بیوی کی بات نہ ماننے والا

(Mukhtar Ahmed, Islamabad)

حجلہ عروسی میں گھٹنوں پر ٹھوڑی رکھ کر بیٹھے بیٹھے ماہرہ تنگ آگئی تھی- دل تو اس کا چاہ رہا تھا کہ آلتی پالتی مار کر تکیہ گود میں رکھ کر آرام سے بیٹھ جائے، مگر ضبط کیے بیٹھی رہی- دولہا لاکھ خالہ زاد بھائی سہی، مگر اس کے سامنے خود کو اچھے طور طریقے کا ظاہر کرنا بھی ضروری تھا- آلتی پالتی مار کر بیٹھی ہوئی نئی نویلی دلہن اچھی بھی تو نہیں لگتی- وہ بہت احتیاط سے کام لے رہی تھی تاکہ اس کی کوئی حرکت آئندہ زندگی میں اس کی سبکی کا سبب نہ بنے- شادی کے بعد رنگ میں اترے ہوۓ باکسر کی طرح چوکنا رہنا پڑتا ہے ورنہ بےخبری میں بڑے زور کا پنچ پڑ جاتا ہے-

اس کی کمر میں ہلکی سی دکھن ہونے لگی تھی مگر وہ ویسے ہی بیٹھی رہی جیسی فلموں اور ڈراموں میں دلہنیں بیٹھی نظر آتی ہیں-اس کی ساس اور رشتے کی چند قریب اور دور کی خواتین اس کے پاس سے اٹھ کر کافی دیر پہلے چلی گئی تھیں اور اب اسے دولہا کا انتظار تھا جو آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا-

اس کی شادی خاندان میں ہوئی تھی اور بڑوں کی مرضی سے ہوئی تھی- اعجاز جس سے اس کی شادی ہوئی تھی اس کی خالہ کا بیٹا تھا- اس کا ایک بڑا بھائی بھی تھا فراز- وہ ابھی تک غیر شادی شدہ تھا اور اس کا تعلق مردوں کی اس قسم سے تھا جو عورت کا خود پر تسلط پسند نہیں کرتے تھے اس لیے اس نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی- یہ گھرانہ زیادہ بڑا نہیں تھا- ان دونوں بھائیوں کے علاوہ گھر میں صرف ساس اور سسر تھے-

تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلنے کی آواز آئی- نئی دلہن کی یہ حرکت بڑی عجیب سی ہوتی کہ وہ سر اٹھا کر دیکھتی- تجسس رفع کرنے کے لیے بچپن کی عادت کام آئی- جب والد صاحب ڈانٹا کرتے تھے تو وہ سر جھکا کر ایک آنکھ ٹیڑھی کرکے ان کے موڈ کا جائزہ لےلیا کرتی تھی- اس وقت بھی اس نے یہ ہی کیا-

اس نے اعجاز کو اندر آتے ہوۓ دیکھا- چمکدار شیروانی اور چوڑی دار پاجامے میں ملبوس وہ پان چباتے ہوےٴ اس انداز میں کمرے میں داخل ہوا تھا جیسے کسی اہم مسئلے پر غور کر رہا ہو-

ماہرہ نے ایک ٹھنڈی سانس لی- وہ ہی اس کی سہیلیوں والا کیس لگ رہا تھا یعنی شادی کی پہلی رات کو بستر پر بیٹھ کر، حال احوال پوچھنے کے بعد اپنی ایک آدھ پچھلی محبّت کا قصہ اور اس بات کی یقین دہانی کہ اب ایسا کچھ بھی نہیں ہے- دل تو اس کا چاہ رہا تھا کہ دونوں ہاتھوں کی چھنگلیوں سے کان صاف کر کے ہمہ تن گوش ہو کر بیٹھ جائے اور دل پر جبر کر کے جو وہ کہے اس کو سنتی رہے- مردوں کا معاشرہ ہے، جو سنائیں سننا پڑتا ہے، اگر کوئی صنف مخالف شادی کی پہلی رات کو یہ قصے سنائے تو صبح ہاتھوں میں پرچہ ہی تھما ہوا نظر آئے-

اسے اعجاز کے چہرے پر ایک عجیب سی سنجیدگی اور پریشانی کی جھلک نظر آئ- کوئی اور ہی بات لگ رہی تھی- وہ بھی فکرمند ہوگئی- وہ خاموشی سے اس کے پاس بیٹھ گیا- آنکھیں بدستور سوچ میں ڈوبی لگ رہی تھیں-

"میں بری طرح پھنس گیا ہوں"- تھوڑی دیر بعد اس نے کہا تو ماہرہ کا دل دھک سے رہ گیا- کہیں امی نے قبل از وقت انہیں کوئی سخت بات تو نہیں کہہ دی- یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شادی کہیں اور کرنا چاہ رہے ہوں اور ہو مجھ سے گئی- وہ سوچتی رہ گئی-

پھر جب اس نے ایک لمبی سانس لی اور چھت کو گھورنے لگا تو ماہرہ نے دلہن والے سارے تکلفات ایک طرف رکھے اور گھبرا کر بولی "آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟"-
"ہاں طبیعت تو ٹھیک ہے مگر میں پھنس گیا ہوں"- اس نے دھیرے سے کہا-

یہ گول مول باتیں سن کر ماہرہ کو غصہ تو بہت آ رہا تھا مگر نئی دلہنوں کا غصہ کرنا ٹھیک نہیں ہوتا اس لیے وہ غصہ ضبط کر کے بولی- "بتایے تو سہی کیا بات ہوگئی ہے؟"-

"بس بیٹھے بٹھائے فراز بھائی نے ایک ایسی بات کہہ دی کہ میرے اندر کا شیخی خورا باہر نکل کر کھڑا ہوگیااور مجھے بری طرح پھنسا گیا- یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگیا-

وہ انتظار ہی کرتی رہی اور جب کافی دیر تک اس نے کچھ نہیں کہا تو اس نے کھنکھار کر اسے متوجہ کیا کہ آگے بھی تو کچھ کہو-

وہ چونک گیا اور پھر بولا "فراز بھائی نے مجھے بہت اپ سیٹ کر دیا ہے- نکاح سے پہلے اسٹیج پر بیٹھے ہوۓ مجھ سے کہہ رہے تھے کہ کچھ دیر بعد لا تعداد غلاموں میں ایک اور غلام کا اضافہ ہونے والا ہے- میں خاموش بیٹھا رہا- مگر ان کی بات میرے دل کو لگ گئی تھی- ابھی کچھ دیر پہلے میں نے ان سے کہا تھا کہ وہ مجھے ایسا نہ سمجھیں، میں ایسا نہیں ہوں-

میری بات سن کر پہلے تو دل جلا دینے والی ہنسی ہنسے پھر بولے "سب یہ ہی کہتے ہیں- انگلیوں پر نہ نچائے تو میرا نام بدل دینا"-

میں نے جواب دیا "میں کسی اور مائنڈ کا ہوں"- یہ میں نہیں میرے اندر سے نکلا ہوا شیخی خورا بول رہا تھا-
وہ ہی والی ہنسی ہنس کر انہوں نے کہا " اس کی اجازت کے بغیر گھر سے قدم بھی باہر نہیں نکالو گے"-

"میں نے ........میرا مطلب ہے میرے اندر سے نکلے ہوۓ شیخی خورے نے کہا یہاں بس میرا ہی حکم چلے گا"-
وہ بولے "اگر وہ کچھ کہے گی تو نہیں مانو گے"-

میں کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ شیخی خورا بول اٹھا "میں اس کی ایک بات نہیں مانوں گا- صرف اپنی ہی چلاؤں گا"-

فراز بھائی نے کہا " شرط لگاتے ہو اگر تم نے صرف ایک ہفتہ ماہرہ کی کوئی بھی بات نہیں مانی تو میری طرف سے مری میں ہنی مون منانے کے تمام اخراجات میرے ذمے، مزے سے گھومنا پھرنا"-

میں نے پوچھا "اگر میں ہار گیا تو مجھے کیا کرنا ہوگا؟"- اس پر وہ بولے "کچھ نہیں میرے سامنے زمین پر اپنی ناک سے گز بھر کی لکیر کھینچ کر اس بات کا وعدہ کر لینا کہ اب کبھی بڑ ا بول نہیں بولو گے"-

"اب ماہرہ تم ہی بتاؤ کیا ایسا ممکن ہے کہ ایک شوہر اپنی بیوی کی کوئی بات نہ مانے اور وہ بھی پورے ایک ہفتے تک- یہ شرط لگاتے ہوۓ مجھے موت کیوں نہ آگئی"- یہ کہتے ہوۓ اس کی آواز بھرا گئی-

"مریں آپ کے دشمن"- ماہرہ نے جلدی سے کہا- وہ تو اس کے منہ پر ہاتھ بھی رکھ دیتی مگر وہ کچھ دور بیٹھا ہوا تھا- "اس کا ایک حل میرے ذہن میں آ رہا ہے کہ میں ایک ہفتے کے لیے امی کے گھر چلی جاتی ہوں- نہ میں یہاں ہوں گی نہ آپ سے کسی کام کا کہوں گی- اس طرح آپ آسانی سے یہ شرط جیت جائیں گے"-

وہ گھبرا گیا "جانتی ہو بیوی اگر شادی کے اگلے روز ہی ماں کے گھر جا کر بیٹھ جائے تو لوگ کیسی کیسی باتیں بناتے ہیں؟"-

"تو پھر آپ کو شرط ہی نہیں لگانا چاہیے تھی"- وہ زچ ہو کر بولی-

"بتا تو دیا ہے شرط میں نے نہیں شیخی خورے نے لگائی تھی"- اس نے برا مان کر کہا-

وہ سوچتی رہی پھر بولی "دنیا میں کوئی مسئلہ بھی ایسا نہیں کہ اس کا حل نہ ہو- اب میں آگئی ہوں- آپ کو کسی قسم کی فکر کی ضرورت نہیں"-

"اس بات کا کیا مطلب ہوا؟"- اس نے حیرانی سے پوچھا- "

"بس آپ کو ایک بات کا عہد کرنا ہوگا- میں جو بھی کہوں، آپ کا چاہے جتنا ہی دل کیوں نہ چاہ رہا ہو آپ میری بات نہیں مانیں گے- صرف ایک ہفتے کی تو بات ہے"-

وہ ہنس پڑا- دیر تک ہنستا رہا پھر بولا "اگر میں اس بات کا وعدہ کر بھی لوں تو میں تو اسی لمحے شرط ہار جاؤں گا، تمہاری اس عہد کرنے والی بات مان کر"-

"ٹھیک ہے پھر میں اس کا کوئی دوسرا حل ڈھونڈ لوں گی- ویسے بھی میں ایک مشرقی لڑکی ہوں- آپ جو بھی کہیں گے میں مانوں گی، اپنی نہیں چلاؤں گی- میں تو دل سے چاہ رہی ہوں کہ آپ شرط جیت جائیں- زمین پر ناک سے لکیر کھینچتے ہوۓ آپ کیسے لگیں گے- ویسے بھی ناک لکیریں وغیرہ کھنچنے کے لیے تو ہوتی نہیں ہے"- یہ کہتے ہوےٴ اس کی ہنسی نکل گئی- اس کی کھنکھناتی ہنسی کی آواز سن کر اعجاز وقتی طور پر شرط والی بات بھول گیا-

اگلے دن اس کی ساس، سسر، فراز اور اعجاز ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوۓ تھے- وہ بھی سمٹی ہوئی صوفے پر بیٹھی تھی اور شرارت بھری نظروں سے فراز کو دیکھ رہی تھی- اسے کچھ یاد آیا تو وہ اعجاز سے بولی "سنیے"-
اعجاز نے ایک نظر فراز پر ڈالی اور بدک کر بولا "میں نہیں سنوں گا"-

فراز کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی- اس کے ساس سسر حیران رہ گئے- انھیں لگا کہ دونوں میاں بیوی میں کچھ کھٹ پٹ ہوگئی ہے-

اعجاز کے باپ نے رشک بھرے لہجے میں کہا "اعجاز بیٹا یہ ہمت تو ہماری سالوں بعد بھی نہیں ہوئی تھی- شادی کے محض ایک روز بعد ہی اتنی ہمت- بہو کہہ رہی ہے سنیے اور تم نے صاف صاف کہہ دیا کہ میں نہیں سنوں گا- آفرین ہے تمہاری ہمت پر"-

اعجاز نے بے بسی سے سر جھکا لیا- اس کے باپ نے بہو سے کہا "بیٹی- کچھ محسوس مت کرنا- اعجاز دل کا بہت اچھا لڑکا ہے"-

"خالو جان- میں جانتی ہوں- ان کی کسی بات کا نہ میں نے برا مانا ہے نہ مانوں گی" ماہرہ نے سر جھکا کر مسکراتے ہوۓ کہا-

تھوڑی دیر تک تو ڈرائنگ روم میں خاموشی چھائی رہی، پھر ماہرہ نے اعجاز کو مخاطب کر کے کہا "مجھے ٹھنڈا پانی نہیں پلائیے گا"-

اعجاز فوراً کھڑا ہوگیا "میں تو ضرور پلاؤں گا- اچھی طرح سن لو میں تمہارے احکامات کو خاطر میں لانے والا نہیں ہوں"- یہ کہہ کر وہ فرج سے ٹھنڈا پانی نکالنے چلا گیا-

اعجاز کے باپ نے بیوی سے کہا "اتنا مزہ تو انڈین چینلز دیکھنے میں نہیں آتا جتنا یہ سب کچھ دیکھنے میں آ رہا ہے"- پھر وہ ماہرہ سے مخاطب ہوےٴ "کیا بات ہے بیٹی- اعجاز نے دوسری مرتبہ تمہاری بات رد کی ہے- کوئی ناراضگی وغیرہ تو نہیں ہو گئی ہے- کہو تو ہم اسے سمجھائیں؟"-

وہ کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ اعجاز پانی لے کر آگیا- "تم کیا سمجھ رہی ہو میں تمہارے حکم پر چلوں گا- چلو ٹھنڈا پانی پیو"- ماہرہ نے مسکراتے ہوۓ پانی پی لیا-

یہ ماجرا دیکھ کر فراز کی آنکھوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی- وہ اعجاز سے بولا "بہت خوب- واقعی تم تو ماہرہ کی کوئی بات نہیں مان رہے ہو"-

اعجاز نے کہا "میں نے آپ سے غلط تھوڑا ہی کہا تھا- جو بات آپ سے ہوئی تھی، مرتے دم تک اس پر قائم رہوں گا"-

اعجاز کے ابّا نے کہا"ہمارا تو تجربہ ہے کہ جو لوگ بیویوں کی باتیں مانتے ہیں وہ فائدے میں رہتے ہیں- جب بہو کہہ رہی تھی کہ مجھے ٹھنڈا پانی نہیں پلایے تو نہ پلاتے- اٹھ کر فرج تک بھی نہیں جانا پڑتا اور نہ ہی پانی لے کر آنا پڑتا- بزرگوں نے اسی لیے تو کہا ہے کہ نافرمانوں کو قدم قدم پر پریشانیوں کا سامنا کرتا پڑتا ہے"-

"خالو جان مجھے بھی تو دیکھیے- باوجود اس کے کہ یہ میری کوئی بات بھی نہیں مان رہے ہیں، میں نے ان سے ذرا سی بھی تلخ کلامی نہیں کی ہے"- ماہرہ نے اٹھلا کر کہا-

"تمہاری یہ بات تو واقعی قابل تعریف ہے"- سسر نے سر کھجا کر کہا "مگر بیٹی تم جو اعجاز سے عجیب و غریب قسم کی باتیں کر رہی ہو وہ سمجھ میں نہیں آ رہیں"- ان کی اس بات کا ماہرہ نے کوئی جواب نہیں دیا-

"شام کو مجھے امی کے گھر مت لے جائیے گا"- تھوڑی دیر بعد وہ منمنائی-

اعجاز نے گھڑی دیکھی- "اس وقت تین بج رہے ہیں- چھ بجے تک تیار ہوجانا- ہم تمہاری امی کے پاس چلیں گے"- اس نے تحکمانہ لہجے میں کہا-

"توبہ ہے- آپ نے تو قسم کھا لی ہے میری کسی بھی بات کو نہ ماننے کی"- ماہرہ نے دبی دبی ہنسی کے ساتھ کہا- پھر اس نے ساس سے اجازت لینے کے لیے کہا "امی- اب مجھے تیاری بھی کرنی ہے- اگر گھر نہیں گئی تو یہ بہت غصہ کریں گے"-

فراز اعجاز کو گھور کر دیکھنے لگا-

اعجاز کے ابّا نے بیوی سے کہا "بیگم اعجاز اور بہو کی نظر اتار دینا- دونوں کچھ عجیب عجیب سی باتیں کر رہے ہیں"-

اگلے روز اعجاز اور ماہرہ لان میں بیٹھے چائے پی رہے تھے- فراز بھی وہیں موجود تھا- ماہرہ اسے دیکھ کر شرارت سے مسکرائی اور اعجاز سے بولی "خدا کا شکر ہے میرے پاس بہت زیادہ چیزیں ہوگئی ہیں- صبح ٹی وی پر مارننگ شو میں میں نے بہت ہی خوبصورت جوتیوں کا اشتہار دیکھا تھا- یہ جوتیاں آپ مجھے مت دلوایے گا- یہ دیکھیے میں نے موبائل میں ان کی تصویر بھی اتار لی تھی"-

اعجاز نے موبائل میں ان جوتیوں کی تصویر دیکھی جو ماہرہ نہیں لینا چاہ رہی تھی- پھر وہ فراز کی طرف مڑا- "بھائی جان- آپ کہیں جائیں گے تو نہیں- مجھے کچھ دیر کے لیے گاڑی چاہیے ہوگی"-

"تم کہاں جاؤ گے؟"- فراز نے پوچھا-

"ماہرہ کو وہ ہی ٹی وی والی جوتیاں دلانی ہیں جن کے لیے یہ کہہ رہی ہے کہ اسے نہ دلوائی جائیں"- اعجاز نے مسکراتے ہوۓ کہا-

"سوری- تم لوگ کریم والوں کو فون کر کے گاڑی منگوالو- گاڑی مجھے چاہیے"- فراز نے کہا-

"بھائی جان آپ کہاں جا رہے ہیں؟- اعجاز نے پوچھا-

"تم لوگوں کے ایئر ٹکٹ بک کروانے- مجھے پہلے پتہ ہوتا کہ ماہرہ تمہاری طرح نہیں ہے تو میں یہ شرط ہی نہ لگاتا- بس اب یہ شرط ختم- تم جیت گئے ہو"-

اعجاز اور ماہرہ دونوں ہنسنے لگے-

رات کو ماہرہ نے ہنستے ہنستے شرط والی بات اپنی ساس اور سسر کو بھی بتا دی-

ساس تو سن کر مسکرانے لگیں مگر سسر سنجیدہ ہوگئے- انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں سے مخاطب ہو کر کہا "جانتے ہو جب ایک لڑکی کی شادی ہوجاتی ہے تو وہ اپنے ماں باپ، بھائی بہن سب کو چھوڑ کر صرف شوہر کی خاطر نئے گھر میں آتی ہے – اس کی ساری زندگی اس کی اور اس کے بچوں کی خدمت میں گزر جاتی ہے- وہ اپنی چھوٹی موٹی خواہشات کا اظہار صرف اپنے شوہر سے ہی کرتی ہے- اپنی اولاد سے بھی وہ کوئی فرمائش نہیں کرتی- اس کی باتیں ماننے میں حرج ہی کیا ہے؟ شوہر کے علاوہ اس کا ہوتا بھی کون ہے- ہمارے معاشرے میں یہ ایک غلط بات مشہور ہو گئی ہے کہ بیوی کی بات ماننا مرد کی توہین ہے- اس میں مرد کی توہین نہیں اس کی عزت ہے"-
باپ کی باتیں سن کر فراز نے شرمندگی سے سر جھکا لیا-

(ختم شد)

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 2080 Print Article Print
About the Author: Mukhtar Ahmed

Read More Articles by Mukhtar Ahmed: 44 Articles with 13064 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

ھھھھھھ بہت اعلی کیا خوب قصہ ہے!
By: محمد مدثر, اسلام آباد on May, 18 2019
Reply Reply
1 Like
Language: