دُعا اور آدابِ دُعا (پہلی قسط)

(Muhammad Tahir, Maneshra)

دعا کے لفظی معنی پکارنا ‘بلانا‘ مانگنااور سوال کرنا اور شرعی اصطلاح میں اﷲ تعالیٰ کو پکارنا اس سے مددمانگنا اور اس کی جناب میں درخواست والتجاکرنا‘جلب منفعت (منافع حاصل کرنا) اوردفع مضرت (نقصان سے بچنا)کا سوال کرنا ہیں۔دعاکی حقیقت اﷲ کے حضور میں اپنی عبودیت ‘غلامی ‘احتیاج ‘عاجزی اور ضعف وذلّت کا اظہار ہے۔اور اس کی اُلوہیت ‘ ربوبیت ‘قدرت ‘رحمت اور عظمت وجلال کا اقرار ہے ۔بندوں کے مقامات میں سب سے بلند عبودیت کا مقام ہے اور دعاعبودیت کا جوہر اور اس کا خاص مظہر ہے۔دعاکرتے وقت اﷲ کے حضوربندۂ یہ یقین کرتے ہوئے کہ سب کچھ اسی کے قبضہ اور اختیار میں ہے اس کے در کی فقیری اور گدائی اختیار کرتا ہے اور انتہائی تذلل وبندگی وسرافگندگی‘عاجزی ولاچاری اور محتاجی اور مسکینی کا پوراپورااظہار کرتا ہے۔اس لئے رسول اﷲﷺکے احوال واوصاف میں غالب ترین وصف اور حال دعا کا ہے اور اُمت کو آپﷺکے ذریعے یہ بیش بہا قیمت دعاؤں کا خزانہ ملا ۔دعاانبیاء مرسلین کا طریقہ اور صالحین کا شعاررہا ہے۔یہ دعائیں مستقل معجزات اور دلائل نبوت ہیں۔

نبی کریم ﷺنے فرمایا’’میری اُمت کو تین چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو اس سے قبل صرف نبیوں کوملی ہیں ۔(جن میں ایک یہ ہے کہ )اﷲ تعالیٰ جب کسی نبی کو مبعوث فرماتے تو اس سے فرماتے دعاکرنامیں تمہاری دعاقبول کروں گا اور اس اُمت سے خطاب فرمایا تم دعاکرو میں قبول کروں گا ‘‘(جامع الاحکام القرآن )۔حضرت کعب احبار ؓ سے بھی منقول ہے کہ پہلے انبیاء علیہم السلام کو حکم دیاجاتا کہ تم دعاکرو میں قبول کروں لیکن جب اس اُمت کو حکم دیا گیا کہ تم دعاکرو میں قبول کروں گا ۔اُمت مسلمہ کی اس خصوصیت کو خالد ربعیؒنے واضح کیا ہے کہ اس اُمت پر اﷲ تعالیٰ کی یہ حیرت انگیز نوازش ہے کہ اس نے دعاکا حکم بھی دیا اور قبولیت کا وعدہ بھی فرمایا ۔(قرطبی)

قرآن مجید میں 70مقامات پر صرف اﷲ تعالیٰ سے دعامانگنے کا حکم دیاگیا ہے ۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ’’لوگوتم ہی اﷲ کے محتاج ہو اور اﷲ تو غنی ہے (ہرایک سے مستغنی اور بے نیاز )اور حمید (آپ سے آپ محمود)ہے‘‘(فاطر15)توحید کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ انسان صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی اپنا مرجع مأوٰی بنائے ۔وہ جو کچھ چاہتا ہے اس کے لئے اﷲ سے رجوع کرے اور اگر اس کو کوئی اندیشہ لاحق ہو تو اس سے بچنے کے لئے بھی اﷲ تعالیٰ سے ہی رجوع کرے اور اگر اس کو کوئی اس سے بچنے کے لئے اﷲ تعالیٰ کی پناہ ڈھونڈے۔ اس لئے کہ دینے والابھی وہی ہے‘اور روکنے والابھی ہے ۔اس کے علاوہ کوئی خیر بہرہ مند کرسکتا ہے اور نہ ہی کسی کو شرسے بچاسکتا ہے۔اﷲ تعالیٰ کا ارشادہے کہ ’’اﷲ ہی کو پکاروخوف اور طمع کے ساتھ یقینااﷲ کی رحمت نیک کردارلوگوں سے قریب ہے۔‘‘(الاعراف56)۔

گویا بیم ورجا دونوں حالتوں میں اﷲ تعالیٰ کو پکارنے والااس کی رحمت کا مستحق بنتا ہے ۔اس لئے کہ عاجز وفقیر بندہ کا فرض ہے کہ وہ اپنی ہرضرورت کے لئے اﷲ سبحانہٗ کو پکارے ۔نبی کریمﷺنے فرمایا’’تم میں سے ہر ایک کو اپنی حاجت اﷲ تعالیٰ ہی سے مانگنی چاہئے یہاں تک کہ اگر اس کی جوتی کا تسمہّ بھی ٹوٹ جائے یا نمک کے دانے کی بھی ضرورت ہوتو اﷲ تعالیٰ سے دعا کرے ۔‘‘(ترمذی‘بزار‘ابن حبان)یعنی جومعاملات بظاہر آدمی کو اپنے اختیار میں محسوس ہوتے ہیں ان میں بھی تدبیر کرنے سے پہلے اﷲ تعالیٰ سے مددمانگنی چاہئے کیونکہ کسی معاملے میں بھی ہماری کوئی تدبیر اﷲ تعالیٰ کی توفیق وتائید کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی اورتدبیر سے پہلے دعاکے معنی یہ ہیں کہ بندہ ہر وقت اپنی عاجزی اور اﷲ تعالیٰ کی بلادستی کا اعتراف کررہا ہے ۔نیز معمولی ضروریات بھی ہوں تو اﷲ ہی سے مانگنے میں کوئی شرم وحیا کی باب نہیں ہے۔

دعاکا مفہوم ہرگز یہ نہیں ہے کہ انسان تدبیر ‘وسائل اور تنظیم اسباب سے ہاتھ کھینچ لے۔دعاکا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان اپنے رب سے کہتا ہے پروردگار !میں نے اپنء بساط کے مطابق اور اپنی کوتاہیوں کے باوجود یہ کچھ کیا تو اسے نتیجہ خیز بنا دے‘اس طرح بندہ اپنے رب سے جڑارہتا ہے ۔اور بلاوجہ غرور اور گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہوتا اگر کبھی اس کی کاوشیں بارآور نہیں ہوتیں تو وہ مایوسی کا شکار ہونے یا نفیساتی اُلجھاؤ میں مبتلا ہونے کے بجائے اپنے رب کے فیصلے پر راضی رہتا ہے اور دعا اسے اپنے رب سے باغی نہیں ہونے دیتی ۔اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کا رب اس کمی کو کسی اور طریقے سے پوری کرے گا ۔لہٰذادعا اور تدبیر میں کوئی تضاد وتصادم نہیں بلکہ دونوں ایک دوسرے کو مستحکم کرتی ہیں‘مؤثر بناتی ہیں اور نتیجہ خیز کرتی ہیں ۔یہ دعا ہی کا اثر ہے کہ مسلمان اسباب کی کمی کے باوجود مصائب ومشکلات کا ڈٹ کرمقابلہ کرنے پر آمادہ رہتا ہے ۔یہ دعاہی ہے جو بندے کو اپنے رب سے مربوط کردیتی ہے اور وہ اس کو قوت کے مرکزسے وابستہ رہنے کی طاقت فراہم کردیتی ہے۔

اﷲ تعالیٰ نے بندے سے اپنی نصرت وحمایت کا وعدہ اس کے اعمال کے ساتھ منسلک کر رکھا ہے اگر نیک اعمال اس حد تک نہ پہنچیں اور بداعمالیاں درمیان میں رکاوٹ بن جائیں تو اﷲ تعالیٰ کی نصرت کے وعدہ کو پوراکرنے میں دعا کام آتی ہے اور ایسے اسباب کو پیداکرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے کہ ان اسباب کے ہوتے ہوئے نصرت وحمایت الٰہی کا آنا لازم ٹھہرتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ دعاان اسباب کے پیدا کرنے سے روکتی ہے جو اس کے لیے رکاوٹ کا سبب بنتے ہیں۔

قرآن مجید کی تعلیم یہ ہے کہ اسباب اختیار کرو اور پھر دعاکرو یعنی دعاکے ساتھ پہلے عمل بھی ضروری ہے یعنی قرآن پاک اس گروہ کی بھی تردید کرتا ہے جو ضرورت دعا کے قائل نہیں ہے اور اس گروہ کی بھی تردید کرتا ہے، جو صرف دعاہی کا قائل ہے اور ضرورت اسباب کو نہیں مانتا ۔سورہ آل عمرآن آیا195-193 میں دانشمندوں کی دعاؤں کے جواب میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ’’وہ کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں خواہ وہ مردہو یاعورت اور ہجرت کرنے والے مجاہدین کے لئے جنت اور بہترین جزاہوگی ۔‘‘نیز سورہ بقرہ آیت 156کی رو سے مصائب میں دعاکرنا اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ (ہم اﷲ ہی کے لئے ہیں اور ہمیں اﷲ ہی کی طرف پلٹ کرجاناہے)پڑھناموجب ثواب ہے ہی اور رنج وغم کو دور کرنے اور قلب کی تسلی کے لئے اکسیر بھی ہے۔مصیبتوں کے ازالے اور اچھے نتائج کے حصول کے لئے اس دعاکو ضرور پڑھنا چاہئے ۔مومن کو اپنے ہر چھوٹے بڑے کام میں اجتماعی ہو یا انفرادی دعاکی طرف خلوص دل متوجہ ہونا چاہئے۔

دعا کے لئے جب اﷲ تعالیٰ کو پکاراجاتا ہے تو وہ اس کی پکار سُنتا ہے اور پکارنے والے کی دادرسی کرتا ہے سورہ بقرہ آیت 186میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایاکہ ’’(اے نبی)اگرمیرے بندے متعلق تم سے پوچھیں تو انہیں بتادوکہ میں اس سے قریب ہوں، پکارنے والاجب مجھے پکارتا ہے تومیں اس کی پکار سنتا ہوں ۔اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ اور بندے کے درمیان براہِ راست تعلق ہے اور یہ تعلق ایسا قریبی ہے کہ بندہ جب اورجس جگہ اﷲ تعالیٰ سے ملنا چاہے اسے کسی دربان سے اجازت کی ضرورت ہی نہیں ہے ،نہ ہی بھول بھلیوں سے گزر کر شہنشاہِ مطلق کے قصر عالی مدارتک پہنچنا ہے۔یہاں تومعاملہ یہ ہے کہ وہ خالق ومالک ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے۔

وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (قٓ16)یعنی ہم اس کی گردن کی رگ سے بھی قریب ہیں‘‘دعاکے لئے کسی واسطے اور وسیلے کی ضرورت نہیں ۔لہٰذاہر حال میں اﷲ کو پکارو اور اسی سے مانگو جس طرح اﷲ تعالیٰ اپنے جلال میں یکتا ہے اسی طرح اپنے فضل ورحمت کے نزول میں بھی اس کاکوئی ثانی نہیں۔

آدمی صرف اس ہستی سے مانگتا ہے جو کو وہ سمیع وبصیر اور فوق الفطری اقتدارکا مالک سمجھتا ہے اور دعا مانگنے کا محرک دراصل آدمی کا اندرونی احساس ہوتا ہے کہ عالم اسباب کے تحت فطری ذرائع ووسائل اس کی کسی تکلیف کو دفع کرنے یا کسی حاجت کو پوراکرنے کے لئے کافی ثابت نہیں ہورہے ہیں ۔اس لئے وہ ایسی ہستی کو بن دیکھے پکارتا ہے جو اس کو ہر جگہ ہرحال میں دیکھ رہی ہے اور پکارنے والے کی دل کی بات بھی سن رہی ہے اور جہاں بھی ہو اس کی مددکو پہنچ کر اس کی بگڑی بناسکتی ہے، یہ تو صرف اﷲ تعالیٰ کی ہی صفات ہیں، اس لئے جو شخص اﷲ تعالیٰ کے سواکسی اور ہستی کو مددکے لئے پکارتا ہے ،وہ درحقیقت قطعی اور خالص شرک کا ارتکاب کرتا ہے ،چونکہ دعاعقیدہ ٔ توحید کا بڑامظہر ہے، اس لئے دعا صرف اﷲ ہی سے کرنی چاہئے ۔یہ بلاشرکت غیر،اﷲ تعالیٰ کا ہی حق ہے اﷲ کے سوا دوسروں کو پکارنا ایسا ہی ہے جیسے پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر اُمید کی جائے کہ وہ خود چل کر منہ میں آجائے جو ممکن ہی نہیں۔(الرعد:14-13)

اﷲ تعالیٰ قوی (بڑی قوت وطاقت والا)اور عزیز(سب پر غالب )ہے ۔قرآن مجید میں یہ صفت ربانی 90مقامات پر مذکور ہے۔اس کے مقابلے میں جن سے دعائیں مانگی جاتی ہیں وہ اتنے کمزور ہیں کہ ان سے مکھی بھی کوئی شے چھین کر لے جائے تو وہ اسے چھڑانہیں سکتے ۔ (الحج:84-83) یعنی معبودان (دنیا میں موجود )غیر اﷲ سرے سے کوئی اختیار ہی نہیں رکھتے اس طرح ان کو ولی وکارسازماننے سے اﷲ تعالیٰ کا حقیقی سہارابھی ختم ہوجاتا ہے ۔اﷲ تعالیٰ کا ارشادہے کہ ’’پھر وہ اﷲ کو چھوڑ کر ان کو پکارتا ہے جو نہ اس کو نقصان پہنچاسکتے ہیں نہ فائدہ ۔یہ گمراہی کی انتہاء ہے ،وہ ان کو پکارتا ہے جن کا نقصان اس کے نفع سے قریب تر ہے ۔‘‘(الحج:14-12) حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ’’میں نے اﷲ تعالیٰ کو پختہ اور مصمم ارادوں کے ٹوٹ جانے اور مشکلات کی گرہیں کھل جانے اور ارادوں کے درہم برہم ہوجانے سے پہنچانا۔‘‘(نہج البلاغہ)

اﷲ تعالیٰ ہی حقیقت میں کلی طور پر اختیار ات کامالک ہے اس لئے خیالی طور پر کسی اور کو اختیارات کا مالک سمجھنے سے حقیقت تبدیل نہیں ہوسکتی ۔پوری کائنات میں دوسری کوئی ہستی ایسی نہیں جودعائیں سننے اور ان پر قبولیت یا عدم قبولیت کی صورت میں کوئی کارروائی کرنے کے اختیارات رکھتی ہو۔اس امر واقعی کے خلاف اگرلوگ اپنی جگہ کچھ انبیاء ‘اولیاء‘فرشتوں ‘ جنوں ‘ سیاروں اور فرضی دیوتاؤں کو اختیارات میں شریک سمجھ بیٹھیں تو اس حقیقت میں ذرابرابر بھی کوئی فرق رونمانہ ہوگا ۔مالک مالک ہی رہے گا اور بے اختیاربندے بے اختیار بندے ہی رہیں گے۔

اﷲ تعالیٰ کے سوادوسروں سے دعا مانگنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی درخواست لے کر حکم ذی اختیارکے پاس جائے اور اصل حاکم کو چھوڑکر دوسرے سائلین جو اپنی حاجتیں لئے بیٹھیں ہوں ‘انہیں میں کسی ایک کے آگے اپنی درخواست پیش کردے اور پھر ہاتھ جوڑ جوڑ کراس سے التجاکرتا چلاجائے کہ حضورہی سب کچھ ہیں۔آپ ہی کا یہاں حکم چلتا ہے آپ میری مراد برلائیں گے تو برآئے گی ․․․․؟حالانکہ وہ اس کو باربارسمجھاتا ہے کہ میں بھی تمہاری طرح ایک سائل ہوں میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے ۔اصل حاکم ذی اختیار حاکم کی موجودگی میں اس کی یہ حرکت نہ صرف نری حماقت اور سخت جہالت ہے بلکہ یہ انتہائی گستاخی بن جاتی ہے ۔

المختصر بارگاہ الٰہی میں اپنی ناتوانی اور عاجزی کا اقرارکرنااور اﷲ تعالیٰ کی ذات کو منبع جود سخا سمجھ کرسوال کرنا بس یہی دعا کی اصل حقیقت ہے۔

یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ دعاافضل عبادت ہے (حاکم۔کنزالعمال)اس لئے قلب کی پوری توجہ اور اخلاص کے ساتھ ہاتھ پھیلانے اور گڑگڑانے اور دعا مانگنے سے بندگی کا کامل ترین اظہار ہوتا ہے اس لئے کوئی عبادت بھی دعا سے خالی نہیں ہے۔اس لئے سورہ مومن کی آیت 60کے مطابق اﷲ سبحانہٗ نے دعاکی ضرورت کو مُسلّم کرنے کے لئے دعاکو عین عبادت اور دعا سے روگردانی کو عبادت سے سرتابی قراردیا ہے۔نیز دعاکی ضرورت انسان کو فطرت میں ودیعت کردی گئی ۔

دعا سے تدبیرِضعیف بھی قوی ہوتی جاتی ہے ،دعابے سہاروں کا سہارا ہے ،دعا سے تعلق مع اﷲ مضبوط سے مضبوط ترہوتا ہے ،دعا کرنے والاروزمحشر معذورسمجھاجائے گا ۔پوچھنے پر یہ کہہ سکے گا کہ جس فلاں کام کی کامیابی کے لئے میں نے اپنی سعی کی تھی اس کے لئے اے باری تعالیٰ تجھ سے دعا بھی کی تھی ۔جو شخص دعاکے بغیر کشمکش حیات میں حصہ لیتا ہے اس کا انجام اس سپاہی سے مختلف نہیں ہوسکتا جو گھمسان کی جنگ میں حصہ لینے کے لئے ہتھیار کے بغیر میدان جنگ میں اُترے ۔لہٰذازندگی میں آنے والے مصائب‘آلام ‘رنج وغم ‘مشکلات دین خواہ انفرادی سطح پر ہوں یا اجتماعی ان سے نجات حاصل کرنے کے لئے دعاسے زیادہ مؤثر اور قابل اعتماد ہتھیار اور کوئی نہیں ہوسکتا۔
․․․․جاری ہے․․․․․․

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 82 Print Article Print
About the Author: Muhammad Tahir

Read More Articles by Muhammad Tahir: 5 Articles with 1062 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ