سرینگر کی پکار

(Wajid Bin Arif Advocate, )

تمہیں جہلم کی آرزدہ جوانی نے بلایا ہے ،
تمہیں نیلم کے غم اندوز پانی نے بلایا ہے،
بلاتے ہیں تمہیں سہمے ہوئے سائے چناروں کے،
سسکتے غم خوردہ قافلے عؤرنگین بہاروں کے ،
کہاں ہو تم،ادھر آؤ ذرا کشمیر کو دیکھو
شہیدوں کے لہو کی بولتی تصویر کو دیکھو۔۔۔
یوں تو کشمیریوں کی جد وجہد آزادی ایک طویل خونچکاں داستاں ہے ۔ اس راہ پہ کشمیری اس وقت سے اپنے لہو کا خراج دے رہے ہیں جب پہلی بار ان کے مقدر کا سودا ہوا تھا لیکن 13 جولائی 1931 ء اور اس کے بعد کے واقعات نے اس تحریک کو ایک نیا رخ عطا کیا۔تقسیم ہند کے فارمولے اور اقوام متحدہ کی قرارداد وں کے مطابق بھی کشمیریوں کا یہ حق تسلیم کیا گیا تھا کہ برصغیر کی 586 ریاستوں کی طرح وہ بھی اپنی قسمت اور مقدر کا فیصلہ خود کریں گے لیکن چالاک انگریز اور مکار ہندو نے مل کر پاکستان بننے سے قبل ہی اس سازش کا اہتمام کر لیا کہ کشمیری آزادی کا سورج نہ دیکھ سکیں ۔ستم ظریفی دیکھیے کہ برصغیر کی 580 سے زائد ریاستوں میں واحد خطہ کشمیر ہے جس کے گلے سے غلامی کا طوق نہ اتر سکا ۔جب انگریزوں اور ہندؤوں کی مشترکہ حکمت عملی نے واضح کر دیاکہ کشمیریوں کا حق ملنا ناممکن ہے تو مجبوراً نہتے اور مظلوم لوگوں کو بندوق اٹھانا پڑی جس خوبصورت دھرتی کی فضاؤں میں حبہ خاتون کے نغمے گونجتے تھے ان فضاؤں کو دھوئیں اور بارود کی بو نے مکدر کردیا۔مظلوم کشمیری برسوں سے اقوام متحدہ اور ہندوستان کے استصواب رائے کے وعدہ فردا پہ عمل درآمد کے منتظر ہیں لیکن اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی ۔سوال یہ ہے کہ سرینگر کی پکار پہ اقوام عالم کیوں خاموش ہیں؟ ایک پرندہ اگر قفس سے آزادی چاہتاہے تو ایک کروڑ سے زائد انسانوں کے لیے آزادی کیوں نہیں۔۔۔؟؟

دوکروڑانسان اقوام متحدہ کے خوابید ہ ضمیر سے باوقار زندگی کا حق مانگ رہے ہیں ،سرینگر میں خون کے دریا بہہ رہے ہیں ،کشمیریوں کا خون لہو رنگ چنار اگا رہا ہے ،بچے سنگینوں کی نوک پہ اچھل رہے ہیں، لاکھوں ماؤں نے اپنی گودیں اجاڑ دیں، بوڑھے باپ گم شدہ بیٹوں کا انتظار کرتے اپنی آنکھوں کی بینائی کھو بیٹھے ۔ہزاروں لوگ اپنی آنکھوں میں آزادی کے خواب سجائے تہہ خاک سو گئے۔

آج سرینگر میں ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نام پہ زبانیں کٹتی ہیں ، پاکستان سے محبت پہ پھانسی ملتی ہے، آزادی اور کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگاتے ہوئے بچے سنگینوں کی نوک پہ اچھلتے ہیں ۔پیلٹ گن کی بو چھاڑ میں اپنے سینے وا کیے کشمیری نوجوان کی غلامی کی زنجیروں کو توڑ رہے ہیں ۔اپنی ہتھیلی پہ موت سجائے کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں ،مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے خون سے جدوجہد آزادی کا چراغ جلایا ہے ،پختہ استبداد میں تڑپتے بوڑھوں ،عورتوں، بچوں او ر جوانوں کا یہ جذبہ ہی صبح آزادی کی تمہید اول ہے۔

آج سرینگر پھر ہمیں خبردار کررہا ہے کہ پاکستا ن بنانے والی نسل نے اپنے خوابوں کی سرزمین کے لیے دولت کے انبار اور اپنی سماجی حیثیت تیاگ دی،انگریزی حکومت سے ملنے والے ’’سر‘‘ جیسے خطابات کو جوتی کی نوک پہ رکھا،اپنی رگوں میں بہنے والا خون کا آخری قطرہ تک بہا دیا ،اپنی عصمتوں کو قربان کرکے اپنے خوابوں کی مٹی پاکستان حاصل کیا۔ ہم نے پہلے عاقبت نا اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوابوں کی سرزمین کا ایک حصہ مکار دشمن کے تخلیق کر دہ تخریبی نعروں کی بھینٹ چڑھا کر بنگلہ دیش بنا دیا۔

آج مقبوضہ کشمیر میں پاکستا ن کے پرچم میں دفن ہونے والا مسلمان ہم سے قربانی کا تقا ضا کررہا ہے ،مقبوضہ کشمیر کے لالہ زار کہسار شہداء کے خون کی سرخی لیے ان کا پیغام سمجھنے کی دعوت دے رہے ہیں کہ اب کسی دلفریب نعرے یا نام نہاد ’’حقوق‘‘ کے جھانسے میں آکر ہم اپنے وطن کا کوئی حصہ مصلحتوں کے بازار میں بہ بیچیں ۔مقبوضہ کشمیرمیں ماؤں کی اجڑی گودیں ،آنسوؤں سے تر بزرگوں کی سفید درڑھیاں ،نوجوانوں کے جذبات کے آتش فشاں اور بچوں کی امنگوں کے سمندر ہمیں یہ سمجھا رہے کہ ہم بھانت بھانت کی بولی چھوڑ کر ان مظلوموں کی آواز بنیں ۔ ہمیں بین الاقوامی سطح پر سفارتی حکمت عملی کے ساتھ اپنے فکر وعمل سے کشمیریوں کو یہ باور کرانا ہوگا کہ جس نظریے اور نعرے کی بنیاد برصغیر کی تقسیم ہوئی اور جس عقیدے کی بنیاد پہ کشمیر یوں نے پاکستان بننے سے قبل ہی اپنا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ کر دیا تھا ۔ہم آج بھی دل وجان سے اس پہ قائم ہیں ۔ہمار ا ماضی ایک تھا تو ہمارا مستقبل بھی ایک ،لہو کا رنگ ایک اور ہماری آرزو امنگ ایک ،ہمیں سرینگر والون کو یہ بتانا ہے کہ ہمارے ایمان کی حرارت تمہارے ساتھ ہے اور ہمارے بازوؤں کی طاقت تمہارے ساتھ ،ہماری وفائیں اور دعائیں تمہارے ساتھ ہیں ،غازیو مجاہدو بڑھتے چلو منزل قریب ہے۔ایک دو گام پی منزل آزادی ہے۔آگ اور خون کے ادھر امن کی آبادی ہے۔انشاء اﷲ وہ دن دور نہیں جب مقبوضہ کشمیر آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ ہو گا ۔انشاء اﷲ

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Wajid Bin Arif Advocate

Read More Articles by Wajid Bin Arif Advocate: 17 Articles with 6653 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Apr, 2019 Views: 118

Comments

آپ کی رائے