کسان کی بے بسی!

(Muhammad Anwar Graywal, Bahawalpur)

موسم گرما کی انگڑائی بہار کو پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ بہار سے لطف اندوز ہونے کے فوراً بعد آنے والی گرمی لوگوں کی چیخیں نکال دیتی ہے، مگر جب گرمی ابھی قدم جما بھی نہیں پاتی اور سیاہ بادلوں کی گڑگڑاہٹ ، تیز ٹھنڈی ہوا اور اس میں شامل بارش سے اُس کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔ شہروں میں لوگ بادلوں کو دیکھ کر جھوم اٹھتے ہیں، خوشی ہوتی ہے کہ سنبھالی نہیں جاتی، بہت سے لوگ کالے ،مٹیالے بادلوں کی تصاویر سوشل میڈیا کی زینت بنا دیتے ہیں۔ ابھی گرمی تو کیا آتی کہ گھنگھور گھٹاؤں نے سما باندھ رکھا ہے۔ گزشتہ روز تو سرِ شام ہی اس زور کی گھٹا اٹھی ، بجلی چمکی، بادل گرجے ، ایسے ہی معلوم ہو رہا تھا کہ سر سے بہت اوپر چاروں طرف ریل گاڑیوں کا ایک ریلا ہے، جو برق رفتاری سے ہوا کے دوش پر تیرتا جارہا ہے، ہر طرف شور، ہنگامہ، بجلی کا کڑکا، بارش ،اولے۔خوشیاں مناتے لوگ دہشت زدہ ہو کر دعاؤں کی طرف پلٹ آئے، یا اﷲ خیر! یا اﷲ رحم! اﷲ رحمت کی بارش برسا!اگلے روز لوگوں نے جانا کہ درجنوں لوگ اس طوفانی بارشوں اور آندھیوں کی نذر ہو گئے، املاک کو نقصان پہنچا، چھتیں گر گئیں۔

جب کالے بادلوں کو چڑھتا دیکھ کر شہر کے لوگ جشن منا رہے ہوتے ہیں، عین اسی وقت دیہات کے لوگوں کے لئے سوگ کا سماں ہوتا ہے۔ دُور پرے کہیں بادل کا ٹکڑا بھی دکھائی دے تو ان دنوں میں دیہاتی پریشان سے ہو جاتے ہیں، اور جب یہ کالی گھٹائیں نظر آتی ہیں، تو دیہاتی سخت مایوسی اور بے بسی کے عالم میں ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں، دل سے دعا نکلتی ہے، مگر لبوں تک نہیں پہنچ پاتی، حلق میں ہی دم گھٹ کر رک جاتی ہے، وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ یہ مست ہاتھی کی طرح جھومتا ، دھاڑتا بادل کچھ کر کے ہی رہے گا۔ بات صرف بارش تک ہی نہیں رکتی، معاملہ طوفانی آندھی اور اولوں کا بھی ہوتا ہے۔ چند گھنٹے جب تک یہ میدان کارزار گرم رہتا ہے، کسان کا کلیجہ اس کے منہ کو آیا رہتا ہے، وہ سب کچھ ہوتا بس دیکھ سکتا ہے، کچھ کرنے کے لئے اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہوتا، نہ وہ کھڑی فصل کو بچا سکتا ہے، نہ کٹی فصل کو ۔ وہ بے بسی سے رونا تو چاہتا ہے، مگر اس کے آنسو خشک ہو چکے ہوتے ہیں، اگر بارش کو ایسے میں کسان کے آنسو سے تشبیہ دی جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ وہ دل گرفتہ سب کچھ دیکھتا ہے، بارش کے رکنے تک وہ سخت ترین ذہنی اذیت کا شکار رہتا ہے، مگر کسی سے گلہ نہیں کر سکتا کہ معاملہ کسی انسان نہیں ، اﷲ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔

کسان کی یہ حالت کیوں نہ ہو، اس کی سال بھر کی اہم ترین فصل پک کر تیار ہو چکی ہوتی ہے، جسے اُس نے نومبر کی سردی میں کاشت کیا ہوتا ہے، دسمبر اور جنوری کی ٹھٹھکتی اور خون جما دینے والی سردیوں کی راتوں کو اٹھ کر پانی سے سینچا ہوتا ہے، ایک ایک پل جس کے تیار ہونے کا انتظار کیا ہوتا ہے، فروری مارچ میں شہروں والے باہر نکل کر دیکھیں تو تاحدِ نگاہ پھیلے سبز قالینوں کی صورت گندم کی فصل کو دیکھ وہ مسحور ہو جاتے ہیں، وہاں پکنک مناتے اور تصاویر بناتے ہیں۔ پھر بہار کی رخصتی کے ساتھ ہی گندم کا سبز رنگ بھی رخصت ہو جاتا ہے، اب اس پر سونے کے پانی کا رنگ چڑھ جاتا ہے، اب وہی سبز قالین ، سنہری قالین کا روپ دھار لیتے ہیں۔ گندم بھی اگرچہ نقد آور فصل ہے، کسان اسے فروخت کرکے بھی اپنی ضروریات کسی حد تک پوری کرتا ہے، مگر عام چھوٹے بڑے کسانوں کے لئے گندم کے پکنے سے جو امیدیں بر آتی ہیں، اس خوشی کا احاطہ لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں۔ سال بھر کی روٹی کا بندوبست ہو رہا ہوتا ہے، کیوں نہ ہو، انسان کو زندہ رکھنے کے لئے سب سے اہم چیز روٹی ہی ہے، ہوا اور پانی کا اہتمام تو اﷲ تعالیٰ نے مفت میں کر رکھا ہے، مگر سردیوں میں کاشت اور گرمیوں کی تاب نہ لاکر برداشت ہونے والی گندم کے بغیر اپنے ہاں گزارہ ممکن نہیں۔ جب کسان کے گھر کا ’’بھڑولا‘‘گندم سے بھر جاتا ہے، تو وہ توکّل کے سہارے سر کے نیچے بازو رکھ کر سکون کی نیند سو سکتا ہے۔ عین گندم کی کٹائی کے وقت موسم کے اس قدر بدلتے جارحانہ تیور کسان کے لئے کسی بہت بڑے عذاب سے کم نہیں۔ موسمی تغیرات کی کہانی بھی بیان کی جاتی ہے، شامتِ اعمال کا ذکر بھی ہوتا ہے۔ شاید یہ دونوں وجوہات ہی ہوں۔ جیسا بھی ہو در خت وغیرہ لگا کر موسم کا موڈ بحال کیا جاسکتا ہے، اور اپنے اعمال پر نگاہ ڈال کر ان کی اصلاح بھی کی جا سکتی ہے، عوام اعمال کی شامت حکومت پر اور حکومت عوام پر ڈالتے رہیں تو مسائل حل نہیں ہوں گے، ہر کسی کو اپنا فرض نبھانا ہوگا۔ تاہم اس وقت شہروں میں بسنے والوں کو دیہات کے باسیوں کے غم کا خیال رکھتے ہوئے جشن منانے کی بجائے دیہاتیوں کے ساتھ دعاؤں میں شریک ہونا چاہیے، کیونکہ معاملہ روٹی کا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 598 Articles with 249845 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Apr, 2019 Views: 207

Comments

آپ کی رائے