"یور ٹائم ہیز کمپلیٹڈ" - Your time has completed

(Qaisar shahzad khan, Mianwali)

میں حسب معمول گراؤنڈ میں جاگنگ کر رہا تھا. اور میں حسب معمول آج بھی صبح سویرے گراؤنڈ میں آنے والا پہلا شخص تھا. وہ آیا اور چُپ چاپ میرے ساتھ جاگنگ میں شامل ہو گیا. وہ اجنبی تھا میں نے اُسے پہلے کبھی گراؤنڈ میں نہیں دیکھا تھا. جاگنگ شروع کرتے ہی اُس نے ٹراؤزر کی جیب سے سگریٹ نکال کے سُلگا لی. مجھے یہ حرکت عجیب لگی. میں نے پہلی بار کسی کو جاگنگ کے دوران سگریٹ پیتے دیکھا تھا. وہ سگریٹ کے دو لمبے لمبے کش لینے کے بعد میری طرف متوجہ ہوا اور بات چیت کا ماحول بنانے کیلئے تعارف پوچھا اور اپنا تعارف بھی کرایا. استفسار سے پتا چلا کہ بھائی صاحب کسی اور شہر کے رہنے والے ہیں اور کسی عزیز کے پاس ایک دن کیلئے آئے ہیں. تعارف کے بعد اُس نے پوچھا، "موت کے بارے میں آپکا کیا خیال ہے؟" میرے لیے یہ غیر متوقع سوال تھا اور میں نے وہی روایتی جواب دیا کہ "موت برحق ہے آنی ہے" تو کہنے لگا، موت بھی بڑی بھیانک چیز ہے. میں نے کہا جی وہ تو ہے لیکن آپ اس خوبصورت ماحول میں اسکا ذکر کیوں کر رہے ہیں اور موت کو ہم ذیادہ تر یاد بھی رات کو سُوتے وقت کرتے ہیں تو کہنے لگا، کہ میں باقیوں سے تھوڑا الگ ہوں، میں ہر لمحہ ہر پل موت کو یاد کرتا ہوں اور یہ ایسی چیز ہے جو مجھے دُنیا کی ہر چیز سے غافل رکھتی ہے. کیسے رُوح قبض ہوتی ہے، قبر میں کیا ہوتا ہے اور پھر قیامت کے دن کیا ہو گا یہ سب چیزیں ہمارے لیے ابھی اجنبی ہیں اور یہ سب چیزیں مل کر موت کو اور بھی ذیادہ خوفناک بنا دیتی ہیں.

اُسکا سانس پھولنے لگا تو اُس نے بات روکی آکسیجن ناک سے لے کر منہ سے خارج کر کے اپنی سانس بحال کی اور پھر دوبارہ سے مخاطب ہوا، میں موت تک کی مہلت کو عجیب طریقے سے انجوائے کر رہا ہوں، میں اکیلا پڑا رہتا ہوں، سگریٹیں اور چائے پیتا رہتا ہوں، رات دیر تک کتابیں پڑھتا ہوں اور رات کا ذیادہ تر حصہ کُرسی پر بیٹھ کر آنکھیں بند کر کے ایسے ہی گزارتا ہوں جیسے بچے کا صبح پیپر ہوتا ہے اور وہ رات دیر تک جاگ کر اور پیپر تک کی چھوٹ کو انجوائے کرتا ہے. میں سینکڑوں کی تعداد میں تاریخی کتابیں پڑھ چُکا ہوں، میں گزرے بادشاہوں کی ذندگیوں کو پڑھتا ہوں، ہر بادشاہ کی کہانی میں فرق ہوتا ہے، لیکن بادشاہ فلاں سَن میں فوت ہوا یہ بات سَب کی کہانی میں یکساں ہوتی ہے. جب میں بادشاہوں کا رہن سہن انکی فتوحات اور موت کا پڑھتا ہوں تو اُسکے نام کیساتھ بے چارہ لگا کر اگلے بادشاہ کی طرف چل پڑتا ہوں. میں جب بھی ذندگی میں کوئی بڑا قدم اُٹھانے لگتا ہوں "آخر مر جانا ہے" یہی سوچ کر ارادہ ترک کر دیتا ہوں. میں معمولی نوکری کرتا ہوں جس سے میرا گھر کا نظام چل جاتا ہے، میں اچھی نوکری کیلئے یہ سُوچ کر اپلائی نہیں کرتا کہ "آخر مر جانا ہے" میں بیوی اور بچوں کو بھی فتنہ سمجھتا ہوں جنکی وجہ سے موت کا خوف اور ذیادہ بڑھ جاتا ہے. غرض یہ کہ میں نے اپنے ہر مرض کا علاج ان چار لفظوں " آخر مر جانا ہے" کو بنا رکھا ہے. میں روز اپنی موجودہ ذندگی کو ایوریج ذندگی سے نفی کر کے آہ کرتا ہوں اور کوئی چیز بھی کل کیلئے نہیں رکھتا.

اتنے میں آواز آئی "Your time has completed" (آپکا وقت مکمل ہو چُکا ہے) وہ یہ سُن کر چونکا، میرے موبائل کی ہیلتھ ایپلیکیشن مجھے بتا رہی تھی کہ آپکی جاگنگ کے تیس منٹ ختم ہو گئے ہیں. می‍ں رُکا گراؤنڈ کے گیٹ کی طرف مُڑا تو وہ کہنے لگا اگر آپ پانچ منٹ اور جاگنگ کر لیں تو مزید بات ہو جائے گی کیونکہ میں آج واپس چلا جاؤں گا. تو میں نے کہا، معذرت جناب! میری ذندگی میں ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے اور میرے اور بھی بہت کام ہیں. یہ کہا، سمائل پاس کی اور واپس گھر کی طرف چل پڑا.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qaisar shahzad khan

Read More Articles by Qaisar shahzad khan: 4 Articles with 1684 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 May, 2019 Views: 385

Comments

آپ کی رائے