لڑاکا،بد دماغ،پاگل،جاہل،شکی عورت

(AZRA FAIZ, wah)

فیصل نے معمول کے مطابق گھر آنے سے پہلے پوچھا ،ٌکچھ لانا ہےٌ۔۔۔۔کیونکہ آج خلاف معمول دن میں گھر آ رہے تھے آمنہ نے خوشی سے کہا ، ہاں،بہار آئی ہے ۔۔۔گلاب کا ایک پودا لے آئیںٌ۔۔۔۔۔۔کھلتے ہوۓ پھولوں والا یہ پودا گملے سمیت بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔۔۔ٖآمنہ کے پاس اور بھی پودے تھے مگر یہ پودا زرا مختلف تھا۔اس کی کلی سفید تھی لیکن آہستہ آہستہ ہلکی گلابی اور پھر تیز گلابی رنگت اختیار کر جاتی۔اور آخر میں سیاہی مائل گلابی رنگت کا پھول اسے اپنی طرح لگتا۔۔۔۔آ منہ کی زندگی اس پھول کی طرح ہی تھی۔۔۔۔۔فیصل شادی سے پہلے اسے بہت چاہتا تھا ۔۔۔۔۔دونوں کے والدین بہت مشکل سے اس شادی پر مانے تھے ۔۔۔۔۔شادی کے شروع میں آمنہ خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی سمجھتی تھی۔ سہاگن وہی جو پیا من بھاۓ کے گیت گاتی ہوئی۔۔۔۔فیصل ہر روز اس کے لیۓ ایک گلابی پھول لاتا اور اس کے بالوں میں لگا دیتا۔۔۔۔۔وہ اس کے ساتھ موٹر سائیکل پر یوں بیٹھتی گویا چاند کی سیر کو جارہی ہو۔۔۔۔۔اسے ارد گرد کے سین یاد نہیں رہتے تھے وہ تو اپنے فیصی کی آنکھوں میں کھو کر جانے کس جہان میں۔۔۔جانے کس باغ میں۔۔۔جانے کن سیاروں میں کھوئی رہتی۔۔۔سب ان کی جوڑی کو جوڑی نمبر ۔ون کہتے۔۔۔ پھر بچے ہوۓ تو آمنہ کی زمہ داریاں بڑھنے کے ساتھ ساتھ فیصل کی مصروفیات بھی بڑھ گئیں۔ آمنہ پہلے جیسی سمارٹ نہیں رہی تھی نہ ہی پہلے جیسی تازگی ۔۔۔

فیصل البتہ نئی گاڑی آنے کے بعد اور بھی ہینڈ سم ہوگیا۔۔۔آمنہ کے ہاتھوں اور جسم سے اٹھتی پیاز اور لہسن کی مہک فیصل کی شرٹ سے آتی پرفیوم کی خشبو کو مات دے دیتی فیصل اسے خود سے دور رہنے کا اشارہ کرتے کرتے اتنا دور چلا گیا کہ اب آمنہ پرفیوم میں نہا بھی لیتی تو بھی فیصل کے دل میں جگہ نہ بنا پاتی۔۔۔۔۔وقت گزرتا رہا اس دوران آمنہ کا لقب فیصل نےٌ جانوٌ کی جگہ لڑاکا، بد دماغ،پاگل اور اس کی ڈگریوں کی پرواہ کیۓ بغیر جاہل رکھ دیا۔۔۔جانے ان القابات کا اثر تھا کہ آمنہ بلکل ایسی ہوتی جارہی تھی بلکہ اب تو فیصل نے اسے موٹی بد شکل بھی کہنا شروع کردیا۔۔۔۔کبھی کبھی تو اسے لگتا فیصل بہت پہنچا ہوا ماڈرن بزرگ ہے وہ جیسا کہتا وہ ویسی ہوجاتی اور دل میں سوچتی فیصی کاش تم مجھے ان ناموں سے ان القابات سے پکارتے جیسا تم مجھے دیکھنا چاہتے تھے ۔اور کچھ نہ سہی اپنے بچوں کا خیال رکھنے والی کیرنگ مدر ہی رکھ دیتے ، کک رکھ دیتے ، مَیڈ کی بجاۓ مے۔ڈ ۔رکھ دیتے۔۔۔

کچھ بھی ہو فیصی میں ایک بات تھی وہ اپنے بچوں سے بہت پیار کرتا تھا۔۔۔۔ان کی ہر ضرورت پوری کرتا تھا لیکن فیصی کی فطرت میں محبت کا گراف ہمیشہ اوپر سے شروع ہو کر نیچے کو جاتا تھا اور محبت کے گراف میں وقت کی اہمیت کو کون نہیں مانتا۔۔۔فیصی سے بچوں کی ملاقات کبھی کبھار ہوتی کیونکہ بچے گیارہ بجے سے زیا دہ انتظار نہیں کر سکتے تھی اور فیصی اگلے دن کے گھنٹہ بجنے سے پہلے نہیں۔۔۔۔صبح بچے سوتے ہوۓ باپ کا دیدار کر کے چلے جاتے۔۔۔۔یہی کیا کم تھا ان کا باپ تھا اور نظر آتا تھا۔۔۔۔کبھی کبھار آمنہ کے بے حد اصرار پر فیصی کی بپتا جاگ جاتی اور وہ بچوں کو گھمانے کا پروگرام بناتا۔۔۔وہ بچوں کے ساتھ کھیلتا۔۔۔باتیں کرتا۔۔۔ہنستا ۔۔۔گو کہ آمنہ کے ساتھ اس کا رویہ کچھ زیادہ تبدیل نہ ہوتا لیکن پھر بھی وہ خوش ہوتی ۔۔۔اس کے بچوں کی مسکراہٹ اس کے لیۓ کافی تھی لیکن اچانک فیصی کا فون آتا جو وہ دور جا کر سنتا اس کے بعد دو دن مری میں رہنے کا پروگرام ایک دن میں بدل جاتا۔۔۔۔فیصی کی چڑچڑاہٹ بڑھ جاتی۔۔۔۔آمنہ اس کی بدلتی کیفیت سے ایک دفع پھر لڑاکا،بد دماغ بن جاتی اور یوں مری جاتے ہوۓ ہنستے ،چہکتے ،مسکراتے چہرے واپسی پر اداس،آزردہ اور خاموش ہوتے۔۔۔۔مری میں لی گئی تصویروں کو کوئی بھی نہ سنبھالتا۔۔۔۔۔نہٌ مزہ آیا کا جملہ کسی کی زبان پر آتا بلکہ اتنی خاموشی گھر میں ہوتی یوں لگتا جیسے سارا شور وہیں چھوڑ آۓ ہوں۔۔

ایک دن بارش کا موسم تھا خلاف معمول صیفی گھر پہ تھے ۔۔۔۔۔موڈ بھی اچھا تھا۔۔۔انہوں نے بچوں سے گھومنے جانے کا کہا لیکن بچوں نے صرف مما، بابا آپ دونوں اکیلے جائیں کا اصرار کیا۔۔۔۔اس کی بڑی بیٹی نے ماں کے ماڈرن کپڑے نکالے۔۔۔۔ہئیراسٹائل بنایا۔۔۔۔چھوٹی بیٹی نے ماں کی نظر اتاری۔۔۔۔۔آمنہ نے خود کو آئینے میں دیکھا ۔۔۔۔وہ آج بھی خوبصورت تھی شاید فیصی کی نظر کمزور ہوگئی ہے یا پھر کام کا لوڈ زیادہ ہے اسی لیۓ میں ان کو موٹی اور بد شکل لگتی ہوں ورنہ تو شادیوں میں سب میری تعریف کر رہے ہوتے ہیں اس نے مسکرا کر سوچا۔۔۔۔آئی فون کی مخصوص بیل بجی۔۔۔۔۔تم خود تو کہہ رہی تھی آج تم فارغ نہیں ہو۔۔۔اچھا جانو آتا ہوں۔۔۔کہاں سے پک کروں۔۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔۔فیصی کی پیٹھ تھی۔۔۔پیچھے کھڑی آمنہ کا پتا نہ چلا۔۔۔۔اس نے آمنہ کی طرف دیکھے بغیر کہا ۔۔۔سوری اچانک ضروری میٹنگ ہے۔۔۔۔میرا جانا ضروری ہے ورنہ کاروبار کا نقصان ہوگا۔۔۔۔۔میں جانتی ہوں آپکی میٹنگ۔۔۔۔آمنہ فیصی کو پھر سے لڑاکا ،جاہل،پاگل نظر آئی بلکہ شکی،وہمی کے القابات بھی ملے اور کان صحیح کروانے کا بھی مشورہ دیا۔۔۔۔۔بچے شور سے باہر نکل آۓ۔۔۔۔فیصی نے کہا ماں کا علاج کرواؤ۔۔۔۔۔الٹا سنتی ہے ۔۔۔۔پاگل عورت۔۔۔۔اب کام نہ کروں۔۔۔اسی کے ساتھ جڑ کر بیٹھ جاؤں۔۔۔۔

آمنہ نے گلاب کے پودے کو دیکھا ۔۔۔۔وہ سوکھ گیا تھا۔۔۔۔چند دن پہلے ہونے والی بارش میں آمنہ کا آنسو بھی پودے میں گرا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: azra faiz

Read More Articles by azra faiz: 39 Articles with 44714 views »
I belong to a baloach family .I born in a village ,got my primary education under a tree and higher education from the well reputed institute in Karac.. View More
27 Apr, 2019 Views: 1413

Comments

آپ کی رائے