جرم ضعیفی کی سزا

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

روزانہ کی طرح صبح کا ناشتہ نمٹانے کے بعد اُس نے دوپہر کا کھانا بنایا اور دستر خوان لگانے کی تیاری کرنے لگی تو ساس نے کہا شام کو آلو کے پراٹھے بنا لینا ۔ تقریباً ہر ویک اینڈ پر جب بھی ساس اس ٹون میں کوئی فرمان جاری کرتی تھی تو وہ اس کا مطلب بخوبی جانتی تھی ۔ لہٰذا اب بھی اُس نے بغیر کچھ کہے سنے باقی کے کاموں کو نمٹا کر آلو کے پراٹھوں کی تیاری شروع کی ۔ بڑی والی پرات میں ڈھیر سارا آٹا گوندھا ، چار پانچ کلو آلو اُبالے ان کا مسالہ تیار کیا ۔ بلینڈر کا جگ تقریباً بھر کر چٹنی بنائی ۔ اور یہ سب کرنے تک اُس کی دونوں نندیں آگے پیچھے بمع اپنے اپنے پتی اور پول پٹی کے تشریف لے آئیں ۔ کچھ دیر میں دو شادی شدہ دیور بھی اپنی فیملیوں کے ساتھ آن پہنچے پھر شام کی چائے کا دور چلا ۔ یہ وہ گھر تھا جو اُس کے شوہر کی امریکہ کی کمائی سے چلتا تھا اور کنواروں کے ساتھ ساتھ بیاہتا بہن بھائیوں کے بھی وارے نیارے ہوئے رہتے تھے ۔

‎چائے بھگتا کر وہ آلو کے پراٹھے بنانے کھڑی ہو گئی ساس نے نیچے فرش پر رکھا ہؤا چُولہا جلا کر اس پر توا رکھ لیا ۔ اب وہ آٹے کے پیڑے میں آلوؤں والا مسالہ بھرتی اس کو بیلتی اور جُھک کر نیچے توے پر ڈال دیتی ۔ ساس اس پر چمچے سے تیل ٹپکاتی جاتی اور چمٹے سے الٹ پلٹ کرتی رہتی ۔ جب اچھی خاصی کھیپ تیار ہو گئی تو بڑا سا دستر خوان بچھا لیا گیا اور پراٹھے پروسے گئے ۔ سب لوگ آ بیٹھے اور شروع ہو گئے اُن کے منہ اور ہاتھ دونوں تیزی سے چل رہے تھے ۔ اور سب کی متفقہ رائے یہ تھی کہ پراٹھوں میں اتنا ذائقہ اور لذت کی وجہ یہ ہے کہ ان کو ماں کا ہاتھ لگا ہے ۔

‎پھر کچھ دیر بعد ماں بھی اپنے میاں کے پہلو میں جا کر بیٹھ گئی ۔ اُس کی کوئی نند یا دیورانی اُس کا ہاتھ بٹانے کے لئے اُس کے قریب بھی نہیں پھٹکی ۔ اُس نے توا اُٹھا کر اوپر والے چُولہے پر رکھ لیا اور تیز تیز ہاتھ چلانے لگی ۔ یہاں تک کہ آٹے کی پرات اور آلوؤں والا پتیلا بالکل صاف ہوگئے اور اُدھر دستر خوان پر بھی پراٹھوں کا مکمل صفایا ہو گیا خود اُس کے ایک لقمہ بھی چکھے بغیر ۔

‎تمام خوش باش جوڑے خوش گپیوں میں مصروف تھے اور وہ چُولہے کے پاس پسینہ پسینہ ہوئی اکیلی کھڑی تھی ۔ ٹھیک اِنہی لمحات میں اُس کا مجازی خدا اُس کی دنیا سے بہت دور کہیں امریکہ کے طلسماتوں میں گدھوں کی طرح اپنا خون پسینہ ایک کرنے میں مصروف تھا ۔ شدتِ رنج سے اُس کے ہونٹ کپکپانے لگے آنکھیں آنسوؤں کے بوجھ سے دھندلا گئیں ۔ اُس نے اپنا پہلو ٹٹولا جہاں دل کی جگہ صرف درد ہی درد تھا ۔

‎قارئین! آپ کیا سمجھتے ہیں؟؟؟ کہ سارا قصور اُس کے بےحس اور خود غرض سسرال والوں اور عقل کے اندھے خاوند کا تھا؟ خود اُس کا اپنا کوئی قصور نہ تھا؟

‎اُس کا سب سے بڑا قصور یہ تھا کہ وہ ان لوگوں سے ڈرتی تھی جو خود خدا سے بھی نہیں ڈرتے تھے ۔ عزت دار شریف مگر سفید پوش گھرانے کی پڑھی لکھی خوبصورت لڑکی بِنا کسی خطا کے محض اپنی بیک کمزور ہونے کی بناء پر بلیک میل ہو رہی تھی ۔ کسی احتجاج یا بغاوت کے نتیجے میں طلاق کا تمغہ اُسے اپنی آنکھوں کے سامنے جُھولتا ہؤا نظر آتا تھا ۔ سو زندگی کے بہت سارے قیمتی اور سنہرے سال اُس نے اسی خوف کی سُولی پر جھولتے ہوئے گذار دیئے ۔ پھر وہ تو زندہ رہی دل مر گیا (رعنا تبسم پاشا)

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1731 Print Article Print
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 95 Articles with 574968 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

No conclusion. No lesson.
By: Qaisar shahzad khan, Mianwali on May, 15 2019
Reply Reply
0 Like
Language: