یہ جگہ میری ہے

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

بلال گھر میں داخل ہوا تو اس کے چہرے کے تاثرات کچھ مختلف تھے۔ بلال کی امی دیکھتے ہی بولیں ، بلال کیا بات ہے تمہارا چہرہ کیوں اترا ہوا ہے۔ آخر ما ں تھی، اولاد پر مشکل وقت کا آنا تو دور کی بات معمول سے ہٹ کر کوئی بات ہوجائے تو ماں کو فوری احساس ہوجاتا ہے۔ بلال نے جواب دیا امی ! پریشانی کی کوئی بات نہیں ۔ ابھی بتا تا ہوں۔ بلال نے بتایا ، امی مجھے ایک اسٹور سے کچھ سامان لینا تھا ، اسٹور سٹر ک کے دوسری جانب تھا، یو ٹرن بھی دور تھا ، مجھے واپس اسی سٹرک پر آگے جانا تھا ، میں نے سوچا کہ گاڑی اسی جگہ پارک کرکے دوسری جانب پیدل ہی چلا جاؤں ۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ جوں ہی میں نے ایک سٹرک پار کی فٹ پر پہنچا ابھی دوسری سڑک پارکرنا تھی، کیا دیکھتا ہوں ہوں کہ ایک بھکارن پر ایک لہیم شہیم آدمی، بڑی بڑے مونچھیں ، گلے میں رومال ڈلا ہوا، زلفیں بکھری ہوئی، منہ گٹکے سے لبا لب،آنکھیں انگارے اگلتی ہوئی، اس بھکارن سے تو تو میں میں کررہا ہے اور وہ بھکارن خوب چلا چلا کراس شخص کو برا بھلا کہہ رہی تھی۔ شورغل اور ہاتھا پائی دیکھ کر اور لوگ بھی جمع ہوگئے ، مجھے بھی تجسس ہوا ، میں بھی ایک جانب کھڑا ہوگیا ، میں جاننا چاہتا تھا کہ آخر ماجر ا کیا ہے۔

بھکارن کے ساتھ کوئی چار پانچ بچے بھی تھے ، ننگے پیر، پھٹے پرانے کپڑے، گندے ہاتھ منہ، عورت اس شخص سے کہہ رہی تھی یہ جگہ تیرے پیودی ہے، میں تے ایتھے ہی مزدوری کراں گی، تو کرلے جو کرسکنا اے۔ بھیک مانگنا گویا مزدوری ہے۔ گداگروں کا وسرغنہ غراتا، چھنگاڑتا ، لال پیلا ہوتا اس معصوم عورت کو اس چوراھے پر بھیک مانگنے سے منع کر رہا تھا، اس نے کہا کہ تینو پتا ہے، میں چوراھے کا 15ہزار روز کا کرایہ دیتا ہوں۔ جب اس نے یہ جملہ کہا تو وہاں موجود سب ہی لوگ کھڑے ہوگئے ، سب کے لیے یہ بات تعجب خیز تھی،یہ شخص خود بھیک نہیں مانگتا ، سنگنل لگے اس چوراھے کا کرایہ روز کا پندرہ ہزار کیوں اور کس کو دیتا ہے؟ تھوڑی سے دیر میں بھکاریوں کے اس سرغنہ کے گرد کوئی آٹھ دس گداگر جن میں مرد ، عورتیں اور بچے بھی تھے جمع ہوگئے ، ایک نے بیساکی لی ہوئی تھی، ایک نے اپنے ہاتھ ٹیڑھے کیے ہوئے تھے، ایک نے اپنی ایک آنکھ پرپٹی باندھی ہوئی تھی، ایک خواجہ سرا بھی تھا، کچھ عورتیں پھٹے پرانے کپڑوں میں تھیں اس کے گرد جمع ہوگئے اوراپنے سرخیل کی حمایت میں اس بھکارن عورت کو مارنے پیٹنے پر تل گئے۔ یہاں تک کہ اسے سڑک پر لٹا کر اس پر لادوں ، مکوں ، تھپڑوں کی بارش کردی، ان بھکاریوں کے سرغنہ نے چلا کر اس عورت سے کہا کہ آخری بار تجھ سے کہہ رہا ہوں ، شرافت سے اس جگہ سے چلی جا ، یہاں صرف میرے لوگ ہی بھیک مانگے گے، اگر تو نہیں گئی تو دیکھ لے تجھے اور تیرے بچوں کو اٹھوا دونگا۔ یہ سب کچھ ہوتا رہا اور مجھ سمیت کئی لوگ یہ تماشا دیکھتے رہے۔ وہ بھکارن آخر کار اپنے بچوں کو لے کر دوسری جانب چل دی۔ بھکاریوں کے سرغنہ نے اپنے گداگروں سے بلند آواز میں کہا کہ چلو جاو سب اپنا اپنا دھندا کرو، میں تھوڑی دیر میں پھر چکر لگاتا ہوں۔

بلال نے بتایا کہ اس نے ہمت کر کے اس شخص سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ بھئی تم اس چوراھے کے پندرہ ہزار روز کس کو دیتے ہوں؟ میں اس شخص کو ایک جانب لے گیا اور پوچھنے کی کوشش کی۔ بڑی مشکل سے اس شخص نے بتا یا کہ صاحب جی ، کراچی کے تمام وہ چوراھے جن کے چاروں جانب دو دو سڑکیں ہیں کرایے پر چلتے ہیں۔ بعض بعض چورھوں کا کرایہ تو پچیس سے تیس ہزار روز ہوتا ہے۔ میں نے استفسار کیا کہ بھئی آخر یہ کرایہ کس کو دیتے ہو۔ جواب میں اس نے صرف اتنا ہی کہا کہ صاحب جی بس یہ نہ پوچھیں ، وردی والوں کے سوا کون ہوسکتا ہے۔ سر ہمیں تو چھوڑیں یہ جو آپ کو سڑک کے کنارے پھل فروٹ بیچنے والے، فٹ پاتھ پر ٹھیلے، چھوٹی چھوٹی دکانیں لگائے ہوئے نظر آتے ہیں آپ کا خیال ہے اپنی مرضی سے کاروبار کر رہے ہیں۔ سب روز کا بھتہ دیتے ہیں تو روزی کماتے ہیں، ہم بھی اپنی روزی اسی طرح کماتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ ایک بھکاری کو کتنے پیسے روز دیتے ہو، کہنے لگا ، ہمارے چوراھوں پر مزدوری کرنے والوں کو دو سے تین ہزار تو دے ہی دیتے ہیں، میں نے پوچھا کہ تمہیں کتنا بچتا ہے، کہنے لگا اس وقت میرے پاس چار چوراھے ہیں۔ چاروں کا کرایہ 60ہرزار روز دیتا ہوں ، گداگروں کو فارغ کر کے مجھے بیس سے پچیس ہزار مل ہی جاتے ہیں۔بلال کی زبانی کہانی سن کر سب لوگ بہت حیران ہوئے اور اس معصوم بہکارن عورت پر افسوس بھی کیا۔ بھکاریوں کے نیٹ ورک اسی طرح ہر شہر میں کام کررہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم پیشہ ور بھکاریوں کی حوصلہ شکنی کریں اور انہیں ہرگز پیسے نہ دیں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 396 Print Article Print
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 651 Articles with 471768 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Reviews & Comments

Language: