سلام امیر معاویہ رضی اللہ تعالی(حصہ دوم)

(Babar Alyas, Chichawatni)

اصحابی کالنّجوم ہے اعلانِ مصطفیٰ
سب سے وفا کرو یہ ہےفرمانِ مصطفیٰ
ہیں اِس لئے ہمارے تمہارے معاویہ
اللہ اور رسول کے پیارے معاویہ
بزمِ صحابیت کے وہ دونوں سراج ہیں
ان کے نشان پا ، سَرِ مومن کے تاج ہیں
بیشک علی ہمارے ، ہمارے معاویہ
اللہ اور رسول کے پیارے معاویہ
آپ رضی اللہ عنہ کے خاندان کا خاندانِ نبوت سے بنو ہاشم سے بہت گہرا تعلق ہے۔ امام ابن عساکر نے "تاریخ مدینہ دمشق" میں لکھا ہے کہ حضرت معاویہ کی ہمشیرہ سیدہ رملہ(ام حبیبہ) بنت ابو سفیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ ہیں۔

ابو جعفر بغدادی نے"کتاب المحبر"میں لکھا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم زلف تھے۔ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بہن قریبہ صغریٰ حضرت امیر معاویہ کے نکاح میں تھیں۔
مصعب زبیری نے" نسب قریش "میں لکھا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی خوشدامن (ساس )سیدہ میمونہ حضرت امیر معاویہ کی ہمشیرہ ہیں اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے فرزند شہید کربلا حضرت علی اکبر کی والدہ لیلیٰ بنت مرہ انہی میمونہ کی بیٹی ہیں

تاریخ حکمرانی ہدایت کے اس چراغ کی شہادت دیتی ہے کہ جناب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتے تھے یہاں تک کہ سفروحضر میں بھی خدمت کا موقع تلاش کرتے۔چناںچہ ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہیں تشریف لے گئے تو سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پیچھے پیچھے گئے راستہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کی حاجت ہوئی، پیچھے مڑ ے تو دیکھا، معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پانی لیے کھڑے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑے متاثر ہوئے، چناںچہ وضو کے لیے بیٹھے تو فرمانے لگے:
معاویہ ! تم حکمران بنو تو نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرنا اور برے لوگوں کے ساتھ درگزر کرنا۔
حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کی خدمت اور بے لوث محبت سے اتنا خوش تھے کہ بعض اہم خدمات آپ کے سپرد فرمادی تھیں ۔
علامہ اکبر نجیب آبادی ”تاریخ اسلام“میں رقم طراز ہیں کہ
حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے باہر سے آئے ہوئے مہمانوں کی خاطر مدارات اور ان کے قیام وطعام کا انتظام واہتمام بھی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے سپرد کر دیا تھا۔
وقت اپنا رخ بدلا تو حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد خلیفہ اول سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں آپ رضی اللہ تعالی نے مانعین زکوٰة، منکرین ختم نبوت ، جھوٹے مدعیان نبوت اور مرتدین کے فتنوں کے خلاف بھرپور حصہ لیا اور کئی کارنامے سر انجام دیے ۔

ایک روایت کے مطابق مسیلمہ کذاب حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے وار سے جہنم رسید ہوا۔
پھر تاریخ گواہ ھے کہ خلیفہ دوم سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں جو فتوحات ہوئیں، ان میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا نمایاں حصہ اور کردار ہے ،جنگ یرموک میں آپ رضی اللہ تعالی بڑی بہادری اور دلیری کے ساتھ لڑے، اس جنگ میں آپ کا پورا خاندان جنگ میں حصہ لے رہا تھا۔

تاریخ اسلامی کا مطالعہ ہی بتاتا ہے کہ خلیفہ سوم سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ جہاد وفتوحات میں مصروف رہے اور آپ رضی اللہ تعالی نے رومیوں کو شکست فاش دیتے ہوئے طرابلس، شام،عموریہ، شمشاط، ملطیہ، انطاکیہ، طرطوس، ارواڑ ، روڑس اور صقلیہ کو حدود نصرانیت سے نکال کر اسلامی سلطنت میں داخل کردیا۔

مختلف کتابیں گواہ ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ ان علاقوں کی فتوحات کے بعد اب یہ چاہتے تھے کہ اسلام ایک آفاقی اور عالم گیر مذہب ہے اس کو اب سمندر پار یورپ میں داخل ہونا چاہیے،اسی بناپرفتح قبرص کی خواہش آپ کے دل میں مچل رہی تھی،جس کے لیے بحری بیڑے کی اشد ضرورت تھی۔بحرروم میں رومی حکومت کا ایک بہت بڑا بحری مرکز تھا ،جو کہ شام کے ساحل کے قریب ہونے کے باعث شام کے مسلمانوں کے لیے بہت بڑا خطرہ تھا، اسے فتح کیے بغیر شام ومصر کی حفاظت ممکن نہ تھی، اس کے علاوہ سرحدی رومی اکثر مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے مسلمانوں کو تنگ کرتے رہتے تھے۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے بحری بیڑے کو تیار کرنے کی اجازت ملنے کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بڑے جوش وخروش کے ساتھ بحری بیڑے کی تیاری شروع کردی اور اپنی اس بحری مہم کا اعلان کردیا جس کے نتیجے میں جذبہ جہاد سے سرشار مجاہدین اسلام شام کا رخ کرنے لگے۔

واضح رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیث میں دو اسلامی لشکروں کے بارے میں مغفرت اور جنت کی بشارت وخوش خبری فرمائی، ان میں سے ایک وہ لشکر جو سب سے پہلے اسلامی بحری جنگ لڑے گا اور دوسرا وہ لشکر جو قیصر کے شہر میں جنگ کرے گا۔پہلی بشارت سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں پوری ہوئی۔اس لشکر کے امیروقائد خود امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ تھے ۔آپ کی قیادت میں اس پہلی بحری لڑائی اور فتح قبرص کے لییبڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین، جن میں حضرت ابو ایوب انصاری ، حضرت ابوذرغفاری، حضرت ابودرداء، حضرت عبادہ بن صامت اور حضرت شداد بن اوس، سمیت دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین شریک ہوئے۔اس جنگ کی تفصیل یہ ہے کہ28ہجری میں آپ پوری شان وشوکت، تیاری وطاقت اور اسلامی تاریخ کے پہلے بحری بیڑے کے ساتھ بحر روم میں اترے،ابتدامیں وہاں کے باشندوں نے مسلمانوں کے ساتھ صلح کرلی، لیکن بعد میں مسلمانوں کو تنگ کرنے اور بدعہدی کرنے پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پوری بحری طاقت اور عظیم الشان بحری بیڑے کے ساتھ قبرص کی طرف روانہ ہوئے اور بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے قبرص کو فتح کرلیا۔اس لڑائی میں رومیوں نے بڑے جوش وخروش سے حصہ لیا، تجربہ کاراور بحری لڑائی کا ماہر ہونے کے باوجود اس لڑائی میں رومیوں کو بد ترین شکست اور مسلمانوں کو تاریخی فتح حاصل ہوئی۔(جاری ھے)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 254 Articles with 90969 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
29 Apr, 2019 Views: 266

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ