علیم ڈار - ورلڈ ریکارڈ ہولڈر پاکستانی کرکٹ امپائر

(Aslam Lodhi, Lahore)
(انہیں آئی سی سی نے بہترین امپائرنگ پر مسلسل تین مرتبہ ایواڈز سے نوازا)

علیم ڈار 150 سے زائد ون ڈے میچز میں امپائرنگ کرنے والے 7ویں اور 74 ٹیسٹ میچز میں امپائرنگ کرنے والے ایشیاء کے واحد امپائر ہیں۔

کرکٹ کے کھیل میں امپائرنگ کے فرائض انجام دینا انتہائی مشکل کام ہے۔ خاص طور پر اس لئے بھی کہ دیانتدارانہ فیصلے کئے جائیں اور اپنے یا پرائے ملک کے کھلاڑیوں کا لحاظ رکھے بغیر غیر جانبدارانہ امپائرنگ کی جائے موجودہ دور میں جس پاکستانی امپائر کا نام عالمی شہرت یافتہ کی حیثیت اختیار کر گیا ہے اس امپائر کا نام ہے علیم ڈار‘ علیم ڈار کی عمر بھی اتنی زیادہ نہیں ہے تاہم ان کا یہ کہنا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے 50 ویں سال میں انٹرنیشنل کرکٹ امپائرنگ کریں گے اس کے بعد وہ امپائرنگ کو خیر باد کہہ دیں گے۔ علیم ڈار اس وقت 44 برس کے ہیں۔

2012ء کے سال میں آئی آئی سی نے انہیں مسلسل تین مرتبہ بہترین امپائر کا اعزاز حاصل کرنے پر ایوارڈ سے نوازا ۔ سال2013 ء بھی انہیں ایشیا میں سب سے زیادہ ٹیسٹ میچز میں (74 ٹیسٹ) امپائرنگ کرنے والے امپائر ہونے کا ایوارڈ دیا گیا ہے اس سے پہلے یہ اعزاز بھارت کے سابق ایمپائروینکٹ راگھون کے پاس تھا۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی ) نے ورلڈ کپ 2019کے لیے بھی انہیں میچ آفیشل میں شامل کرلیا ہے ۔یہ ورلڈ کپ 30مئی سے 14جولائی 2019ء تک انگلینڈمیں کھیلا جارہاہے ۔علیم ڈار کی کامیابیوں سے بلاشبہ وطن عزیز کا روشن ہوتا ہے ۔اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ انہیں پاکستان میں قومی ہیرو کا درجہ حاصل ہے جس شخص کو کرکٹ کے بارے میں تھوڑی سی بھی سدھ بدھ ہے وہ علیم ڈار کا نام سے ضرور واقف ہوگا ۔

علیم ڈار کے عمر بھر کے اخلاص‘ خدمت‘ محبت‘ مہمان نوازی‘ مستقل مزاجی اور کرکٹ میں امپائرنگ سے لگاؤ جیسے نایاب جذبے آج بھی تروتازہ اور زندہ ہیں۔علیم ڈار کو ان کی شاندار اور بے مثال امپائرنگ پر ہر شخص جتنا بھی خراج تحسین پیش کرے وہ کم ہے نوجوانی میں انہوں نے جس باقار طریقے سے امپائرنگ کے معیار کو اپنے اچھے فیصلوں سے بلند کیا ہے اس کی داد نہ دینا یا تعریف نہ کرنا ناانصافی ہو گی۔ وہ کون سی شخصیت ہے جس نے ان کی امپائرنگ کوسراہا نہ ہو‘ میڈیا نے بھی علیم ڈار کو مناسب کوریج دی۔ ریڈیو ٹی وی اور اخبارات نے مختلف عظیم کھلاڑیوں‘ شخصیتوں نے ان کی امپائرنگ کو سراہا۔ علیم ڈار کی یہ خوش قسمتی ہے کہ لیجنڈ عمران خان نے بھی انہیں خوب شاباش دی اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ 50 سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد بھی اس فرض کو جاری رکھیں۔

علیم ڈار ایک منفرد اور درست فیصلے کرنے والے سب سے بہترین اور اعلیٰ پائے کے امپائر ہیں علیم ڈار کی امپائرنگ کو مد نظر رکھتے ہوئے کرکٹ کے ملک بھر کے حلقوں نے ان کی تعریف کی۔ یقینا علیم ڈار ایک منفرد‘ ایک عہد‘ ایک تحریک‘ ایک نجمن اور ایک فلاحی ادارے کا نام ہے۔ علیم ڈار کے دوستوں‘ رشتہ داروں اور کرکٹ بورڈ کے علاوہ ان کے مداحین نے بڑے خوش کن الفاظ میں کہا کہ علیم ڈار نے امپائر ہونے بلکہ ایک بہت ہی اچھا امپائر بن کر نہ صرف اپنی اور اپنی فیملی کی عزت بڑھائی بلکہ ملک و قوم کا نام بھی روشن کیا گویا ایسے پیارے الفاظ میں لوگوں نے علیم ڈار سے اپنی والہانہ محبت اور عقیدت کا اظہار کیا۔
جب کرکٹ لورز یہ سوچتے ہیں کہ علیم ڈار کو انٹرنیشنل کرکٹ کانفرنس نے مسلسل تین مرتبہ بہترین امپائرنگ کرنے پر ایوارڈ دیا ہے اور تھوڑے ہی عرصہ کے بعد ایشن امپائرنگ کے 74 ٹیسٹ میچز میں ریکارڈ قائم کیا ہے تو وہ اسے قابل فخر کارنامہ سمجھتے اور حسین و جمیل لمحہ قرار دیتے ہیں وہ پاکستان کرکٹ کی امپائرنگ کے شعبہ کے بے مثال اور لا جواب تاریخ اور قیمتی اثاثہ ہیں۔ علیم ڈار اپنے قد کاٹھ اور کارکردگی کی بنیاد پر بین الاقوامی حلقوں میں امپائرنگ سے متعلق بعض غلط فہیموں اور کوتاہیوں سے ہمیشہ مبرا رہے ہیں۔

علیم ڈار ایک عظیم امپائرکا درجہ رکھتے ہیں انہیں ساری دنیائے کرکٹ میں جانا پہچانا جاتا ہے ان کی عظمت کا اعتراف عام آدمی سے لے کر وزیراعظم اور صدر مملکت نے بھی کیا ہے جو کہ بڑے اعزاز کی بات ہے۔ علیم ڈار منکسر المزاج اور اچھے انسان کی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں اور ان کی سوچ اعلیٰ معیار طرز عمل جیسی ہے۔

علیم ڈار ادبی بصیرت اور خوبصورت اشعار سے خاص شغف رکھتے ہیں اس دوران شائقین کرکٹ علیم ڈار کی علم و فضل اور ذہنی صلاحیتوں کے معترف ہیں۔ علیم ڈار بہترین امپائرز میں شمار ہونے والے پاکستانی امپائر ہیں۔ بقول وزیر اعظم عمران خان کے ‘ پاکستان کرکٹ کے اس مشکل ترین دور میں علیم ڈار ابھر کر سامنے آنے والے سب سے کامیاب امپائر ہیں اس تاثر نے دنیا میں ہمارے ملک کا نام اونچا کیا ہے ہماری کرکٹ کو آج کل چیلنجوں کا سامنا ہے مگر وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں علیم ڈار ایک اچھے امپائر کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

علیم ڈار 168 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں امپائرنگ کرنے والے دنیا کے 7 ویں امپائر بن گئے ہیں۔ اس فہرست میں جنوبی افریقہ کے روڈی کوئٹزن 209‘ ویسٹ انڈیز کے سٹیوبکز 181‘ آسٹریلیا کے ڈیوڈ ہار پر 174‘ انگلینڈ کے ڈیوڈ شیفورڈ172‘ آسٹریلیا کے سائمن ٹوفل 172‘ نیوزی لینڈ کے بلی باؤڈن170 میچز سپروائز کر چکے ہیں۔ علیم ڈار اب تک 73 ٹیسٹ میچز میں امپائرنگ کر چکے ہیں۔ علیم ڈار واحد ایشین امپائر ہیں جنہیں ورلڈ کپ کے فائنل میں امپائرنگ کا اعزاز حاصل ہے۔

ایکسپریس سنڈے میگزین کے سلسلے ’’بھلا نہ سکے‘‘ کے لئے جوتین واقعات علیم ڈار نے ہمارے ساتھ شیئر کیئے‘ وہ بیان کیے جاتے ہیں:
بچپن میں مجھے پتنگیں اڑانے کا تو نہیں البتہ لوٹنے کا بہت شوق رہا۔ میرے بھائی پتنگیں اڑاتے اور میں انہیں لوٹ لوٹ کر دیتا۔ عام طور پر پتنگ لوٹنے والوں کی نگاہ پتنگ پر ہی رہتی ہے‘ لیکن میں ہوا کے رخ کا اندازہ لگاتا اور ڈور پر بھی نظر رکھتا۔ اس سے میرے لئے پتنگ کی آخری منزل کا پتا چلانا آسان ہو جاتا۔ میں موسم کی شدت سے بے نیاز سڑکوں‘ گلیوں اور بازاروں میں پتنگیں لوٹنے میں لگا رہتا۔ دوبار ایسا بھی ہواکہ اس شوق کے باعث میں کسی بڑے حادثے سے دو چار ہو سکتا تھا‘ لیکن قدرت نے مجھے بال بال بچا لیا۔ مجھے یاد ہے‘ گوجرانوالہ میں ایک روز میں پتنگ لوٹنے کی تگ و دو میں اس درجہ کھویا ہوا تھا کہ اردگرد کا ہوش جاتا رہا اور اپنی طرف تیزی سے آتی گاڑی بھی نہ دیکھ سکا‘ جو مجھے بچاتے بچاتے خود دیوار سے جا ٹکرائی۔ میں اس ساری صورتحال سے گھبرا گیا اور اس خوف سے کہ اب گاڑی والے میری مرمت کریں گے‘ بھاگ نکلا اور گھر پہنچ کر سکون کا سانس لیا۔ یہ واقعہ مجھے ہمیشہ یاد رہا۔ ایک مرتبہ پتنگ لوٹنے کی کوشش میں پل کے کنارے کے قریب پہنچ گیا اور یقیناً گر جاتا‘ اگر عین اس موقع پر میرے ہاتھ میں پل کا جنگلہ نہ آجاتا۔ میری قسمت نے یاوری کی وگرنہ نہ جانے میرا کیا حال ہوتا۔ اس شوق کے باعث اور بھی کئی مرتبہ مشکلات نے گھیرا‘ لیکن یہ دونوں واقعات ایسے تھے‘ جن سے میری جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔

بچپن میں‘ جب ہم چشتیاں میں رہتے تھے‘ تو فورٹ عباس سے گزرنے والی نہر میں بڑے شوق سے نہانے جایا کرتا تھا۔ یہیں سے میں نے سوئمنگ سیکھی۔ ایک مرتبہ میں ادھر نہا رہا تھا‘ تو ایک بھینس میرے پیچھے پڑ گئی اور میرے لئے اس سے بچنا مشکل ہو گیا۔ وہ میرے اس قدر قریب آ گئی کہ دو تین بار اس کے سینگ بھی مجھے لگے۔ بہر حال میں اس سے بچنے میں کامیاب ہو گیا۔ گھر والوں کو ڈر کے مارے میں نے بتایا نہیں‘ لیکن ایک دن والدہ نے کپڑے تبدیل کرائے تو زخموں پر ان کی نظر پڑ گئی اور فکر مند ہو کر انہوں نے مجھ سے زخموں کے بارے میں پوچھا‘ تو انہیں یہ کہہ کر مطمئن کر دیا کہ بس ایسے ہی بھاگتے ہوئے گر گیا تھا۔

ویلنگٹن میں نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا کے درمیان میچ تھا۔ میں اپنے ساتھی امپائر کے ساتھ وقت مقررہ پر امپائرنگ کے لئے گراؤنڈ میں جانے لگا تو سکیورٹی والوں نے روک لیا ارو کہنے لگے‘ ’’آپ کدھر جا رہے ہیں؟‘‘ ہم نے کہا کہ ظاہر سی بات ہے‘ میچ شروع ہونے کو ہے اور ہم امپائرنگ کے لئے جا رہے ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ امپائر تو پہلے سے میدان میں موجود ہیں۔ ہم ہکا بکا رہ گئے کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے۔ ایسا کس طرح ہو سکتا ہے۔ ہم نے سکیورٹی والوں کو یقین دلایا کہ اصل میں تو ہمیں امپائرنگ کرنا ہے‘ تو وہ ہمیں ساتھ لے کر چل دیے۔ گراؤنڈ کے درمیان میں پہنچے تو دیکھا کہ دو نوجوان لڑکے‘ بالکل ہمارے جیسے لباس میں کھڑے مسکرا رہے ہیں‘ اور ہو بہو اصل امپائروں جیسے لگ رہے ہیں۔ اب ہم پر عقدہ کھلا کہ وہ دونوں نوجوان دراصل شرارت کر رہے تھے اور کمال ہوشیاری سے وہ سکیورٹی والوں کو دھوکہ دے کر میدان میں پہنچ گئے تھے۔ ہمیں ان کا آئیڈیا دل چسپ لگا اور ہم نے ان کی اس حرکت کا برا نہ منایا‘ بلکہ الٹا اس سے محظوظ ہوئے۔ ہم نے سکیورٹی والوں سے کہا کہ وہ ان کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہ کریں اور انہیں مفت میں میچ دیکھنے دیا جائے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 559 Articles with 280140 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Apr, 2019 Views: 594

Comments

آپ کی رائے