آزاد کشمیر کے بجٹ سے محروم طبقہ اور تقسیم زکوٰۃ؟

(Tahir Ahmed Farooqi, muzaffarabad azad kashmir)
آزادکشمیر کے بجٹ سے محروم طبقہ اور تقسیم زکوٰۃ؟

آزادکشمیر محکمہ زکوٰۃ و عشر کے مطابق زکوٰۃ سے حاصل فنڈز کے طریقہ کار تقسیم کے تحت وزیراعظم کو انفرادی طور پر کسی کی مدد کیلئے سالانہ 150 لاکھ صدر ریاست‘ 15 ممبران اسمبلی 66‘ چیف سیکرٹری 10‘ مقامی زکوٰۃ کمیٹیوں 706‘ دینی مدارس 600‘ ہسپتالوں 115‘ بیرون آزادکشمیر علاج 400‘ جہیز فنڈز 65‘ تعلیمی کمیٹی 50‘ مصنوعی جسمانی اعضاء 10‘ کم عمر بچوں 10‘ سی ٹی سکین‘ ایم آئی آر ڈائیلاسز 20‘ تعلیمی وظائف 15 ہنر مند افراد کو اوزار خرید 10‘ زکوۃکونسل کو 70 لاکھ دیئے جاتے ہیں ان سب لاکھوں کو جمع کریں تو 29 کروڑ 92 لاکھ رقم بنتی ہے‘ محکمانہ مکتوب کے مطابق زکوٰۃ فنڈز کی کمی مستحقین کی امداد میں دشواری کا باعث ہے جس کی جانب زکوٰۃ ادائیگی کے اہل لوگوں کی توجہ دلاتے ہوئے کہا گیا ہے وہ اپنی زکوٰۃ محکمہ زکوٰۃ کے اکاؤنس میں جمع کرائیں یا پھر اس کا کچھ حصہ ضروردیں گو کہ مکتوب نیک نیتی فریضہ بھلائی میں دعوت کا عکاس ہے تاہم اس کے اعداد و شمار اور سب سے زیادہ ریاست کے وسائل میں ماں جیسی توجہ کے حقدار طبقے کی مدد میں لاچاری و بحران کو سامنے رکھا جائے تو سارا نظام و سماج ننگا نظر آتا ہے جس کا ماڈل کی طرح چال چلن چونکا دینے والا ہے مگر اندر سے کھوکھلا اور قابل رحم یہ خود زیادہ ہے تو شیشہ کی طرح شفاف جواب ہے ان کا جن کی قبروں پر سوٹیاں مارنے کا کہا گیا تھا کہ ان قبر والوں نے ذہنی عیاشی کرنے،کرانے واہ واہ ٹھاہ ٹھاہ کرنے کے بجائے ماضی‘ حال‘مستقبل کے حقائق‘ خصا ئل‘ اطوار‘ عادات کو سامنے رکھتے ہوئے درست برحق فیصلہ کیا تھا جو بطور چلمن آبرو رکھتا چلا آ رہا ہے یعنی قانون ساز اسمبلی سے منظور شدہ ریاست کے بجٹ سے سب زیادہ حقدار محروم طبقات بے سہارا‘ یتیمٰا‘مساکین‘ بیواؤں‘ معذور‘ بے کسوں کا کوئی تعلق ہے نہ ذکر ہے بلکہ محکمہ زکوٰۃ کے انتظامی ڈھانچے سے آفیسرز عملہ کی تنخواہوں‘ مراعات‘ کار پیٹرول ڈیزل سمیت سب اخراجات بھی زکوٰۃ آمدن سے ادا کیے جاتے ہیں اگر یہ وجہ روزگار نہ ہوتی تو شاید صاحبان اختیار کو یہ دلچسپی بھی نہ سوجھتی جیسا کہ ملک نہ سہی صوبہ جیسا انتظام انصرام مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کی برکت ہے جسے نظر بد سے بچانے کیلئے چیئرمین‘ وائس چیئرمین‘ سکرٹری‘ ڈی جی سمیت گریڈوں والی آسامیوں کی تخلیق کاری کر لی گئی جس کے بعد سے تحریک کیلئے مقامی عوام کا تعلق جوش جذبہ صرف یادیں بن کر رہ گیا اور سارا بوجھ کیمپ والوں کے ذمے ہو گیا‘ یہی حال بے سہارا طبقات کا مقدر بن کر زکوٰۃ آمدن کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے اس زکوٰۃ آمدن سے انتظامی بجٹ نکال کر باقی کا یہ حال ہے کہ مدات تقسیم کا جمھیلا ہے محکمہ زکوٰۃ پھر کمیٹیوں کے نیٹ ورک ہے تو یہ زکوٰۃ کونسل کا میلا کس لیے ہے‘ یہ پیاز کی طرح چھلکے اُتارتے اور پیس بناتے آنکھوں سے پانی نکالنے جیسا منظر ہے جس کے بعد ماتم رہ جاتا ہے‘ وہ یہ کہ 29 کروڑ آمدن کا میسر آنا بھی بھی بنکوں میں لوگوں کے اکاؤنٹس سے از خود کٹوتی کا خود کار سبب ہے جس کے بعد اس کا طریقہ تقسیم کار نو قلی تیرہ میٹ والا ہے‘ گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا‘ خود ریاست کا کم و بیش 75 ارب(نارمل) غیر ترقیاتی بجٹ ہے یہ (کرسی) اسامی بخلاف تنخواہ ٹی اے‘ ڈی اے‘ گاڑی پیٹرول‘ بجلی‘ گیس سمیت بلات پر صرف ہو جاتا ہے‘ رہ گیا 24 ارب ترقیاتی بجٹ یہ بے چارہ بھی وہاں کام آتا ہے جہاں سڑک‘ گلی‘ نالی‘ ٹوٹی‘ نلکا‘ ٹینکی جیسے نام بلکہ انعامی سکیم پروگرام کی شکل جو ازیات رکھتے ہوں جو سال دو سال زیادہ سے زیادہ تین سال بعد پھر نئی تعمیر کا حقدار بن جائے بات حساب کتاب کی ہو تو سوال گم جواب گم بڑی نعروں بھری تلواریں طعنہ جیسے تیز تیر عوام کی غم خواری کیلئے نکل آتے ہیں اور وہ محروم طبقات جو بے سہارا‘ یتیم‘ مساکین‘ بیوہ‘ بزرگ‘ معذور طلبہ ہیں‘ زکوٰۃ کی ٹرک جیسی صورت سے دوچار بتی کے پروانے بنا دیئے گئے ہیں ایسے ماحول میں مکتوب لکھنے والوں کے جذبے‘ دلچسپی پر مبارکباد بنتی ہے کہ یہ احساس تو ہے جو انسانیت کی معراج اور انسان ہونے کا ثبوت ہے ورنہ جسم تو جانوروں کے بھی ہوتے ہیں‘ احساس نے احساس کیا کہ زکوٰۃ آمدن محروم طبقات کی امداد کیلئے کم ہے مگر ان کو چاہیے‘ مکتوب کے انتظار کی سولی پر چڑھنے کے بجائے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرح زکوٰۃ فنڈز کا انتظام بھی کریں جس کے کارڈز ہولڈرز بغیر کسی کے سامنے کھڑے ہو کر ہاتھ پھیلائے تصویری تماشے سے محفوظ مقررہ تاریخ پر اے ٹی ایم مشین پر جا کر کم مگر عزت نفس کے مجروح ہوئے بغیر حاصل کر لیتے ہیں پھر شاید زکوٰۃ دینے والوں کو بھی حوصلہ ملے اور اعتماد بحال ہو جائے اسمبلی کے اندر بیٹھنے والوں کو محکمہ عشر زکوٰۃ اور کونسل کے ملازمین کی تنخواؤں مراعات کو بجٹ کا حصہ بنانے کی تحریک کریں کہ یہ پچاس ساٹھ بھی شامل ہو گئے تو کوئی قیامت نہیں آئے گی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 204 Articles with 67851 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 May, 2019 Views: 354

Comments

آپ کی رائے