(کبھی مثبت بھی سوچئیے، کبھی تعصب کی عینک اتار کر بھی دیکھئے یہ بھی قربان ہوتے ہیں یہ بھی کسی کے پیارے ہوتے ہیں)" />

سبھی پولیس والے تو برے نہیں!

(Syed Talha Safdar, Karachi,Pakistan)
چند ہزار کی نوکری کرنے والے نے جب بم دھماکے میں "شہادت" پائی تو وہ اپنی گڑیا کا بابا بھی تھا، اپنی بہن کا لاڈلہ بھائی بھی، ماں کا دلارا بھی اور اپنی بیوی کا خیال رکھنے والا سرتاج بھی۔
(کبھی مثبت بھی سوچئیے، کبھی تعصب کی عینک اتار کر بھی دیکھئے یہ بھی قربان ہوتے ہیں یہ بھی کسی کے پیارے ہوتے ہیں)

سپاہی اپنا فرض ادا کرتے ہوے ..

میں نے اسلام آباد کے ریڈ زون میں خیرپور کے رہنے والا ایک پولیس کا سپاہی ڈیوٹی کرتا دیکھا۔
12 گھنٹے کی ڈیوٹی دیکر اگلے روز کسی سیاسی جلسے پر ایک سپاہی کو جب سستاتے دیکھا تب تک کئی کیمرے اسکی تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر نشر کر چکے تھے
سیاسی جلسوں کی سیکورٹی دینے کے بعد ٹوٹی پھوٹی دھکا اسٹارٹ گاڑیوں پر پولیس والوں کو جاتا دیکھا۔
پولیو ورکرز کو تحفظ دینے کے بعد کئی پولیس والوں کو دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بنتے دیکھا
روز ٹارگٹ کلنگ کے باوجود ٹریفک پولیس کو شاہراہوں پر ٹریفک کنٹرول کرتے دیکھا
14 اگست سے پہلے کی گہما گہمی سے بھری گلیوں میں کھڑی انجان موٹر سائیکلوں کی چھان بین کرتے دیکھا
دھماکے کی کوریج کے دوران کئی پولیس والوں کو رپورٹر کو سمجھاتے دیکھا کہ آگے نہ جاو کہیں کچھ اور نہ ہوجائے
کئی پولیس والوں کو چالان کاٹ کر پیسے وصول نہ کرتے ہوئے بھی دیکھا
ٹرین کے سفر میں جب رات کو مسافر سوتے ہیں پولیس والوں کو جاگتے اور گشت کرتے دیکھا
کئی احتجاجوں کے اطراف میں پولیس کو حفاظت کرتے دیکھا اور پھر بم سے پھٹتے بکھرتے دیکھا
ملک کی کئی اہم املاک، اور اہم مقامات پر ان سپاہیوں کو چوکس دیکھا
عید تہوار پر خوشیاں منانے والوں کے چہروں پر اطمینان دیکھا کیونکہ کئی پولیس والے اس روز بھی ڈیوٹی دے رہے تھے۔
کئی بلووں اور احتجاج میں جب مردوں نے عورتوں کو استعمال کرتے ہوئے انھیں آگے کیا تو پولیس والوں کو یہ کہتے بھی سنا کہ ابھی شیلنگ نہیں کرنا روک دو
کئی مظاہروں میں دفاتر سے نکلنے والی خواتین کو تذبذب میں دیکھ کر پولیس والوں کو انھیں گھر جانے کے لئے راستہ بناکر دیتے دیکھا۔
چند ہزار کی نوکری کرنے والے نے جب بم دھماکے میں "شہادت" پائی تو وہ اپنی گڑیا کا بابا بھی تھا، اپنی بہن کا لاڈلہ بھائی بھی، ماں کا دلارا بھی اور اپنی بیوی کا خیال رکھنے والا سرتاج بھی۔
(کبھی مثبت بھی سوچئیے، کبھی تعصب کی عینک اتار کر بھی دیکھئے یہ بھی قربان ہوتے ہیں یہ بھی کسی کے پیارے ہوتے ہیں)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Talha Safdar

Read More Articles by Syed Talha Safdar: 7 Articles with 2395 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 May, 2019 Views: 166

Comments

آپ کی رائے