ماں باپ کے ساتھ چلا گیا- ان کے جانے کے بعد رمشا کے علاوہ گھر کے سارے لوگ ڈرائنگ روم میں جمع ہوگئے اور اس واقعہ پر اظہار خیال شروع ہوگیا- گھر میں اچھی خاصی سراسیمگی پھیل گئی تھی- کچھ دیر پہلے وہ ہی سہیل جو سب کو اچھا لگ رہا تھا، اب اس کے متعلق ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہونے لگے تھے-

صرف رمشا اور اس کی ماں کے دلوں میں اس کے متعلق نرم گوشہ تھا- رمشا کی ماں بولی "اگر وہ سیکورٹی گارڈ بھی ہے تو کیا ہوا- مجھے اس کی بہن نے بتایا تھا کہ وہ کسی زمانے میں یونیورسٹی سے ڈگری لے کر نکلا تھا، آج کل پڑھے لکھے لڑکوں کو نوکریاں ملتی ہی کہاں ہیں- اس کی ماں اور بہن بہت اچھی ہیں- ان کا اپنا ذاتی گھر ہے، گاڑی ہے- پھر لڑکا شکل و صورت کا بھی اچھا ہے اور شریف بھی نظر آتا ہے- ہمیں اس سے زیادہ اور چاہیے بھی کیا"-

رمشا کا باپ بولا "تم ٹھیک کہتی ہو- میں نے خود بہت چھوٹی پوسٹ سے اپنا کرئیر شروع کیا تھا، مگر بات یہ نہیں ہے- اگر احتشام کی بات سچ ثابت ہوجاتی ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سہیل نے غلط بیانی کیوں کی- ابھی سے اس کا یہ حال ہے تو بعد میں خدا جانے کیا گل کھلائے گا، لڑکی کا معاملہ ہے- وہ سچ بتا دیتا کہ وہ سیکورٹی گارڈ کی نوکری کرتا ہے تو اچھا تھا- اس نے جھوٹ بول کر ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے"-

اگلے روز شام کو احتشام اپنی چھٹی کے بعد سیدھا ان کے گھر آگیا تھا- اس کے چہرے پر مایوسی کے آثار تھے- رمشا کا باپ اس کا بےچینی سے انتظار کر رہا تھا- وہ سب ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوۓ تھے- اس نے آتے ہی رمشا کی طرف دیکھا اور بولا "اسے کسی طریقے سے خبر ہوگئی ہے کہ راز افشا ہوگیا ہے - وہ آج ڈیوٹی سے غیر حاضر تھا "-

رمشا کا باپ کچھ سوچنے لگا- حالات کچھ اتنے گھمبیر ہو گئے تھے اور ماحول میں اتنا تناؤ آگیا تھا کہ احتشام سے کسی نے چائے کا بھی نہیں پوچھا اور وہ چلا گیا-

اگلے روز وہ دوپہر بارہ بجے ہی آدھمکا- اس کے چہرے پر دبے دبے جوش کے آثار تھے- موبائل اس کے ہاتھ میں تھا اور امیج ویور اس نے پہلے ہی سے کھول رکھا تھا، اندر آتے ہی اس نے موبائل کو رمشا کے باپ کے ہاتھ میں تھما دیا- "یہ تصویریں میں نے چھپ کر لی ہیں- دیکھ لیجیے"- رمشا کے باپ نے بغور دیکھا، وہ واقعی سہیل ہی تھا-

سہیل کا موبائل نمبر رمشا کے باپ کے پاس تھا- اس نے نمبر ملا کر اس سے کہا کہ وہ اس سے ملنا چاہتا ہے، فوراً گھر پہنچے- جواباً سہیل نے کہا وہ اس وقت بہت مصروف ہے- شام چھ سات بجے تک ہی آسکے گا-

رمشا سخت پریشان تھی - اسے خدشہ تھا کہ سہیل کے آنے پر کوئی لڑائی جھگڑا نہ شروع ہوجائے- اس نے سوچا کہ وہ سہیل کی بہن کو فون کر کے اس سے کہہ دے کہ وہ اسے منع کردے کہ وہ یہاں نہ آئے- وہ اٹھنے ہی لگی تھی کہ اس کے باپ نے سختی سے کہا "تم کہیں نہیں جاؤگی- یہیں بیٹھی رہو"- پھر اس نے احتشام سے کہا "وہ کہہ رہا تھا کہ ابھی کام ہے چھ سات بجے شام تک آسکے گا - احتشام نے مسکرا کر کہا "ڈیوٹی چھوڑ کر کیسے آسکتا ہے- چھٹی ہوگی تب ہی تو آئے گا"-

معاملہ چونکہ اہم تھا اس لیے سب وہیں بیٹھ کر شام ہونے کا انتظار کرنے لگے- ساڑھے پانچ بجے کے قریب سہیل وہاں پہنچ گیا- یہ دیکھ کر سب ہکا بکا رہ گئے کہ اس کے جسم پر پرائیویٹ سیکورٹی گارڈوں کی وردی تھی- اس کے آنے پر رمشا وہاں سے اٹھ کر چلی گئی-

"میں سیدھا ڈیوٹی سے آ رہا ہوں- مجھے دیر تو نہیں ہوگئی ؟"- اس نے معذرت خواہانہ انداز میں پوچھا-

"کونسی ڈیوٹی سے آرہے ہو؟ تم کام کیا کرتے ہو؟"- اس کے باپ نے اس کے سوال کو نظر انداز کر کے سرد لہجے میں پوچھا- سہیل نے نہایت تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوۓ جیب میں ہاتھ ڈالا اور اپنا کارڈ نکال کر اس کو رمشا کے باپ کے ہاتھ میں پکڑا دیا- رمشا کے باپ نے کارڈ پر نظر ڈالی اور لمحہ بھر میں اس کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہو گئے- اب اس پر غصے کی جگہ حیرانی نے لے لی تھی-

"مگر سہیل بیٹے تم یہ کس قسم کی وردی میں ہو اور یہ کیا ہے؟"- اس نے احتشام کا موبائل اس کی طرف بڑھایا- سہیل نے موبائل کی طرف دیکھا تک نہیں- بولا "میں رمضان پلازہ کی بلڈنگ میں ایک ملک دشمن شخص کی نگرانی پر مامور تھا- اس نے وہاں اپنا دفتر کھول رکھا تھا اور قوم کے غدار اس سے ملنے وہاں آتے تھے- میرے محکمے والے ایک عرصہ سے اس کی تاک میں تھے- ایک پلاننگ کے تحت میں اسی کے دفتر میں بطور سیکورٹی گارڈ لگوایا گیا تھا- ساری ملک دشمن سرگرمیوں کے منصوبے اس کے دفتر میں بیٹھ کر ہی بنا کرتے تھے اور اس کا رابطہ ایسے ایسے لوگوں سے تھا کہ اگر آپ ان کے نام سن لیں تو کانوں کو ہاتھ لگانے لگیں- شکر ہے کہ دوپہر کو ان سب کو گرفتار کر لیا گیا ہے-

اس واقعہ کی تو دوپہر سے ٹی وی پر بریکنگ نیوز چل رہی ہے، تعجب ہے آپ میں سے کسی نے نہیں دیکھی- میں اسی معاملے میں مصروف تھا، اس لیے دوپہر کو حاضر نہ ہوسکا"-

پھر وہ احتشام کی طرف مڑا- "شہہ بالے- تم کیا سمجھ رہے تھے کہ مجھے پتہ نہیں تھا کہ تم ایک ستون کے پیچھے کھڑے میری تصویریں بنا رہے ہو- میں تو تمہیں ان ہی لوگوں کا ساتھی سمجھ رہا تھا- تم اگر وہاں ہوتے تو تمھاری بھی گرفتاری ہو جاتی"-

احتشام نے برا سا منہ بنا لیا اور رمشا کے باپ سے اس کا کارڈ لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ سہیل نے سرد لہجے میں کہا "اپنی حد میں رہو"- یہ کہہ کر اس نے رمشا کے باپ سے کارڈ واپس لیا اور جیب میں ڈال لیا-

وہ بڑی عجلت میں تھا، رمشا کے باپ کے اصرار کے باوجود نہیں بیٹھا- اس نے کہا "میں بڑی مشکل سے ٹائم نکال کر آیا ہوں- اس واقعہ کی رپورٹ بنا کر آگے دینا ہے، کچھ اور کاروائی بھی کرنی ہے اس لیے اجازت دیجیے"-

اس کے جانے کے بعد رمشا کا باپ احتشام کی طرف مڑا- اس نے احتشام کو ایسی نظروں سے دیکھا جن میں جانے کیا کیا کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا-

"ہاں میاں بس یا اور کچھ؟"- انہوں نے کہا- احتشام نے شرمندہ ہو کر سر جھکا لیا- وہ جانے لگا تو رمشا کے باپ نے بے رخی سے کہا "یہ بھی سن لو کہ جب تک رمشا کی شادی نہ ہوجائے تم اپنے گھر میں ہی ہی موجود رہنا، کہیں آنے جانے کی ضرورت نہیں- آج کل چوری چکاریوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے- گھر میں رہوگے تو حفاظت رہے گی"-

"بہت اچھا تایا جان"- احتشام نے کہا اور جلدی سے نکل گیا-
(ختم شد)
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1015 Print Article Print
About the Author: Mukhtar Ahmed

Read More Articles by Mukhtar Ahmed: 59 Articles with 33485 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: